یہودیت اور عیسائیت کی کہانی، ہراری کی زبانی


نوح ہراری کی تازہ کتاب Nexus اگرچہ معلومات کی تاریخ پر ہے مگر انہوں نے اس سے ملتے جلتے کئی دوسرے موضوعات بھی چھیڑ رکھے ہیں۔ یہودیت کس طرح وجود میں آئی اور اس کی کوکھ سے عیسائیت نے کیسے جنم لیا؟ ان سوالوں کے سیر حاصل جوابات موجود ہیں۔ ہراری ایک تاریخ دان ہے۔ وہ چیزوں کو اسی اینگل سے دیکھتا ہے۔ لہٰذا ان کی ہر بات سے متفق ہونا لازم نہیں اور عقیدے کی عینک سے جانچنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ان کی رائے کو انہی کی رائے سمجھ کر اسی پیرائے میں دیکھنا چاہیے۔

وہ مذکورہ سوالات کے کیا جوابات دیتا ہے؟ ملاحظہ ہو۔
اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے وہ ایک جملہ لکھتا ہے :

At the heart of every religion lies the fantasy of connecting to a superhuman and infallible intelligence

یعنی ہر مذہب کی بنیاد اس تخیلاتی واہمے پر استوار ہے کہ اس کے تانے بانے کسی مافوق الفطرت انسان اور مُبَرّا عَنِ الخَطا ذہانت سے جڑ جائیں۔

پھر ہراری ایک مثال دیتا ہے اور یہ حالیہ برسوں کی بات ہے۔

اسی کی دہائی میں ٹنوٹکا (Tanotka) نامی ایک شخص بیمار پڑا تو اس کو غنودگی اور نیم بے ہوشی میں کچھ دورے پڑتے جہاں وہ ذہنی خلفشار کا شکار ہو کر ہذیاں بکتا۔ ان کی باتوں کو کوئی نہ سمجھتا مگر ان کے ایک بھائی نے دعویٰ کیا کہ وہ سب کچھ سمجھ رہا ہے اور خلقِ خدا کو وہی اس شخص کی باتوں سے آگاہی بخش سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان کے ساتھ کچھ روحیں باتیں کرتی ہیں اور ان کو خدا نے چنا ہے تاکہ خلقِ کو کسی بڑی تباہی سے بروقت آگاہی بخش سکے۔ ان کے دعووں میں ایک یہ بھی تھا کہ روزِ قیامت عین سر پر ہے اور مجھے سپورٹ کریں تاکہ میں لوگوں تک بھائی کا پیام پہنچا سکوں۔ اس کو بے تحاشا مالی اور اخلاقی سپورٹ ملی۔ آس پاس کی بستیاں غریب پڑ گئیں اور بھائی کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑھائی میں تھا۔ مگر جب قیامت نہ آئی اور جب لوگوں کے پاس دینے کو بھی کچھ نہ رہا اور وہ متعین وقت بھی گزر گیا، بھائی کی سلطنت کمزور پڑنے لگی تاہم بہت سارے لوگ ان پر ہمیشہ یقین رکھتے آئے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس ایک شخص کی بات کو کیسے مانا جائے کہ وہ خدا سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کا پیام پہنچا رہا ہے؟ بقول ہراری اس کے لیے مذہبی ادارے کا قیام لازم ہوتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی معاشرے بڑھنے لگے اور پیچیدہ تر ہوتے گئے، ساتھ ہی مذہبی اداروں کی گرفت بھی مضبوط تر ہوتی گئی۔ پادریوں اور مذہبی پیشواؤں نے افراد کو تربیت یافتہ کیا اور ان کا تعلق ایک ادارے سے جوڑ دیا۔ اب ان کی بات ایک عام انسان جیسے کہ اوپر اس دعویٰ دار بھائی اور ترجمانی کے فرائض پر مامور بھائی کی بات نہ ہوتی بلکہ ایک ادارے کی بات ہوتی جس کو ماننا لازم تھا۔ یعنی مافوق الفطرت بشر اور بے خطا ادارے کا ملاپ ضروری ٹھہرتا ہے۔ اگر ٹنوٹکا سپر ہیومین بینگ ہے تو اس کو باقاعدہ لانچ کرنے کے لیے ایک ادارے کی ضرورت ہوگی۔

