پچاس کی دہائی کا پاک ٹی ہاؤس

سید راشد اشرف بے پناہ آدمی تھے۔ اردو ادب کے قبیلے میں کون ہے جو سید راشد اشرف کو نہیں جانتا۔ اور جو نہیں جانتا، اس کے جانے یا نہ جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جون 1932 میں پیدا ہونے والے سید راشد اشرف تو مارچ 2023 سے وجود اور عدم سے ماورا اس پینگ کے ہلارے میں ہیں جہاں شفق رنگ بدلیوں میں اڑان بھرتے پرندے ان کی ہر آن بلائیں لیتے ہیں۔
*** ***
انتظار حسین نے ٹی ہاؤس کے ساتھ ناصر کاظمی کے قریبی تعلق کا تذکرہ بہت خوبی کے ساتھ اپنی یادوں کی کتاب ’چراغوں کا دھواں‘ میں کر دیا ہے۔ لیکن پاک ٹی ہاؤس کے ساتھ انہوں نے بھی پورا انصاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کی کتاب پڑھنے کے بعد جب میں نے اس جانب توجہ دلائی کہ آپ نے سراج صاحب کا ذکر نہیں کیا تو ذرا سا جِز بز ہوکے انہوں نے کہا کہ کس کس کا ذکر کرتا میں آخر؟
جس پاک ٹی ہاؤس کو میں جانتا تھا اس سے میرا تعارف سن باون میں ہوا۔ میں دیال سنگھ کالج میں اس سال بی اے کے پہلے سال میں داخل ہوا تھا اور میری دوستی حسن ذکی کاظمی سے ہوئی تھی جو آخر عمر میں ریڈیو پاکستان لاہور کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اور اب سے چھ سال پہلے اسی شہر لندن میں میرے گھر پر ہی دل کے دورے کے بعد جن کا انتقال ہوا۔
غرض کہ وہ پاک ٹی ہاؤس کے نزدیک ایک گلی میں رہتے تھے۔ ان کے ساتھ شام کی محفل کے لئے اس ٹی ہاؤس کو ہم نے چنا اور آہستہ آہستہ کالج میں جس سے بھی دوستی ہوئی وہ شام کو یہیں آ کے بیٹھنے لگا۔ دیال سنگھ کالج کے ساتھیوں میں سجاد ناظم زیدی، اخلاق حسین نقوی، ناصر قریشی اور شفیق احمد خان بھی تھے۔ اور پاک ٹی ہاؤس اس چھوٹے سے گروپ کا اڈہ بن گیا۔ حتیٰ کہ لاہور میں جب پہلا مارشل لا لگا اور شام کو چھ بجے سے کرفیو لگا دیا گیا ان دنوں بھی ہم کرفیو سے پہلے وہاں ضرور جمع ہو جاتے۔
انتظار صاحب کی کتاب سے ایک چھوٹا سا پیرا گراف میں یہاں آپ کو سنانا چاہوں گا۔ لکھتے ہیں :
’ایک سہ پہر میں ٹی ہاؤس میں داخل ہوا تو اصغر سلیم کو سخت غصے کے عالم میں دیکھا کہہ رہا تھا یار لطیفی صاحب عجب آدمی ہیں۔ آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس اٹھنی ہوگی۔ میں نے اٹھنی جیب سے نکال کے دے دی۔ انہوں نے اٹھنی جیب میں رکھی اور چلے گئے۔ یار حد ہو گئی میری جیب میں ایک ہی اٹھنی تھی۔ سوچا تھا چائے پیوں گا۔ اب میں کیا کروں۔ ‘
