پاکستان کو ایجوکیشن ایمرجنسی کی ضرورت ہے


ہم بحیثیت قوم اپنی بہتری کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتے، نہ اپنے لیے کوئی لانگ ٹرم گروتھ کا فارمولا بناتے ہیں۔ انفرادی طور پر اگر اجتماعی بہتری کا کوئی آئیڈیا ذہن میں آ بھی جائے تو جھٹک دیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسی کسی بھی تعمیری سوچ پر ہمارے معاشرے میں کوئی حوصلہ افزا تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔

میں تو پاکستان، اس کے مسائل اور ان مسائل کے حل سوچتا رہتا ہوں اور جب جب کوئی حل ذہن میں آتا ہے، نوٹ کر لیتا ہوں۔ پھر پاکستان کا ماحول دیکھتے ہوئے یہ بھی سوچ ابھرتی ہے کہ میری ان مغز آرائیوں کا فائدہ تو ککھ نہیں ہونا۔ میری تجاویز پر بھلا عمل کون کرے گا؟ صرف لکھنے سے کچھ بننے والا نہیں، جبکہ عمل کرنے یا کروانے کی نہ ہمت ہے، نہ وسائل ہیں۔ سو خاموشی اختیار کر لیتا ہوں۔ لیکن آج صرف ایک تجویز پیش کر رہا ہوں۔ آپ بس پڑھ لیجیے اور اپنی رائے کا اظہار کر دیجیے، ایسے ہی شاید بات سے بات نکلے اور یہی ہماری بہتری کا نکتہ آغاز ہو۔

جتنے مسائل میں ہم گِھر چکے ہیں، مجھے تو ان کا حل صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن لگ رہا ہے۔ ہمارا ایجوکیشن ماڈل یکسر تبدیل ہو جائے اور ایسا ہو کہ انٹرمیڈیٹ تک لڑکوں لڑکیوں کی تعلیم لازمی کر دی جائے جبکہ یونیورسٹیوں میں داخلے کی شرائط سخت ترین کر دی جائیں، میرٹ 90 % سے بھی زیادہ کر دیا جائے، صرف وہی گِنے چُنے لڑکے لڑکیاں یونیورسٹی پہنچ سکیں، جو واقعی پڑھنا لکھنا چاہتے ہوں۔ یہ ہمارے سکالرز ہوں گے۔

باقیوں کو انٹرمیڈیٹ کے فوری بعد سکلز سکھائی جائیں اور ٹیکنیکل ڈپلومے فراہم کیے جائیں۔ سال سال، دو دو سال کے ڈپلوموں کے دوران ہی انہیں سمال انڈسٹریز چلانے کی تربیت بھی دی جائے۔ یہ ہمارے انڈسٹریلسٹس اور پروفیشنلز ہوں گے۔ ان کے ڈپلومے کے دوران ہی انہیں پریکٹیکل نالج دیا جائے، ان کے متعلقہ کام ان کے ہاتھوں سے کروائے جائیں اور ہر اچیومنٹ کا مناسب معاوضہ بھی دیا جائے۔ انہیں باقاعدہ انڈسٹریز میں انٹرن شپس دی جائیں اور انٹرن شپ کے دورانیے میں ان کی ویسی ہی تربیت کا انتظام کیا جائے، جیسی یونیورسٹیوں میں ممکن ہو سکتی ہے۔ انہیں پراعتماد ماحول دیا جائے اور ویسی ہی عزت دی جائے، جیسی پروفیشنلز کو دی جانی چاہیے۔ تاکہ ہماری اگلی نسل صرف دفتروں میں اے سی چلا کر بیٹھنے کو ہی عزت کا معیار نہ سمجھے، بلکہ عزت کا اصل معیار محنت ہی ٹھہرے۔

دوسری طرف یونیورسٹیوں کی تعداد سے زیادہ ان کے معیار پر توجہ دی جائے، تاکہ اعلیٰ میرٹ پر منتخب ہونے والے نوجوانوں کی انٹرنیشنل لیول پر تربیت ہو سکے۔ ان سے بھی شدید محنت کروائی جائے، تاکہ ہمارے ٹیکنیکل شعبوں میں داخل ہونے والے نوجوانوں کو یہ احساس رہے کہ اعلیٰ تعلیم بھی شدید مشکل کام ہے اور وہ اپنے کام سے بیزار نہ ہوں۔ ہمارے سکالرز صرف استاد بھرتی ہونے کے لیے پڑھائیاں نہیں کریں گے بلکہ اعلیٰ ترین ریسرچ، سائنس، فلسفہ، مذاہب، قوانین اور عمرانیات کی اتھارٹیز بنیں گے۔ اس کے علاوہ ہم اپنی اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیوں میں انٹرنیشنل ٹیلنٹ کو سکالرشپس پر پاکستان بُلائیں گے تاکہ وہ ہمارے سٹوڈنٹس کے ساتھ گھل مل کر انہیں زرخیز اور وسیع الذہن بنائیں۔ انہی زرخیز ذہنوں میں سے کچھ ایسے لڑکے لڑکیاں نکلیں گے جو سائنسی دریافتیں کریں گے، نئے تجربات میں نئی نئی پروڈکٹس کے آئیڈیاز پر کام کریں گے اور پاکستان کا نام روشن کریں گے۔

یہ سب آسان نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ایجوکیشن ایمرجنسی نافذ کرنی پڑے گی، بہت بڑے بڑے فیصلے کرنے پڑیں گے اور کافی سارے بُت گرانے پڑیں گے جو کہ پاکستان میں ہونا قریباً ناممکن لگتا ہے لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو پچھلے چار پانچ سال میں پاکستان میں وہ وہ کچھ ہو بھی چکا ہے جو اس سے پہلے کبھی ناممکن لگتا تھا۔ اس لیے ہم اچھی امید رکھ سکتے ہیں۔

دوسری طرف ہم ایسے ہی کسی ماڈل کو انقلابی طرز پر اپنا کر اپنے حالات درست کرنے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پہلی اینٹ کون رکھے گا؟

Facebook Comments HS