دوستی کا حسن برقرار رہنے دیجیے
دوست وہ جو مصیبت کے وقت کام آئے، سچا دوست خون کے رشتوں سے بھی بڑا ہوتا ہے، Brother from another mother، سچا دوست ہیرے کی مانند ہے جس کا اجالا زندگی کو روشن کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور ایسے بہت سے اقوال زریں ہم اپنے بچپن سے دیکھتے اور سنتے آئے ہیں اور ان اقوال کو نہ صرف سنا ہے بلکہ مشاہدہ کے ساتھ ساتھ جیا بھی ہے۔ حالانکہ اب زندگی کسی اور ہی ڈگر پر چل پڑی ہے، بظاہر ہزاروں میل کے فاصلے درمیان میں حائل ہو گئے ہیں مگر آج بھی ہم سب دوست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ روابط بے شک کم ہو گئے ہوں لیکن قلبی تعلق اور الفت جوں کی توں ہے۔ کیونکہ یہ خوبصورت مگر اٹوٹ رشتہ زندگی کو دل فریبی عطا کرنے کے ساتھ مشکل اوقات میں لڑنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔
ایک عام تجزیہ یا یوں کہہ لیجیے کہ مشاہدہ ہے کہ لڑکیوں کی دوستی زیادہ پائیدار نہیں ہوتی۔ وجوہات بے شمار ہیں، شادی، سسرال، بچے، گھر، اور پھر شاید کچھ لڑکیوں کی فطرت ایسی ہوتی ہے کہ وہ دوستی کے رشتے میں حدود کی قائل ہوتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں وہ اس رشتے کو دل کے بجائے دماغ سے نبھاتی ہیں۔ میرے خیال سے تو بہت ہی کم لڑکیوں کی دوستی ہم آہنگی اور محبت کی منازل طے کرتی ہوئی پاگل پن کی حد تک پہنچتی ہے۔ جہاں وہ بنا سوچے سمجھے بس اپنی سہیلی کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتی ہیں۔
جبکہ دوسری طرف عموماً لڑکوں کی دوستی قابل رشک و قابل ستائش ہوتی ہے۔ ان کی دوستی ایک سگریٹ کے لائٹر سے شروع ہو کر جان کی بازی لگانے تک چلی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کے کپڑے، جوتے، موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنا تو نہایت ہی عام بات ہے۔ حتیٰ کہ یہ ایک دوسرے کے والدین کی ڈانٹ پھٹکار بھی نہایت برخوردارانہ انداز میں وصول کرتے ہیں۔ لڑکوں کی دوستی کی ایک بہت خوبصورت بات یہ بھی ہے کہ وہ دن اور رات کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ شادی کا بندھن بھی اکثر مردوں کی دوستی پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ خود ایک لڑکی ہو کر بھی میں لڑکوں کی باہمی دوستی کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔
اس سب تمہید کا مطلب لڑکے اور لڑکیوں کی آ پسی دوستی کا موازنہ ہر گز نہیں اور نہ ہی مقصد ایک دوسرے پر برتری ظاہر کرنا ہے۔ بلکہ دوستی کے رشتے کے تقدس اور خوبصورتی کو اجاگر کرنا ہے جو کہ ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) کمیونٹی بری طرح سے مسخ کر رہی ہے۔ بچپن سے لے کر ٹین ایج، یہاں تک کہ اگر میں یہ کہوں کہ پچیس چھبیس سال کی عمر تک بھی مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ دو لڑکے آپس میں جگری دوست ہو سکتے ہیں۔ اور بالکل اسی طرح لڑکیاں بھی ایک دوسرے کی جان ہو سکتی ہیں۔ فقط میں ہی کیا، میرے خیال سے جو بھی نوّے کی دہائی کے بچے ہیں اور اب ما شا ءاللہ سے پختہ اور شعور کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، ان سب کی واقفیت ایسی خرافات اور بے حیائی سے بہت بعد میں ہوئی۔ چونکہ ان تمام گناہوں کا تصور دور سے دور تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ہاں البتہ قوم لوط کا عبرت ناک واقعہ اور عذاب الہی ضرور، بطور نصیحت سب کے علم میں تھا لیکن اب تو الامان بچہ بچہ ان اصطلاحات سے بخوبی واقف ہے۔
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آج جب یار دوست ایک دوسرے کے ساتھ شغل میلہ لگا رہے ہوتے ہیں تو اکثر ہم جنس پرستی والی سوچ، دیکھنے والے کے دماغ میں ضرور آتی ہے۔ یہ وہ واحد رشتہ ہوا کرتا تھا جس میں انسان بغیر ہچکچاہٹ، بنا کسی ڈر و خوف کہ اپنی اصل شخصیت کے جوہر دکھا سکتا تھا۔ یاروں کے ساتھ فضول حرکتوں، لا یعنی گفتگو اور بے باکی کے باوجود بھی کبھی اس رشتے کی پاکیزگی اور شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا تا تھا۔ مگر ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) کے ایجنڈا کی مہربانی سے معاشرے کے ہر دوسرے تیسرے شخص کے کردار کو شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایل جی بی ٹی کیو کا لائحہ عمل اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے، گناہ کبیرہ ہے اور بطور ذمہ دار امت مسلمہ، ایسے قبیح فعل کو کم از کم اپنے ملک میں پھیلنے سے روکنا ہی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر اس کے جو مضر اثرات معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں وہ بالکل ایسے ہی ہیں جیسے لکڑی کے لیے دیمک، انسانی جسم کے لیے سرطان، بظاہر صحت مند جسم کے اندر کب اس ناسور کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور کب وہ جسم کو اندر ہی اندر کھو کھلا کرنا شروع کر دیتا ہے، کچھ پتا ہی نہیں چلتا۔ ہو بہو یہ شرانگیزیاں بھی بظاہر پھلتے پھولتے معاشرے اور اقدار کو جڑوں سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔
بس یہ ہی ایک التجا ہے کہ رشتوں کے، احساس کے، خوبصورت رابطوں کے حسن کو گر ہن نہ لگنے دیجیئے۔ کہ یوں بھی یہ الفتیں اب نایاب ہیں۔ یہ دوستیاں، یہ ناتے بہت خاص ہیں۔


