مذہب کی بنیاد پر فساد: ہوش کے ناخن لیں


جب بھی وطن عزیز کی حالت دیکھتے ہیں تو بے اختیار منیرنیازی صاحب سے اتفاق کرنے پر دل مائل ہوجاتا ہے کہ واقعی اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی سانحہ، حادثہ اور پچھتاوا ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ دل بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر کہاں جاکر ہم رکیں گے! پچھلے کچھ برسوں سے ہمارے ملک میں مذہبی انتہاپسندی اس قدر بڑھی ہے کہ یہ باقاعدہ طور پر قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا کہ جہاں اتنے بے پناہ فائدے ہیں وہاں اس کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا ہے کہ اس پلیٹ فارم کو باقاعدہ طور پر چند عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

ذاتی شہرت یا پیسے کے لالچ اور زیادہ سے زیادہ ویوز لینے کے چکر میں یوٹیوب چینلز بنا کر ایسی ایسی باتوں کو زیربحث لایا گیا جن کا علم ہونا عام لوگوں کے لیے قطعاً اہم نہ تھا۔ وہ مسائل جو صرف بڑے بڑے علماء کے مابین زیر بحث ہونے چاہیں تھے، عام لوگوں میں ان کو اچھالا گیا۔ فقہی مسائل پر ایک دوسرے کا مذاق اڑایا گیا۔ ایک دوسرے پر تبرے بھیجے گئے۔ بعض نے ببانگ دہل کہا کہ ان کا شعبہ ہی اختلافی مسائل کو زیر موضوع لانا ہے۔

ایک دوسرے کے فقہ کا باقاعدہ تمسخر اڑایا گیا۔ تکفیری فتویٰ بازی معمول بنائی گئی۔ ابھی یہ پریکٹس جاری تھی کہ ایک اور سیاسی و مذہبی جماعت وجود میں لائی گئی۔ اس جماعت نے تو حد ہی کردی۔ محض شک کی بناء پر مبینہ گستاخوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ قانون کی حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا۔ محض شک اور سنی سنائی بات پر بستیاں تک اجاڑ دی گئیں۔ جبکہ اسلام واضح طور پر اس شخص کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بغیر تحقیق کے سنی سنائی بات کو آگے پھیلا دے۔

قرآن واضح طور پر خبر کی تحقیق کی حکم دیتا ہے۔ صورتحال مزید دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ تحقیق کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان ماورائے عدالت قتل میں مبینہ طور پر شامل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ کا واقعہ تو چند دن پہلے کی بات ہے۔ ہم ہر اس شخص کا سرقلم کرنے کے لیے بھی بے چین ہوجاتا ہے جو ہمارا ہم مسلک نہیں یا ہماری فقہ سے متفق نہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک بنک کے مینجر کا اس کے سیکورٹی گارڈ کے ہاتھوں قتل اس کی واضح مثال ہے۔

ایسے واقعات اب عام ہونا شروع ہو گئے ہیں جہاں ہجوم محض شک کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ کیا کبھی سوچا کہ اگر وہ شخص گستاخ نہیں تھا بلکہ محض شک یا غلط فہمی کی بناء پر مار دیا گیا تو قیامت کے دن ہم اس کی سزا کیسے بھگت سکیں گے؟ اور اگر کوئی غیر مسلم ہماری غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو ہمیں حضورﷺ کی حدیث نہیں بھولنی چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”جو کسی معاہد کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا، جب کہ اس کی خوش بو چالیس سال کی مسافت سے بھی محسوس ہوتی ہے۔“ (بخاری)

صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ اب مذہب پر بات کرنا سب سے زیادہ جان لیوا کام بن چکا ہے۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید آنے والے دنوں میں ہر ایک کو اپنا مذہب چھپانا پڑ سکتا ہے۔ ہم کسی کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اقلیتیں تو کجا، یہاں اسلام کے پیروکار تک محفوظ نہیں۔ کوئی علم نہیں کہ آپ کی کون سی بات مذہب کے ٹھیکیداروں کے مزاج پر گراں گزرے اور آپ کا سر بھی تن سے جدا ہو جائے۔ سوال کرنا گستاخی، بات کرنا گستاخی!

