بے ضمیر ہونا کیوں ضروری ہے؟


کہیں پڑھ رہا تھا کہ انسانی ضمیر کی کئی پیچیدگیاں ہیں جنھیں سمجھنے سے ہم قاصر ہیں خاص کر ہمارے پاکستانی بھائی بہن کیونکہ ہم اپنی طرف سے فیصلے دے کر بیٹھ چکے ہیں کہ ہم سچے اور حق بجانب ہیں مگر دنیائے علم میں بے پناہ وسعت موجود ہے۔ یہ بہت ہی دلچسپ موضوع ہے جس کے حوالے سے میں لکھ رہا ہوں اور اس کو پڑھنے کے بعد قارئین کو اپنے اردگرد مخصوص لوگوں کی پہچان کرنے میں آسانی ہو گی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں لوگوں کو لیبل کرنے کی بات کر رہا ہوں تو کچھ ایسے ہی سمجھ لیجیے بلکہ یہ آرٹیکل پڑھنے کے بعد ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جنھیں آپ سمجھتے ہیں، یہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔

تو بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہ مانا جاتا ہے کہ انسانی ضمیر اچھائی اور برائی کے طے شدہ معیار کے ساتھ انسانی فطرت میں موجود ہے جو انسان کے گناہ سرزد کرنے پر ملامت کرتا ہے لیکن اگر یہ بات درست ہے تو یہ سوال ذہن میں بیدار ہوتا ہے کہ یورپی سماج کے افراد کا ضمیر ان باتوں پر ملامت کیوں نہیں کرتا جن پر پاکستانی معاشرے کے افراد کا ضمیر کرتا ہے جیسے شراب نوشی، زنی اور حرام جانور کھانا کیونکہ اصولی طور پر اچھائی اور برائی کے معیار تو طے شدہ ہیں جن پر ہمارا ضمیر ہر صورت حرکت میں آنا چاہیے لیکن یہ صورتیں جگہوں کے ساتھ تبدیل ہوتی نظر آتی ہیں۔

انسانی ضمیر کے حوالے سے اپنے آپ کو حق بجانب نہ ماننے والے علم کے متلاشی افراد کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر بچپن سے بلوغت تک جو ضمیر پروان چڑھتا ہے جو اس کے ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل پر پشیمانی کا باعث بنتا ہے وہ فطری نہیں ہوتا بلکہ والدین کی تربیت اور اردگرد کے ماحول کے اثر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے کچھ میرے جیسے لوگ بھی اختلاف کرتے ہیں کیونکہ یہ Nature vs Nurture کی لڑائی ہے جس میں میں پہلے نکتے کے ساتھ کھڑا ہوں کیونکہ جس انسان میں فطری طور پر تنقیدی صلاحیت ہوتی ہے، اس کا ماحول چاہے جتنا بھی تنگ نظر ہو، اس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور بقیہ صورتحال ہمارے سامنے ہے کہ پاکستانیوں کو جتنا مرضی اچھا ماحول دے دیا جائے یہ اس کو بھی تہس نہس کر دیں گے۔

حالیہ مہینوں میں جو عرب ممالک میں پاکستانیوں کے داخلے پر پابندی عائد ہوئی کیونکہ وہاں پر اپنی ثقافت کے گل بکھیرے گئے، جس کے طفیل متحدہ عرب امارات میں شلوار قمیض پہننے پر بھی پابندی عائد ہو گئی۔ جہاں تک بات ہے ماحول کے ہمارے ضمیر کی تشکیل میں تو اس کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میرے خیال میں انسانی ضمیر کی بناوٹ میں فطرت اور والدین کی تربیت و ماحول دونوں عناصر کار فرما ہوتے ہیں۔ فطرت کے کردار پر تو بات ہو گئی کہ وہ کس لحاظ سے انسان کے فیصلہ کرنے والی قوت کو قائم کرتی ہے جس کے حوالے سے انسان کچھ کر نہیں سکتا لیکن یہاں میں انسانی ضمیر کی تشکیل میں ملوث اس عنصر کا ذکر ضرور کرنا چاہوں گا جس کے حوالے سے انسان ضرور کچھ کر سکتا ہے لیکن اس کا ماحول اس کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کچھ کر سکے اور وہی ماحول اور تربیت انسانی ضمیر کے اس پہلو کو طے کرتی ہے اور وہ پہلو انسان کی شخصیت ہے۔

