ناکامی سے خوف کھانا چھوڑ دیں
انسان فطرتاً کامیاب کہلوانا چاہتا ہے۔ اسے ناکامی لفظ سے نفرت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہ جس بھی کام کو شروع کرے، کامیابی اس کے قدم چومے۔ لیکن زندگی بڑی عجیب اور کٹھن ہے، کامیابی ایک خاص محنت، مشقت اور جدوجہد کے بعد ملتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم صرف کامیاب انسان کی کامیابی کو دیکھتے ہیں، اس کے پیچھے اس کی ان تھک محنت ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔ نہ جانے ایک کامیابی کے پیچھے اس کی کتنی ناکامیاں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس لیے کامیاب لوگ کبھی بھی ناکامی سے نہیں گھبراتے بلکہ وہ اسے اپنی جدوجہد کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ ناکامی ہمیشہ کامیابی سے پہلے آتی ہے اور انسان کو کچھ نہ کچھ ضرور سکھا کر جاتی ہے۔ لہذا، ہمیں ناکامیوں سے کبھی بھی ڈرنا نہیں چاہیے، بلکہ ان کو سیڑھی بنا کر کامیابی کی تگ و دو میں ڈٹے رہنا چاہیے۔ مشہور ہندوستانی فلم سٹار میں شاہ رخ خان کا ایک ڈائیلاگ بھی ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کے لیے اتنی زیادہ جدوجہد کریں کہ ساری کائنات کو مل کر آپ کو کامیابی دلانے کے لیے سازش کرنی پڑے۔
آپ تمام کامیاب ہستیوں کی زندگی کا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں جس شخص نے جتنی بڑی کامیابی حاصل کی، اسے پہلے پہل اتنی ہی بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابراہم لنکن نے اپنی زندگی کے ابتدائی دن انتہائی مشکل میں گزارے، نیلسن منڈیلا نے ستائیس سال جیل میں گزارے، قائداعظم محمد علی جناح کانگریس کے رویے سے تنگ آ کر ہندوستان کی سیاست کو خیر باد کہہ کر لندن چلے گئے تھے۔ آپ کسی بھی بڑی شخصیت کی زندگی کو پڑھیں، ناکامی اس کی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہو گی۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہو گا کہ عام انسانوں کو بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ناکامیوں سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے اور زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کے لیے جدوجہد اور ہمت و حوصلے سے کام لینا چاہیے۔
ناکامی کا خوف انسان سے اس کا جذبہ اور ہمت چھین لیتا ہے۔ کامیابی کی امید اس میں جوش و ولولہ بھر دیتی ہے۔ ملک عزیز میں عام لوگ ناکامی کے خوف تلے پروان چڑھتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ناکامی سے ڈراتا ہے۔ اکثریت خود تو کچھ مثبت کام کرتی نہیں ہے، اگر کوئی کرنے کی منصوبہ بندی کر ہی لے تو یہ اسے ڈرا ڈرا کر مار دیتی ہے یا بھگا دیتی ہے۔ ایک انسان کی ناکامی صرف اس انسان کی ناکامی نہیں ہوتی بلکہ پورے سماج کی ناکامی ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ناکام معاشروں میں آپ کو ہر طرف لٹے پٹے خستہ حال ناکام لوگ نظر آئیں گے اور کامیاب معاشروں میں ہر سو خوشحال اور زندگی سے بھرپور لوگ دکھائی دیں گے۔ معاشرے میں اگر مثبت رویے، اخلاص اور محبت کا پرچار ہو تو کم صلاحیتوں والا انسان بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آپسی نفرتیں، کدورتیں اور منافقتیں عروج پر ہوں تو ایسے میں کسی انسان کی کامیابی معجزے سے کم نہیں ہوا کرتی۔
ناکام بھی تو وہ شخص ہی ہوتا ہے جس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو۔ بنا مقصد کے کیا ناکامی اور کیا کامیابی، سب کچھ ایک برابر ہوتا ہے۔ ہمارے بچوں کا کیا ذکر کرنا، ہمارے تو نوجوانوں کی کوئی سمت نہیں۔ ہر دوسرا تیسرا نوجوان باہر کے ممالک میں اپنا مستقبل دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایسا کیوں! صرف اس لیے کہ معاشرہ نوجوانوں کو کوئی سمت نہیں دے پا رہا۔ متوسط طبقے کے زیادہ تر نوجوان بس سرکاری نوکریوں یا بہتر پرائیویٹ نوکریوں کی دوڑ میں اپنی جوانی ضائع کیے جا رہے ہیں۔
