مملکت خداداد میں بھکاریوں کے مختلف طرح کے گروہ


اِس پُر آشوب دور میں زندگی کی گاڑی کو سفید پوشی کے ساتھ رواں دواں رکھنا عام آدمی کے لئے ایک ایسا مُعمّا بن چکا ہے جِس کا حل بڑے بڑے ماہرینِ معاشیات بھی دینے سے قاصِر نظر آتے ہیں۔ حالانکہ اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھے یہ ماہرین اپنی گردنیں اکڑا کر اور سینہ تان کر جب گرجتے برستے ہیں اور معیشت کی بہتری کے لئے اپنی خِدمات اور خوبیوں کا ڈھنڈورا تمام ذرائع ابلاغ کو اکٹّھا کر کے پیٹتے ہیں تو ایک لمحے کے لئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملکِ خداداد میں جتنے بھی معاشی بِگاڑ اور بحران ہیں اُن کا حل ہونا تو بازیچہ اطفال سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا لیکن عملی طور پر جو حالات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

بہر حال اِن حالات میں بھی آفرین ہے صابر اور شاکر عوام پر کہ یہ لوگ یورپ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ترقّی یافتہ ممالِک کے عوام کے مقابلے میں اِس لحاظ سے بہت بہتر ہیں کہ یہ فارغ بیٹھنے کے باوجود کبھی کسی بھی حکومت سے بے روزگاری الاؤنس کا مطالبہ نہیں کرتے۔ معیشت کی بحالی کے لئے کوئی تحریک نہیں چلاتے اور اگر کوئی تحریک چلے بھی تو اُس کو کامیاب نہیں ہونے دیتے، نہ تو خود اُس کا حِصّہ بنتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ کیونکہ اِن کی تربیت جس ماحول میں ہوئی ہے یہ اُس ماحول کو دِل و جان سے نہ صِرف پسند کرتے ہیں بلکہ جو اسے بدلنے کی کوشش کرے اُس کے بھی دشمن بن جاتے ہیں۔ لیکِن قابلِ تعریف بات یہ ہے کہ اپنے اندر اتنے تضادات رکھنے کے باوجود پوری قوم کی یہ کوشش بہر حال ضرور ہوتی ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے اپنے اپنے منتخب نمائندوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اُن کے سچّے ووٹر اور سپورٹر ہونے کا بھرپور ثبوت دے سکیں۔

نتیجتاً آپ اپنے ملک کے طول و عرض میں کہیں بھی چلے جائیں، میدانی علاقے ہوں یا کنکریٹ کی بنی گنجان آبادیاں، صحرائی ٹیلے ہوں یا لہلہاتی وادیاں، سنگلاخ پہاڑ ہوں یا برف سے ڈھکی سفید پوش چوٹیاں، آپ کو ہر شہر میں، ہر گاؤں میں، ہر گلی محلّے میں، ہر چوک چوراہے پر ، ہر بازار اور مارکیٹ میں، بسوں کے اڈّوں، ریلوے اسٹیشنز، ہسپتالوں، ائر پورٹس اور تمام قابلِ ذکر مقامات پر بِھکاریوں کے غول کے غول یلغار کرتے نظر آئیں گے۔ یہ آپ کے سامنے فوراً سے پیشتر دستِ سوال دراز کرتے ہوئے آپ کی نظرِ عنایت کے طالِب اور مالی امداد کے خواستگار ہوں گے اور بھیک وصول کرنے کے بعد یہ لوگ آپ کو دعا دینے میں بھی کسی بُخل سے کام نہیں لیں گے۔ بھکاریوں کا یہ طبقہ عام طور پر ایک غریب طبقہ تصوّر کیا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اِن کی آمدنی کا حِساب ان کے علاوہ خدا ہی جانتا ہے اور کوئی بھی شخص ان کی روزانہ آمدن کے بارے میں درست پیش گوئی نہیں کر سکتا۔

اِس کے برعکس جو اِن کا سفید پوش طبقہ ہے اُس کی سوچ قدرے مختلف ہے، اُس کے انداز میں عامیانہ پن نہیں ہے۔ وہ اِن گلی گلی خوار ہونے والے بھکاریوں کی نسبت جدید خطوط پر کام کر رہا ہے اور ہر ایک کے سامنے جگہ جگہ ہاتھ پھیلانے کی بجائے بہت ہی سلجھے ہوئے طریقے سے مانگ رہا ہے۔ اس طبقے کے لوگ اداروں کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اب ادارے کا دائرہ کار ایک شہر سے لے کر پورے ملک تک محیط ہو سکتا ہے یہ ادارے کی نیک نامی اور افرادی قوت پر منحصر ہے۔ تھوڑی سی سرمایہ کاری کر کے اِس طبقے سے تعلق رکھنے والے بھکاری تمام قابلِ ذکر مقامات پر چندے اور عطیات کے ڈبے نصب کروا دیتے ہیں جِن کو اکھاڑا نہیں جا سکتا جبکہ ڈبے کو مضبوط تالا لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔ اور ڈبے کے اوپر کسی بھی فلاحی کام کے لئے چندے کی درخواست خوش خط کر کے لکھ دی جاتی ہے اور ساتھ ہی اپنے ادارے کا نام بھی جلی حروف میں تحریر کیا جاتا ہے تا کہ عوام کو پڑھ کر اپنی جیب سے پیسے نکالنے میں آسانی ہو۔ ویسے ان پڑھ لوگ بھی اِس ڈبے میں اپنے عطیات جمع کروا سکتے ہیں، ادارہ اٗن کے عطیات لینے سے بھی کبھی انکار نہیں کرتا۔ اِس کے علاوہ گلی محلّے کے دکانداروں کے پاس بھی چندے کے ڈبے رکھوا دیے جاتے ہیں تا کہ اگر کوئی مقدّر کا مارا کسی بھی قابلِ ذکر مقام تک جانے کے قابِل نہیں ہے یا نہیں جانا چاہتا تو وہ اپنی گلی کی دکان تک ہی آ کر کارِ خیر میں اپنا حصّہ ڈال سکے۔

دوسری طرف جو اِن کا امیر طبقہ ہے اُن کا طریقہ کار پچھلے دونوں طبقوں کی نسبت زیادہ بہتر اور مستند ہے۔ یہ لوگ بھیک مانگنے کے لئے اچھی خاصی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر باقاعدہ پیسے دے کر اشتہارات چلواتے ہیں، اِن اشتہارات میں عام طور پر کوئی مشہور شخصیت کسی فلاحی کام کے لئے عوام سے عطیات کی اپیل کر رہی ہوتی ہے جب کہ اشتہار کے آخر میں عوام کو اپنے عطیات جمع کروانے کے لئے ایک یا دو بینک اکاؤنٹ نمبر دیے جاتے ہیں۔ تا کہ یکمشت اچھی خاصی رقم اکٹھی کی جا سکے۔ اگرچہ یہ طبقہ بھی اداروں کی صورت میں ہی کام کرتا ہے لیکِن ہر ادارے میں ایک دو ایسے نامور اور مشہور افراد شامِل ہوتے ہیں جو معاشرے میں کسی نہ کسی حوالے سے اپنی جگہ بنا چکے ہوتے ہیں۔ اور اکثر اوقات اِس طبقے کے لوگ کسی فلاحی کام کی تکمیل کے لئے کسی نمائش، ورائیٹی شو یا کنسرٹ وغیرہ کا اہتمام کروا کر بھی عطیات اکٹھے کرتے ہیں۔ جب کہ اِس کے علاوہ یہ لوگ معاشرے کے مخّیر حضرات سے بھی اچھی یاد اللہ رکھتے ہیں اور اُن سے بھی لگے بندھے فنڈز وصول کرنے سے نہیں چوکتے۔

آخر میں جو بھکاریوں کی اشرافیہ ہے اُن سے اور اُن کے بھیک مانگنے کے ہتھکنڈوں سے کون واقف نہیں۔ بھکاریوں کی اِس اشرافیہ کا دائرہ کار عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ لوگ ملک میں مصروفِ عمل تمام بھکاریوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں اور ملکِ خداداد کو دنیا میں ایک بھکاری ملک کے طور پر روشناس کروانے کا سہرا بھی انہی کے سر ہے۔ یہ لوگ ملک میں آنے والی ہر قدرتی آفت سے لے کر ملک کے کسی دور دراز علاقے میں کسی کچی بستی کی گلی کو پکا کروانے کے نام پر کشکول لے کر ملکوں ملکوں گھومتے ہیں۔ یہ عموماً جتھوں کی صورت میں، اپنے بال بچوں کو ساتھ لے کر جہازوں میں سفر کرتے ہیں اور اِن کا قیام و طعام غیر ممالک کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔ اِن کے تعلقات عموماً غیر ملکوں کے حکومتی عمائدین سے بھی ہوتے ہیں اور یہ غیر ممالک کی حکومتوں اور اُن ممالک میں چلنے والے خیراتی اداروں سے عطیات اور امداد وصول کرتے ہیں۔

الغرض ہماری قوم میں بھیک مانگنے کا سلسلہ گلی محلے سے شروع ہو کر بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور ہم سب اِس سے راضی اور مطمئن ہیں اِس لئے کسی بھی قِسم کے بے روزگاری الاؤنس کی ضرورت کسی ترقی یافتہ ملک کے عوام کو تو ہو سکتی ہے ہمیں نہیں۔

Facebook Comments HS