جنگ کو ایک موقع دو


ایڈورڈ نکول لتواک اپنی شہرہ آفاق تحقیقاتی مضمون ”جنگ کو ایک موقع دو“ میں لکھتا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ بہت بڑی برائی ہے۔ جنگ انسانوں کی لئے تباہی اور بربادی لاتی ہے۔ ایڈورڈ نکول لتواک لکھتا ہے کہ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو جنگ ایک بہت بڑی نعمت بھی ہے۔ کیونکہ جنگ کے ذریعے سیاسی تنازع حل کیے جا سکتے ہیں۔ بقول اس کے جنگ میں جب ایک فریق دوسرے فریق کو مکمل شکست دے دیتی ہے تو تنازع حل ہو جاتا ہے اور دیرپا امن قائم ہو جاتا ہے۔

لیکن ساتھ ہی وہ اس بات کی وضاحت بھی کرتا ہے کہ جنگ تب تک جاری رہنی چاہیے جب تک تنازع کو مکمل طور پر حل نہ کیا جائے۔ کیونکہ جنگ ہمیشہ خون کی ندیاں بہنے کے بعد امن کا سبب بنتی ہے۔ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ سوال ذہین میں آتا ہے کہ کیا حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی موجودہ فوجی کارروائی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کا سبب بن سکتی ہے؟ اگر مشرق وسطیٰ کے زمینی حقائق کو ذہین میں رکھ کر تجزیہ کیا جائے تو کسی حد تک اس بات کا امکان نظر آتا ہے کہ شاید جنگ اس مسلے کا حل ثابت ہو جائے لیکن اس کے لئے بہت بھاری قربانی دینی پڑے گی۔

جہاں تک فلسطین کا تعلق ہے تو وہاں پہ جنگ کے ذریعے پائیدار امن قائم کرنا اگرچہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے۔ وہ اس لئے کہ فلسطین کی پچھتر لاکھ آبادی اور تقریباً چھ ہزار مربع کلومیٹر زمین دونوں ایسے حقائق ہیں جن کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو اسرائیل کی فوجی طاقت کو مد نظر رکھتے ہوئے باآسانی یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل بزور بازو غزہ اور مغربی پٹی پہ قبضہ کر سکتا ہے۔

لیکن دوسری طرف پچھتر لاکھ فلسطینی آبادی ہے جن کو ختم کرنا یا قبضہ کر کے غلام رکھنا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ دوسری طرف اسرائیل اور حزب اللہ کی لڑائی کا توازن حالیہ چند دنوں کی واقعات کے بعد یکسر بدل چکا ہے۔ اسرائیل نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور فوجی مہارت کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہفتے کے مختصر وقت میں حزب اللہ کے اٹھارہ لیڈر بشمول حسن نصر اللہ کے ہلاک کیے ۔ جس کے بعد اسرائیل کو حزب اللہ پہ واضح فوجی اور سٹریٹیجک برتری حاصل ہو گئی ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ لیڈرشپ کو ختم کرنے سے کوئی ملک یا تنظیم اگرچہ کمزور ہو سکتی ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ حزب اللہ بھی مشرق وسطیٰ میں کئی عشروں سے ایک مسلمہ حقیقت ہے اور چند لیڈرز کے مارنے سے یہ حقیقت اتنی جلدی مٹ نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار ہمیشہ انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ امور مشرق وسطیٰ کے تمام مبصرین اس بات پہ متفق ہے کہ حماس اور حزب اللہ کی بقاء میں ایران کی حمایت اور امداد کا اہم کردار رہا ہے۔

اس صورتحال میں ایران کبھی بھی حماس اور حزب اللہ کو بھیڑیے کے سامنے نہیں پھینکے گا۔ لہٰذا جنگ کے ذریعے اگر مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنا ہے تو حماس اور حزب اللہ کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی فوجی طاقت کے ذریعے خاموش کرنا ہو گا جو کہ کسی بھی طرح آسان نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ اس سارے قضیے میں شام اور عراق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ایران، شام، عراق اور لبنان کو ملا کر مشرق وسطیٰ میں شیعہ بلاک بنتا ہے۔

ان میں سے کسی ایک ملک میں ہونے والی سیاسی اور عسکری اتار چڑھاؤ کا باقی ممالک پہ براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اس لئے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل، حماس، حزب اللہ اور ایران کے بیچ جاری زور آزمائی میں شام اور عراق بھی برابر کے فریق ہیں۔ لہٰذا اگر اسرائیل ایڈورڈ نکول لتواک کے مفروضے ”جنگ کو ایک موقع دو“ کے بنیاد پہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی تنازع ختم کر کے پائیدار امن قائم کرنے کا سوچ رہا ہے تو اس کے لئے بہت بھاری قربانی دینی پڑے گی۔ اس جنگ کی شدت کو مزید بڑھانا ہو گا جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر خونریزی ہوگی جو کہ ایک انسانی المیہ کو جنم دیگی۔ کیونکہ اس تنازع کو ختم کرنے کے لئے صرف جنگ ہی کافی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ جغرافیائی تبدیلی بھی ناگزیر ہوگی

Facebook Comments HS