دھوبی کا بجلی کا میٹر اور کرائے پر کپڑے چلانے کا کاروبار
ایک زمانہ تھا کہ ہم ایک دوسرے کے کپڑے پہن لیا کرتے تھے۔ ہم سب کزن جسامت میں یکساں ہوا کرتے تھے۔ جب میں اپنی خالہ یا چچا کے گھر چھٹیاں گزارنے جاتا تو صرف ایک آدھا جوڑا ہی ساتھ لے جاتا ورنہ وہاں جا کر کسی بھی تقریب میں ضرورت پڑنے پر ہم کزن آپس میں ایک دوسرے کے کپڑے پہننا کوئی برائی نہ سمجھتے تھے۔ یونہی جوتے اور چپل ایک دوسرے کے پہن لیتے تھے۔ یہی نہیں اس وقت چھوٹے، اترے ہوئے، بڑے، یا پرانے ایک دوسرے کے کپڑے پہننا عیب نہیں سمجھا جاتا تھا۔
یوں ہمارے کپڑے ایک دوسرے کے گھروں تک بھی پہنچ جاتے تھے۔ مجھے اپنی بیٹی کی شادی پر شادی کے لیے فینسی اور بھاری بھر کم ملبوسات خریدنے جانا پڑا تو ان کی قیمتیں سن کر پریشان ہو گیا۔ شادی کا ایک ایک جوڑا لاکھوں روپے کی قیمت کا تھا۔ میری پریشانی بھانپ کر دکاندار بولا جناب یہ بھاری بھر کم جوڑا صرف ایک دن اور ایک دفعہ ہی پہنا جاسکتا ہے۔ پھر تو یہ بس شادی کی نشانی کے طور پر محفوظ رہتا ہے۔ میں آپ کو جگہ بتا دیتا ہوں۔ وہاں سے نئے سوٹ کرائے پر مل جائیں گے دوچار دن احتیاط سے استعمال کرنے کے بعد واپس کر دیجیے گا۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا تو ہنس کر بولا جناب یہ تو اب معمول بن گیا ہے۔ غریب لوگ ایک دن کے لیے اتنے مہنگے شادی کے کپڑے کیسے خرید سکتے ہیں۔ ان کپڑوں ہی نے تو غریبوں کا بھرم رکھا ہوا ہے۔ میری بیوی نے بتایا آج کل واقعی ہی ایسا ہی دیکھنے اور سننے میں آ رہا ہے۔
ایک مرتبہ ایک شادی پر کراچی گئے تو ہمارے ساتھ ایک دوست تھے ان کے کپڑوں کا بیگ دوران سفر گم ہو گیا تو بڑی پریشانی ہوئی۔ تو اپنے میزبان کے ہمراہ نزدیک ہی اس کے ایک جاننے والے کی لانڈری پر گئے تا کہ پہنے ہوئے کپڑے ہی ارجنٹ دھلائی کرا لیں تو اس نے کہا کہ بہت جلدی بھی کروں تو چوبیس گھنٹے سے قبل کپڑوں کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ اسے ساری بات بتائی کہ آج بارات ہے کل ولیمہ ہو گا اور کپڑوں کا یہ ایک ہی جوڑا ہے۔ تو وہ بولا بھائی پریشانی کی کیا بات ہے؟ میں آپ کے سائز کے دو جوڑے دے دیتا ہوں ایک آج پہن لیں دوسرا کل کام آ جائے گا۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر کپڑوں کے مالک نے اتفاقاً دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔ لانڈری والا بولا جناب بے فکر ہو جائیں کچھ نہیں ہو گا۔ ایسا تو اکثر غلطی سے بھی ہوتا رہتا ہے کہ ایک دوسرے کے کپڑے بدل جاتے ہیں اور پہن بھی لیے جاتے ہیں۔ یوں ہم نے دو جوڑے لیے اور شادی میں شاندار طریقے سے شرکت کی پھر واپسی پر اپنے کپڑے پہن کر وہ کپڑے واپس کر دیے اور لانڈری والے کو انعام دینا چاہا تو اس نے انکار کر دیا کہ ہم کرایہ تو ضرور لیتے ہیں لیکن آپ ہمارے دوست کے مہمان ہیں صرف اپنے جوڑے کی دھلائی ہی دے دیں۔ تب مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ ایمرجنسی میں بھی کپڑے مل سکتے ہیں۔
