عراق کا مایہ ناز انقلابی شاعر سعدی یوسف:5
”میں وہ ہوں جس کے لکھے ہوئے کو اندھا بھی پڑھ سکتا ہے۔ میری شاعری جادوئی اثر رکھتی ہے۔ جسے بہرہ بھی سن سکتا ہے۔ جو کام تلوار اور تیر کرتے ہیں۔ میرا کاغذ، قلم اور حرف اُس سے زیادہ موثر ہیں۔“
المتنابی بازار اسی شاعر کی یاد میں ہے۔
میں کتابوں کے سمندر میں غوطے کھا رہی تھی۔ یہ کتابوں کا جہان تھا۔ یہاں کتابوں کی دنیا آباد تھی۔ صاف ستھرے فرشوں پر بکھری ہوئیں، تھڑوں پر دھڑوں کی صورت پڑی ہُوئیں، تختوں پر بچھی ہوئیں۔ برآمدوں کے ستونوں سے ٹکائے عارضی چوبی شیلفوں میں دھری اور بڑی بڑی دکانوں کی شیشے کی الماریوں میں سجی ہوئیں۔
شاندار مردوں کے پرے کہیں انہیں پھرولتے، کہیں انہیں پڑھتے، کہیں بھاؤ تاؤ کرتے نظر آئے تھے۔ کتنی دیر میں نے بھی انہیں دیکھا لیکن وہ زیادہ عربی میں تھیں۔ فرنچ میں تھیں جو میرے لیے بیکار تھیں۔ انگریزی میں جو چند دیکھیں وہ ایسی نہ تھیں کہ میں انہیں جھپٹ کر دبوچتی۔
میں چلتے چلی جاتی تھی۔ برآمدوں کے سایوں میں اور یہ بھی دیکھتی تھی کہ کہیں کہیں اس کے وجود کے کِسی چھوٹے سے حصّے پر ، کہیں بڑے پر جیسے برص کے سے داغ ہیں۔ جلنے سڑنے کے، ٹوٹے پھوٹے ہونے کے، شکستگی کے، نڈھالی کے۔ ایسا کیوں ہے؟ بانکپن میں یہ داغ دھبے کیوں؟ رُک کر پوچھا تو جانا کہ کوئی ڈیڑھ سال قبل بم بلاسٹ ہوا تھا۔ جاہلوں نے علم کے اِس مرکز کو تباہ کر دیا۔
لیکن پوری دنیا میں بکھرے عراقیوں کے پیغامات نے اس کے اندر نئی روح پھونک کر اِسے کھڑا کر دیا تھا۔ صفحے جو جلے تھے پھر سے زندہ ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں سج گئے۔ المتنابی کی رونقیں لوٹ آئیں۔
میری اِس خواہش پر کہ کیا وہ مجھے کِسی ایسے بندے سے ملا سکتا ہے جس سے میں عراقی ادب کے حوالے سے کچھ باتیں کر سکوں۔ ضرور ضرور بڑا پرجوش سا لہجہ تھا۔
آئیے! وہ مجھے ساتھ لیے چلنے لگا۔ کوئی چوتھائی فرلانگ پر ایک بہت بڑی دکان کے اندر داخل ہوئے۔ اتنی بڑی دکان تھی کہ میں حیرت سے گنگ اُسے دیکھے چلی جاتی تھی۔ لڑکا مجھے لے کر غربی سمت بڑھا جہاں چند سیڑھیاں اُتر کر ہم ایک تہہ خانے میں اُترے۔ یہ تہہ خانہ کب تھا؟ یہ بغداد کا ادبی چہرہ تھا۔ جہاں چوبی بینچوں پر دھرے خوبصورت گدّے نما کشنوں پر چند لوگ بیٹھے حقے کے کش لگاتے، بحث و مباحثے میں اُلجھے ہوئے دِکھے تھے۔ آٹھ نو کی نفری ناول نگار، صحافی اور شاعروں پر مشتمل جو ولید الونداوی، علی جعفر، رسُل القیسی، رعید جرار، لولوا کاظم تھے۔ جنہوں نے پرجوش انداز میں استقبال کیا، کھڑے ہوئے، عزت دی۔
