لکسمبرگ سے سوئٹزرلینڈ براستہ کولمار


لکسمبرگ پہنچ کر ایک دن قیام کیا اگلے دن سوئٹرزلینڈ کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔ سوئٹرزلینڈ یہاں سے پانچ گھنٹے کا سفر ہے۔ حالاں کہ ایک دن میں اتنا لمبا سفر کرنا میرے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی عمیر نے درمیان میں فرانس کے ایک شہر کولمار میں رات قیام کرنے کا پروگرام بنایا ہوا تھا اور وہاں پر ایک ہوٹل میں کمرہ بھی بک کروایا ہوا تھا۔ ناشتہ کرنے اور تیار ہوتے ہوئے بارہ بج چکے تھے لیکن ابھی ٹرپ کے لیے نکلنے میں کچھ تاخیر تھی۔

سبب اس کا یہ تھا کہ ان لوگوں نے پچھلے ماہ نئی واشنگ مشین خریدی تھی جس نے پہلے دن پہلی ہی بار کپڑے دھونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ بجلی کا پلگ لگانے اور اس سے منسلک سارے ہی بٹن بار بار چھیڑنے کے باوجود اس کا ردِ عمل صفر تھا۔ کمپنی کو اس کی پراڈکٹ کی ناراضگی کے بارے میں مطلع کیا گیا لیکن کمپنی کا ردِ عمل بھی کچھ ایسا حوصلہ افزا نہیں تھا اس نے اپنے ایک انجینئر کا نمبر بھجوا دیا اور اس سے رابطہ کرنے کو کہا۔ انجینئر صاحب سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ صاحب بہت مصروف ہیں جونہی انہیں فرصت ملے گی وہ اپنی آمد کے بارے میں مطلع فرما دیں گے اور خدا خدا کر کے تقریباً چالیس بیالیس دنوں کے بعد آج انجینئر صاحب کی میل موصول ہوئی ہے کہ موصوف آج دو بجے تشریف لا رہے ہیں اس لیے ہم لوگ اس کے بعد ہی نکل سکیں گے۔

خدا خدا کر کے ٹھیک دو بجے انجینئر صاحب تشریف لائے انہوں نے آتے ہی مشین سے دریافت کیا کہ تمہیں کیا تکلیف ہے ان بھلے لوگوں کو کیوں تنگ کر رہی ہو۔ اس نے بڑی شرافت سے بتا دیا کہ نقص نمبر 4 (ایرر 4 ) جس پرزے کی وجہ سے یہ نقص ممکن ہو سکتا تھا۔ انجینئر صاحب نے اس پرزے کا کمپنی کو آرڈر کیا اور انہیں دس دن بعد دوبارہ اپنی آمد کا مژدہ سنایا کہ اس وقت تک مطلوبہ پرزہ آ چکا ہو گا اور یہ جا وہ جا۔ اس سارے کام میں اس کے زیادہ سے زیادہ دس منٹ صرف ہوئے ہوں گے اس نے مشین کو کھول کر متعلقہ نقص کو دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی کہ بغیر اس پرزے کی تبدیلی کے ٹھیک ہو بھی سکتا ہے کہ نہیں۔

ویسے میر اپنا خیال ہے کہ ان گورے انجینئروں کی نسبت ہمارے دیسی مکینک کئی گنا بہتر ہیں۔ ہمارے ہاں خیر انجینئرز کو تو توفیق ہی نہیں ہے کہ وہ بھی ہاتھ سے کوئی کام کریں لیکن مکینک کی دستیابی یہاں کی نسبت آسان ہے اور وہ ہمہ قسم کا جگاڑ لگا کر مشینوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

یہاں پر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر چیز پیکنگ میں دستیاب ہوتی ہے اور آپ وہ پیکنگ صرف اسی وقت کھول سکتے ہیں جب مطلوبہ چیز کے دام چکا دیتے ہیں اور پیکنگ کھولنے کے بعد اگر مطلوبہ چیز آپ کے معیار کے مطابق نہ ہو تو وہ ناقابلِ واپسی ہے۔ مجھے یہ لوگ بتا رہے تھے کہ ہم نے ایک فرج منگوایا پیکنگ کھول کر دیکھا تو اس میں فریزر والا خانہ ہی نہیں تھا جب کمپنی کو بتایا گیا تو اس کا معصومانہ سا جواب تھا کہ فریزر آپ کو الگ بھجوا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ کار موجود نہیں تھا۔

