نگاہ کا کمال


نگاہ کیا ہے؟ اور اس کے کمالات پر اگر بات کی جائے تو میں یہ بات بڑے افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ میں جس معاشرے میں زندگی بسر کر رہا ہوں یہاں پر نگاہ والے بہت کم لوگ موجود ہیں۔ آپ سب حیران ہوں گے کہ میں نے یہ کیا بات کر دی ہے؟
ہم سب تو دیکھ رہے ہیں آپ کون سی نگاہ کی بات کر رہے ہیں یہ کیسا دیکھنا ہے؟

یہ وہ نگاہ ہے یہ وہ نظر ہے یہ وہ بصیرت ہے کہ جسے یہ عطا ہو جاتی ہے اس کے سامنے دنیا کا منظر نامہ دنیا کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ وہ اتنا وسعت نظر ہو جاتا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے نکل کر محبت کا جامہ پہن لیتا ہے۔ اس کی نگاہ میں وہ طاقت آجاتی ہے کہ وہ لوگوں کو محبت بھری نگاہ سے دیکھ کر اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے۔ یہ نگاہ مشاہدات سے اس قدر معمور ہو جاتی ہے کہ اس کے سامنے چیزوں کی اصل حقیقت نمایاں ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کی نگاہ کو وہ قوت نصیب ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کو بھی کہنا پڑھتا ہے

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

نگاہ کو جب نظارے میسر آ جائیں اور نئے جہان آپ کے سامنے کھل جائیں پھر وہ قوت آپ کو عطا کر دی جاتی ہے جس کا کوئی ادراک نہیں کر سکتا اس مقام پر جاکر آپ کا دیکھنا دوسروں سے الگ ہو جاتا ہے جو حقیقت جہاں پر جا کر آپ کے اوپر آشکار ہوتی ہے وہ ہر اک کو میسر نہیں ہوتی۔ یہ نگاہ چیزوں کے رخ بدل کر رکھ دیتی ہے جب اقبال کو یہ نگاہ میسر آئی تو بقول اقبال

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسَد اللّٰہی

دارا ایران کی سلطنت کا بہت بڑا بادشاہ تھا سکندر اعظم بھی بہت بڑا حکمران ہوا ہے جس نے دارا ایران کے بادشاہ کو شکست دی اپنے وقت کے اتنے بڑے حکمرانوں کا موازنہ اقبال کی نگاہ نے ایک فقیر کے ساتھ کیا ہے وہ فقیر جس کی فقیری میں حضرت علیؑ کے فقر کی خوشبو ہو ان کی نگاہ کا فیصلہ ہے کہ وہ فقیر ان بادشاہوں سے بڑا ہے جس ذات سے فقر کی خوشبو آتی ہو اگرچہ وہ گدڑی میں ہی زندگی بسر کر رہا ہو رہنے کو اچھا مکان نہیں تو کیا؟ پہننے کو اچھے کپڑے نہیں تو کیا؟ کھانے کو اچھا کھانا نہیں تو کیا؟ یہ سب چیزیں عارضی ہیں لیکن اسے جو فقر کا خزانہ عطا ہوا ہے وہ دائمی ہے۔ ان کی نگاہ اس درویش کو بڑا تصور کرتی ہے یہ تسلیم و رضا والا فقیر پورا مرد کامل ہے ہماری آنکھ تو شاید اسے حقیر سمجھتی ہو لیکن اللہ کے حضور اس کا کیا مقام ہے یہ وہ ہی جانتا ہے جس کا اس ذات کے ساتھ تعلق ہے یہ تعلق والے ہی حقیقی نگاہ والے ہیں ان کی نگاہ ہی درست فیصلے کرنا جانتی ہے۔ یہ ہی بات تو میں کرنا چاہتا ہوں یہ نگاہ ہر ایک کو میسر نہیں آتی اس لیے نگاہ والے بہت کم ہیں جو اپنی آنکھ سے حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS