امن کی علمبردار اور لطیفی فکر سے سرشار سرزمینِ سندھ!
میں سندھ کی پر مسرت فضاؤں اور اس کہ پُرامن آنگن پر پلا بڑھا ہوا ہوں اس دیس کہ ہزاروں درد ہیں ہر سڑک پر زندگی پر افسردگی کی نئی شام نمودار ہوتی ہے۔ یہ دھرتی وقت کی دوڑ میں کہیں زخمی ضرور ہوتی ہے لیکن وہ زخم نئی تاریخ رقم قائم کر جاتے ہیں۔ کتنے ہی مشکل مراحل کیوں نہ ہوں لیکن سندھ نے اپنے ہونٹوں پر تہذیبی، پرامن، روادار، مساواتی اور محبت کی منفرد مسکراہٹ سے دنیا کی دلوں پر راج کیا ہے جیسے ابھی سندھ انتہاپسند عناصر کہ خلاف اپنی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی جھلک دکھا کر آگے بڑھتی جا رہی ہے، وہ وقت کی بے وفائیوں سے زخمی ضرور ہے لیکن اس کے پاؤں نے چلنا نہیں چھوڑا وہ اپنی محبوب منزل کی طرف گامزن ہے جیسے ایاز نے کہا ہے ”اے میرے دیدہ ورو اے میرے دانشورو پاؤں زخمی سہی ڈگمگاتے چلو“ ۔
کچھ روز پہلے سندھ کہ ضلع امر کوٹ کہ گاؤں جانہیرو میں رہائش پذیر ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کو توہین مذہب کہ کیس میں قتل کیا گیا، یاد رہے ضلع امرکوٹ سندھ کہ ان اضلاع میں شمار ہوتا ہے جہاں اقلیتی آبادی بڑی تعداد میں رہتی ہے، ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کہ لاش کو پولیس کی موجودگی میں انتہاپسند لوگوں نے جلا کر اس سے دائرہ انسانیت سے ہٹ کر سلوک کیا۔ توہین مذہب اک حساس معاملہ ہے بھلے کسی نے توہین کی بھی نہ ہو لیکن جھوٹی باتوں پر بھی اس معاملے میں قتل ہوتے رہتے ہیں، یہ ہمارے معاشرے کی ذہنی کیفیت ہے جو خطرناک ترین ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی اس آگ نے خطے میں اک عجیب ماحول پیدا کیا اک طرف جنونیت کی انتہا دوسری طرف خوف کا سماں، ہر آئی ڈے سے ڈجیٹل دستاویزات گردش کرنے لگے کہ جن میں ہر شخص کا یہ اظہار تھا ”وہ دل و جان سے ہر مکتب فکر، الہامی ہستیاں اور مذہب کا احترام کرتے ہیں، سائبر ایج کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اپنی آئی ڈی سے حادثاً ایسے مواد سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے تھے“ یہ تھا عوام کا ردعمل۔ لیکن کچھ وقت سہی ڈاکٹر شاہنواز کمبھر دوسری آئی ڈی سے براءِ راست آ کر انکار کر رہے تھے کہ اس نے ایسا کوئی گستاخانہ عمل نہیں کیا نہ ہی وہ فیس بک استعمال کرتا ہے، وہ اُس وقت کراچی میں اک ہوٹل میں رہائش پذیر تھا اور وہ ذہنی طور پر غیر متوازن بھی تھے جس کے لیے وہ زیر علاج بھی تھے۔ لیکن اس نے خود اپنا پتہ پولیس کو بتا کر گرفتاری دے کر پولیس کو تحقیقات کے لیے کہا، اور اس کا یہ موقف تھا کہ اس نے یہ عمل نہیں کیا پولیس بھلے اپنا کام کریں۔
پولیس نے اسے گرفتار کر کہ بغیر تحقیقات کہ قتل کر دیا اور اس ماورائے عدالت قتل کو پولیس مقابلے کا نام دیا گیا۔ پولیس کی اس کارروائی پر مقامی ملاؤں خصوصاً ملا عمر جان سرہندی نے ڈی آئی جی سمیت تمام پولیس عملے کو خراج تحسین پیش کر کہ پھول نچھاور کیے ۔ یہ عمل جو یقیناً امن کی امین وادی سندھ کے لیے اک دردناک مقام تھا کہ سندھ انتہاپسند رویوں کی لپیٹ میں پھنس گئی تھی اور سوشل میڈیا پر سرد جنگ کا سماں چھا گیا۔
لیکن یہ سندھ کی تاریخ رہی ہے اس نے اپنے اوپر سخت ترین وقت کو بھی اپنے تہذیبی، ثقافتی اور عاشقانِ انسانیت سرگرمیوں کہ جذبات سے ترک کیا ہے۔ بغیر تحقیقات کہ ماورائے عدالت قتل اور لاش کے ساتھ بدسلوکی پر سندھ کی سول سوسائٹی اور دیگر سماجی تنظیموں نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاہ الحسن لنجار اور وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ جو خود امر کوٹ کہ ہیں انہوں نے اسمبلی میں اس مسئلے پر تقاریر کی اور اس ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو اس وقت ہی معطل کیا ساتھ اک انکوائری کمیٹی کی تشکیل دی۔
