بگٹی بچہ


شام کو علی، عدنان کے جوتے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو عدنان کے ابو کراچی سے لے کر آئے تھے۔ عدنان کے ابو کراچی سے سال میں دو دفعہ واپس گھر آتے ہیں۔ اپنے والد کی گیس کمپنی کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اپنے والد کی جگہ گیس کمپنی میں ملازم نہیں رکھا گیا، جو گیس کمپنی کے قیام کے وقت معاہدے میں شامل تھا۔ مزید یہ کہ علاقے بھر میں خوف و ہراس کے عالم نے ان کو مجبور کیا تھا کہ وہ کراچی جا کر اپنے لیے کوئی ذریعہ معاش ڈھونڈیں۔ اس دفعہ واپسی پر وہ عدنان کے لیے صرف جوتے ہی نہیں، اور بھی کئی کھلونے لے کر آئے تھے۔ علی کو انکل ماجد نے کپڑے تو لے کے دیے تھے، مگر مہنگائی کی وجہ سے جوتے نہیں لے کے دے سکے تھے۔ مگر علی تو بچپن سے نئے جوتے پہنتا آ رہا تھا۔ اب علی کو جوتے دینے والا تو اس بے رحم دنیا کی زد میں آ کر ہلاک ہو گیا تھا۔ چھ ماہ پہلے بازار سے سودا سلف لینے نکلا تھا۔ کسی انجان گولی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اور اماں دو سال پہلے زچگی کے دوران بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے علی کو چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ علی کو پڑھنے کا بھی بڑا شوق تھا۔ کچھ ماہ پرائیویٹ ٹیوشن لیتا رہا، مگر معاشی تنگ دستی نے اس کو جوتے پالش کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور دوسرا یہ کہ علی کے محلے میں قائم گورنمنٹ سکول عرصہ دراز سے بند ہونے کی وجہ سے وہ اپنی یہ خواہش بھی پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

آج علی اپنا پالش والا تھیلا لے کر ڈیرہ بگٹی کی سڑکوں پر اپنے قسمت کو کوستے چلا جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کس قبیلے میں آنکھ کھولی ہے، جدھر انسان کی خوشیاں کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں، نہیں پتہ کب کس کے ہنستے چہرے پر غم کے داغ بیٹھ جائیں، کب تک غریبوں بگٹیوں کا خون، گیس لائنوں میں ڈال کر ملک بھر میں جلایا جائے گا، کب قانون کی پاسداری ہوگی، کب یہ وطن امن کا گہوارہ بنے گا،
کب یکساں نظام قائم ہو گا، کب ادھر کے بچوں کو پڑھایا جائے گا، کب ہسپتال کھلیں گے؟ کب لوگ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں گے؟ آخر کب؟

اُکتا گئی گردش سے نمو یافتہ گِل تک
اے کوزہ گرِ دہر ابھی دور ہیں کتنے
اُفتادِ شب و شام سمجھ میں نہیں آتی
معلوم نہیں ہے ستم و جور ہیں کتنے

Facebook Comments HS