حامد میر صاحب اور آئین میں درج بنیادی حقوق


چند روز قبل روزنامہ جنگ میں حامد میر صاحب کا ایک کالم ’سیرت فیسٹیول‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کالم میں انہوں نے بہت سے موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے اور میری رائے میں اس کالم میں ان کے بعض تبصرے کچھ غیر واضح بھی ہیں۔ مگر ایک کالم میں ان سب پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لئے اس کالم میں خاکسار حامد میر صاحب کے کالم کے صرف آخری جملوں پر کچھ گزارشات پیش کرے گا۔ حامد میر صاحب لکھتے ہیں :

”احمدی یا قادیانی آئین پاکستان میں اپنی حیثیت کو تسلیم کریں اور ریاست پاکستان انہیں اپنے شہری کی طرح تحفظ فراہم کرے۔ نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی اس مسئلے پر بھی مکالمے کا اہتمام کر کے تمام پاکستانیوں کی ایک اور خدمت کر سکتی ہے۔“

دوسرے الفاظ میں حامد میر صاحب کا موقف یہ ہے کہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور احمدی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کر رہے۔ جب یہ لوگ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کر لیں گے تو پھر ریاست پاکستان اس بات پر غور کرے گی کہ انہیں دوسرے شہریوں کی طرح تحفظ فراہم کرے۔ حامد میر صاحب نے آئین پاکستان کا حوالہ دیا ہے تو سب سے پہلے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ اس بارے میں آئین کیا کہتا ہے۔

آئین کا وہ حصہ جس کا میر صاحب ذکر کر رہے ہیں وہ آرٹیکل 260 ( 3 ) ہے۔ اس میں لکھا ہے :

”دستور اور تمام وضع شدہ قوانین اور دیگر قانونی دستاویزات میں، تا وقتیکہ موضوع یا سیاق و سباق میں کوئی امر اس کے منافی نہ ہو:

(الف ) ’مسلم‘ سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو وحدت اور توحید قادر مطلق اللہ تبارک تعالیٰ، خاتم النبیین حضرت محمد (ﷺ) کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط طور پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر نہ ایمان رکھتا ہو اور نہ اسے مانتا ہو جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا اس کی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے۔ اور

(ب) غیر مسلم سے کوئی ایسا شخص مراد ہے جو مسلم نہ ہو اور اس میں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ یا پارسی فرقے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں ) کوئی شخص یا کوئی بہائی یا کسی جدولی ذاتوں سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہے۔ ”

آئین کی اس شق کا ابتدائی حصہ ہی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ اس میں صرف یہ ذکر کیا گیا ہے کہ دستور، قوانین اور قانونی دستاویزات میں جب مسلم کا لفظ استعمال ہو گا تو اس سے یہ مراد ہو گی اور ان ان عقائد سے وابستہ لوگ دستور اور قانونی دستاویزات میں ’غیر مسلم‘ شمار ہوں گے۔ اس شق کے مطابق حکومت سرکاری اعداد و شمار اور کاغذات میں اور پاسپورٹوں پر احمدیوں کا اندراج بطور مسلمانوں کے نہیں کرتی۔ اور ان کا اندراج بطور احمدیوں کے کیا جاتا ہے۔ احمدی اپنے آپ کو خود کیا سمجھتے ہیں؟ آئین کی یہ شق اس پر کوئی پابندی نہیں لگاتی اور قوانین کا تعلق ظاہری حالتوں اور اقوال اور افعال پر ہوتا ہے۔ کسی شخص یا گروہ کے ذہنی خیالات اور نظریات کے بارے میں نہ کوئی قانونی پابندی لگائی جاتی ہے اور نہ کوئی ذی ہوش ایسی پابندیوں کو قبول کر سکتا ہے۔

ہم سب یہ جانتے ہیں کہ 1974 میں آئین اور قانون کی اغراض کے لئے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اور اس بارے میں ایک سپیشل کمیٹی قائم کی گئی تھی اور اس کمیٹی نے دوسری آئینی ترمیم کو حتمی شکل دی تھی۔ اس میں کئی روز احمدیوں کے وفد نے بھی اپنا موقف پیش کیا تھا۔ اس وقت اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے جماعت احمدیہ کے وفد کو مخاطب ہو کر کہا تھا :

’کسی نے یہ تو suggest نہیں کیا کہ آپ کو سوچنے کی آزادی نہیں ہے۔

That you have not the freedom of thought or mind or conscience or the way you seek the truth, nobody has suggested it anywhere… ’

(کارروائی صفحہ 126 )

اس کے بعد اس کارروائی کا صفحہ نمبر 128 ملاحظہ فرمائیں۔ اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ اس ترمیم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھ سکتے یا نمازیں نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی کوئی آپ کو اپنے عقائد کی تبلیغ سے روک سکتا ہے۔

جب جماعت احمدیہ کے وفد نے یہ موقف بیان کیا کہ اس ترمیم کے نتیجہ میں ان کے بنیادی حقوق پامال ہوں گے تو اٹارنی جنرل صاحب نے ان الفاظ میں اس تجویز کردہ ترمیم کا مطلب بیان کیا:

”How can the question arise nobody is going to violate your right to profess any religion, to practice any religion, to feel what you like , to have any faith you want.“

ترجمہ: یہ سوال کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔ کوئی آپ کا یہ حق تلف نہیں کر سکتا کہ آپ جس مذہب کی طرف چاہیں اپنے آپ کو منسوب کریں، آپ کسی بھی مذہب پر عمل کر سکتے ہیں، آپ جو چاہیں نظریہ رکھ سکتے ہیں اور آپ جو عقیدہ پسند کریں وہ رکھ سکتے ہیں۔ (کارروائی صفحہ 129 )

جب اس سپیشل کمیٹی کی کارروائی اختتام پذیر ہو رہی تھی تو 5 ستمبر 1974 کو اٹارنی جنرل صاحب نے ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا:

”It is my duty to draw the attention of the honorable members of the House that if you declare a section of population as separate religious community then not only the constitution but even your religion enjoins upon you to respect their right to profess and practice their religion and to propagate it.“

ترجمہ : یہ میرا فرض ہے کہ میں اس ایوان کے معزز اراکین کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں کہ اگر آپ آبادی کے ایک حصہ کو ایک علیحدہ کمیونٹی قرار دیتے ہیں تو نہ صرف آئین بلکہ آپ کا مذہب بھی آپ کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ آپ ان کے اس حق کا احترام کریں کہ وہ اپنے مذہب کا اظہار کر سکتے ہیں، اس پر عمل کر سکتے ہیں اور اس کی تبلیغ کر سکتے ہیں۔

اس عاجز نے آئین کی متعلقہ شق بھی درج کر دی ہے اور اس وقت سپیشل کمیٹی میں اٹارنی جنرل صاحب جو ساری بحث میں ممبران اسمبلی کی نمائندگی کر رہے تھے ان کے بیان کردہ نظریات بھی درج کر دیے ہیں۔ کیونکہ بہت سے ماہرین اس بات کو بھی اہمیت دیتے ہیں کہ جب کوئی قانون بنایا گیا تو اس وقت قانون سازوں کی legislative Intent کیا تھی۔ اس شق میں اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کہ ایک شہری اپنے آپ کو کس عقیدہ یا مذہب کی طرف منسوب سمجھتا ہے۔ آئین کی اس شق میں تو صرف یہ لکھا ہے کہ دستور، قانون یا قانونی دستاویزات میں ان گروہوں کے بارے میں مسلم کا لفظ استعمال ہو گا اور ’غیر مسلم‘ کی اصطلاح ان گروہوں کے بارے میں استعمال ہو گی۔

جیسا کہ خاکسار نے پہلے حوالہ درج کیا ہے، حامد میر صاحب نے لکھا ہے کہ احمدی پہلے اپنی آئینی حیثیت تسلیم کریں اور پھر حکومت ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا کام شروع کرے گی۔ میری درخواست ہے کہ حامد میر صاحب آئین میں درج بنیادی حقوق پر ایک نظر ڈالیں۔ ان شقوں میں کہیں پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے علیحدہ بنیادی حقوق بیان نہیں کیے گئے۔

ان حقوق کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ کسی شہری کا تعلق کس عقیدہ سے ہے اور وہ اپنے آپ کو کس عقیدہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے۔ یہ حقوق ناقابل تنسیخ ہیں اور آئین کی شق 8 ملاحظہ کریں پارلیمنٹ کو بھی اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ قانون سازی کر کے ان حقوق کو سلب یا کم کر سکے۔ خاکسار حامد میر صاحب کی اس تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے کہ اس موضوع پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ لیکن مکالمہ ہمیشہ مساوی سطح پر کیا جاتا ہے۔ اگر اس قسم کے مکالمہ کے لئے یہ پیشگی شرط لگا دی جائے کہ اگر تم اپنے آپ کو یہ سمجھو گے تو مکالمہ ہو گا ورنہ نہیں تو ایسے مکالمہ کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ خاکسار نے عرض کی تھی کہ اس کالم میں صرف ایک پہلو پر تبصرہ کیا جائے گا باقی پہلوؤں کے بارے میں بعد کے کالموں میں کچھ گزارشات پیش کی جائیں گی۔

Facebook Comments HS