ایک اور تعلیمی ایمرجنسی: کیا یہ کارگر ہو گی؟


یہ دسمبر 2010 کی بات ہے، جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ شور اٹھا کہ ملک میں تقریباً دو کروڑ سے زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں اور انہیں فوری طور پر تعلیم کے نظام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹاسک فورس بنائی گئی، ٹی وی پر تعلیمی مباحثے ہوئے، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد ہوا۔ لیکن حسب معمول کچھ ہی عرصے بعد خاموشی چھا گئی اور چند مہینوں کے اندر سب کچھ بھلا دیا گیا۔

آج پھر وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ اس بار صورت حال اور بھی سنگین ہو چکی ہے، کیونکہ اس وقت اسکول سے باہر بچوں کی تعداد دو کروڑ ساٹھ لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ پھر سے شور برپا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایمرجنسی کارآمد ہوگی؟ کیا واقعی حکمران اور ایلیٹ طبقہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں؟

پاکستان کا تعلیمی نظام معاشرے کی طبقاتی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں کا تعلیمی نظام بھی معاشرتی طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ملک میں تین مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں : پرائیویٹ اسکولز، سرکاری اسکولز اور مدارس۔ پرائیویٹ اسکولز کو بھی مزید تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے : ایلیٹ پرائیویٹ اسکولز، درمیانے درجے کے پرائیویٹ اسکولز اور گلی کوچوں کے چھوٹے پرائیویٹ اسکولز۔ ایلیٹ پرائیویٹ اسکولز میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور اشرافیہ کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر کے مستقبل کی حکمرانی کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ درمیانے درجے کے اسکولوں میں متوسط طبقے کے لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ نچلے متوسط طبقے کے لوگ گلی کوچوں کے اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کر کے خود کو مطمئن کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں پڑھا رہے ہیں۔

سرکاری اسکولز، جو اکثر غریب والدین کے لیے آخری امید ہوتے ہیں، اب اپنی اہمیت کھوتے جا رہے ہیں۔ آئینی طور پر تعلیم کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ریاست اس فریضے کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔ گورنمنٹ اسکولوں کا معیار مسلسل گرتا جا رہا ہے، یہاں تک کہ خود سرکاری اساتذہ بھی اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں تعلیم دلوانے کے بجائے پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ اپنے بچوں کو مدارس یا کام پر بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مدارس کا نظام بھی تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں زیادہ تر غریب یا مذہبی رجحان رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں۔ لیکن اس نظام کی زمانے کے ساتھ مطابقت اور افادیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ملک کا تعلیمی نظام اس قدر تنزلی کا شکار کیوں ہے؟ میرے خیال میں سب سے بڑی وجہ حکومت اور ریاستی اداروں کی عدم دلچسپی اور سنجیدگی کی کمی ہے۔ حکمران طبقے نے اپنے لیے ایک علیحدہ دنیا بنا رکھی ہے، جہاں ان کے بچے معیاری تعلیم حاصل کر کے مستقبل کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ اس لیے تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل نہیں کیا جاتا۔

کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ تعلیمی مسئلے پر پارلیمنٹ کا کوئی ہنگامی اجلاس بلایا گیا ہو؟ یا یہ کہ مقتدرہ اداروں نے پارلیمنٹ کے اراکین کو مجبور کیا گیا ہو کہ وہ تعلیم کے مسئلے پر غور و فکر کریں اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کریں؟ کیا کبھی عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر سوموٹو ایکشن لیا اور حکومت سے پوچھا کہ وہ اپنے آئینی فرائض کیوں ادا نہیں کر رہی؟ نہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا، اور شاید آئندہ بھی نہ ہو، کیونکہ حکمران طبقے کو غریب کے بچوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہیں تو صرف ناخواندہ اور بے خبر عوام پر حکمرانی کرنے کی ضرورت ہے۔

دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آسٹریلیا کی کل آبادی سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں، جہاں خواندگی اور تعلیم کی تعریف بدل چکی ہے، ایک ملک میں کروڑوں بچے ناخواندہ اور غیر ہنر مند پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسے معاشرے کا اشارہ ہے جو بے روزگاری اور بدحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ تعلیمی ایمرجنسی کار آمد ہوگی؟ یہ تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب اس پر مکمل سنجیدگی، عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو یہ اعلان بھی ماضی کی طرح وقتی شور کے بعد فراموش کر دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے کروڑوں بچے تعلیم سے محروم رہیں گے، اور ملک کا مستقبل مسلسل غیر یقینی اور اندیشوں میں گھرا رہے گا۔

Facebook Comments HS