سندھ کی رائے سلطنت کا آرائیں برادری سے تعلق
پنجاب اور گندھارا میں چوتھی صدی عیسوی میں کشانوں کے کمزور ہونے کے بعد خانہ بدوش ہنوں کے نہ رکنے والے حملے شروع ہوئے۔ چوتھی صدی کے وسط میں باختریہ کے کدارا ہنوں نے حملہ کیا اور بچی کھچی کشان سلطنت کا خاتمہ کر کے ٹکشلا میں اپنا راج قائم کر لیا۔ یہ وقت انڈس ویلی میں بہت سی سماجی، مذہبی اور سیاسی تبدیلیوں کا دور تھا۔ کدارا شمال کے خانہ بدوش اور لٹیرے ہنوں کی پہلی شاخ تھی جو وادیٔ سندھ میں داخل ہوئے اور یہاں لوٹ مار مچائی۔
یہاں کے لوگ پچھلے سات سو سال سے بدھ مت کے پیروکار چلے آرہے تھے اور بدھ دھرم کی امن پسندی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میں مزاحمت کرنے اور لڑنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ اسی لیے جب ایک لمبے سکون کے عرصے کے بعد ایک دفعہ پھر یوریشیائی گھاس کے میدانوں سے خانہ بدوش حملہ آوروں کی یہاں آمد شروع ہوئی تو مقامی منتظمین ان کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو چکے تھے۔
ان میں کدارا یا میہاما کے دور میں جب ہن پنجاب اور گندھارا پر قابض تھے ان علاقوں میں جن قبیلوں اور لوگوں نے مزاحمت کی کوشش کی انھیں شکست بعد ان کے آبائی علاقوں سے نکال دیا گیا۔ اس طرح کافی آبادی بے گھر ہوئی۔ یہ سلسلہ چوتھی صدی عیسوی کے آخر میں شروع ہوا اور پانچویں صدی عیسوی کے آخر تک جاری رہا۔ پھر پانچویں صدی عیسوی کے آخر میں کدارا ہنوں کو الخون ہنوں نے شکست دے کر ان کی جگہ اپنی سلطنت قائم کرلی۔ الخون کدارا سے بھی زیادہ خونخوار ثابت ہوئے۔ الخون کے صرف دو راجوں تورمان اور میہر گول نے پنجاب، گندھارا اور کشمیر میں جتنی قتل و غارتگری کی شاید اس کے سامنے امیر تیمور اور چنگیز خان بھی بونے لگیں۔
کیدارا یا پھر الخون ہنوں کے زمانے میں دریائے سندھ کے مشرقی سمت مغربی پنجاب کا وہ علاقہ جسے اب سندھ ساگر دوآب یا تھل کہا جاتا ہے اسے پانینی کے دور میں سندھو کہا جاتا تھا۔ (تب آج کے سندھ کو سوویرا کہتے تھے ) ۔ یہاں کی بیشتر آبادی بھی بدھ مت کی پیروکار تھی۔ ہنوں نے چونکہ شیوا مت اختیار کر لیا تھا اور ان کا بدھوں کے بارے میں رویہ جارحانہ تھا۔ انھوں نے بے شمار بدھوں کو قتل کیا اور ویہار، سٹوپے تباہ کر دیے۔
اس صورتحال میں ان علاقوں کی بدھ آبادی کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ ان میں اکثریت آج کے صوبہ سندھ میں جا کر آباد ہو گئی۔ شاید سوویرا کا سندھو نام بھی انھی لوگوں نے اپنے آبائی علاقے کے نام پر رکھا۔ رفتہ رفتہ سوویرا لفظ متروک ہو گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ سندھی زبان بھی شاید تب ان نئے آبادکاروں کے ساتھ سندھ منتقل ہوئی ہوگی۔
ساسانی ایرانی سلطنت کے شہنشاہ پیروز اول (فیروز۔ ا) کے دور حکومت ( 459۔ 484 ) میں سندھ ساسانی سلطنت کے ماتحت تھا۔ پیروز کی وفات کے بعد جب سندھ اور مکران (بلوچستان) پر ساسانی کنٹرول کمزور ہوا تو اس کا فائدہ یہاں کے مقامی عہدے داروں اور گورنروں نے اٹھایا۔