غلطی سے مبرا ادارے کے قیام اور مافوق الفطرت بشر کی موجودگی کے ساتھ ایک مسئلہ حل نہیں ہوا۔ وہ یہ کہ ان کی تعلیمات میں رد و بدل کا امکان موجود ہوتا ہے۔ جب یہ چیزیں بہت سارے افراد کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں تو وہ ان کو اپنے مقصد اور اپنے مزاج کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی کام مختلف مذہبی ادارے بھی کرنے لگتے ہیں۔

اس لیے ایک کتاب کی ضرورت پیش آئی۔ ایک کتاب جس کی پیروی سب ادارے، سب لوگ یکساں طور پر کریں۔ مگر یہ کتاب تو آخر کار انسان کے ذہن کی ہی اختراع ہوگی اور انسان تو خطا کا پتلا ہے۔ ایسی کتاب کس طرح لائی جائے جس پر سب اتفاق کریں؟ یا وہ اپنا وجود تسلیم کروائے؟

اب کتاب کیسے وجود میں آتی ہے؟ وہ داستان ہراری بیان کرتا ہے۔

ایک ہزار سال قبل مسیح کے اوائل میں پیامبروں، پادریوں اور اسکالرز نے مل کر کہانیاں، دستاویزات، الہام، نظمیں، دعائیں اور تاریخی واقعات کا ایک مجموعہ اکٹھا کیا۔ یہ سب پہلے سے معاشرے میں موجود تھا۔ البتہ انہوں نے نئی اختراعات، رد و بدل، اور پک اینڈ چوز میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دور میں بائبل بطور ایک کتاب موجود نہ تھی۔ یہ نو ہزار مختلف دستاویزات تھیں جو قبل از مسیح کی دو صدیوں میں جمع کی گئیں۔ دستاویزات کا یہ مجموعہ حالیہ تاریخ میں بحیرہ مردار کے مغربی ساحل پر غاروں میں پایا گیا۔

ان اسکرولز سے کوئی بائبل برآمد نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کہ بائبل کی ان 24 کتابوں کا کوئی اشارہ ملتا ہے۔ ان نسخوں کا جب موجودہ بائبل سے موازنہ کیا گیا تو بہت بڑا تفاوت نظر آیا۔ دونوں مسودوں کی تعلیمات مختلف ہیں۔

بیک ٹو دی پوائنٹ۔

عالم فاضل یہودی جن کو ”ربی“ کہا جاتا ہے، اکٹھے ہوئے اور مذکورہ بکھرے مواد پر کام کرنے لگے۔ ان کے لیے یہ فیصلہ بڑا مشکل رہا کہ کس مواد کو قابلِ بھروسا اور خدا کا فرمان جان کر کتاب میں شامل کیا جائے۔ مگر پھر بھی اختلاف موجود تھا اور ان سات صدیوں میں مکمل اتفاق نہیں ہو پایا۔ پہلے اس پر جھگڑتے تھے کہ وہ جو گیت ہیں، ان کو صدائے خدا کہا جائے کہ نہیں؟ ربی آپس میں لڑتے رہے۔ جب وہ مسئلہ حل ہوا تو الفاظ، اصطلاحات اور تلفظ پر اختلافات شروع ہوئے۔ سات سے دس صدی قبل مسیح میں یہ مسائل بھی حل ہو گئے۔ یہاں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بائبل میں موجود ساری کتابوں کو الہامی صحائف نہیں کہا گیا۔ کچھ کتابوں کو آسمانی صحائف کا درجہ ملا تو کچھ کو انسانی کاوش قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ ربی خود کرتے رہے۔

کتابت (Canonization) کا یہ عمل مکمل ہوا اور کئی صدیاں گزر گئیں۔ کتاب آ گئی اور ایک قابلِ عمل و قابلِ اعتماد مواد گھر گھر پہنچ گیا۔ پھر یہودی بھول گئے کہ یہ انسانی کاوش ہے اور ان کے دل و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی کہ بائبل کی پہلی کتاب کوہِ طور پر موسیٰؑ پر خدا نے اتاری۔ یعنی بقول ہراری، افسانہ حقیقت میں ڈھل گیا۔

