مینگورہ کا تبلیغی مرکز: خود سے جنگ؟
مینگورہ پش اور جی ٹی روڈ کے اوڈیگرام بائی پاس پر تین کلومیٹر کے فاصلے پر ، برلبِ دریا ایک زرخیز قصبہ واقع ہے، تختہ بند نام ہے جس کا ۔ عرصہ پہلے یہ زرعی تحقیقاتی سنٹر اور اب اِس کے نواح میں واقع تبلیغی مرکز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہلی دفعہ یہاں ’قدم رنجہ فرما‘ رہے ہیں، سو اولین فرصت میں پورے عمارت کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ ساٹھ ستّر کنال زمین پر پھیلے ہوئے اِس مرکز میں دو وسیع و عریض ہال ہیں، جہاں بیک وقت ہزاروں افراد کی نماز پڑھ سکتے ہیں۔
تلاوت، ذکر و اذکار اور تبلیغی کارکنان کے کھانے پینے اور آرام کے لئے الگ الگ جگہیں مختص ہیں۔ متعدد واش رومز اور وسیع کار پارکنگ بھی موجود ہیں۔ وادیٔ سوات کے طول و عرض سے لوگ ہر جمعہ کی شب یہاں پہنچتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں، احوال کرتے ہیں، علمائے کرام کے بیانات سُنتے ہیں اور تبلیغِ دین پر نکلنے کی دعوت اور افادیت پر بات ہوتی ہے۔
آج جمعرات کا بابرکت دن ہے۔ اِس وقت عصر کی اذان ابھی ہوئی نہیں تاہم لوگ جوق در جوق پہنچ رہے ہیں۔ مرکز کے وسیع بیسمنٹ میں سینکڑوں لوگ متحرک ہیں ؛ایک ہل چل اور گہماگہمی ہے۔ کئی لوگ وضو ’تازہ‘ کرنے کے لئے بازوؤں تک آستین چڑھائے، غسل خانوں کی طرف رواں دواں ہیں، کئی نوافل ادا کرنے میں مگن، کوئی قرآن عظیم الشان کی والہانہ تلاوت میں مصروف تو کوئی دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے، آنسو بہاتے اور گڑگڑا کر خطاؤں کی معافی مانگنے میں سرگرداں۔
ہم بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی اُن اعمال ِصالحہ کی ادائیگی کرتے ہیں لیکن اُلٹا سیدھا۔ اگر پردے میں رہنے دیں تو کہہ دیتے ہیں کہ حرکات و سکنات سے یوں لگتا ہے جیسے کچھ نئے نویلے مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں، ہم۔ واقعی، ’مذہبی سیکٹر‘ میں ہم بڑے نکّمے واقع ہوئے ہیں۔ آپس کی بات ہے، یہی سوچ کر ، کہ اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے، ہم اُن شرعی اعمال کے لئے صرف نیت پر اکتفا کرتے ہیں، جن میں جسمانی دوڑ دھوپ کا احتمال یا امکان ہو۔ ہاں ایک ’فارمی لیٹی‘ ضرور کرتے ہیں رات سونے سے قبل سِر کو آسمان کی طرف اُٹھاتے ہیں اور اشعار اشعار میں نیلی چھتری والے سے یوں التجا کرتے ہیں :
خولہ مے سوال تہ نہ جو ڑیگی لویہ خدایا
سہ چہ خہ وی تہئے ما لہ بے دُعا را
تہ زما دہ مجبورو نہ خہ خبرئے
زہ بہ سہ ویمہ چہ دا راکہ او دا را
(اے ربِّ رحیم و جلیل، یہ مُنہ تو بنتا نہیں، مانگنے کو ۔ بس جو بھی اچھی چیز ہو، بن مانگے عنایت فرما مجھے۔ تو مجبوریاں خوب جانتا ہے میری۔ میں کیا ’پوائنٹ آؤٹ‘ کروں گا کہ یہ دو اور وہ دو ، مجھے )
معاف فرمائیں، بات مشرف بہ اسلام ہونے کی ہو رہی تھی، تو یاد دلاؤں کہ اب یعنی اِس عمر میں کچھ پڑھنے سیکھنے اور باعمل مسلمان بننے کے لئے تبلیغی چلّہ پر جانے کی نیت کر کے گھر سے نکلے ہیں۔ اِس وقت ایک خلقت تبلیغی مرکز کے مرکزی ہال میں جمع ہیں۔ مغرب کی اذان ہوتی ہے۔ نماز کے بعد ایک عالمِ دین کے پُراثر و ہمہ جہت بیان کا ’سیشن‘ بخیر و خوبی انجام تک پہنچا نہیں کہ نمازِ عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔ بعد ِازاں ایک ساتھی حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا سبق آموز واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔
اتنے میں کھانے کی بے تکلف نشست کا اہتمام ہوتا ہے پھر مسنون دعائیں اور سونے کے آداب بھی بیان ہوتے ہیں، ان اعمال میں حاضرین کی دلچسپی اور انہماک دیدنی ہوتا ہے۔ رات مشکل سے کہیں بارہ ایک بجے سونے کا نہیں، بس سستانے کا موقع ملتا ہے۔ لحظہ بعد پھر اُٹھتے ہیں، تہجد کرتے ہیں، تلاوت کرتے ہیں اور فجر کے بعد پھر سے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔
خدا خدا کر کے دس بجے صبح، نو سے گیارہ افراد پر مشتمل درجنوں ٹولیاں بنائی جاتی ہیں، جنہیں جماعت کہتے ہیں۔ ایک مخصوص فارم میں نام، پتہ، تعلیم اور شناختی کارڈز کے نمبر درج کیے جاتے ہیں۔ مجوزہ شہر، جہاں مشاورتی کمیٹی کی ہدایت کے مطابق جانا ہے، کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ہر جماعت کے لئے ایک امیر اور ایک نائب امیر چُنے جاتے ہیں۔ دونوں ’عہدوں‘ کے لئے کسی بارگیننگ، کسی دھاندلی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ فارم پینتالیس یا سینتالیس بھرنے کی ”فٹیک“ کرنی پڑتی ہے۔
یہ تو بڑوں کا کھیل کھلواڑ ہے بھائی، جو عہدوں کے لئے یوں تڑپتے ہیں جیسے مچھلی پانی کو ۔ یہاں تو ’امیروں‘ کے انتخاب کے لئے واضح میرٹ تین بنیادی نکات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اول، وہ کم از کم تین چِلّے لگا چکا ہو اور تبلیغ کے پیرامیٹرز سے واقف ہو۔ دوم، اتنا تعلیم یافتہ ہو کہ روزنامچہ کارروائی کا اندراج کر سکے۔ سوم، خاکسار ہو اور جماعت کے ارکان کی خدمت گزاری کے لئے ہر دَم تازہ دَم اور تیار ہو، بس۔
اِس وقت پورے ہال میں کئی گروپس علیحدہ علیحدہ تشریف فرما ہیں، کہیں تعارفی سیشن ہو رہا ہے، کہیں سفری پلان پر مشاورت ہو رہی ہے اور کہیں تعلیم کی نشست جاری ہے۔ ہال میں مدھم شور ایسا ہے جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے کے پاس ہوتا ہے۔ کس قافلے یا گروپ نے کدھر جانا ہے، سب کے سفر کا رُخ مقرر ہو چکا ہے۔ ہم بھی برائے نام سامان ِ سفر پیک کیے ہوئے ہیں، ایک ستون کو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں، پنڈلی پر بایاں بازو رکھے اور ٹھوڑی کو یوں سہارا دیے ہوئے ہیں جیسے اِس کے بغیر سَر مبارک فرش پر گرنے کا احتمال ہو۔
دنیاوی شکر رنجیاں اور چپقلشیں دماغ سے ڈیلیٹ کیے ہوئے اور کچھ جعلی سی کچھ وقتی سی جذبۂ ایمانی کی کیفیت خود پر طاری کیے ہوئے۔ علیٰ ہٰذالقیاس ہمارا قافلہ تیار ہو چکا ہے۔ ہماری تشکیل جامع مسجد اٹک شہر کے لئے ہوتی ہے۔ چار ساتھی ضلع شانگلہ اور چھ وادیٔ سوات کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ امارت کے لئے ساتھی، محمد علی حاجی صاحب کا انتخاب ہوتا ہے، جب کہ ہدایت اللہ اُستاد صاحب نائب امیر کے طور پر متعارف ہوتے ہیں۔ دونوں ساتھی بڑے تجربہ کار لگتے ہیں، حاجی صاحب ایک عمر اس دشت کی سیاہی میں گزارنے کے باوجود، بڑے مرنجاں مرنج بھی واقع ہوئے ہیں۔
دعوت و تبلیغ میں ہر اجتماعی کام کے لئے مشورے کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تبلیغی حضرات کا ماننا ہے کہ کسی کام کی شروعات سے پہلے دوست و احباب کے ساتھ صلاح کرنا ایک احسن عمل ہے۔ مشورہ گھر کے تمام افراد سے کرنا چاہیے، تاہم بڑے کو اختیار ہو تا ہے کہ وہ اپنی فہم و فراست کے مطابق فیصلہ کرے۔ مشاورت کے ذریعے انفرادی اور اجتماعی مسئلے خوش اسلوبی سے حل ہوتے ہیں۔ نزدیکیاں بڑھتی ہیں، اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے، اتفاق و اتحاد کا عنصر اُبھرتا ہے اور امید افزا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