نوکری کی تلاش میں وقت ضائع کرنا پاک سر زمین کے نوجوانوں کا بہترین مشغلہ ہے اور سیانے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بچوں کو نوکری کے پیچھے بھگا کر تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بھئی اس بھیڑ چال سے باہر نکلیں۔ زمانے کے انداز بدل گئے۔ آپ کا نوجوان بیرون ملک بھاگنے کی تلاش میں سرگرداں ہے اور پیپسی، کوک اور کے ایف سی جیسی کئی کمپنیاں یہاں سے سالانہ کروڑوں ڈالر کما کر بیرونِ ملک لے جا رہی ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو کاروبار کرنے کی ترغیب کیوں نہیں دی جا رہی۔ اس لحاظ سے کوئی ان کی تربیت کیوں نہیں کر رہا۔ کیا ان میں محنت اور مشقت کرنے کا جذبہ کم ہے؟ نہیں بالکل نہیں، تو پھر معاملہ کیا ہے، بس ناکامی کا خوف۔ کہ جی یہ سب تو ہم کرنے سے رہے۔ یہودی آپ کے ملک میں آ کر کے اتنا پیسہ کما کر باہر لے جا رہے ہیں تو ہم کیوں اپنے ہی ملک میں بدحال ہیں اور پیسہ کمانے سے عاری ہیں۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں : ذہنی تربیت کا فقدان، فرسودہ تعلیمی نظام اور بے حس معاشرتی ڈھانچہ۔ ہمیں بطور قوم اپنے طور طریقوں کا از سر نو جائزہ لینا پڑے گا، آگے بڑھنے کے لیے ناکامی کے بت کو پاش پاش کرنا پڑے گا، خوشحال پاکستان کے لیے اپنی نسل نو کی خودداری پر مبنی ذہن سازی کرتے ہوئے کاروباری کلچر کو فروغ دینا پڑے گا۔ ورنہ ناکامی کے خوف تلے پروان چڑھنے والے ذہن نوکری کی تلاش میں در بدر ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔
انسانوں کی ذہن و کردار سازی ایک بہت مشکل مرحلہ ہے۔ جو معاشرے نئے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نسل نو کی تربیت کرتے ہیں، بلاشبہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی عزت و مرتبہ پاتے ہیں اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ اور جہاں لوگ نفرت، حسد اور کینہ پروری کی آگ میں جل رہے ہوتے ہیں، وہاں ناکامی کا خوف ہی انہیں زیر کرنے کے لیئے کافی ہوتا ہے۔ کامیابی اور خوشحالی ایسے سماج کا مقدر نہیں ہوا کرتی۔ کامیابی ایک مکمل ذہن سازی، اخلاقی تربیت اور پختگی کردار سے وجود میں آتی ہے۔ یہ متحرک معاشروں میں ایک عمل کے طور پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔
جس طرح جینے کے لیے آکسیجن کا ملنا ضروری ہے، اسی طرح کامیابی کے لیے ناکامی بھی ضروری ہے۔ ناکامی کا خوف انسان کو اپاہج بنا دیتا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے سسکنے اور بلکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ساری عمر ناکامی کے لفظ سے خوف زدہ انسان کامیابی کی طرف ایک قدم تک نہیں اٹھا پاتے۔ بس اپنے اپنے کمفرٹ زون کے شیدائی ہم لوگ زندگی کے مقصد کو سمجھنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
ارے کیا ہو جائے گا، گر ہی جائیں گے، مر ہی جائیں گے، مرنا تو آخر ہے ہی، ہمت باندھیں تو سہی، مقصد کے حصول کے لیے تگ و دو کریں تو سہی۔ یہ بھی کیا زندگی ہوئی کہ بس دنیا میں آئے اور چلے گئے، ڈرتے ڈرتے، سہمے سہمے ساری عمر گزار دی۔ سوچتے رہے کہ یہ کیا تو کہیں ایسا نہ ہو جائے، وہ کیا تو کہیں ویسا نہ ہو جائے۔ ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکا۔ ہونے دیں جو ہونا ہے، آپ اپنی کرنی کر گزریں۔ لہذا آگے بڑھیے، اپنے راستے میں آنے والی مشکلات کا کھلے دل سے سامنا کیجیے، انہیں ڈھیر کیجیے اور اپنے حصے کی کامیابیوں کو سمیٹ لیجیے۔ ورنہ قوم پہلے ہی سسک اور بلک تو رہی ہے آپ بھی ان سسکیوں کا حصہ بن جائیں گے۔ یاد رکھیں! دنیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔


