ہم قاضی فائز عیسیٰ کے اہل نہیں
”قاضی فائز عیسیٰ پاکستان کے چیف جسٹس رہنے کے اہل کہاں، انھیں فی الفور استعفا دے دینا چاہیے۔ جو اپنی عزت نہ سنبھال سکیں وہ قانون کی عزت کیا سنبھالیں گے۔ چیف جسٹس دس دس گاڑیوں کے پروٹوکول میں پھرتے تھے یہ تن تنہا ڈونٹ کھانے چل پڑتے ہیں۔ اور پھر ذات کا انتقام تک نہیں لیتے معاف کر دیتے ہیں۔ دفتر پیدل جاتے، پروٹوکول کے بغیر گھومتے، اپنے اختیارات بڑھانے کے بجائے چھوڑ دیتے، رشوت لے کر فیصلے نہیں کرتے اور پاکستان میں اصول بانٹتے پھرتے ہیں۔ تو پھر ان کی ٹرولنگ تو بنتی ہے۔ چیف جسٹس تو ایسا دبنگ ہونا چاہیے جو فل پروٹوکول کے ساتھ چیف جسٹس کے عہدے کا وقار لوٹا سکے جو کہہ سکے کہ دو تین ایم این اے تو میں ہی بٹھا لوں گا، ہوٹل والے سے ناراض ہو تو کچن پر چھاپے مارے، پاگل خانے کا ایم ایس بدلنے کے لیے مینٹل ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دے، برتن اٹھا اٹھا کر باہر پھینکے، ڈیم فنڈ اکٹھا کرے، بیرون ملک جائیدادیں بنائے، بچوں کی شادیوں پر ایسے شاہانہ اخراجات کرے کہ مہیش امبانی بھی شرما جائے، الیکشنز میں بیٹے کے ذریعے“ سیاسی جماعت ”کے ٹکٹ فروخت کرے، پانامہ سے اقامہ نکالے، پی کے ایل آئی جیسے عوامی فلاحی منصوبے کے ڈاکٹر کو بلا کر اس لیے بے عزت کرے کہ اُس کا بھائی بھارتی ہسپتالوں میں پیوند کاری کا پاکستان میں سول ڈسٹری بیوٹر ہو۔ سیاسی وابستگی والے جونیئر ججز کو سپریم کورٹ میں لائے، ملک کے منتخب وزیر اعظم کی نام نہاد کرپشن پہ کمیٹی بنائے، انصاف پسند ججز کا گلا گھونٹے اور ٹرکوں والے ججز کو اوپر لائے، مرضی کے فیصلے کے لیے نگران جج مقرر کرے، منتخب وزیر اعظم کی کرپشن نہ ملے تو پانامہ سے اقامہ اور پھر“ بلیک ڈکشنری ”نکالے اور“ گاڈ فادر ”جیسا ناول پڑھ کر خیالی جرائم پر حقیقی سزائیں دے۔“ اپنی محبوب جماعت ”کے کسی سیاسی مخالف کی ضمانت نہ ہونے دے۔
قاضی فائز عیسیٰ ہمیں کہاں راس آئیں، جو اپنی اور اپنی بیوی کی ایمان داری کے ثبوت کے لیے وقت کے نمرودوں کی آگ میں جلے، جو پلاٹ لینے کے بجائے اپنی زمین قومی اداروں کے لیے وقف کرے۔ اس قاضی محمد عیسیٰ کا بیٹا جس نے تحریک پاکستان اور پاکستان کے لیے سب کچھ لٹا دیا وہ چیف جسٹس کے عہدے کی ”اہلیت“ کہاں رکھتا ہے۔
سات دہائیوں میں عدلیہ نے ”پی سی او“ کو سر آنکھوں پر بٹھانے، نظریہ ضرورت کی بنیاد پر آئین پر فاتحہ خوانی کرنے، آمریت کو جواز بخشنے، آمروں کو آئین میں ترمیمیں کرنے کی اجازت دینے، ذاتی پسند و ناپسند کو فیصلہ سازی میں جگہ دینے، عوامی مقدمات کو سالوں اور دہائیوں تک لٹکانے، وکیل کی بجائے ”ڈائریکٹ جج“ کرنے کی اصطلاحوں کا سامان مہیا کرنے، وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے، سول حکمرانوں کو پھانسی کی سزا دینے، ہیرو بننے کے لیے من پسند ایشوز پر سوموٹو لینے، آئین کو ری رائیٹ کرنے اور اپنے من پسند فیصلوں کو آئین قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا نے کے سوا اور کون سا کارنامہ انجام دیا ہے؟ ہماری معزز عدلیہ، نے عوامی مقدمات کی بجائے ان مقدمات کو ترجیح دی، جن سے سیاسی پوائنٹ سکورنگ ممکن ہو سکے۔ سیاسی وابستگیوں پر فیصلوں سے پاکستان میں آئے روز آئینی، عدالتی و قانونی بحران اور ملک میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہوتی رہی۔ براہ راست معیشت، امن و امان، سرمایہ کاری اور انصاف پر کاری ضرب لگتی رہی۔ مولوی تمیز الدین، ڈوسو، عاصمہ جیلانی، نصرت بھٹو کیس جیسے کئی ایک کیسز کے فیصلے سیاسی تھے قانونی نہیں۔ عدلیہ کی کچھ کالی بھیڑیں سپریم کورٹ کے فیصلوں کو الہامی قرار دیتی ہیں حالانکہ ججز بھی انسان اور ہماری طرح خطا کے پتلے ہیں۔ مگر عالم یہ ہے کہ:
سماعت سے جہاں پہلے سزا تجویز کر دی ہو
دلائل بے گناہی کے تو پھر بے جان لگتے ہیں
جب بھی جمہوری حکومت کا تختہ الٹا، مارشل لاء لگا، یا اسمبلی ٹوٹی، عدلیہ ”داشتہ بکار آید“ کے طور پر استعمال ہوئی۔ منتخب نمائندوں کو اسمبلی سے باہر پھینکنے اور آمروں کے سروں پر آئین کی چھتری تاننے کے کردار اور حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے ملک میں جمہوریت نہیں پنپ سکی۔
قاضی فائز نے چیف کا عہدہ کیا سنبھالا، برسوں سے خواب خرگوش کا مزہ لینے والی عدلیہ بیدار ہو گئی۔ اسے معلوم ہوا کہ عدالتی نظام پامال ہو رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے مملکت کو میگنا کارٹا (Magna Carta) سے متعارف کرانے کی ٹھانی۔ سپریم کورٹ سے رہنمائی مانگ لی کہ رول آف لاء اور اپنی آزادی درکار ہے۔ ”عیاں را چہ بیاں“ کے مصداق خط چغلی کھا رہا تھا کہ کئی سالوں سے عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کی ماتحت اور ایجنسیوں کی ہیرا پھیری، جوڑ توڑ کی زد میں تھی۔ قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بنتے ہی بطل حریت بننے کی جرات ِ رندانہ سامنے آئی۔ عمران، باجوہ بھیانک دور میں قاضی فائز اور شوکت صدیقی نشانہ بنے، بطل حریت اس تناظر میں اپنا نفع نقصان دیکھتے رہے۔ اب مملکت دو متحارب سیاسی فریقوں کی آماجگاہ ہے۔ ججز بھی دامے درمے سخنے فریق بن چکے ہیں۔ عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی پہلا جہاد قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شروع کیا۔ سالوں عمرانی سوشل میڈیا نے ان کی ٹرولنگ اور ان کے خلاف دشنام طرازی جاری رکھی۔ ایک ایسے چیف جسٹس گلزار بھی آئے جنہوں نے قاضی عیسیٰ کو حکومتی مقدمات سے الگ رکھنے کا ”تاریخی فیصلہ“ صادر فرمایا۔
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