یہ مسئلہ نہ فقط سندھ کی فضاؤں تک پھیلا ہوا تھا لیکن اس کا دائرہ بڑھتا گیا اور عالمی حدود تک رسائی حاصل کی، سندھ میں اس سازشی کشیدگی پر اقوام متحدہ میں بھی ڈاکٹر شاہنواز کا محاورہ عدالت کیس پیش کیا گیا تھا۔ ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو پورے عالم کے لیے باعث رحمت و شفقت ہیں جس کہ بارے میں سندھ کا کوئی باشندہ غلط سوچ بھی نہیں سکتا، اس سائبر وار فیئر کہ دور میں جہاں تمام ممالک کا سسٹم بھی ہیک ہو سکتا ہے تو پھر اک آئی ڈی کا ہیک ہونا کون سی بڑی بات اس لیے بغیر تفتیش کہ قتل نہ فقط اقدار انسانی لیکن سندھ کی تاریخی روادار تہذیب پر بھی انتہاپسند سوچ کا وار تھا۔
لیکن سندھ کی حقیقی روح نے سندھ پر اس سازش کو بڑے پیمانے پر ناکام کر دیا۔ سندھ جو عالمی پورٹریٹ پر اک محبوب وطن کا مقام رکھتی ہے وہ تاریخ کہ آئینے میں امن کی امین رہی ہے۔ سندھ کہ آنگن پر انتہاپسندی کا نیا رخ یقیناً اس دھرتی پر کسی ایٹمی وار سے کم نہیں تھا جس دھرتی کی فضاؤں میں تمام مکاتب، مذہب اور الہامی ہستیوں کے لیے محبتیں اور تعظیم جھلملاتی ہو۔ لطیف کی وادی سچل کی سرزمین، صوفیوں کہ ساز میں سمائی یہ سوہنی دھرتی جس کہ وجود میں اقدار انسانی کا رقص سمایا ہوا ہو وہاں تنگ نظری اور پسماندہ سوچوں کو دیر یا سویر لیکن موت آنے ہی ہے۔
حکومت سندھ کی جانب سے تشکیل شدہ کمیٹی کی 31 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ جب موصول ہوئی تو اس میں پیش کردہ پولیس مقابلہ جالی نکلا! یہ حکومت سندھ کا قابلِ تعریف قدم تھا، اور وزیر داخلہ سندھ نے متعلقہ پولیس افسران اور دیگر شرپسندوں کہ خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے لیے بھی کہا اور ابھی سول سوسائٹی اور مقتول ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کہ لواحقین نے مل کر متعلقہ پولیس افسران اور ملا عمر جان سرہندی کہ خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔
سرزمین سندھ امن کی علامت ہے اس نے ہر راہ پر افکارِ عالمِ انسانی کی پرچار کی ہے۔ شاہ لطیف سے سچل سائیں کا فکر تمام انسانی آبادکاری میں شعور کی شمعیں جلا کر محبت کا مظہر فکر ہے۔ سندھ نے اس دہشتگرد دور میں اک ماورائے عدالت قتل کہ خلاف سراپا احتجاج بن کر یہ ثابت کر دیا کہ سندھ ہر صورت میں انتہاپسندی کو رد کرتی ہے۔ یہ روادار سوچ کہ پریمی کردار پریمو کولہی کا دیس ہے جس نے اک جلتی لاش کو اٹھا کر دفنایا وہ لاش ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کی تھی جس کا جسد خاکی ان کہ لواحقین کو نہیں دیا گیا، بی بی سی مطابق اس لاش کو وصول کرنے کے لیے ان کہ گھر کی عورتیں لاش کہ پیچھے جنگلات کی طرف بے یارو مددگار بھاگتی رہیں لیکن شدت پسندوں نے لاش کو جلانا شروع کیا اور وہیں پریمو کولہی نے اس بھیڑ سے لاش اٹھا کر دفنایا۔
تاریخ کا یہ عجیب راز ہے کہ اک مسلم کی لاش کو مسلم جلا رہے تھے اور اک ہندو نے اسے بچا کر دفنایا۔ سندھ کی روح میں امن، پیار، رواداری، مساوات اور عدم تشدد جیسے منفرد نظریات سمائے ہوئے ہیں، وہ کبھی بھی سندھ سے بیوفائی اور اس کی وحدت پر حملے برداشت نہیں کریں گے۔ اس تحریک میں سندھی ماؤں، بہنوں، مصنفین، سول سوسائٹی دیگر افراد نے بھرپور ساتھ دیا ان عظیم کرداروں کو سرخ سلام!


