حسن منظر کے ناول دھنی بخش کے بیٹے پر ایک تبصرہ


حسن منظر عہد حاضر کے منفرد اور منجھے ہوئے تخلیق کار اور اردو ادب کا معتبر حوالہ ہیں۔ ان کا شمار عصر حاضر کے سنجیدہ اور باشعور تخلیقی ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، گھوم کر اپنی کہانیاں اکٹھی کرنے والے حسن منظر نے اردو ادب میں پہلے بطور افسانہ نگار کام کیا اور پھر کئی بہترین ناول اردو ادب کو دان کیے۔

نائیجیریا میں ان کی زندگی کے یادگار دنوں پر مبنی یادداشتوں پر تحقیقی و تنقیدی نوعیت کا کام کرتے ہوئے، مجھے ان کی دیگر تخلیقات بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ جن میں ان کے کچھ ناول اور افسانے شامل تھے۔ ان میں ایک بہت اہم اور نمایاں ناول ”دھنی بخش کے بیٹے“ ہے۔ یہ حسن منظر کا دوسرا ناول ہے۔ یہ ناول سندھ کی تہذیب و معاشرت و جاگیر دارانہ طبقات کے جبر و مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔

حسن منظر نے اس ناول میں دو طرح کے معاشروں کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کی ہے۔ ایک مشرقی معاشرہ اور دوسرا مغربی معاشرہ۔ اسی طرح اس ناول میں مشرقی معاشرے کے دو طبقات کی نمائندگی ملتی ہے۔ ایک وہ طبقہ جسے ”علی بخش“ کے مظلوم کردار کے ذریعے نمایاں کیا جاتا ہے، دوسرا وہ جاگیردارانہ طبقہ ہے۔ جو غریبوں کا استحصال کرتا ہے اور عورت کو کمتر اور حقیر سمجھتا ہے۔

یہاں ناول میں دکھایا جاتا ہے کہ غریب طبقہ ہمیشہ معاشرتی استحصال کا شکار رہتا ہے۔ اس میں وہ لوگ بھی آ جاتے ہیں جو سرکاری عہدوں پر فائز تو ہیں لیکن وہ امیروں اور جاگیر داروں کے نقش قدم پر چلنے کی مقدور بھر سعی کرتے ہیں۔ ناول کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”مشکل یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بڑے ہونے پر خود اپنی شناخت بدل کر بڑی آسانی سے حاکم اور محکوم بن جاتے ہیں۔ ساتھی نہیں رہتے۔ خواہ اس کی توقع ان سے کی جائے یا نہیں، کم حیثیت پرانے دوست جب ملتے ہیں ایسے ملتے ہیں جیسے غلام ہوں اور بحیثیت پرانے ساتھی خود اسے اپنا بیاج سمجھنے لگتے ہیں، جسے ادا کرنا ان کے نزدیک کم حیثیتوں پر فرض ہوتا ہے۔“

مغربی معاشرے اور وہاں کی تہذیب و ثقافت کو ”احمد بخش“ جو کہ علی بخش کا بھائی ہے اس کے ذریعے دکھایا گیا ہے جو اپنے گاؤں کے جاگیر دارانہ نظام کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر سب کچھ چھوڑ کر امریکہ چلا جاتا ہے۔ وہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد وہ مغرب اور مشرق دونوں کے تضادات کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہاں اپنی اولاد کو تعلیم تو دلوا دیتا ہے لیکن وہاں کے آزاد اور کھلے ماحول میں رہنے کو دل سے پسند نہیں کرتا ہے کیونکہ اس کی سوچ میں ابھی تک مشرقی قدامت کی آمیزش ہے۔ یہاں ناول سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”پھر اسے احساس ہونے لگا یہاں کی زندگی میں وہ اپنی مرضی کے خلاف شریک ہوتا جا رہا تھا۔ یہ تو بڑے کرب کی چیز تھی جہاں ایک شخص رہ تو رہا ہو مگر وہاں سے مطمئن نہ ہو۔ یہ کوئی اسکول یا گھر نہیں تھا کہ جسے پریشانی کی حالت میں بدلا جا سکے۔ پھر وہ اس بھیانک غار کو دیکھتا، جو اسے، اس کی بیوی اور بچوں کو اپنے اندر کھینچ رہا تھا کیوں کہ اس میں زندگی کی تمام ضروریات کو پوری کرنے والی چیزوں کی فراوانی تھی، سہولتیں تھیں اور لطف یہ تھا کہ کوئی اخلاقی پابندیاں بھی نہ تھیں۔“

حسن منظر کا یہ ناول متنوع جہات کا حامل اور بہت ہی ضخیم ناول ہے۔ ناول کے نمایاں موضوعات میں معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی تضادات، نسلی عصبیت، معاشرتی استحصال، خصوصاً عورتوں کی حق تلفی، مشرقی و مغربی تہذیب کا تضاد، عورت کے حقوق کی پامالی، نا انصافیاں، جاگیردارانہ نظام وغیرہ سب شامل ہیں۔

حسن منظر کا یہ ناول دیہی زندگی خاص طور پر سندھ کی تہذیب کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ ناول کی زبان بہت سادہ ہے۔ حسن منظر چونکہ سندھ حیدرآباد میں قیام پذیر رہے اس لیے وہاں کے ماحول سے بخوبی آشنا تھے۔ بس یہی ماحول اور منظر ہمیں ناول دھنی بخش کے بیٹے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

کردار، زبان و بیان ہر چیز اسی مقامیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہی مٹی سے جڑت ناول کے اسلوب سے بھی جھلکتی ہے۔ ڈاکٹر حسن منظر کا یہ ناول ایک عمدہ و شاندار ناول ہے جو اپنے اندر متنوع موضوعات کو سموئے ہوئے ہے۔

Facebook Comments HS