نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں تقریر کا ترجمہ اور تلخیص
اقوام متحدہ میں ترکی کے صدر طیب اردگان کی تقریر: کیا فلسطینی بچے انسانی بچے نہیں ہیں؟
اقوام متحدہ میں اسرائیلی رہنما بنجامین نیٹن یاہو کی تقریر کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص
صاحب صدر، خواتین و حضرات!
میں اس دفعہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا کیونکہ میری قوم کو ایک بھیانک جنگ کا سامنا ہے لیکن جب میں نے اقوام متحدہ کے نمائندوں کی تقریریں سنیں جن میں جھوٹ بھی بولے گئے تھے اور میرے ملک پر الزام تراشی بھی کی گئی تھی تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں بھی اس محفل میں شامل ہوں اور اپنا سچ بیان کروں تا کہ ساری دنیا کو صحیح صورت حال کا اندازہ ہو سکے۔
ہمارا سچ کیا ہے؟
اسرائیل امن چاہتا ہے اور امن کے لیے کوشاں ہے۔
لیکن ہمارے ظالم دشمن ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں تو ہم اپنے دفاع پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے دشمن ہمیں کرہ ارض سے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دشمن صرف ہمارا خاتمہ نہیں چاہتے بلکہ وہ ہماری مشترکہ ثقافت کو بھی تہس نہس کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہم سب ایسے زمانہ جاہلیت میں واپس لوٹ چلیں جہاں دہشت اور وحشت اور بربریت کا راج ہو۔
میں نے پچھلے سال اقوام متحدہ کی تقریر میں کہا تھا کہ ہمیں آج بھی اسی آزمائش کا سامنا ہے جو کئی ہزار سال پہلے موسیٰ کو تھا جس کی وجہ سے وہ ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔
ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔
ایک طرف وہ ایرانی رہنما ہیں جو جنگ و جدل کے خواہاں ہیں
دوسری طرف وہ عرب ممالک ہیں جو ہمارے ساتھ امن اور سکون سے رہنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب سے امن کا معاہدہ اپنے آخری مراحل پر تھا جب حماس کے دہشت گردوں نے سات اکتوبر انیس سو تئیس کو غزہ سے اسرائیل پر ٹرکوں اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر حملہ کر دیا۔
ان دہشت گردوں نے بارہ سو معصوم مرد و زن کو بے دردانہ طور پر قتل کیا۔ انہوں نے
بہت سی عورتوں کی عصمت دری کی۔ بہت سے مردوں کے سر گردن سے جدا کر دیے اور بہت سے بچوں کو زندہ جلا دیا۔ ان کے بہیمانہ سلوک نے نازی ہولوکاسٹ کی تکلیف دہ یادوں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
اتنے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے بعد وہ مختلف ممالک کے دو سو اکیاون لوگوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے اور انہیں قیدی بنا کر غزہ کی زیر زمین سرنگوں میں چھپا دیا۔
اسرائیل کی حکومت اور فوج اب تک ان قیدیوں میں سے ایک سو چون کو واپس لے آئی ہے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک باقی قیدی بھی واپس نہیں آ جاتے۔
حماس کے دہشت گردوں نے ان مرد و زن کو اس وقت اٹھایا جب وہ ایک موسیقی کے جشن میں شرکت کر رہے تھے۔ سات اکتوبر کے غزہ کے حماس کے حملے کے بعد ایران نے کئی اور محاذوں پر جنگ کا اعلان کر دیا۔
اسرائیل پر لبنان سے حملہ ہوا جس میں اب تک اسرائیل کے مختلف شہروں کے عوام پر آٹھ ہزار راکٹ پھینکے جا چکے ہیں۔
اسرائیل پر یمن سے بھی بہت سے حملے ہوئے جن میں سے کچھ حملے شہر تل ابیب پر ہوئے۔
شام کے دہشت گردوں نے بھی اسرائیل پر حملے کیے۔ ایران نے خود بھی پہلی دفعہ اسرائیل پر تین سو ڈرون اور میزائل سے براہ راست حملے کیے۔
میں ایران کو کھل کر کہہ رہا ہوں کہ اگر تم ہم پر حملہ کرو گے تو پھر ہم بھی تم پر حملہ کریں گے۔
پورے ایران میں کوئی بھی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں حملہ کرتے ہوئے اسرائیل کا طاقتور بازو نہ پہنچ سکے۔ اور یہ بات صرف ایران کے لیے نہیں مشرق و سطیٰ کے تمام ممالک کے لیے بھی ہے۔ ہم جہاں چاہیں حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ ہماری فوج بہادر ہے اور وہ قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔
میں اقوام متحدہ کے تمام ممبروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسرائیل یہ جنگ جیت رہا ہے۔
خواتین و حضرات!