بڑے بڑے شہروں میں آج کل لانڈری یا ڈرائی کلین کی خوبصورت شاپس کھل چکی ہیں۔ جو صرف میلے کپڑے دھوتے نہیں بلکہ ڈرائی کلین کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے گھروں میں پچھلے ساٹھ سال سے مقامی دھوبی گھر سے ہی میلے کپڑے لے جاتا ہے اور چند دنوں بعد دھو کر واپس پہنچا دیتا ہے۔ پہلے ڈیرہ نواب صاحب کے قصباتی علاقے میں بھی یہی طریقہ کار ہوتا تھا اور اب بہاولپور شہر میں بھی پچھلے بارہ سال سے یہی طریقہ رہا ہے۔ یہ دھوبی نہ صرف یہ سہولت گھر بیٹھے فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ بڑی بڑی لانڈری شاپس سے سستے بھی ہوتے ہیں۔ یقیناً اس دور میں سہولت کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ ہر شہر میں دھوبی گھاٹ ہوا کرتے تھے۔ ہمارا دھوبی جو پچھلے بڑے عرصہ سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ چند ماہ سے بہت پریشان ہے ہر مرتبہ پیشگی رقم مانگنے لگا ہے۔ یہ رقم وہ ہر مرتبہ کپڑوں کی دھلائی میں نہیں کٹواتا بلکہ کہتا ہے کہ میں تھوڑے تھوڑے کر کے کپڑوں کی دھلائی کی اجرت سے واپس کرتا رہوں گا۔ پھر اس نے دیر سے آنا شروع کر دیا تو میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب میری استری جل گئی ہے۔ اب میں کسی اور سے مانگ کر استری کر کے لاتا ہوں اس لیے دیر ہوجاتی ہے۔
پچھلے ماہ اس نے خبر دی کہ جناب بڑی پریشانی ہے اب تو استری کرنا ممکن ہی نہیں رہا کیونکہ میرا بجلی کا بل بہت آیا ہے میری کچھ مدد کریں تو اسے مدد کے طور پر کچھ رقم دے دی۔ وہ کہنے لگا میرا بجلی کا بل بہت زیادہ ہے اس تھوڑی سی رقم سے تو ادا نہیں ہو سکتا تو میں نے کہا ذرا بجلی کا بل تو دکھاؤ۔ اس نے بجلی کا بل لا کر دکھایا تو وہ واقعی پریشان کن تھا جو ایک عام آدمی ادا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں نے اسے تسلی دی کہ شاید یہ غلطی سے آ گیا ہو گا بجلی کے دفتر جا کر درست کرا لو یا اقساط بنوا لو۔
چند دن قبل وہ پھر آیا تو اس نے بتایا کہ ابھی میں رقم کا انتظام کر ہی رہا تھا کہ اور آخری تاریخ ادائیگی کے بعد دو دن ہی گزرے تھے کہ عدم ادائیگی کی بنا پر اس کے گھر کا میٹر کاٹ کر لے گئے ہیں۔ اب وہ اور اس کے گھر والے اندھیرے میں رہنے پر مجبور ہیں۔ تو میں نے کہا کہ کسی ہمسائے سے چند دن کے لیے بجلی مانگ لو اور اپنا کام چلاؤ۔ تو اس نے بتایا کہ زیادہ یونٹس کے خوف سے اب کوئی بھی بجلی دینے کو تیار نہیں ہوتا۔
دوبارہ میٹر لگوانے کے لیے جرمانے سمیت بڑی رقم کہاں سے لاؤں؟ اگر کسی دکان پر جاکر استری کرتا ہوں تو وہ کمرشل ہونے کی وجہ سے بہت پیسے مانگتا ہے۔ پہلے لوگ کوئلے کی استری استعمال کرتے تھے لیکن اب تو کوئلہ بھی بجلی جتنا مہنگا ہو گیا ہے۔ اوپر سے لوڈشیڈنگ کا عذاب الگ مسلط ہے۔ میں نے پوچھا کہ باقی دھوبی کیسے گزارہ کرتے ہیں تو وہ بولا جناب میں وہ کام نہیں کرتا۔ مجھے حیرانی ہوئی وہ کیسا کام ہے جو یہ نہیں کر سکتا تو اس نے بتایا کہ اکثر دھوبی پندرہ دن مہینے بعد کپڑے دھو کر واپس کرتے ہیں اس دوران وہ ضرورت مندوں کو کرائے پر کپڑے دے دیتے ہیں جس سے ان کا بھی گزارا ہوجاتا ہے اور بدمزگی بھی نہیں ہوتی البتہ کبھی کبھی کوئی کپڑے لے کر بھاگ جائے تو مسئلہ بن جاتا ہے۔
دوسرے انہوں نے دھلائی کے ریٹ بہت بڑھا دیے ہیں۔ میں اگر ریٹ بڑھاتا ہوں تو لوگ کپڑے ہی نہیں دیتے گھروں پر دھونے اور استری کرنے لگے ہیں۔ میری بیوی کہنے لگی اس کی کچھ مدد بھی کر دیتے ہیں اور اس مرتبہ اسے بہت سے کپڑے دے دیتے ہیں چلو اس کے لیے کچھ آسانی ہو جائے گی؟ یوں وہ بہت سے کپڑوں کی گٹھڑی لے کر شکریہ ادا کرتا ہوا چلا گیا۔
دو گھنٹے بعد پھر واپس آ گیا اور کہنے لگا جناب آپ کے سارے کپڑے چوری ہو گئے ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو بولا وہ گٹھڑی سائیکل کے پیچھے رکھی تھی ایک جنرل اسٹور سے کچھ سامان لینے رکا تو واپسی پر سائیکل پر موجود نہ تھی کسی نے اٹھا لی ہے یا کہیں گر گئی ہے اور بہت تلاش کے بعد بھی نہیں ملی۔ میں ہنس پڑا مذاقاً پوچھا بھائی کہیں بیچ تو نہیں دیے؟ یا کرائے پر دینے کا پروگرام تو نہیں بنا لیا؟ تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہنے لگا میرے ساتھ زندگی میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے میں آپ کا یہ نقصان دھلائی کی اجرت سے پورا کر دوں گا۔ اگر آپ کے پاس اور کپڑے ہیں تو ٹھیک ورنہ عارضی طور پر کوئی انتظام کردوں۔ میں نے کہا شکریہ بھائی کوئی بات نہیں فکر نہ کرو مجھے کسی بدلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کو یہی منظور تھا۔ یہ نقصان تو مجھ سے بھی ہو سکتا تھا۔ اسے کچھ تسلی ہوئی تو اس نے بتایا کہ آج کل پرانے کپڑے بھی بہت چوری ہونے لگے ہیں۔ دھلائی اور انہیں سکھانے کے دوران بہت حفاظت کرنی پڑتی ہے۔
وہ تو چلا گیا مگر میں یہ سوچتا رہا کہ کیا واقعی بات اب پرانے کپڑوں کی چوری تک جا پہنچی ہے؟ یا پھر ہمارے دھوبی نے کپڑے بیچ کر اپنا کٹا ہوا بجلی کا میٹر لگوا لیا ہے؟ دونوں صورتوں میں مجھے خوشی ہے کہ میرے کپڑے کسی کے کام تو آ گئے ہیں۔ شاید ان کپڑوں کی انہیں مجھ سے زیادہ ضرورت ہوگی؟ اس دن کے بعد وہ ہمارا دھوبی واپس نہیں آیا۔ اس کی وجہ اس کی شرمندگی بھی ہو سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں اس طرح کی صورتحال میں کوئی کیسے گزارہ کر سکتا ہے؟
بھوک کی مجبوری کچھ بھی کرا دیتی ہے۔ خوف یہ آتا ہے کہ کہیں یہ بھوک اور مہنگائی ایسے لوگوں کو کچھ منفی سوچنے اور کرنے پر مجبور نہ کر دیے؟ کیونکہ بجلی کی ہوش ربا مہنگائی کے باعث واقعی اب تو گھروں میں بھی کپڑے استری کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ آج کے دور میں بیشتر غریب مزدور اور ہنر مند طبقے کی مزدوری کا انحصار زیادہ تر بجلی اور پیٹرول پر ہوتا ہے جبکہ بجلی اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کے بارے میں کون سوچے گا؟ کیا کوئی آئینی ترمیم اس کے لیے بھی لائی جا سکتی ہے؟