بہرحال انجینئر صاحب کی روانگی کے بعد ہم بھی اپنا ساز و سامان گاڑی کی ڈگی میں ٹھونس ٹھانس کر اپنے ٹرپ کے لیے نکل پڑے۔ یہ شہر یا قصبہ جہاں عمیر لوگوں کی رہائش ہے (Differdange) ڈفرڈینج کے نام سے منسوب ہے۔ جونہی ہم اس آبادی سے باہر نکلے تو قدرت اپنی حسن و جمال سے مزین آغوش ہمارے لیے وا کیے کھڑی ہے۔ اس قدر خوبصورتی اور حسن کا تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا جو ہماری رسائی میں تھا۔ ہماری دسترس میں تھا ہمیں دعوتِ نظارہ دے رہا تھا۔ مجھے دیکھو اور غور سے دیکھو۔ میرے قریب آ کر دیکھو مجھے چھو کر دیکھو۔ وہ ذات، وہ خالق، وہ صناع خود کس قدر حسین و جمیل ہو گا۔ یہ مناظر جس کے حسن کا ایک حقیر سا پرتو ہیں۔

حسن و جمال نہ صرف یہاں اپنی پوری آب و تاب اور رعنائیوں کے ساتھ حاضر ِ خدمت تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو آشکار کرنے کے لیے بھی مچل رہا تھا۔ کہیں پڑھا تھا کہ حسن کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانا چاہتا ہے۔ اپنی پوری زینت کے ساتھ، پورے طمطراق کے ساتھ ساری کی ساری خوبصورتیوں کے ساتھ نظروں میں رچ بس جانا چاہتا ہے۔ آج زندگی میں پہلی بار نشیب و فراز، بلندیوں اور پستیوں، اونچائیوں اور گہرائیوں اور ٹیلوں اور کھائیوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا کہ یہ سب کس طرح حسن و جمال میں بڑھوتری اور اضافے کا سامان بہم پہنچاتی ہیں بلکہ یہ اس کو زیادہ سے زیادہ نمایاں ہونے اپنے جلوے دکھانے اور اپنے آپ کو آشکار کرنے میں بھی بڑی سہولت کاری فراہم کرتی ہیں۔

حسن کی جس وادی نے اس وقت ہمیں اپنی آغوش میں لے رکھا تھا اگر وہاں پر زمین ہموار ہوتی تو ماسوائے اپنے سامنے بل کھاتی ہوئی سڑک اور سڑک کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوئے قد آور درختوں اور سر پر تنے ہوئے آسمان کی نیلی چادر کے علاوہ باقی سب جلوے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتے لیکن اس کے برعکس یہاں پر سڑک کے دونوں کناروں سے زمین بتدریج بلندی کی سمت اوپر کو اُٹھ رہی تھی۔

ہماری گاڑی نشیب میں تھی اور سڑک کے دونوں جانب پھیلے ہوئے ابھار قدرت کے حسن کو بڑی حد تک آشکار کیے جا رہے تھے۔ جہاں پر ایک سطح کے درختوں کی انتہائی بلندی ختم ہوئی۔ اُن کے پہلو سے دوسری سطح کے درخت ابھر آتے اور اُن کی بلندی کے اختتام پر پیچھے سے درختوں کی ایک اور قطار نظر آنا شروع ہو جاتی اور یہ سلسلہ سڑک کے دونوں اطراف سے لے کر آسمان کی بلندیوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ قدرت اپنی ہمہ تر رعنائیوں، آرائشوں، زینتوں اور خوبصورتیوں کو آشکار کرنے پر تلی بیٹھی ہے کہ عاشقانِ دید اس کے کسی بھی قسم کے جلوے سے کہیں محروم اور تشنہ نہ رہ جائیں۔ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے قدرت کے اس حسن و جمال میں کچھ اس طرح گم ہو گیا کہ مجھے اپنے آپ کی ہوش نہ رہی۔