جب بائبل مکمل ہو گئی تو اس پر مہرِ تصدیق ثبت ہو گئی کہ اب غلطیوں کا پتلا انسان اور کوئی کرپٹ ادارہ اس میں تبدیلی نہیں کر سکے گا اور اس کو سیل کر دیا گیا۔ اس کے باوجود دو مسائل حل طلب تھے۔ ایک یہ کہ یہودی بستیوں کا پھیلاؤ ہو گیا تھا اور ان کو بائبل کی صحیح کاپی ملنا دشوار تھا۔ کچھ رد و بدل ہو جاتا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے کچھ رولز بنائے اور مسئلہ وقتی طور پر حل کر دیا۔ دوسرا مسئلہ تھا تاویل کا ۔

بائبل کے الفاظ جن کو ربی یہوا (Jehovah عبرانی میں خدا کو کہتے ہیں ) کا کلام کہتے تھے، کا صحیح مطلب جانچنے اور سمجھنے کا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ ایک سے زیادہ شرح و وضاحت ہو رہی تھیں اور ہر ایک اپنا مطلب نکال رہا تھا۔ تیسری صدی قبل از مسیح میں ربی ایک اور کتاب سامنے لائے جس کو مسنہ (Mishnah) کا نام دیا گیا۔ اس کتاب میں بائبل کی تاویل کی گئی۔ دلچسپ بات ہوئی کہ اس کتاب کو عام یہودیوں نے بائبل کا درجہ دیا حالانکہ یہ شرح و وضاحت پر مشتمل یعنی بائبل کی تفسیر تھی۔ یہودیوں نے کہا کہ یہ کسی انسان کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔ آج بھی کتنے یہودی مانتے ہیں کہ مسنہ کو بائبل کے ساتھ کوہِ طور پر اتارا گیا۔

اب ایک تیسرا دلچسپ مسئلہ پیش آیا اور وہ تھا مسنہ کی شرح و وضاحت کا ۔ اب اس کتاب کی کوکھ سے ایک تیسری مقدس کتاب تالمود نے جنم لیا۔ تالمود میں مسنہ کی تاویلات کو پیش کیا گیا تھا جو کئی ربیوں نے مل کر ایک نتیجے تک پہنچ کر تشکیل دی تھی۔ اس کتاب کی تاویلات کو بھی بہت سارے یہودی عالموں نے رد کر دیا۔ تالمود کی شرح و وضاحت شروع ہو گئی۔ نتیجتاً ربی ادارے طاقت کے سرچشمے بنتے گئے۔ ہراری ایک جگہ دلچسپ تبصرہ کرتا ہے :

”Trust the infallible book“ turned into ”trust the humans who interpret the book“ . Judaism was shaped by the Talmud far more than by the Bible, and rabbinical arguments about the interpretation of th eTalmud became even more important than the Talmud itself.

(معتبر کتاب پر اعتماد کرو کا "منتر“ ان انسانوں پر اعتماد کرو جو اس کی شرح و وضاحت کرتے ہیں۔ ”میں تبدیل ہو گیا۔ یہودیت کی تشکیل میں بائبل کے کردار سے تالمود کا کردار زیادہ تھا اور تالمود کی تشریح پر ربانی بحثیں خود تالمود سے بھی زیادہ اہم ہو گئیں۔ )

بقول ہراری، چونکہ کام انسان ہی کا تھا، اس میں کمی خامیاں رہ گئیں اور ربی ادارے دور کے مطابق مزید تاویلات کے پھندے پھیلاتے رہے۔ آغاز میں پادری صرف عبادات اور قربانیوں پر فوکس کرتے تھے۔ بعد کی صدیوں میں دو پادری اس پر پنجہ آزما ہو جاتے کہ کون سی تاویل ٹھیک ہے اور کون سی غلط۔ مثلاً ”سبت کے دن کام مت کرو“ اب لفظ ”کام“ پر جھگڑا شروع ہو گیا کہ کام میں کیا کیا شامل ہے؟ یہودیت اب ایک معلومات کا مذہب بن گیا۔

اب ہراری عیسائیت کی تاریخ اور وجود میں آنے کی داستان سناتا ہے۔

بہت سارے یہودی ایسے تھے جو یہوا کے الفاظ پر تو ایمان لے آتے تھے مگر ربیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے عہد نامہ قدیم (Old Testament) کو شرفِ قبولیت بخش دی مگر اس دستاویز کے قلم بند اور سیل ہونے سے پہلے ہی اس اختلافی گروہ نے ربی ادارے کی اتھارٹی کو ٹھکرا دیا۔ صرف یہی نہیں، مسنہ اور تالمود سے بھی راہ الگ کر لی۔ اس گروہ کو عیسائی کہا جاتا ہے۔