ایک مسلمان بھلا کیسے گستاخ رسول ہو سکتا ہے؟ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ اسی طرح اقلیت کے طور پر رہنے والی غیر مسلم کمیونٹی بھی اس بات سے گریز کرتی ہے تاکہ وہ اکثریت کے غضب کا شکار نہ ہو جائے۔ اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کہیں سے گستاخی کی خبر پہنچے تو باقاعدہ اس کی تحقیق کی جائے۔ جدید دور میں یہ تحقیق کوئی مشکل امر نہیں۔ کوئی جوڈیشل انکوائری کی جائے۔ اور اگر اس کے نتیجے میں کوئی شخص گستاخی جیسے قبیح عمل کا مجرم ثابت ہوتو اسے ریاست کڑی سزا ضرور دے۔ لیکن ہجوم کو فیصلہ کرنے اور کسی کی جان لینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔

ہمارے علماء کرام کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ دوسروں کی فقہ کے ساتھ چھیڑ خانی والا کام بند کرنا چاہیے۔ باہم تکفیری فتویٰ بازی سے باز آجانا چاہیے۔ عام مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جان و مال کی حرمت کے بارے میں بھی ضرور آگاہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کو اعتدال میں لانا چاہیے۔ ایک مشہور سکالر سے انجانے میں غلطی والا معاملہ ہوا۔ وہ معافی مانگ مانگ کر اور وضاحتی ویڈیوز جاری کر کر کے شاید تھک بھی چکے ہیں لیکن کوئی ان کی سننے کو تیار نہیں۔ ان کی مذمت پر مذمت کی جا رہی ہے۔ یہاں اکثر محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ عشق کا نہیں بلکہ فقہ یا مسلک کا ہوتا ہے۔

اگر ہم اپنی نسلوں کو مذہب سے بیزار نہیں کرنا چاہتے یا اپنے ملک کو دنیا میں مزید مذاق نہیں بنانا چاہتے یا اپنے ملک کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنا نہیں چاہتے تو ہمیں یہیں پر رک جانا چاہیے۔ ہم پہلے ہی بہت زیادہ تماشا بن چکے ہیں۔ نقصان پہلے ہی بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ ہمیں ذاتی طور پر بھی ایسے نام نہاد علماء کا بائیکاٹ کرنا ہو گا جن کی دکانداری اختلافی مسائل کو زیربحث لاکر ہی چلتی ہے۔ ریاست کو ایسے عناصر سے بھی سختی سے پیش آنا ہو گا جو مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لیتے ہیں۔

چند برسوں میں وطن عزیز میں ایسے بہت سارے واقعات ہوئے ہیں جنھوں نے نفرت کی آگ کو بھی بڑھایا ہے اور دنیا میں ہمارے مذہب کے تشخص کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں داعی بننا چاہیے نہ کہ جاہل۔ داعی کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور مخاطب کے دل میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ سوالوں کے جواب دے اور دوسرے فریق کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔

اگر ہم واقعی حضور ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آپﷺ نے نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا تھا اور عبداللہ بن ابی جیسے منافق کو اس کی تمام تر شیطانی فطرت کے باوجود نہ صرف برداشت کیا بلکہ اس کی موت پر اس کے بیٹے کی خواہش پر اپنا کرتا مبارک بھی پیش کیا۔ نہ نجران کے وفد کا مذہب چھپا تھا اور نہ عبداللہ بن ابی کی منافقت پردے کے پیچھے تھی۔ فتح مکہ کے موقع پر ان کو معافی دی گئی جن کی شب و روز حضور ﷺ کے جانثاروں کو اذیت دینے میں گزرے تھے۔ کیا ہم میں اتنی برداشت ہے؟ ہمیں ہوش کے ناخن اب لے لینے چاہیں۔

Facebook Comments HS