اس پیرا گراف میں آخری جملہ ”میری جیب میں ایک ہی اٹھنی تھی، سوچا تھا چائے پیوں گا۔ اب میں کیا کروں“۔ غور طلب ہے۔ ایک اٹھنی میں ہاف سیٹ چائے آتی تھی جس میں دو پیالی چائے ہوتی۔ اس کے بعد بابو خاں کو جو بتیس چونتیس سال کا بیرا تھا آواز دی جاتی کہ ذرا سا اس میں پانی ڈال دو۔ وہ گرم پانی چائے دانی میں ڈال کے لے آتا۔ تھوڑی دیر میں آواز دی جاتی کہ باؤ خاں ذرا سا دودھ لا دینا۔ اس ترکیب سے آٹھ آنے کے ہاف سیٹ میں چار پیالی چائے بنا لی جاتی۔ اور اگر چار پانچ لڑکوں کے درمیان چندہ کر کے ایک روپیہ نکل آتا تو ہم اس ایک سیٹ چائے پر ٹی ہاؤس میں شام گزار دیتے تھے۔ یہ نہ بھولئے گا پاکستان کو بنے ہوئے چار پانچ سال ہی ہوئے تھے۔ جو لوگ لُٹ پِٹ کے آئے تھے ان کا تو ذکر ہی کیا۔ وہ بھی جو یہاں کے پرانے رہنے والے تھے ان کی حالت بھی کچھ اچھی نہیں تھی۔ اور ہم تو طالب علم تھے۔
نیو یارک میں پرانے فیشن کا ایک ہوٹل ہے ایل گون کِن (Algonquin)۔ انگریزی ادب اور شاعری کی تاریخ میں اس کا ذکر ایل گون کِن راؤنڈ ٹیبل (Algonquin Round Table) کے نام سے کیا جاتا ہے۔ 1919 میں کچھ شاعروں اور ادیبوں نے لنچ کے وقت ایک بڑی سی گول میز کو اپنے لئے مقرر کر لیا اور بیٹھ کے شعر و ادب پر گفتگو کرنے لگے۔ 1943 تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ ان ادیبوں میں Alexander Woolcott اور مشہور فلم اسٹار گرائچو مارکس (Groucho Marx) کے نام بھی شامل تھے۔
وہ تو بھلا کرے اے حمید اور انتظار حسین کا کہ انہوں نے لاہور کے بارے میں اپنی یادداشتیں سپرد قلم کر دیں اور اس میں تفصیل کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کے ادیبوں اور شاعروں کا ذکر کر کے اسے بھی اردو ادب کی تاریخ میں ایک مقام دلوا دیا ورنہ ریلوے روڈ کے عرب ہوٹل اور انارکلی کی نگینہ بیکری کے ناموں کی طرح یہ نام بھی طاق نسیاں کی زینت بن جاتا۔
پاک ٹی ہاؤس کیا تھا؟ میں چونکہ سن پچاس کے عشرے سے سن ساٹھ کے عشرے کی بات کر رہا ہوں اس لئے ماضی کے صیغے میں گفتگو کروں گا۔ تو ہاں مال روڈ پر وائی ایم سی اے کی بڑی اچھی سی عمارت میں ہی دائیں ہاتھ پر جو سڑک نیلے گنبد کی طرف جاتی ہے اس میں چند دکانیں بنی ہوئی ہیں۔ انہی میں سے ایک میں یہ ریسٹورینٹ تھا۔ کوئی تیس پینتیس گز لمبا اور بیس بائیس گز چوڑا۔ برطانیہ میں رہنے والے ڈبل فرنٹیڈ گھروں سے واقف ہیں۔ یہ ڈبل فرنٹیڈ دکان تھی۔ دروازے کے دائیں بائیں قد آدم کھڑکیاں۔ داخل ہوں تو سامنے بیس فٹ لمبی دیوار کے پیچھے کچن تھا۔ اس دیوار کے وسط میں ایک بڑے سے فریم میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں تھی۔ اس زمانے میں تو یہ تصویر نایاب نہیں تھی۔ اب بہت عرصے سے نظر نہیں آئی ہے۔ قائد اعظم انگریزی لباس میں تھے اور ٹائی باندھے ہوئے تھے، سفید و سیاہ چار خانے کی۔ اس کی گرہ مجھے اتنی پسند آئی تھی کہ میں نے جتن کر کے ویسی گرہ باندھنے کی مشق کرلی تھی۔
