مفتی طارق مسعود کی معافی اور ”ہم مذہب“ علماء کا رویہ
مفتی طارق مسعود کے معافی نامے والا کلپ نظروں سے گزرا جس میں وہ معافی کے طلبگار ہیں، اور اب تک وہ کوئی پانچ یا چھ کے لگ بھگ معافی ناموں کے کلپ ریکارڈ کروا چکے ہیں لیکن مدمقابل ماننے یا تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں ہیں۔
وہ کوئی بھی وضاحتی بیان سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں تو ان کی وضاحت یا ایمان کا باریک بینی سے جائزہ لینے والے فوراً سے کہہ دیتے ہیں
” مفتی صاحب کی وضاحت درست نہیں ہے“
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مدمقابل والے کون لوگ ہیں جو اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ مولانا کے وضاحتی بیان میں ابھی بھی سقم ہیں اور ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے؟
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ یہ کوئی سادہ لوح عوام نہیں ہیں بلکہ یہ آپس میں ہم نوا و ہم پیالہ یا ہم مذہب معزز علماء کرام ہیں جو مفتی مسعود کو گنجائش دینے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔
اب ان کے پاس انسانی نیت یا ایمان و یقین کو جانچنے یا پرکھنے کا کون سا بیرومیٹر یا پیمانہ موجود ہے کہ جس کی مدد سے انہیں فوری پتا چل جاتا ہے کہ سامنے والا بندہ جھوٹ بول رہا ہے یا معافی کا ناٹک کر رہا ہے کون جانے؟
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک بندہ اپنی کہی گئی بات کی وضاحت دے رہا ہے، شرمندہ ہے یا رجوع کر رہا ہے یا معافی مانگ رہا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ہمارے پاس کیا راستہ یا انتخاب ہونا چاہیے؟
ظاہر ہے سامنے والے انسان کو گنجائش دینی چاہیے، ہم کوئی خدا تھوڑی ہیں کہ جس بات کا فیصلہ خدا نے کرنا وہ ہم خود کرنے لگیں۔
کلپ کے مطابق مفتی مسعود اپنے گزشتہ موقف پر خاصے نادم دکھائی دے رہے ہیں، کیا یہ کافی نہیں ہے؟
اگر نیتوں پر شک کرنے کی یہ رسم چل نکلی تو یاد رکھیں پھر اس کے مضر اثرات سے کوئی فرقہ بھی محفوظ نہیں رہے گا، مختلف فرقوں کی کتابوں میں بہت کچھ درج ہے، اگر کچھ علماء نے مفتی مسعود والے معاملے کو کیش کروانے یا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو ہم ایسے گناہ گاروں کا تو کچھ نہیں بگڑے گا مگر علماء کے مابین معاملات دست و گریباں سے بھی تجاوز کر جائیں گے اور ایک عالم تماشا دیکھے گا، یقین رکھیں معاملات اسی جانب بڑھ رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس قسم کا رویہ اختیار کر کے علماء کرام اسلام کی خدمت کا کوئی فریضہ سر انجام دے رہے ہیں یا اپنی اناؤں کو تسکین پہنچانے کا سامان کر رہے ہیں؟
ظاہر ہے اس طرح کے رویوں سے مذہب بیزاری کی شرح بڑھے گی اور اس جرم کا گناہ کس کے سر ہو گا علماء ہی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں؟
اب رہا یہ سوال کہ مفتی صاحب کس سے یا کن سے معافی مانگ رہے ہیں؟
کیا وہ کفار سے معافی کے طلبگار ہیں یا اپنوں سے رجوع کر رہے ہیں؟
یا وہ ان سے مخاطب ہیں جن کے سامنے وہ ایک عرصہ سے قرآن و حدیث کا درس دیتے رہے ہیں؟
کیا وہ اسلام دشمن عناصر سے معافی مانگ رہے ہیں یا وہ جس مذہب کے خود داعی ہیں اسی مذہب کے نام لیواؤں کے سامنے ندامت کا اظہار کر رہے ہیں؟
اگر مذہب کے متعلق اسی مذہب کا مفتی یا عالم اپنی رائے یا موقف کا اظہار نہیں کر سکتا تو پھر یہ اتھارٹی کس کو دی جا سکتی ہے؟
تو کیا پھر ملحدین مذہب پر بات کریں گے؟
