مقدس تلوار اور عدم تشدد کا پیروکار سندھ


سندھ کی روح صوفیانہ ہے عدم تشدد، مذہبی رواداری، امن پسندی سندھ کے خمیر میں شامل ہیں۔ سندھیوں کے لئے دھرتی اور دریا ہمیشہ سے مقدس رہے ہیں۔ شاہ لطیف سندھیوں کا روحانی رہبر ہے۔ انتہا پسندی، جنونیت سندھ کے مزاج کا کبھی حصہ نہیں رہی۔ ہزارہا سال سے سندھ میں مختلف مذاہب کے پیروکار امن شانتی کے ساتھ رہتے آ رہے ہیں سندھیوں نے عید اور دیوالی مل کر منائی ہے۔

ضیاء الحق جب اپنے آمرانہ اقتدار کو تقویت دینے کے لئے خود کو مقدس لبادے میں لپیٹے پیش کر رہا تھا اس کے حواری آمریت کو اسلام کو خطرے سے بچانے سے متعلق تشریح کر رہے تھے اس وقت پورے ملک کی طرح سندھ میں بھی انتہا پسندی کا بیج بویا گیا تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس بیج کے لئے زمین بہت پہلے تیار کر دی گئی تھی۔ مگر سندھ میں اس بیج کی آبیاری بونے والوں کی توقعات کے مطابق ہو نہ سکی۔ یا شاید اس نفرت کے بیج کو اگنے میں وقت درکار تھا۔

مارشل لاء کے ظلم و ستم کے خلاف نظریاتی سیاست اور اختلاف رائے پر پابندی کے باوجود سندھ کے پڑھے لکھے نوجوان ادیب شاعر اور قوم پرست سیاستدان خلق خدا کی فکری تربیت کرتے رہے۔ ترقی پسند تحریک علم شعور و امن کی قندیل جلاتی رہی۔ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں میں کتب خانے تھے جو نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے تھے۔ اسٹڈی سرکل تھے جن میں علمی ادبی سیاسی مباحث ہوتے تھے۔ کھیل کے میدان تھے، آرٹ سرکلز تھے، گاؤں دیہات میں سُگھڑ کچہریاں قائم تھیں۔ ایک امید انقلاب نے نظریاتی اختلافات کے باوجود سیاسی ورکرز کو آپس میں جوڑے رکھا تھا۔ سیاسی اور ادبی کارکن بھوک و افلاس تنگ دستی کے باوجود نگر نگر جا کر لوگوں کی سیاسی تربیت کرتے تھے رواداری کے درس دیتے تھے۔

ان دنوں سندھ کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں اس جاگرتا تحریک کو کج فہمی کی نگاہ سے دیکھنے والوں نے ایک نیا محاورہ ایجاد کیا تھا۔ ”کامریڈ معنی بھوک کی جھڑ“ اور وہ بھوک کی جھڑیں بھوکے پیٹ لوگوں کی فکری نظریاتی جڑیں اپنی دھرتی میں مضبوط کرنے کے لئے اس شہر سے اس شہر اس گاؤں سے اس گاؤں پھرا کرتے تھے۔ ان کے لئے آدرش پیٹ کی بھوک سماجی رتبے سے زیادہ مقدس تھا۔

بہت سوں کو ان کے گھر والوں نے ناکارہ اور نکما کہہ کر گھروں سے بے گھر کر دیا تھا مگر وہ اپنے لبوں پر حرف شکایت لائے بغیر اس گھٹن زدہ دور میں جب زبانوں پہ زنجیر تھی، سیاسی تحرک قید و بند اور کوڑوں کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا تھا وہ خوشحالی امن و آزادی کے خواب کی تعبیر کے لیئے سرگرداں تھے۔

سندھی شاعر اور قوم پرست کارکن جمن دربدر نے اپنی آپ بیتی ”وٹھی ہر ہر جنم و ربو“ ( بار بار جنم لے کر لوٹیں گے ) میں لکھا ہے کہ ان کو اور عبدالواحد آریسر صاحب کو پیغام لطیف پروگرام میں وڈا وگن شہر جانا تھا لیکن دونوں کے پاس کرائے کے پیسے نہیں تھے بس کنڈیکٹر نے دونوں کو رسوا کر کے راستے میں ہی گاڑی سے اتار دیا تو دونوں پیدل ہی جانب منزل چل پڑے ایک کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد راستے میں ایک مقامی شادی کا شامیانہ دیکھا جس میں جمن دربدر نے راگ گایا اور عبدلواحد آریسر نے کپڑے سے اپنا منہ چھپا کر دولہے پہ لٹائے جانے والے نوٹ سمیٹے جب کرائے کے پیسے جمع ہو گئے تو وہ دونوں وہاں سے پروگرام میں شرکت کے لئے نکلے جس میں آریسر صاحب نے صدارت کرنی تھی۔

وہ نظریاتی کمٹمنٹ سیاسی رومان کا زمانہ تھا آدرش محبوبہ کے بوسوں سے زیادہ دلفریب و مقدس تھے۔ نوید سحر قید و بند سزاؤں رسوائیوں سے افضل تھی۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بٹوارے کے بعد سندھ میں فکری بیداری وطن سے محبت مذہبی رواداری عدم تشدد صوفی فکر کے پرچار میں سائیں جی ایم سید کے پیروکاروں کی کنٹریبیوشن سب سے زیادہ رہی ہے۔ ابھی تک فکر جی ایم سید کے پیروکار انتہا پسند ملا کی مقدس تلوار کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔

جیئے سندھ والے مسلسل ریاستی جبر کا شکار رہے ہیں وقتاً فوقتاً کسی کو نشان عبرت بنا کر یہ پیغام دیا جاتا کہ یہ تم بھی ہو سکتے تھے یا یہ تم بھی ہو سکتے ہو۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جیئے سندھ تحریک سائیں جی ایم سید کی زندگی میں ہی مختلف دھڑوں میں بٹ گئی تھی۔

رسول بخش پلیجو صاحب سمیت کچھ رہنماؤں کو سائیں جی ایم سید کے آزاد سندھو دیش والے تخیل/نظریے سے اختلاف ہو گیا وہ فیڈریشن کے قائل ہو گئے۔ جو مضبوط وفاق میں صوبائی خود مختاری کی بات کرنے لگے۔ الگ ہونے والے دھڑے نظریات سے بڑھ کر شخصیت پرستی کے سحر میں مبتلا ہو گئے۔

پھر تاریخ نے کروٹ لی ضیاء کی حادثاتی موت کے بعد ملک میں جمہوریت آ گئی
جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد کرنے والے ورکروں نے سمجھا ان کی قربانیاں سپھل ہوئیں، ظلمت کے اندھیرے چھٹنے والے ہیں مگر وہ جمہوریت فیض صاحب کی نظم صبح آزادی کے شعر کے مصداق تھی۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

اور سویت یونین ٹوٹ گیا سویت یونین کے ٹوٹنے سے بائیں بازو کے سیاسی ورکرز کو مایوسی ہوئی ان کے خواب شرمندہ تعبیر ہونے سے پہلے ٹوٹ کر بکھر گئے۔

آمریت کے سائے میں پلنے والی ناکام جمہوریت نے جمہوریت کی بحالی کے لئے سزائیں بھگتنے والے ورکرز کو مایوس کیا۔ اس حد تک کہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت کے دو ادوار گزر جانے کے بعد بھی ضیائی آمریت میں جمہوریت کے لئے قید سلاسل کی عقوبتیں بھگتنے والے سیاسی کارکن مارشل لاء کے مقدمات میں قید خانوں میں صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ جمہوریت کو ایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی ایم آر ڈی کے بعض قیدی رہائی نہ پا سکے۔ پاور اقتدار کی بندر بانٹ میں آمریتوں کی گود میں پلنے والے پیر سردار جاگیردار مسند نشین ہو گئے جمہوریت کے حقیقی ورکرز اور ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا تھا۔

نہیں معلوم کہ وہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی یا محض ایک اتفاق کہ سندھ میں این جی اوز کا جال بچھنے لگا۔ مایوس نظریاتی سیاسی ورکرز کا ایک حصہ دل برداشتہ ہو کر گوشہ نشین ہو گیا اور ایک حلقہ اچھی تنخواہوں پر این جی اوز میں برسر روزگار ہو گیا۔ بدلتے وقت نے ترجیحات بدل دیں وڈیروں جاگیرداروں پیروں اور سرداروں کے خلاف آواز اٹھانے والے ان کے پریس ترجمان بن کر ان کی آواز بن گئے۔ دھیرے دھیرے میدان خالی ہوتا چلا گیا۔

بڑھتی آبادی اور جمہوری کرپشن نے کھیل کے میدان راتوں رات اپنی جگہ سے غائب کر دیے۔ کتب خانے بند ہونے لگے، اسٹڈی سرکل خاموش ہو گئے، کرپشن کے لیئے جدید اصطلاحات ایجاد ہو گئیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کے لئے جدوجہد کرنے والے ورکرز فکر معاش میں مبتلا ہو گئے۔ مایوسی، نامرادی، نا انصافی، مہنگائی، بیروگاری نے ڈیرے ڈال دیے۔

جب میدان خالی ہوا اور روشن خیالی کے کھیتوں میں قحط پڑ گیا تو ضیاء کے دور میں بویا ہوا بیج فرقہ ورانہ انتہا پسندی کی صورت میں اگنے لگا۔ ہر رنگ کی پگڑیاں نمودار ہونے لگیں، ہر گلی کوچے میں سر تن سے جدا کی فیکٹریاں کھلنے لگیں، کفر کے فتوے ہر سو سنائی دینے لگے۔ مسلمانوں کو مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہو گیا جو ایک دوسرے کو کافر اور واجب القتل سمجھنے لگے۔ اور سندھ کے صوفی عدم تشدد کے پیروکار، مذہبی روادار کی روح مجروح ہو گئی۔

 

Facebook Comments HS