489 عیسوی میں یہاں ایک نئی سلطنت قائم ہو گئی۔ یہ رایا سلطنت تھی۔ جسے رائے اور رائی بھی پڑھا جاتا ہے۔ رائے یا رائی لفظ کا اصل رایا ہے جو کہ پراکرتوں کے شمال مغربی لہجوں میں راجہ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اب یہ رائے سلطنت قائم کرنے والے کون تھے کہاں سے آئے تھے اس سلطنت کا پہلا راجہ کون تھا زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ صرف چچ نامہ میں مہمل سی معلومات درج ہیں مگر وہ بھی زیادہ تر ناقابل بھروسا ہیں۔ ہمیں اس سلطنت کے پہلے دو راجوں کے نام بھی معلوم نہیں ہیں۔ صرف آخری پانچ راجوں کے نام چچ نامہ میں ملتے ہیں۔ وہ یہ ہیں۔ ؛
1۔ راجہ رائے دیوا جی Rai Divaji
2۔ راجہ رائے سہا رس اول Rai Saharas
3۔ راجہ رائے سہسی اول Rai Sahasi
4۔ راجہ رائے سہا رس دوئم Rai Saharas۔ ii
5۔ راجہ رائے سہسی دوم Rai Sahasi۔ ii
تاہم یہ کنفرم ہے کہ رائی/ رائے سلطنت ایک برہمن سلطنت تھی۔ یعنی اس کے حکمران برہمن تھے۔ اس زمانے میں پنجاب سندھ اور گندھارا کی اکثریت کا دھرم بدھ مت تھا۔ اور بدھ مت کے عروج کے زمانے میں اکثر برہمن بھی بدھ ہو گئے تھے۔ اس لیے قرین قیاس یہی ہے کہ رائے راجوں کا دھرم بھی اپنی عوام کی طرح بدھ مت ہی تھا۔
ان میں سے راجہ رائے سہارس دوئم کی چچ نامے میں کافی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔ اسے ایک انصاف پسند، رحم دل اور فیاض راجہ بتایا گیا ہے جو کہ اپنی عوام میں ہر دلعزیز تھا۔ چچ نامے کے مطابق سلطنت کو چار بڑے صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ سلطنت کا پایہ تخت اروڑ (آج کا روہڑی تھا) پانینی کے زمانے (چوتھی صدی قبل مسیح) میں اروڑ کو روڑوکا کہتے تھے مڈل ایجز میں یہ نام اروڑ ہوا بعد ازاں روہڑی۔ آج کا سندھ ایک صوبہ تھا جس کا دارالحکومت برہمن آباد تھا۔ پانینی کا برہمانیکا۔ بلوچستان ایک صوبہ تھا جس کی راجدھانی سیوہنستان تھی۔ پنجاب کا دارالحکومت ملتان تھا۔ گندھارا اور ملحقہ افغان علاقے زابلستان بھی عروج کے زمانے میں رائے سلطنت کا حصہ رہے تھے۔
پیروز اول کے زمانے کے کچھ سکے سندھ سے ملے ہیں جن پر اس وقت کے سندھ کے حکمران کا نام ”رانا دتیہ ستیہ“ درج ہے جو ممکن ہے رائی سلطنت سے پہلے ساسانی سندھ کا گورنر ہو۔ بظاہر نام سے لگتا ہے اس کا رائی فیملی کے ساتھ تعلق نہیں تھا۔ پھر ممکن ہے رائی ڈائینسٹی قائم کرنے والا پہلا نامعلوم راجہ ساسانی دور میں گورنر نہ ہو بلکہ وہ کسی معمولی عہدے سے اٹھا ہو اور اس نے سیاسی خلاء کے ہوتے ہوئے اپنی سلطنت قائم کرلی ہو۔
عین ممکن ہے کہ رائے سلطنت کھڑی کرنے والے مغربی پنجاب سے اٹھ کر جانے والی آبادی سے تعلق رکھتے ہوں۔ جنھیں سندھ میں آئے کچھ دہائیاں ہی ہوئیں ہوں۔ اور انھیں سندھ ساگر دوآب سے نکالا اسی لیے گیا ہو کہ ان کے پاس اس علاقے میں سیاسی طاقت حاصل تھی۔ جس کا استعمال کر کے انھوں نے مقامی ساسانی گورنروں کو ہرا دیا ہو اور اپنا راج قائم کر لیا ہو۔ رائی سلطنت سن 632 عیسوی تک قائم رہی۔ پھر اس پر رائے سہسی دوم کے ایک ہندو برہمن چچ نے اس کی وفات کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
یہ چچ راجہ داہر کا باپ تھا۔ پھر راجہ داہر کے دور میں عربوں نے محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ پر جب حملہ کیا تو چچ نامہ کے بقول مقامی لوگوں نے عرب لشکر کی سپورٹ کی تھی۔ اگرچہ اس دعوے کو سچ ماننا مشکل ہے مگر اگر سچ مان لیا جائے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہوگی کہ رائے سلطنت کے بر خلاف چچ سلطنت کے راجے بدھ نہیں بلکہ ہندو تھے اسی لیے شاید عوام میں غیر مقبول ہوں۔
بہرحال عرب لشکر کی فتح کے بعد رائی قبیلہ دو متضاد آراء میں منقسم ہوا۔ کچھ لوگوں نے حملہ آور لشکر کی حمایت کی شاید اسی کیے کہ چچ خاندان سے ان کی دشمنی تھی کیونکہ چچ نے ان سے حکومت چھینی تھی۔ جبکہ دوسرا طبقہ جو کہ بظاہر لگتا ہے کاشتکاروں پر مشتمل تھا نے عرب لشکر کی مخالفت کی۔ جنھوں نے مخالفت کی انھیں فاتح فوج نے ان کے علاقوں اور زمینوں سے بے دخل کر دیا اور وہ لوگ پنجاب کی طرف نقل مکانی کر گئے۔ دوسرے گروہ کو ساتھ دینے کے عوض سندھ میں رہنے کی اجازت ملی اور ان میں کافی مسلمان ہوئے۔ لفظ رائی لگتا ہے کہ آگے چل کر علاقائی لہجوں کے زیر اثر دو شاخوں میں تقسیم ہو گیا۔ نقل مکانی کرنے والے لوگوں میں سے کچھ اوچ، ملتان میں آباد ہو گئے۔ کچھ گاگر۔ ہاکڑا کے موسمیاتی دریا کے کنارے آ کر آباد ہوئے۔
چونکہ یہ زراعت پیشہ لوگ تھے اس لیے دریائی وادیوں میں آ کر آباد ہونا عین سمجھ کے مطابق ہے۔ انھوں نے ظاہر ہے وقت کے ساتھ یہاں کی مقامی آپ بھرنش بولنی شروع کر دی جو کہ پنجاب میں پنجابی، ہریانہ میں ہریانوی اور سندھ میں سندھی تھی۔ گاگر کے لوگوں میں سے آگے چل کر ایک گروہ مغربی اتر پردیش اور دہلی کے نواح میں بس گیا۔ یہاں کی زبان ہندی۔ اردو کی آپ بھرنش تھی۔ اسی لیے زبان کے بدلاؤ کے ساتھ اتر پردیش کی زبان میں یہ لفظ رائے، روئے اور راؤ بن گیا۔
جبکہ پنجاب اور سندھ میں جب زبان آپ بھرنش سے موجودہ پنجابی اور سندھی بنی تو یہ لفظ رائی سے رائیں ہو گیا جبکہ یہی رائیں لفظ ہریانہ میں آباد لوگوں میں ا کے اضافے کے ساتھ ارائیں بنا۔ کیونکہ یہاں کی زبان ہندی اور پنجابی کے درمیان کی زبان ہے۔ مگر اس کی فونولوجی پر ہندی کی چھاپ ہے۔ پنجابی میں لفظ کے شروع میں ا نہیں ہوتا اس لیے قیاس یہی ہے کہ پنجاب میں یہ لفظ رائیں ہی تھا مگر جب ہریانہ سے آرائیں اٹھ کر پنجاب آئے تو یہاں کے لوگوں نے بھی رائیں کو ارائیں تلفظ کر دیا۔
لہذا ارائیں کا اوریجن رائی یا رائے ہے نہ کہ اریحائی یا آریا جو کہ بہت پرانا لفظ ہے اور اس کا بطور برادری استعمال سارے ہندوستان میں بہت پہلے ہی متروک ہو چکا ہے۔ جبکہ ڈی این اے سٹڈیز ثابت کر چکی ہیں کہ رائیں یہاں کے پرانے مقامی لوگ ہیں عرب نہیں۔ رائیوں کے عرب النسل ہونے کا دعویٰ زیادہ پرانا نہیں ہے اس کی شروعات 1901 کے بعد ہوئی جب ایک مولوی صاحب نے ایک کتاب لکھ کر ایسا دعویٰ کیا جبکہ اس سے پہلے کی مردم شماریوں میں کبھی رائیوں نے خود یہ دعویٰ نہیں کیا تھا۔ 1881 کی مردم شماری میں جالندھر کے آرائیوں نے بتایا تھا کہ وہ لوگ سرسہ اور اوچ سے اٹھ کر یہاں آئے ہیں اور رام کے پوتے رائے جج کی نسل سے ہیں۔
سندھ میں آج بھی مہر، بھٹو گوتوں کے ارائیں موجود ہیں جو کہ رائے سلطنت کے جانشین ہیں۔ رائیوں نے رفتہ رفتہ کئی صدیوں میں اسلام قبول کیا اور بیشتر آبادی مسلمان ہو گئی۔ تاہم ہریانہ، مشرقی پنجاب اور اترپردیش میں اب بھی ہندو ارائیں موجود ہیں۔ جبکہ تقسیم سے قبل پنجاب میں بھی کچھ ہندو رائیں موجود تھے جو کہ تقسیم کے ہنگاموں کے دوران مسلمان ہو گئے۔