جب پہلی صدی میں عیسائیت معرضِ وجود میں آئی تو یہ کوئی باضابطہ مذہب نہ تھا بلکہ یہودیوں کی ایک تحریک تھی جو اکثر تاویلات پر یقین نہیں رکھتی تھی سوائے اس کے کہ ربی ادارے کے بجائے عیسیٰؑ کو یہووا کے فرمان کا ترجمان مانتی تھی۔

عیسائیوں نے اپنے تئیں دعائیں، تحریریں، الہامی انکشافات، بشارتیں، مراسلے، پیش گوئیاں اور کہانیاں جمع کرنا شروع کیں۔ ان کے لیے بھی وہی مشکل مقام آیا کہ کس مواد پر یقین کیا جائے۔ سو انہوں نے ایک عیسائی ادارے کی ضرورت محسوس کی جہاں کہی ہوئی باتیں شخص کے بجائے ادارے کی طرف سے منظور کردہ ہوں۔ اس طرح عہد نامہ جدید (New Testament) وجود میں آئی۔ اس وقت جب کہ یہودی ربی بائبل کی تاویل کے حوالے سے مسنہ اور تالمود پر کام اور مباحثے کر رہے تھے، عیسائی پادری، بشپ، اور ماہرین الہیات اس نئی کتاب کو تشکیل دے رہے تھے۔ چوتھی صدی میں یہ کام اپنے اختتام کو پہنچا اور عیسائی اسکالرز کا تیار کردہ مواد ان کی سفارشات کو سامنے رکھ کر ایک باضابطہ دستاویز کی صورت میں عہد نامہ جدید کا نام دے کر پیش کیا گیا۔

جب کوئی عیسائی بائبل کہتا ہے تو یہ عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کے مجموعے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ یعنی عیسائی دونوں کے گٹھ جوڑ کو بائبل مانتے ہیں۔ اس کے برعکس، یہودیوں نے کبھی عہد نامہ جدید کو قبول نہیں کیا اور ان کی بائبل کا مطلب ہے عہد نامہ قدیم جس میں مسنہ اور تالمود بھی شامل ہیں۔

اس بحث کے آخر میں ہراری چرچ اور ربی ادارے کے قیام کے حوالے سے لکھتا ہے کہ جس طرح زیادہ تر یہودی اس بات کو بھول گئے کہ عہد نامہ قدیم ربیوں کی ذہنی اختراع تھی، اسی طرح اکثر عیسائی بھی بھول گئے ہیں کہ چرچ کونسل نے عہد نامہ جدید کو تشکیل دیا ہے۔ چونکہ اصل طاقت کا سرچشمہ یہ مقدس کتاب تھی تو کتاب کی تشکیل و تاویل کی وجہ سے طاقت ان مذہبی اداروں کے ہاتھ میں چلی گئی۔ عہد نامہ قدیم کی کتابت و تشکیل نے ربی ادارے کو طاقتور بنا دیا تو عہد نامہ جدید نے چرچ کو جنم دیا جو ایک طاقتور ادارہ بن گیا۔

The attempt to invest all authority in an infallible superhuman technology led to the rise of a new and extremely powerful human institution__the church.

(ایک غیر متزلزل مافوق الفطرت انسانی ٹیکنالوجی پر تمام تر طاقت کے نچھاور سے ایک نیا اور بہت ہی طاقتور انسانی ادارہ، چرچ وجود میں آیا۔ ) دی ریسٹ از ہسٹری۔

جیسے کہ شروع میں عرض کیا، یہ ہراری کی تاریخ دانی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کو نہ یہودی شرف قبولیت بخشتے ہیں، نہ عیسائی اور نہ ہی مسلمان۔ علاوہ ازیں بہت سارے تاریخ دان بھی ہراری کے خیالات کو نہیں اپناتے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ موجود ہے۔ کتاب کافی دلچسپ ہے۔ میرے خیال میں رواں سال یہ کتاب ٹاپ پر رہے گی۔ شاید سب سے زیادہ خریدی اور پڑھی جانے والی کتاب یہی ہوگی۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.