نہایت خاموشی سے بڑے انہماک کے ساتھ ان فطری نظاروں اور جلوؤں کو اپنے قلب و روح کے پردۂ تصور پر نقش کرنے کی سعئی ناکام میں مصروف تھا نا معلوم اس کیفیت میں کتنی دیر گزر گئی۔ ہوش آنے پر عمیر سے دریافت کیا کہ ہم کہاں ہیں اس نے بتایا کہ اس وقت ہم فرانس میں ہیں اور یہاں کے ایک مشہور شہر نینسی کی طرف جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہم نے فرانس کا بارڈر کب کراس کیا پتہ ہی نہیں چلا۔ میری بات سن کر وہ ہنس پڑا اور بولا بارڈر کاجو تصور آپ کے ذہن میں ہے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

چلتے چلتے اچانک ہی سڑک کے ایک طرف کوئی سنگِ میل نظر آتا ہے جس پر دوسرے ملک کا نام درج ہوتا ہے اور یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ ہم دوسرے ملک میں داخل ہو چکے ہیں۔ ہم لوگ مین ہائی وے کی بجائے رابطہ سڑکوں پر سفر کر رہے تھے۔ یہ کم چوڑی سڑکیں تھیں لیکن اس کے باوجود ٹریفک بڑی سہولت کے ساتھ رواں دواں تھی۔ یہ تقریباً پانچ سو کلو میٹر کا سفر تھا اس سارے سفر کے دوران سڑک میں کسی بھی قسم کا کھڈا گڑھا یا ٹوٹ پھوٹ کہیں بھی دکھائی نہیں دی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سڑکیں تارکول کی جگہ پگھلے ہوئے لوہے سے بنائی گئی ہیں۔

وطنِ عزیز میں ادھر بارش ہوئی اور اُدھر سڑک کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔ سڑکیں بنوانے والے ٹھیکیداروں سڑکیں بنانے والے سرکاری محکموں اور فنڈز مہیا کرنے والی سرکار سبھی میں اس بات پر اتفاق ِ رائے پایا جاتا ہے کہ بارش کی وجہ سے سڑک کے ٹوٹ پھوٹ ہونے کا عمل فطری سی بات ہے۔ یہاں پر ہفتہ ہفتہ لگاتار بارش ہوتی رہتی ہے بلکہ سوئیڑزلینڈ میں تو بارش ہونے کی شرح اس سے بھی زیادہ ہے لیکن مجال ہے کہ اس بارش کی بدولت یہاں کی سڑکوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔

یہاں پر زمینی مناظر تبدیل ہو رہے تھے اور سڑک کے دونوں جانب درختوں کے ساتھ ساتھ سبز گھاس سے ڈھکے ہوئے زمینی قطعات بھی موجود تھے اور اُن قطعات میں عموماً گائیں بھی گھاس چرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ گھاس کے اُن ڈھلوانی قطعات میں اِکا دُکا گھر بھی موجود تھے اور چھوٹی چھوٹی آبادیوں بھی تھیں۔ کبھی کبھار کوئی بڑا قصبہ یا گاؤں بھی نظر آ جاتا۔ سڑک کے دونوں جانب ڈھلوانی سطح پر بنی ہوئی آبادیوں کا منظر بھی خوب قابلِ دید تھا۔ ایک مکان کی چھت سے دوسرے مکان کا صحن بلند ہوتا اور بعض اوقات یہ فرق سینکڑوں فٹ تک پہنچتا۔ نیچے سے اُوپر کی جانب انہیں دیکھنے سے یوں محسوس ہوتا کہ کسی غیرمرئی قوت نے ان گھروں کو نیچے کی طرف لڑھکنے سے روک رکھا ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنی جگہ پر قائم دائم ہیں۔

ہمیں کیوں کہ گھر سے نکلنے میں دیر ہو گئی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے اپنے پڑاؤ کے مقام پر پہنچ جائیں اس لیے ہم لوگ راستہ میں رکے بغیر چلتے رہے۔ جب ہم کولمار پہنچے جہاں ہمیں رات بھر کے لئے قیام کرنا تھا تو فرانس کی خوبصورت شام اپنی تمام تر رعنائیوں اور جولانیوں کے ساتھ یہاں پر جلوہ افروز تھی۔