ایک بچے کے ذہن میں بچپن سے جو انسانیت کی داستانیں ایسے بھر دی جاتی ہیں جیسے ایک شریف النفس انسان کی تیاری ہو رہی ہو جو دنیا کو افراتفری، لالچ، منافقت کے اندھیروں سے نکال کر پیار، محبت اور خلوص سے رہنے والے معاشرے میں تبدیل کرے گا۔ ضروری نہیں کہ یہی نیت کار فرما ہو، اکثر کیسز میں ایسی تربیت صرف بچوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کی جاتی ہے کیونکہ کھل کر جینے کا مطلب کسی کی ملوکیت سے آزادی ہے، اب وہ ملوکیت کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن فرض کر لیں کہ بچے کی تربیت محض دنیا کو ایک اچھا انسان دینے کے لیے ہی گئی ہو لیکن ہوتا یوں ہے کہ دنیا کو اندھیروں سے نکالنے کا مشن ایک ہی شخص کے ناتواں کندھوں پر رہتا ہے اور باقی دنیا اپنی موج مستی میں غرق ہوتی ہے اور وہ شریف النفس انسان دنیا کی تیزیوں اور چالاکیوں کو سمجھ نہیں پاتا کیونکہ اس کو کبھی بتایا ہی نہیں گیا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے اور یہاں رہنے کا کیا سلیقہ ہے۔ اور وہ خود کو سچا سمجھتا ہے اور باقی دنیا کو اپنا دشمن اور گناہگار تصور کرتا ہے۔

ایسی خصوصیات والے افراد عمومی طور پر مذہبی گھروں میں تربیت پاتے ہیں جو ساری زندگی فوجی انداز میں لاگو کیے گئے مذہبی اقدار کے پابند ہوتے ہیں جن کے ہاں خوشی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ زندگی کی خوشیوں سے ناواقف ہوتے ہیں اور اگر کسی کو ہنستا مسکراتا دیکھ لیں تو اس پر دل ہی دل میں لعن طعن کرتے ہیں اور خود پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ کتنے اعلی تربیت یافتہ ہیں جبکہ دل ہی دل میں ان کو ایک تکلیف ہوتی ہے کہ وہ کیوں اپنے آس پاس کے لوگوں کی طرح خوش نہیں رہ سکتے لیکن ان کو بچپن سے ہی اتنا محتاج کر دیا جاتا ہے، ان پر ہر طرح کی پابندیاں لگا کر کہ جوان ہونے تک وہ اپنا اعتماد کھو چکے ہوتے ہیں۔

انھیں لگتا ہے کہ وہ خوش رہنے کے اہل ہی نہیں۔ ظاہر ہے جب ایک انسان کو یہ جاننے کا موقع دیا ہی نہیں جائے گا کہ وہ کیا ہے، اس کو کس چیز سے خوشی ملتی ہے جب اس کو وہ چیزیں کرنے ہی نہیں دی جائیں گی تو کیسے اس شخص کو خوشی ملے گی اور کیسے اس کا اعتماد بحال ہو گا، وہ ساری زندگی محض ایک کٹھ پتلی بن کر رہ جاتا ہے۔ پھر جب والدین کی جوان اولاد سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ کمائے، باہر نکلے اور دنیا میں نام بنائے تو وہ ان کی امیدوں پر پورا اترنے کے قابل نہیں ہوتا۔

جب بچپن سے ہی ایک شخص کے دماغ میں شیطان کا تصور راسخ کر دیا جائے گا وہ بھی اس حوالے سے جو کہ اس کی شخصیت کا حقیقی پہلو ہے تو اس کی شخصیت اس کی نہیں رہے گی۔ وہ آپ کو جوان ہونے تک لا شعوری طور پر بوکھلایا ہوا نظر آئے گا اور یہ بات اس کو بھی معلوم نہیں ہو گی کیونکہ اپنے نزدیک وہ بالکل نارمل ہے۔ یہاں قصور پاکستانی معاشرے کا بھی ہے جہاں انسانوں کے لیے اس قدر مواقع ہی نہیں کہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھ سکیں اور معاشی مجبوریوں کے تحت انھیں اپنے شوق کو، اپنے آپ کو الوداع کہنا پڑتا ہے۔

سارا قصور والدین کی تربیت اور بند ماحول کا بھی نہیں۔ اگر ریاست اور معاشرہ کسی اہل ہوتا تو کسی کی کیا مجال کے ایک شخص کی اندرونی موت واقع ہوتی۔ اب آپ اپنے گرد و نواح میں ایسے افراد کا با آسانی جائزہ کر سکتے ہیں جو بتائی گئی خصوصیات کے حامل ہیں۔ اب جو میں نے ان کی وجوہات بیان کر دی ہیں تو ان کو شرمیلا، لوگوں سے کم ملنے والے القابات سے نوازنے کی بجائے یا کسی طرح کا لیبل لگانے کی بجائے سوچ لیجیے گا کہ کیا واقعی وہ شخص قصوروار ہے؟

Facebook Comments HS