عمران خان نے جنرل عاصم منیر اور قاضی فائز کے خلاف بہتانوں اور جھوٹ کا طومار اس وقت باندھا، جب وہ اپنے موجودہ عہدوں پر فائز نہیں تھے۔ قاضی نے زندگی جرات اور آئین و قانون کے تابع گزاری۔ آئین و قانون سے تجاوز کی بھی نوبت نہیں آنے دی۔ فیض آباد دھرنے اور بلوچستان سے متعلق ان کے فیصلے اس کے شاہد ہیں۔ 8 فروری الیکشن کا سہرا بھی قاضی عیسیٰ کے سر ہے۔ یہی الیکشن تحریک انصاف کو نئی طاقت دے گیا۔ عمران خان، اسٹیبلشمنٹ لڑائی میں آج عدلیہ کا ایک حصہ خان کی حمایت میں خم ٹھونک چکا ہے جبکہ دوسرا آئین اور قانون کی بالا دستی کے لئے ڈٹ چکا ہے۔
70 سال تک جس عدلیہ نے اسٹیبلشمنٹ سے مل کر عوام کے منتخب نمائندوں اور ان کی اسمبلیوں پر تلواریں چلانے کو جائز قرار دیا۔ اور جاہ طلبی کی خواہش جس کا اظہار جسٹس افتخار چودھری دور میں اس طرح سامنے آیا کہ اس کے بعد عدلیہ ملک کے ہر ادارے کو چیلنج کرتی رہی۔ منتخب وزرائے اعظم کو پانچ غیر منتخب جج ایک منٹ میں گھر بھیجتے رہے۔ آئین اور قانون کی ایسی من مانی تشریحات کی گئیں کہ آئین بنانے والے آئین ساز مجبور محض بن گئے۔ سپریم پارلیمان کے وضع کردہ قوانین کو تشریح کے بہانے سرے سے ہی بدل کر اپنی مرضی کے معانی پہنائے گئے۔ سب چیرہ دستیاں صبر سے برداشت کی گئیں، کیونکہ اس وقت ”وہ“ بھی ان کے ساتھ تھے اس لئے کسی کی جرات نہیں تھی کہ عدلیہ کی تجاوزات پر انگلی اٹھائے لیکن اسے مکافات کہہ لیں کہ اب ”وہ“ بھی اس جاہ طلبی سے تنگ ہیں۔
منصفوں کو ایسے فیصلے دینے چاہئیں کہ بحران ختم ہو مگر یہاں بحرانوں کو دوام بخشنے والے فیصلے دے کر ان پر عمل درآمد کے احکام دیے جا رہے ہیں۔ ہمہ وقت سیاست میں مداخلت کرنے والی عدلیہ نے کبھی اپنے ادارے کے ماضی کے داغ مٹانے کی کوشش نہیں کی۔ بھٹو کی پھانسی غلط قرار دی گئی مگر ان ججز کے بارے میں خاموشی کیوں جنہوں نے یہ غلط فیصلہ کیا تھا؟ کیا کبھی افتخار چودھری، ثاقب نثار، جسٹس آصف کھوسہ، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز کو بلا کر پوچھا گیا کہ آپ نے ماورائے قانون فیصلے کیوں سنائے؟ جسٹس بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن سے دریافت کیا کہ آپ نے تو خود عمران خان کے اسمبلی توڑنے کے اقدام کو غلط قرار دیا، پھر جاہ طلبی کے لیے آپ شہباز حکومت کے پیچھے پڑ گئے۔ ماورائے قانون فیصلے تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہی ہوا کرتے ہیں۔ 75 سال میں ہم نے جو آئین بنایا اور آئینی ادارے تشکیل دیے، ان کا کچھ نہ کچھ بھرم اب بھی قائم ہے، مگر حالیہ لڑائی سے یہ بھرم ٹوٹ جائے گا۔ مقتدرہ کمزور ہو یا عدلیہ، دونوں صورتوں میں ملک کا نقصان ہو گا۔ کاش دونوں فریق درمیانی راستہ نکالیں۔ قانون کی بالادستی قاضی فائز عیسیٰ کا ناقابل معافی قصور ہے، جس کی سزا وہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر بھی بیٹھ کر بھگت رہے ہیں لیکن تابکے؟ کبھی تو ان کے ظرف کی وسعت مخالفین کو حقائق تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گی۔