اگر ایک مفتی اپنے موقف کی وضاحت دے رہا ہے تو کیا ہمیں اسے گنجائش نہیں دینی چاہیے؟
اگرچہ وضاحت کا حق ہر ذی شعور کو حاصل ہونا چاہیے، لیکن ہمارے معزز علماء کرام کے نزدیک تو ذی شعور صرف ایک مذہبی انسان ہی ہو سکتا ہے۔ ہمارے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ یا ذرا سا ہٹ کر سوچنے کی جسارت کرنے والے انسان گمراہ اور روایتی دائرے سے کٹے ہوئے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
مذہب پر اس سے کڑا وقت اور کیا ہو سکتا ہے کہ ”ہم مذہب“ ہی ایک دوسرے پر چڑھ دوڑیں اور اپنے ہی ہم مذہب مفتی سے وضاحت کا مطالبہ کرنے لگیں؟
اگر ایک ہی مذہب کے ماننے والے ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، کفر اور گستاخی کے فتوے لگائیں گے تو پھر تبلیغ و تلقین کی کیا اہمیت باقی رہ جائے گی؟
جو صدیوں سے آ پس میں ایک نہیں ہو سکے وہ دوسروں کو کیسے مطمئن کر سکتے ہیں کہ ان کا مذہب امن و آشتی کا محور ہے؟
اس کا مطلب تو پھر یہی ہوا نا کہ جنہوں نے بھی قرآن کریم کی تفسیر یا احادیث مبارکہ کی تشریح و توضیح اپنی سمجھ بوجھ، ماحصل و فہم یا نتائج کے مطابق پیش کی ہے یا استنباط کیا ہے یا روایتی فکر سے ہٹ کر کچھ پیش کرنے کی کوشش ہے وہ سارے تو پھر گمراہ، بھٹکے ہوئے یا گستاخ سمجھے جائیں گے؟
اس طرح سے تو پھر گستاخین کی ایک لمبی چوڑی فہرست نکل آئے گی، ظاہر ہے شروع دن سے فقہاء کے مابین فقہی معاملات پر اختلافات موجود رہے ہیں، چار معروف ائمہ کرام بھی تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور مختلف موقف رکھتے ہیں۔
خیر یہ تو علماء کرام کا میدان ہے وہی یہ گتھیاں سلجھا سکتے ہیں، ہم گناہ گار و دنیا دار تو صرف اپنے موقف کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ویسے علماء کرام بھی سب سمجھتے ہیں، ہمارے خیال میں تو فرقے بازیاں چل رہی ہیں، کھلے ڈھلے لفظوں میں کہیں تو یہ سارا ”پروفیشنل جیلسی“ کا شاخسانہ لگتا ہے۔
مقبولیت کا دور ہے اور مفتی صاحب سوشل میڈیا کی ڈارلنگ بنے ہوئے ہیں اور اسی مقبولیت کے سہارے آج کل وہ انہی لوگوں کی سرزمین پر پہنچے ہوئے ہیں جن کے متعلق ان کا موقف ہے کہ "یورپ میں تو لوگ ننگے گھومتے ہیں، شراب، شباب اور کباب ان کی زندگیوں کا حتمی مقصد ہے۔“
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ اب وہ اپنی خدمات کی فیس بھی ڈالرز میں وصول کریں گے۔
ہمیں یہ لگتا ہے کہ علماء کے بیچ شائستگی، احترام اور ظرف کی سطح کم پڑنے لگی ہے اور اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جس نفرت کی آگ کی تپش اسٹریٹ جسٹس کے نام پر چوکوں چوراہوں میں پہنچی ہوئی تھی اسی نفرت کی آ نچ اب علماء کرام کے گھروں تک بھی جا پہنچی ہے اور یاد رکھیں یہ وہی عوام ہیں جو آپ کی تقاریر سے متاثر ہو کر ہی بھڑکتے ہیں۔
آج اگر یہ آگ مفتی طارق مسعود تک پہنچی ہے تو یقین مانیں اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا، جتنے فرقے اتنے ہجوم۔ اور یہ تو ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں تک پڑھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اور ان کی کتابوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ لکھا ہے اگر ان بنیادوں پر ہجوم بازیاں ہونے لگ پڑیں تو کوئی فرقہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
آج اگر مفتی مسعود زیر عتاب ہیں تو کل کسی اور فرقے کی شخصیت بھی زیر عتاب آ سکتی ہے، سوچ لیں یہ سلسلہ پھر کہاں جا کر رکے گا؟