ایران نے اسرائیل پر جو جنگ مختلف محاذوں پر مسلط کی ہے اسرائیل اپنا دفاع کرنا جانتا ہے۔
ایران مشرق و سطیٰ میں دہشت گردوں کی مالی سیاسی اور عسکری معاونت کرتا ہے کیونکہ وہ دنیا میں ایک عالمی جنگ کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی حکومت ایک شیطانی حکومت ہے جو دنیا میں تباہی و بربادی لا رہی ہے۔
میں اقوام متحدہ کے ممبروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اسرائیل کی حمایت کریں تا کہ ہم ایران کا مقابلہ کر سکیں۔ ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ایران کے پاس کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ آئیں تا کہ ساری دنیا میں امن اور آشتی قائم رہ سکے۔
خواتین و حضرات!
ہم تاریخ کے ایک دوراہے پر کھڑے ہیں
ایک راستہ ایران کی تیار کردہ جنگ کی طرف جاتا ہے
دوسرا راستہ عرب ممالک کی اسرائیل سے دوستی کر کے امن کی طرف جاتا ہے۔
اسرائیل کی فوجیں حماس پر حملہ آور ہیں اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتی ہیں تا کہ وہ دوبارہ اسرائیل پر حملہ آور نہ ہوں۔
جب سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا اس وقت ان کے پاس چالیس ہزار دہشت گرد اور پندرہ ہزار راکٹ تھے۔ وہ دہشت گرد غزہ کی زیر زمین تین سو پچاس میل لمبی سرنگوں میں چھپے ہوئے تھے۔ یہ سرنگیں نیویارک کی انڈر گراؤنڈ سب وے جتنی لمبی تھیں۔
اسرائیلی فوج نے پچھلے گیارہ ماہ کے حملوں سے حماس کے نوے فیصد دہشت گرد ہلاک کر دیے ہیں۔ ان کی چوبیس میں سے تئیس بٹالین تباہ و برباد ہو چکی ہیں۔ اب ہمیں صرف ایک اور بٹالین کو تباہ کرنا ہے تا کہ ہم اپنی فتح کا اعلان کر سکیں۔
ہم آج بھی اپنے مقدس فریضے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کہ ہم نے اپنے قیدیوں کو واپس لانا ہے۔
خواتین و حضرات!
غزہ میں حماس کے جو دہشت گرد باقی رہ گئے وہ ساری دنیا سے عوام کو بھیجا ہوا کھانا چراتے ہیں اور پھر ان ہی کو زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں۔
ہم حماس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس جنگ کے خاتمے کے بعد وہ اسرائیل پر دوبارہ حملہ آور ہونے کے قابل نہ رہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ غزہ سے دہشت و بربریت کا خاتمہ ہو۔
ہم فلسطینیوں کے امن پسند رہنماؤں کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تا کہ ہم مل جل کر امن و آشتی سے رہ سکیں۔
خواتین و حضرات!
غزہ کی جنگ آج ختم سکتی ہے اگر
حماس اپنے ہتھیار ڈال دے
اور
اسرائیلی قیدیوں کو واپس کر دے
اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ہم اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہم اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے اور حماس پر فتح حاصل نہیں کرتے۔
اسرائیل آشتی چاہتا ہے۔ وہ اپنے عرب ممالک اور ہمسایوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
نوٹ : نیٹن یاہو کی تقریر اقوام متحدہ کے کم ممبران نے سنی کیونکہ تقریر سے پہلے بہت سے ممالک کے نمائندے احتجاج کرتے ہوئے ہال سے باہر چلے گئے تھے۔