اس شہر کے درمیان سے ایک چھوٹی سے نہر گزار کر اسے بھی وینس کا ہم شکل بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ نہر کے اوپر جگہ جگہ لکڑی کے پل بنا کر شہر کے دونوں حصوں کو آپس میں ملایا گیا تھا۔ ان پلوں کے دونوں جانب لوہے سے بنی ہوئی حفاظتی گرل لگائی گئی تھی اور اس گرل کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں دل کی شکل کے مشابہ سرخ رنگت کے چھوٹے بڑے تالے لگے ہوئے تھے۔ یہ تالے محبت کرنے والے جوڑوں نے اس تمنا اور خواہش کے ساتھ لگائے ہوئے تھے کہ یہ تالے اُن کی محبت کو آپس میں اس طرح باندھ کر رکھیں گے کہ وہ زندگی بھر اکٹھے جئیں گے اور اکٹھے مریں گے اور جیتے جی کبھی ایک دوسرے سے علیحدگی نہیں ہوگی۔

کہتے ہیں کہ انسان کی پہلی محبت میں بہت شدت ہوتی ہے۔ محبت کی یہی شدت انہیں موت کے خوف سے بے نیاز کر دیتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر زندہ رہنے کی بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر موت کی وادی میں چھلانگ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہرحال نوجوان جوڑوں کی دل کی شکل والے سرخ تالوں کی صورت میں خوبصورت نشانیاں ہزاروں کی تعداد میں ہرپل کے ساتھ جا بجا لٹکی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ دو محبت بھرے دلوں کو ایک ساتھ باندھ کر رکھنے والے یہ خوبصورت اور رنگین تالے فرانس کی شام کے حسن اور دل کشی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے رومانوی رنگوں سے مزین کر رہے تھے۔

نہر کا شفاف پانی اس کے سر سبز و شاداب کنارے اور دھیرے دھیرے گنگناتی ہوئی خوش گوار اور خوشبودار ہوا عجیب بہار دکھا رہی تھی۔ وقت انمول ہے اور اس کی قدر و قیمت بے حساب اور لامتناہی ہے۔ یہ ساری خوبصورتیاں، رنگینیاں، دل فریبیاں اور رومانوی نازو انداز شام کے ساتھ ہی وابستہ و پیوستہ تھے۔ جونہی سورج غروب ہوا رات کا اندھیرا شام کے اُجالے پر غالب آنے لگا تو ماحول میں بھی تبدیلی آنے لگی۔ حالاں کہ وقت کے علاوہ باقی سارے عوامل اور لوازمات اپنی جگہ پر پہلے کی طرح ہی موجود تھے۔ لیکن اب اس دل کشی اور رنگینی کا احساس بڑی حد تک کم ہو چکا تھا۔ ہم نے سامان اپنے ہوٹل میں رکھا گاڑی ہوٹل کے باہر پارکنگ کے لیے بنائے گئے ایک گراؤنڈ میں پارک کی اور کھانے کی تلاش میں نکل پڑے۔

یہاں پر کھانے کا بھی مسئلہ ہے آپ ہر جگہ سے کھا پی بھی نہیں سکتے۔ آپ کو حلال کھانا تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ویسے عصرِ حاضر میں گوگل بی بی بھی کمال کی چیز ہے کہیں آپ کو کوئی بھی مسئلہ در پیش ہو فوراً گوگل سے راہنمائی حاصل کریں اور مسئلہ حل۔ آپ نے کھانا کھانا ہو، کوئی چیز خریدنی ہو، گوگل بی بی ہمہ وقت دل و جان سے آپ کی خدمت کے لیے حاضر اور تیار ہوتی ہے۔ ہم نے بھی گوگل سے حلال فوڈ کو تلاش کرنے کے سلسلے میں راہنمائی حاصل کی۔ دیر تک ویسے ہی گھومتے پھرتے رہے گیارہ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گوگل کی راہنمائی حاصل کرتے ہوئے کھانا کھایا اور ہوٹل میں اپنے کمرے میں آ کر لمبی تان کر سو گئے کیوں کہ صبح سویرے ہم نے سوئٹرزلینڈ کے لیے نکلنا تھا۔

Facebook Comments HS