وعدہ کیجئے کہ آپ بور نہیں ہوں گے۔ کیونکہ میں اس ریسٹورینٹ کا نقشہ چند سطروں میں کھینچنا چاہتا ہوں تاکہ اس کے مختلف کونوں سے اٹھنے والی آوازوں کو آپ پہچان سکیں۔
دروازے میں داخل ہوتے ہیں سیدھے ہاتھ کی کھڑکی کے ساتھ لمبا صوفہ تھا اس کے سامنے مستطیل میز اور چند کرسیاں۔ الٹے ہاتھ پر کاؤنٹر تھا جس کے پیچھے سراج صاحب، ریسٹورینٹ کے مالک، بیٹھتے تھے۔ سامنے دو یا تین میزیں۔ الٹے ہاتھ کی دیوار کے ساتھ چھوٹی میزوں کے ساتھ دو دو کرسیاں، سامنے قائد اعظم والی دیوار کے ساتھ لمبا سا صوفہ اور دو تین لمبی میزیں، داہنے ہاتھ پر ایک طرف ٹوائلٹ کا دروازہ، دوسری طرف اوپر جانے والی سیڑھیاں۔ اوپر دو چھتی تھی جہاں چند میزیں اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ صرف دوپہر کو کھانے کے وقت لوگ وہاں جاتے۔ شام کو وہ جگہ خالی پڑی رہتی۔ (میں نے سنا ہے کہ نوے کی دہائی میں حلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وار جلسہ یہیں ہونے لگا تھا)۔
پاک ٹی ہاؤس کو آپ ایک چھوٹا سا تالاب تصور کر لیجیے جس میں الگ الگ چھوٹے چھوٹے گرداب سے پڑ رہے ہوں۔ یہ حلقے بیٹھنے والوں کے تھے۔ دائیں ہاتھ کی کھڑکی کے صوفے اور کرسیاں شام کے وقت شعر و ادب کے شہزادوں کے لئے مخصوص تھیں۔ انتظار حسین، ناصر کاظمی، شہزاد احمد، احمد مشتاق وغیرہ۔ احمد مشتاق اور شہزاد احمد اس کرسی کو ترجیح دیتے جس کی پشت دیوار کی طرف ہوتی۔ ناصر کاظمی صوفے پر بیٹھتے۔ انتظار حسین ان کے سامنے کرسی پر۔ ان کے علاوہ اور لوگ بھی آتے رہتے اور اس دائرے میں شامل ہوتے رہتے۔
ہم جو چار پانچ تھے ہماری کوئی جگہ مقرر نہیں تھی لیکن کوشش کرتے تھے ان لوگوں سے ذرا دور کسی کونے میں بیٹھیں کیونکہ ہم شور مچاتے تھے، مذاق کرتے لطیفے سناتے اور ایک دوسرے کی کھنچائی کرتے تھے۔ کبھی کبھی جب شور زیادہ ہوجاتا تو انتظار صاحب اٹھ کے ہمارے پاس آ جاتے اور ان کے ادب کی وجہ سے ہماری آوازوں میں اعتدال آ جاتا۔ دو افراد کبھی ہماری میز کی طرف نہیں آئے احمد مشتاق اور شہزاد احمد۔ یہ دونوں ہماری ہی عمروں کے تھے۔ لیکن ذہانت اور علم میں ان کی عمریں بہت زیادہ تھیں۔
سجاد باقر رضوی کے نام سے بہت لوگ مانوس ہوں گے۔ کراچی سے ہجرت کر کے لاہور آ گئے تھے اور شہزادوں والی میز پر بیٹھنے لگے تھے۔ اکثر ہمارے پاس بھی آ جاتے اور ہماری خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتے۔ ان کے ہم نام ایک اور صاحب تھے۔ سجاد رضوی۔ دیال سنگھ کالج میں ہمارے اردو کے استاد تھے۔ پستہ قد، گٹھے ہوئے بدن کے آدمی۔ ٹی ہاؤس میں داخل ہوکے سیدھے ہماری میز پر آتے۔ بابو خان کو اشارے سے بلاتے۔ ”کھان نو کی کی ہے“ ؟ بابو خان تمام کھانوں کی لمبی فہرست گناتا۔ ’آلو گوشت، پالک گوشت، کوفتے، ماش کی دال، کباب۔‘۔ ”ایویں کر“۔ سجاد رضوی کہتے ”دو انڈے فرائی کر لا“۔ چودہ سال ہم ٹی ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔ کوئی شام ایسی نہیں تھی کہ سجاد رضوی نے جس رسم کی ڈوری پکڑی تھی اس میں ڈھیل آئی ہو، بجز ایک شام کے۔ انہوں نے بابو خان سے کہا کہ ”ایویں کر، ماش کی دال لے آ“۔ ہم سب پر سکتہ طاری ہو گیا۔ بابو خان بھی بھونچکا رہ گیا۔ ہم میں سے ایک لڑکا تھا ناصر قریشی۔ سجاد رضوی سے قدرے بے تکلف تھا۔ اس نے فوراٰ انہیں ٹوکا۔ ’سجاد صاحب کیا غضب کر رہے ہیں۔ رات کے وقت ماش کی دال کھائیں گے۔ ہضم کب ہوگی‘۔ سجاد رضوی کی سمجھ میں بات آ گئی۔ فوراٰ اپنا آرڈر بدلا۔ ”ایویں کر۔ دو انڈے فرائی کر لا“۔ روایت کا خون ہوتے ہوتے رہ گیا۔
روز تو نہیں لیکن حبیب جالب بھی اکثر آ جاتے۔ جس دن صدر ایوب خاں کا نیا آئین بازار میں آیا اس شام کو وہ بہت ایکسائٹڈ آئے اور اعلان کیا کہ میں نے اس آئین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ ساری کرسیاں ٹی ہاؤس کے بیچ کی میزوں کی طرف کھینچ لی گئیں۔ پرجوش انداز میں نظم سنی اور سنائی گئی۔ ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا۔ ٹی ہاؤس نعرہ تحسین سے گونج اٹھا۔ جالب کے لئے چائے اور لیمن ٹارٹ والی پیسٹری منگوائی گئی۔ میں ان کے بالکل سامنے بیٹھا تھا۔ میں نے ذرا شوخ لہجے میں پوچھا کہ جالب آپ نے وہ آئین پڑھا بھی ہے یا بغیر پڑھے مخالف ہو گئے ہیں؟ انہوں نے مسکت جواب دیا کہ ’بد دیانت شخص جو بھی کرے، وہ بددیانتی کے ساتھ کرے گا۔ اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں‘۔
پاک ٹی ہاؤس میں شام کے وقت بیٹھنے والوں میں پچاس فیصد سے زیادہ شاعر تھے۔ لیکن ایک صاحب ان سب پر بھاری تھے۔ نام تو ان کا تھا شاہد۔ لیکن تخلص کرتے تھے ناطق۔ اور نواب ناطق کہلاتے تھے۔ جب بھی آتے اعلان کرتے، چائے منگوا لو، میں شعر کہہ کے لایا ہوں۔ اور ساتھ میں شہادت کی انگلی سے خبردار کرتے کہ میرا ایک شعر ایک ایک لاکھ روپے کا ہے۔ کہیں چھپنے نہ پائے۔ اچھے سے اچھا حافظے والا ان کا شعر تو کیا مصرع بھی یاد نہیں رکھ سکتا تھا۔ ایک شام جب وہ شعر سنانے کے لئے پر تول رہے تو اسی ناصر قریشی نے ایک سگریٹ کے پیکٹ کو پھاڑ کے میز کے نیچے رکھ لیا اور پنسل سے ان کے شعر لکھ لئے۔ تین یاد رہ گئے ہیں۔ ان میں اگر کسی کا مطلب آپ کی سمجھ میں آ جائے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا کیونکہ پچاس باون سال سے میں کوشش میں ہوں اور دُرِ نایاب تک رسائی نہیں پا سکا۔ سنئے :
ٹٹری پھسل کے سبزۂ آب و ہوا ہوئی
گھوڑا چمک کے راہی زود و ہضم ہوا
رات بھر یہ جاگتی رہتی ہیں کیا
جو بنات النعش گردوں صبح ہوتے سو گئیں
اور تیسرا شعر جو اب تک حافظے میں محفوظ ہے :
لغزشِ پائے حنائے زلف دیکھا چاہیے
تھا نہ جانے ان کو اس جا گو گئیں۔
ایک اور صاحب تھے یوسف جمال انصاری۔ سگریٹ مانگ کے پینے کی وجہ سے یار لوگوں نے ان کے لئے چار مصرعے کہہ رکھے تھے جس میں کسی سے پہلے تعارف کا منظر کھینچا گیا ہے :
آپ کا نام؟ آپ کی تعریف؟
”مجھ کو یوسف جمال کہتے ہیں
چھ کتابوں کا میں مصنف ہوں
آپ کے پاس کوئی سگریٹ ہے؟ ”
ہوش ترمزی، مشکور حسین یاد، امین مغل (یہی اپنے پروفیسر امین مغل جو لندن میں آباد ہیں) اسرار زیدی، جیلانی کامران، صدیق کلیم، مبارک احمد اور درجنوں نام ہیں جو میرے حافظے کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔ حسین عمر (کینیڈا میں آباد ہیں)۔ کسی نے شعر پڑھا :
ادھر پھول تھے اور ادھر پھول تھے
مگر چاند نے سب کے سب کھا لئے
حسین عمر تڑپ کے بولے چاند نہ ہوا سالا گدھا ہو گیا۔
یوں سمجھئے کہ پاک ٹی ہاؤس ایک پورے ماحول کی نمائندگی کرتا تھا۔ ایک چھوٹا سا واقعہ یاد آ گیا۔ گرمیوں کی ایک شام میں اور کاظمی (ناصر نہیں، حسن ذکی) کافی ہاؤس سے ٹی ہاؤس کی طرف جا رہے تھے۔ جن لوگوں نے لاہور دیکھا ہے ان کو یاد دلا دوں کہ کافی ہاؤس کے آگے ایک پتلی سی سروس روڈ تھی۔ مال اور اس سروس روڈ کے درمیان فٹ پاتھ کے علاوہ سبزے کی ایک پٹّی تھی۔ گرمیوں میں گھاس خشک ہوجاتی تو گرد اور دھول رہ جاتی۔ خیر تو اس دھول میں دس گیارہ برس کے کچھ لڑکے دھینگا مشتی میں مصروف تھے۔ نہ جانے کیوں میرے منہ سے یہ مصرع نکل گیا
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُل
اس دھول میں کھیلنے والا ایک لڑکا کھڑا ہو گیا اور برجستہ اس نے دوسرا مصرع پڑھ دیا:
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
اور پھر کھیل میں لگ گیا جیسے کوئی خاص بات نہیں تھی۔ کاظمی اور میں ہم دونوں دنگ رہ گئے۔ میں نے کاظمی سے کہا کہ دیکھو اس شہر کی مٹی میں کلچر ہے۔
ٹی ہاؤس سے باہر نکلیے تو مال روڈ کے نکڑ پر ایک چھوٹا سا پان سگریٹ کا کھوکھا تھا۔ مرزا صاحب پان لگا کے تو دے دیتے، کسی سے بات نہیں کرتے تھے۔ انتہائی بد دماغ شخص تھے۔ افواہ تھی کہ وہ بھی شعر کہتے تھے۔ ان کی بد دماغی کے باوجود پاک ٹی ہاؤس کے بیٹھنے والے انہی کے پاس جاتے تھے۔ سڑک پار ایک اور پان والا تھا جو گلوری بنا کے آپ کے منہ میں دیتا تاکہ کتھے چونے سے آپ کی انگلیاں محفوظ رہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس کی یہ ادا پاک ٹی ہاؤس والوں کو پسند نہیں تھی اس لئے ادھر کا رخ نہیں کرتے تھے۔
ٹی ہاؤس کے مالک سراج صاحب جیسا شریف النفس کم کم ملے گا۔ کبھی ان کی تیوری پہ کسی بات پر بل نہیں دیکھا۔ ہم لوگ جو منہ زور تھے کبھی کبھی ان سے ایسی بات کہہ دیتے جو ناگوار گزر سکتی تھی لیکن مجال ہے کہ ان کے چہرے پر خفگی ظاہر ہوئی ہو۔ ٹی ہاؤس میں chops کھانے کا ہم سب کو شوق تھا (یعنی جب جیب اجازت دے تو )۔ یہ ’چاپس‘ کیا ہوتیں مسالے دار قیمے کو تھوپ تھاپ کے اس میں گوشت کی ایک ہڈی لگا دی جاتی۔ ایک شام ناصر قریشی اس کی ہڈی لے کے سراج صاحب کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ ذرا دیکھئے سراج صاحب اس ہڈی پر 1948 کی یہ تاریخ کیسی لکھی ہوئی ہے؟ سراج صاحب صرف مسکرا دیے۔
ہمیں، یعنی ہمارے گروپ کو بیٹھتے ہوئے دس سال ہو گئے تو اس کا ذکر سراج صاحب سے کیا۔ انہوں نے ہمیں اگلے دن کھانے کی دعوت دی۔ اوپر کی منزل پر لمبی سی میز پر سفید میز پوش پر ہمارے لئے کھانے کا اہتمام کیا۔ خود بھی ساتھ بیٹھے اور ہماری بے تکی باتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اللہ ان کو غریق رحمت کرے۔
رمضان کا مہینہ آتا تو سراج صاحب دروازے کے دائیں بائیں کھڑکیوں پر پردے ڈلوا دیتے، دروازے کے باہر فٹ پاتھ پر چھ سات فٹ کا خس کے پردوں کا رستہ سا بنوا دیتے جس پر چھڑکاؤ ہوتا رہتا اور اندر گناہ گاروں کا مجمع رہتا۔ یہ انتظام بہت عرصے تک نہیں چلا۔ بہت جلد خدائی فوج داروں نے اسے منسوخ کرا دیا۔
مرزا خیر الدین، کہتے ہیں کہ مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے، دسویں پندرہویں پاک ٹی ہاؤس میں آتے تھے۔ بہت بھاری تن و توش کے آدمی تھے۔ ٹی ہاؤس میں بیٹھتے نہیں تھے۔ سراج صاحب کے سامنے کاؤنٹر پر کھڑے رہتے۔ اور دو ڈھائی درجن پیسٹریاں ڈبوں میں رکھوا کے ساتھ لے جاتے۔ جب تک ان کا آرڈر تیار کیا جاتا اس وقت تک آدھی درجن پیسٹریاں کھڑے کھڑے کھا لیا کرتے۔
شام کے وقت بیٹھنے والوں کی وجہ سے اس پاک ٹی ہاؤس کا اپنا ایک مزاج بن گیا تھا۔ یعنی آپ کیسے ہی پھنّے خاں کیوں نہ ہوں اس ٹی ہاؤس میں آپ وہی ہیں جو دوسرے ہیں۔
ایک چھوٹا سا واقعہ سن لیجیے۔ پنجاب یونی ورسٹی نے ایم اے صحافت کی کلاسیں شروع کیں۔ پاکستان میں یہ پہلی یونیورسٹی تھی جہاں اس پیشے کے لئے ایم اے کی ڈگری کی سہولت مہیا کی گئی تھی۔ دو سال بعد پہلے امتحان کے نتائج کا اعلان ہوا تو ریڈیو پاکستان لاہور نے بڑے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ فلاں طالب علم نے فرسٹ کلاس فرسٹ کی پوزیشن حاصل کی ہے۔ شام کو وہ صاحب پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے۔ کچھ لوگوں نے سر اٹھا کے ان کی طرف دیکھا اور پھر اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے۔ ساری شام کسی نے بھی ان کی کامیابی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
یہ تو بہت ہی چھوٹا سا واقعہ تھا۔ اس سے بھی بڑی بات ناصر کاظمی کی شادی تھی۔ انتظار صاحب نے اپنی کتاب میں اس شادی کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس گروپ سے باہر ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والوں میں اس کا ذکر زیر لب ہوا اور صرف اس قدر دلچسپی کا اظہار کیا گیا کہ آیا ناصر کاظمی پہلے کی طرح ہر شام یہاں گزاریں گے یا نہیں۔
لیکن دوسری جانب عقل و خرد، علم و دانش میں بزرگی پانے والوں کی عزت بھی کی جاتی تھی۔ سعادت حسن منٹو حلقے کے جلسے میں شرکت کے بعد کبھی کبھی ٹی ہاؤس میں آ کے بیٹھ جاتے اور پورا ٹی ہاؤس احترام کے ساتھ ان سے پیش آتا۔ اسی طرح ڈاکٹر نذیر احمد جب گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے تو دوسرے یا تیسرے دن ایک شام کسی نے آ کے بتایا کہ وہ ٹی ہاؤس آ رہے ہیں۔ تقریباً سب اٹھ کے باہر ان کے استقبال کے لئے کھڑے ہو گئے۔ وہ بہت تھوڑی دیر کے لئے بیٹھے۔ لیکن ان کے جانے کے بعد بھی بہت دیر تک ان کے وجود کی روشنی میں ہمارے چہرے دمکتے رہے۔
ایک شاعر تھے عظیم قریشی۔ ان کی عادت تھی کہ اپنی غزل یا نظم سنانے کے بعد بڑے ڈرامائی انداز میں سیدھا ہاتھ سر سے اوپر کھڑا کرتے اور زور سے کہتے ”عظیم قریشی“۔ پھر یوں ہوا کہ ایک شام گئے گجرات کے ریلوے سٹیشن پر ایک جوان لڑکی اتری۔ اگلی صبح اس کی برہنہ لاش سڑک کے کنارے پڑی پائی گئی۔ پنجاب سے اور پاکستان سے بھی ابھی معصومیت ختم نہیں ہوئی تھی۔ پورے صوبے میں کہرام مچ گیا۔ اخبار، رسالے، مضمون نگار، شاعر کون تھا جس نے اس سانحے کی مذمت نہ کی ہو۔ اور ایک دو دن نہیں، کئی ہفتے یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران میں حلقہ ارباب ذوق کا جلسہ ہوا تو عظیم قریشی صاحب نے اپنی نظم بہت ڈرامے کے ساتھ پڑھی:
مجھے اذن دے گر تو ارضِ گجرات تجھ سے یہ پوچھوں
کہ جب روح کچلی گئی
پھول مسلا گیا
ساز توڑا گیا
تو
ترے مرد و زن کو
اجل کیوں نہ آئی، اجل کیوں نہ آئی، اجل کیوں نہ آئی۔
”عظیم قریشی“
جلسے میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں ہنسی چھوٹ گئی۔
یہ نہ سمجھئے گا یہ جگہ صرف ہنسنے بولنے، قہقہے لگانے یا شعر سنانے کے لئے ہی مخصوص تھی۔ ایسے ایسے دل کو دکھانے والے واقعات میں نے سنے تھے پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کے کہ ان کو دہراتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ مشرقی پنجاب کے قصبوں اور دیہات میں گھروں پر حملوں کے دوران کیا کیا ہوا تھا، جن لوگوں پر گزری تھی ان کی زبان سے سننے کو ملا اور آنسو پینے کے سوا کچھ کرتے نہ بنی۔ کیسے اپنی بہنوں، بیٹیوں، ماؤں کو کنوئیں میں دھکے دے کر مارا گیا کہ وہ حملہ آوروں کی درندگی کا شکار نہ ہونے پائیں۔ کیسے بندوق لے کے گولی مارنے کی کوشش کی گئی، ہر بار نشانہ خطا ہوا اور بہن کہہ رہی ہے بھائی یہاں بندوق رکھ کے گولی مارو تاکہ نشانہ خطا نہ ہو۔ ذرا سوچئے کہ ان واقعات کی تفصیل بیان کی جا رہی ہو تو سننے والوں پر کیا کچھ گزری ہو گی۔
خیر۔ تو سال گزرتے گئے۔ ہماری ٹولی منتشر ہونے لگی۔ ذکی کاظمی ریڈیو کی نوکری لے کے پشاور چلے گئے۔ سجاد ناظم زیدی پبلک ریلیشنز کی ملازمت کے ساتھ راولپنڈی سدھارے۔ ناصر قریشی کو بڑے جتن کے بعد ریڈیو میں جگہ ملی اور وہ بھی پنڈی تھری چلے گئے۔ اخلاق حسین نقوی اپنی نئی نویلی بیوی میں مصروف ہو گئے۔ شفیق احمد خان ایک فارماسوٹیکل کمپنی کے نمائندہ ہو گئے۔ ان کے ساتھی لارڈز ریسٹورینٹ میں بیٹھتے تھے۔ مال روڈ پر یہ نیا نیا کھلا تھا۔ وسیع و عریض، زمین سے چھت تک دو بڑے بڑے ائر کنڈیشننگ یونٹ پورے ریسٹورینٹ کو برف کی طرح ٹھنڈا رکھتے تھے۔ بیرے سفید وردی میں ملبوس۔ اس فیشن ایبل جگہ بیٹھنے کا مزہ ہی اور تھا۔ میں بھی شفیق کے ساتھ بیٹھنے لگا۔ یہاں صحافیوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ توصیف احمد خاں کو میں پہلے سے جانتا تھا۔ خلیل بٹالوی، مقبول شریف، عبدالقادر حسن، اقبال صدیقی، خورشید الحسن، سعادت خیالی، مصلح الدین، ڈان اخبار کے نثار عثمانی لارڈز میں تو نہیں آتے تھے لیکن ان کا دفتر زیادہ دور نہیں تھا۔
یہیں آ کر معلوم ہوا کہ کچھ صحافی پاک ٹی ہاؤس کا رخ اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان کی اطلاع کے مطابق ٹی ہاؤس پر ”سرخوں“ کا قبضہ تھا اور ان کے سائے میں سی آئی ڈی والے اپنے رجسٹر بھرتے رہتے تھے۔ کئی مہینے کے بعد ایک شام میرا گزر پاک ٹی ہاؤس میں ہوا۔ سراج صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے قدرے زہر خند کے ساتھ کہا کہ آپ تو اب لارڈز میں بیٹھنے لگے ہیں۔ میں ان سے آنکھ نہیں ملا سکا۔ اب سوچتا ہوں کہ اس بھرے پُرے گھر کو غارت کرنے والوں میں کہیں میرا نام بھی تو نہیں ہے۔









