تبلیغ اسلامک ریپبلک میں اور پناہ غیر مسلموں کے دیس میں، کھلا تضاد نہیں؟


کیا وجہ ہے کہ یہ وطن ان لوگوں کے لیے بھی ”سیف ہیون“ یا محفوظ نہیں رہا جو دن رات اس کی مذہبی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہتے ہیں؟

جنہوں نے اس اہم راز سے پردہ اٹھانے میں اپنی ساری زندگیاں وقف کر رکھی ہیں کہ

”یہ وطن قدرت کے رازوں میں سے ایک راز ہے، یہ قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے، یہ صالح علیہ السلام کی اونٹنی ہے اور یہ پاک لوگوں کی سر زمین ہے وغیرہ وغیرہ“

اس وطن کو صالح علیہ السلام کی اونٹنی قرار دینے والا ساشے پیک مفکر ”ننھا پروفیسر“ بھی اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں کب کا برطانیہ کو پیارا ہو چکا ہے، ابھی تک تو اس نے برطانیہ کی کسی یونیورسٹی یا کالج میں کوئی لیکچر نہیں دیا ہے، لگتا ہے کسی کونے میں دبک گیا ہے، حالانکہ ہمارے ہاں تو اس کے لیکچر چلتے ہی رہتے تھے اور یونیورسٹیوں کے پروفیسرز نظریں جھکائے اور ہاتھ باندھے اس کے سامنے بیٹھا کرتے تھے۔

پھر کیا وجہ ہے اتنی پاکیزہ سرزمین امن و امان سے خالی کیوں ہے اور اہل جبہ و دستار یہاں سہمے سہمے سے کیوں رہنے لگے ہیں؟

اسلام اور کلمہ کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں امن و امان تو قابل دیدنی اور اہل کفار کے لیے مثال ہونا چاہیے تھا لیکن یہ دھرتی ایک مثالی امن سے محروم کیوں ہے خاص طور پر ان کے لیے جو یہاں اسلامی اصولوں کا نفاذ چاہتے ہیں؟

اسلامک ریپبلک میں یہ حال ہے اگر وطن عزیز مکمل اسلامائز ہو گیا تو پھر کیا بنے گا؟

ہر فرقے کا اپنا مذہب ہے اور مختلف مذہبی فرقے آج تک کسی معاملے میں بھی متفق نہیں ہو پائے ہیں وہ بھلا ایک فرقے کی حکومت پر کیسے متفق ہو پائیں گے؟

مذہب اور اس کی تعلیمات تو بہت پیچھے رہ گئی ہیں اب تو فرقے اہم ہیں اور یہی مختلف مسائل پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کے نام پر قائم ہونے والے اس وطن میں ہر وقت مذہب ہی خطرے میں کیوں رہتا ہے؟

اور اب تو صورت حال اس قدر کشیدہ ہو چکی ہے کہ اہل مذہب کو ہی اپنے ”ہم مذہبوں“ سے خطرہ رہتا ہے کہ کہیں ان کے منہ سے شعوری یا لاشعوری طور پر ایسے الفاظ نہ نکل آئیں کہ وہ بھی ہجوم کی نذر ہو جائیں۔

اہل جبہ و دستار کو سوچنا چاہیے نا کہ آ خر صورت حال اس خطرناک نہج تک کیسے پہنچی؟
اگر اسلام کا یہ قلعہ علماء و مفتیان کے لیے محفوظ نہیں رہا تو عام مسلمان کا کیا بنے گا؟ آج اگر ایک فرقے کے لیے یہ زمین تنگ ہوئی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل کلاں کو دوسرے فرقے کے علماء و مفتیان محفوظ رہیں گے؟ یہ کتنی بدبختی کی بات ہے کہ ہمارے علماء کو پناہ بھی ایسے ممالک میں لینا پڑتی ہے جن کے متعلق ان کا موقف ہے کہ وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

کیا وجہ ہے کہ جاوید احمد غامدی نے اپنی سکونت کے لیے کرہ ارض پر موجود مقدس ترین مقام سعودی عرب کو نہیں چنا؟ کم و بیش 52 کے قریب اسلامی ممالک ہیں کیا کوئی ایک ملک بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی اثاثے کو پناہ دے سکتا؟ جاوید احمد غامدی کسی بھی اسلامی ملک بشمول افغانستان کہیں بھی رہائش پذیر ہو سکتے تھے آ خر مذہب کی ترویج اور اپنے خیالات کی ترسیل کے لیے امریکہ کا انتخاب ہی کیوں؟

ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی مسلمانوں کے انوار و تجلیات کے روحانی مرکز میں جہاں قدرت کی کبریائی سب سے قریب تر ہوتی ہے اور پیغمبر دوجہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی آ رام فرما ہیں کو اپنا مسکن نہیں بنایا بلکہ کینیڈا ایسے سیکولر ملک کو ترجیح دی کیوں؟

اور آج مفتی طارق مسعود بھی کینیڈا میں ہی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، ممکن ہے وہ بھی وہیں کے ہو جائیں؟

اس ملک میں جہاں آپ نے ایک طویل عرصہ تک درس و تدریس اور خطابت کے فرائض سر انجام دیے وہی آپ کے لیے غیر محفوظ ثابت ہوا اور جنہیں آپ دن رات گالیاں دیتے اور کوستے ہیں، جن کو لتاڑنے سے آپ کی روزی روٹی چلتی ہے اور یہی یورپ جو آپ کی تقاریر میں ایک طرح سے پنچنگ بیگ بنا ہوتا ہے جن پر غصہ نکال کر آپ دوسروں سے داد وصول کرتے ہیں حیرت کی بات ہے کہ وہی آپ کو پناہ بھی دیتا ہے اور اپنے خیالات کی ترسیل کی پوری آ زادی بھی دیتا ہے اور جان مال کے تحفظ کی ضمانت بھی دیتا ہے تو پھر اعلیٰ ظرف، بلند ہمت اور نگاہ بلند کون ہوئے؟

یہ تو چند مثالیں ہیں جناب! ہمارے بڑے بڑے علماء و مشائخ و مفتیان اور درباروں کے گدی نشینوں کی اولادیں یورپ میں ہی پڑھتی ہیں اور وہیں اپنا کاروبار بھی کرتے ہیں۔

ہمارے مذہبی علماء جو عوام کو بتاتے ہیں وہ سب اپنی اولادوں کو بالکل نہیں بتاتے، اسی لیے تو ہجوم میں سادہ لوح عوام ہوتے ہیں کسی بڑے عالم کی اولاد نہیں ہوتی۔

Facebook Comments HS