یہ محدود عقل و سوچ کو لامحدود کر دیتا ہے۔ فکر و خیال کو وسعت اور تنوع دیتا ہے۔ صلاح و مشورے کا نظام چلتا رہے تو امن و سکون کی راہیں کھلی رہتی ہیں۔ اللہ کی راہ میں جانے والوں کے درمیان نمازِ فجر کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں کی سرگرمیوں کے لئے مشورے کا باقاعدہ سیشن منعقد ہوتا ہے۔ اس میں سفر، تعلیم، گشت کے آداب، مغرب کا بیان، عشاء کے بعد واقعہ کا بیان، خدمت کے لئے ساتھیوں کا انتخاب اور اگلی صبح کے بیان کے لئے ساتھیوں کی نامزدگی باہمی مشورے سے طے ہوتی ہے اور اسے ڈائری میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
جہاں بھی جانا ہو سفر کے آداب، بات کرنے اور لوگوں سے میل جول کے طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ ہمارا آج کا مشورہ اٹک کے سفر تک محدود ہے، وہاں پہنچ کر باقاعدہ سرگرمیاں شروع ہوں گی۔ بنابریں امیرِ محترم تبلیغی سرگرمیوں کے خد و خال بیان کرتے ہوئے ’ہم بے مجال انسان‘ کی طرف دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”جب دینِ اسلام کی باتیں کرتے کرتے زبان سوکھ جائے، گشت کر کر کے پیر شل ہو جائے، مارے فاقہ کے پیٹ پیٹھ میں مدغم ہو جائے۔
سوچ و فکر میں سرگرداں دماغ انگارہ بن جائے، رو رو کے آنکھیں پتھرا جائے۔ تو مبارک ہو، آپ میں کھرے مومن کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ سن کر ہم ڈر کے مارے اِس سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کہ اگر مبلغ چالیس دن، نصف جن کے مبلغ بیس دِن ہوتے ہیں، اگر اِسی طرح در بہ در خاک بہ سر، قدم شل اور پیٹ کو پیٹھ میں مدغم کرنا پڑا، تو قضا و قدر کے کان بہرے ہوں یا نہ ہوں، سمجھو کہ ہم تو جان سے گئے۔ یہ تو خود سے نفس سے روح سے جنگ کرنا ہو گا۔
سوچ لو راہ میں مجھ کو نہ پریشان کرنا
راستہ زیست کا کہتے ہیں کہ ہموار نہیں
قصہ مختصر، دو رکعت نفل کی ادائیگی کے بعد ، تختہ بند مرکز سے قافلہ برآمد ہوتا ہے۔ مرکز کے مین گیٹ پر کھڑے ہو کر اجتماعی دُعا ہوتی ہے، دنیا بھر کی سلامتی و خوشحالی کے لئے، پاکستان میں اتفاق و اتحاد اور ترقی کے لئے، سوات میں دائمی امن کے فروغ کے لئے، خیر خیریت سے اصلاح کا کام سرانجام دینے اور آخر میں بال بچوں اور اپنی صحت کے لئے۔ جس کے بعد جنرل بس سٹینڈ مینگورہ کی جانب روانگی ہوتی ہے۔ سوزوکی وین والے کے ساتھ کرایہ پر بات نہ بننے کی صورت میں بیگ ہاتھوں میں پکڑے اور بستر کندھوں پر رکھے مین روڈ تک کوئی ایک کلو میٹر پیدل سفر کرتے ہیں۔ پہلی بار احساس ہوا کہ اس دور میں بھی ایسے خاکسار لوگ موجود ہیں جو پانچ دس روپے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں۔ خیر، جیسے تیسے جنرل بس سٹینڈ مینگورہ پہنچ جاتے ہیں جہاں سے مردان کا رختِ سفر باندھیں گے اور وہاں سے اٹک روانگی ہوگی، انشاءاللہ۔
تیری الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں
”آدمی کو میسر نہیں انسان ہونا“
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا


