کل کا دن کیسا رہے گا

بھلے وقتوں کی بات ہے جب لاہور کی باقاعدہ سرحد دریائے راوی اور راوی کے پُل پہ مستقل پولیس کا ناکہ ہوتا تھا۔ اس وقت وہ نسل بھی جوان تھی جو اقبال پارک کو منٹو پارک کے نام سے جانتی اور پکارتی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی اور بدلتے حالات نے حالت بھی بدل دی۔ شہر بھی پھیلنے لگے، بقول جنابِ پطرس پھر لاہور کے اردگرد بھی لاہور ہی ہونے لگا۔ دریائے راوی بڈھا دریا ہو گیا اور وہ جوان نسل آہستہ آہستہ اپنے مقررہ وقت پہ داعی اجل کو لبیک کہتی رہی۔
باہر سے آنے والوں کی لئے لاہور کے اہم مقامات میں عمومی طور پہ یادگار (مینارِ پاکستان) ، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ، انارکلی بازار اور پھجے کے پائے ہی شمار ہوتے تھے۔ منٹو پارک میں جہاں اندر مینارِ پاکستان، جھیل کی کشتی رانی، بڑے بڑے سرسبز میدان اور پہلوانوں کے اکھاڑے ہوتے تھے وہیں پارک کے بیرونی جنگلوں کے ساتھ فٹ پاتھ پہ سجی عارضی دکانیں اپنے آپ میں الگ جہاں ہوتا تھا۔ مالشیئے، حجام، دندان ساز، کانوں کی صفائی کے ’ڈاکٹر‘ ، شعبدہ باز، پلاسٹک کے کھلونے، پرانی کتابیں، علم نجوم کے ماہر اور طوطا فال نکالنے والے ’عامل‘ عام مل جاتے تھے۔
فال نکالنے والے کا طوطا بھی طوطا کم اور سیانا کوّا زیادہ لگتا تھا۔ طوطے میاں بھی ایسے سدھائے ہوئے ہوتے کہ کبھی بھی کسی کے لئے اختلافی نوٹ والا لفافہ نہ نکالتے۔ وقت کی ترقی اور تیزی سے بدلتے حالات کے تناظر میں ان کے ہاں سب کے لئے پُرامید پیشگوئی ہی ملتی۔ آنے والے اچھے دنوں کی نوید سنائی جاتی۔ یہ ہومیوپیتھک روّیہ آنے والے کی پریشانیوں اور سوچوں کے تلاطم کو وقتی طور پہ اعتدال پسندی کی طرف مائل کرتا اور نئے سرے سے جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام بھی دے جاتا۔
گزرتے وقت کے ساتھ نئی سائنسی ایجادات اور خوب تر کی جستجو نے ہر کام میں جدت پیدا کر دی ہے۔ جیسے موجودہ جدید موبائل فون کے آنے سے روزمرہ کی بہت سی چیزیں ختم ہو گئی ایسے ہی اس سائنسی دور میں تیز رفتاری سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارے معاشرے سے فٹ پاتھ والے بہت سے معاشرتی کردار بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اب جنتری، ستاروں کا حال اور فال نکالنے والے بھی موبائل کی دسترس میں ہیں بلکہ بہت سی سوشل میڈیائی ایپس پہ بآسانی مل جاتے ہیں۔
اخبارات میں ’آج کا دن کیسا گزرے گا‘ کے عنوان سے باقاعدہ پورا حال چھاپ دیا جاتا ہے۔ حال نے تو جیسا تیسا گزر ہی جانا ہے، لیکن اگر کوئی مستقبل بین یہ بتائے کہ کل کیسا گزرے گا تو اس کی مناسبت سے اپنے تئیں آج اس کی بھرپور تیاری کی جا سکتی ہے اور آنے والے کل سے یقینی فائدہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کامیابی کی کنجی اسی میں ہے کہ اپنے آج کو دیکھتے ہوئے، حالیہ موجود وسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے کل کی منصوبہ بندی کی جائے۔
’کل کا دن کیسا رہے گا‘ یہ ہر شخص انفرادی طور پہ اپنے لئے خود ہی بتا سکتا ہے۔ اس کے لئے کسی جوتشی، کاہن، نجومی، عامل باوا، طوطا فال یا شعبدہ باز کی ضرورت نہیں۔ آج بویا گیا بیج ہی کل پودا بنے گا، مناسب دیکھ بھال سے ہی وہ تناور درخت کا روپ دھارے گا اور پھل دے گا۔ آج کی گئی محنت کل ثمر پیدا کرے گی۔ آج کی منصوبہ سازی کل بارآور ہو گئی۔ اپنے حال سے بہترین فائدہ اٹھانے والوں ہی کا کل تابناک ہو گا۔

