آن لائن ارننگ کورسز، سکل ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹس کا کالا دھندا

میرے محدود علم کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر کے آئی ٹی سیکٹر میں آن لائن ارننگ سکلز سیکھنے کی دوڑ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش تیس لاکھ ہر دو صنف کے نوجوان اس سیکٹر سے سالانہ چار سے پانچ ارب ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان لا رہے ہیں۔ جہاں یہ زرمبادلہ ملکی کمزور معیشت کو سہارا دے رہا ہے وہیں لاکھوں بے روزگاروں کو کم یا زیادہ روزگار بھی فراہم ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں ریاست کی سنجیدگی سوائے کھوکھلے نعروں کے کچھ زیادہ نظر نہیں آتی۔
میرے فہم کے مطابق ہمارے ناقص نظام تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پرائمری تعلیم کے بعد ہی ہنرمندی اور آئی ٹی کے تعارف پر مبنی سلسلہ شروع کر دینا چاہیے۔ ملک بھر میں ہر ہائی سکول، کالج میں مختلف آئی ٹی سکلز سکھانے کا اہتمام لازمی ہے۔ اس طرف آنے والے مستحق طلبہ و طالبات کو ہی جدید اینڈرائیڈ فون اور لیپ ٹاپ مہیا کیے جائیں۔ ایسی چھوٹی چھوٹی بیشمار سکلز ہیں جو پارٹ ٹائم آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور طلبہ و طالبات کے تعلیمی سلسلے پر بھی اثر نہیں ہو گا۔ صرف اینڈرائیڈ فون کے ذریعے بھی انتہائی قابلِ ذکر اور معقول آمدنی ممکن ہے۔
اب آتے ہیں اصل مسئلے کی طرف۔ مجھے یہ کہنے میں کچھ عار نہیں ہے کہ یہ آن لائن ارننگ سکلز، ای کامرس سکھانے والے انسٹی ٹیوٹس، ادارے کھمبیوں کی طرح اگ آئے ہیں، کورسز بیچے جا رہے ہیں، کورسز کی وڈیوز بنا کر یوٹیوب پر کمائی کی جا رہی ہے مگر صحیح معنوں میں سکلز/ ہنر دیے نہیں جا رہے۔
بالخصوص شہروں کے کونے کونے، گلی محلوں میں پھیلے یہ انسٹیٹیوٹ خواہ ان کا نام جس قدر بھی اونچا اور معروف و مقبول کیوں نہ ہو یہ سب فقط مہنگے کورسز بیچنے کا دھندا کر رہے ہیں قطع نظر اس کے کہ جن طلباء و طالبات کو یہ گھیر رہے ہیں وہ نجانے کس مشکل سے ان کی بھاری بھرکم فیسیں ادا کرتے ہیں اور نتیجتاً انہیں فقط کورس کی تکمیل کا سرٹیفیکیٹ ہی ہاتھ میں آتا ہے، ہنر نہیں۔
میں دو سال سے ان انسٹی ٹیوٹس کی خاک چھان رہا ہوں۔ اپنے پرائے کم و بیش تیس بچوں کو مختلف اداروں میں داخل کروایا۔ نتیجہ فقط سرٹیفکیٹ۔
گزشتہ فروری میں، میں نے فلاحی بنیادوں پر ای کامرس سے متعلق پندرہ بچے بچیوں پر مشتمل کلاس کے لئے ایک دوست مینٹور (استاد) کو فقط اعزازیئے کے پیشِ نظر بلایا اور انہیں ان پندرہ بچوں کو پڑھانے کا کہا۔ موصوف فلاحی معاملے سے لاعلم تھے، گویا ہوئے کہ کیسے پڑھانا ہے؟ میرے نہ سمجھنے اور استفسار پر بتایا کہ کورس کو کتنا لمبا کھینچنا ہے؟ تین ماہ یا چھ ماہ؟ میں حیران و پریشان کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
پوچھا کہ مختصر اور جامع، صحیح معنوں میں پڑھایا جائے تو کتنے دنوں کا کورس ہے؟ یومیہ تین گھنٹوں کی کلاس ہو اور باقاعدہ پریکٹیکل کے ساتھ ہو، طریقۂ کار اور لنک دے دیے جائیں تو دس دن میں کورس مکمل اور اگر طالب علم محنتی اور بھرپور لگن رکھنے والا ہو تو کبھی ناکام نہیں ہو گا۔ وہی کورس جو یہ برانڈ بنے سکلز سکھانے والے ادارے تین سے چھ ماہ میں پڑھاتے ہیں اور اس کی فیس کم از کم تیس ہزار روپے سے لے کر ڈیڑھ لاکھ روپے لیتے ہیں۔
ان دو سالوں میں میں نے اپنے بچوں کو سکلز سکھانے کے سلسلے میں ان اداروں، یوٹیوب کے پیڈ کورسز سے بہت سے نتائج اخذ کیے ہیں اور ان میں سے ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی ایسی بھی آن لائن ارننگ سکلز ہیں جو آپ تین دن سے لے کر ایک ماہ میں سیکھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو ارننگ کے قابل بھی بنا دیں گی۔ جن میں ای کامرس کے تقریباً جملہ کورسز شامل ہیں۔ فائیور، اپ ورک، لنکڈ ان، سوشل اینڈ ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ، ای میل مارکیٹنگ، مارکیٹ پلیسز، دراز، یوٹیوب، ٹک ٹاپ شاپ وغیرہ تو دو دو تین تین دنوں کی مار ہیں، اگر یومیہ تین چار گھنٹے کی کلاس ہو، اور تین چار گھنٹے ریسرچ اینڈ پریکٹیکل ورک بھی کیا جائے۔
یقیناً بہت سے ٹیکنیکل کورسز مثلاً پائتھن جیسے لینگوئج کورسز، ویب ڈویلپمنٹ، ورڈ پریس، تھری ڈی اینیمیشن، آرٹیفیشل انٹیلی جنس وغیرہ جیسے کورسز زیادہ دورانئے کے بھی ہیں مگر اس قدر بھی طویل دورانیے کے نہیں ہیں جس قدر یہ ادارے کھینچ تان کر کر دیتے ہیں
یہاں جماعت اسلامی کے کراچی میں شروع کیے گئے ”بنو قابل“ پروگرام کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ انہوں نے بلاشبہ ہزاروں طلباء و طالبات کو تقریباً مفت اور مختصر ترین وقت میں بہت سے آن لائن ارننگ سکلز سکھانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔ ان کا پیٹرن میرے درج بالا اخذ شدہ نتیجے کے عین مطابق تو نہیں مگر وہ میرے مطابق بہترین انداز سے اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے جماعتِ اسلامی ملتان کو بھی اس سلسلے میں کچھ تجاویز تحریراً جمع کرائی ہوئی ہیں جو تا حال شاید زیرِ غور ہیں۔
یہاں آخر میں عامتہ الناس کے لیے کہ ہمیں اپنے بچوں اور بالخصوص بچیوں کو یہ آن لائن سکلز سکھانے کے لئے کیا کرنا چاہیے۔
سب سے پہلے تو بچوں کو ان جملہ سکلز کا تعارف یوٹیوب کی وڈیوز کے ذریعے کرانا چاہیئے تاکہ بچے اپنے رجحان کے ذریعے یہ فیصلہ کریں کہ انہوں نے کون سی سکل سیکھنا ہے۔ ثانیاً منتخب کردہ سکل سے متعلق یو ٹیوب پر ہی زیادہ سے زیادہ وڈیوز دیکھیں، سنیں اور نوٹس بنائیں۔ یقین کیجئے آپ براہِ راست یوٹیوب سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اس قدر بھی کہ آپ کو کورس کرنے کی بھی ضرورت نہ پڑے۔
بہر کیف اس کے بعد اس سکل سے متعلقہ کوئی ایسا بندہ، مینٹور ڈھونڈیں جو خود اس سکل کے ذریعے کام کر کے کما بھی رہا ہو۔ ایسا بندہ آپ کے اقارب میں بھی ہو سکتا ہے تب بھی اسے اپنے بچے کو سکھانے، پڑھانے کی باقاعدہ فیس دے کر اس سے وقت لیں۔
میں ان سکلز سکھانے والے اداروں کے بیشمار مینٹورز کو جانتا ہوں جو فقط سکلز پڑھاتے ہیں۔ خود اس سکل کے ذریعے کمانے کی استعداد نہیں رکھتے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ اپنے ہی کسی سابقہ ناکام طالب علم کو مینٹور بنا کر اسے دیگر بچے پڑھانے پر مامور کر دیتے ہیں۔ بھیا جو خود ایمازون اور ebay پر کما رہا ہو اسے پڑھانے کی کیا ضرورت؟
اپنے ارد گرد سافٹ وئیر ہاؤسز ڈھونڈیئے جہاں کامیاب نوجوان اپنا ذاتی بزنس کر رہے ہیں اور انہیں پڑھانے وغیرہ میں کچھ خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان سے فیس طے کر کے بچہ ان کے ساتھ لگائیے کہ وہ پریکٹیکل کام سکھائیں گے۔
ان انسٹی ٹیوشنز میں پچانوے فیصد فقط تھیوری پڑھائی جاتی ہے جو اتنے ہی فیصد پریکٹیکل کے بغیر یوں سمجھئے کہ گویا آپ نے چاند پر جانے کا طریقۂ کار پڑھ لیا۔ جانا کیسے ہے؟ ہماری بلا سے۔
(نوٹ) ۔ آپ آن لائن ارننگ سکلز کی بابت کسی بھی قسم کی معلومات یا مشورہ کے لئے مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ارادہ ہے کہ وسائل بہم ہوتے ہی مختصر دورانیے کی ایسی فری کلاسز کا وقتاً فوقتاً اہتمام کیا جائے اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل ہنرمندی کے ذریعے معاشی طور پر مضبوط کیا جائے۔