میں نے کمرے میں نظریں دوڑائیں۔ مناسب سہولتوں سے سجا سنورا کمرہ جِس کی سامنے والی دیوار پر آراستہ بڑی سی تصویر المتنابی سٹریٹ میں بچھے صوفوں پر بیٹھے وزیراعظم نورالمالکی کے ساتھ کتب خانہ الفردوس کے مالک کی تھی جو بڑا نمایاں نظر آتا تھا۔ یہ سب مجھے تعارف کے وقت معلوم ہوا تھا۔ تصویر کے متعلق بھی وضاحت ہوئی تھی کہ بم بلاسٹ کے بعد حکومت اور وہ سب جنہیں کتاب سے محبت تھی۔ جنہوں نے گہرے دُکھ اور یاس کا اظہار کیا تھا۔ وہ لفظ کے تقدس اور اس کی حرمت کے لئے حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔ فوری کوششوں سے اس کی بحالی ہوئی۔ صرف ڈیڑھ سال میں انہوں نے اس کی رونقیں لوٹا دیں۔ اور تخریب کاروں کو پیغام دیا تھا کہ تمہاری تخریب کاری نے وقتی طور پر حرف جلا ڈالے مگر دیکھو ہم نے انہیں پھر سے زندہ کر دیا ہے۔ گفتگو کے دروازے کُھلنے لگے۔ ادب اور آرٹ کے حوالوں سے جب باتیں شروع ہوئیں تو وہ سب گفتگو میں یوں شامل ہوئے کہ قہوے کی چسکیاں تھیں اور باتیں تھیں۔
1950 کا زمانہ ادب اور آرٹ کے لحاظ سے ایک طرح نشاۃ ثانیہ کا زمانہ تھا۔ ادب میں مختصر کہانیوں کے رجحان نے زور پکڑا گو ابھی تک ناول بہت کم کم لکھا گیا تھا۔ شاعری میں البتہ نئے رجحان سامنے آرہے تھے۔ اس میں آزاد نظم نے زور پکڑا اور اپنا آپ منوایا تھا۔ بہت سارے ناموں کا ذکر ہوا۔ سعدی یوسف بہرحال بہت بڑا نام تھا۔ میری خواہش پر اس کے نئے مجموعے ”نوسٹلجیا میرا دشمن“ سے رُسل القیسی نے شط العرب سے دو نظمیں پہلے عربی میں سنائیں۔ پھر اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔ تھوڑی سی مدد رعید جرار نے کی۔
شط العرب
پہلا خواب
درد و کرب اور دکھ بھری راتوں میں
تکیہ پانیوں سے گیلا ہوجاتا ہے
اور جیسے یہ کائی کی سی بو دینے لگتا ہے
میری دائیں ہتھیلی کو
چنبیلی کی سبز ٹہنی چھوتے ہوئے
جیسے کہتی ہو
جاگ جاؤ
میں دریا ہوں
کیا تم مجھے پیار نہیں کرتے
تم بصرہ نہیں جانا چاہتے
تکیے کے پروں پر سوار
دریا اے دریا
میں جاگ گیا ہوں
میرے تکیے پر اِک قطرہ پڑا ہے
جو مجھے کائی کی طرح ذائقہ دے رہا ہے
یہ بصرہ ہے
دوسرا خواب
آسمان مجھ پر سایہ فگن ہے
آسمان کے ساتھ چڑیاں بھی سایہ فگن ہیں
میرے دادا میرا ہاتھ تھامتے ہیں
ان کے چہرے پر سرخ کفایہ کا عکس ہے
ذرا فاصلے پر پانی چمکتا ہے
اور دادا میرا ہاتھ پکڑتے ہیں
آؤ تیز چلیں اس سے پہلے
کہ پرندے گھروں کو لوٹ جائیں
آؤ تیز چلیں
اس سے پہلے کہ لہریں ہمارے گھونسلے تباہ کردے
ایک اور خواب
کوتل الزین کے ساحلوں پر صبح کیسی خستہ دم سی ہے
میں آہواز جانے کے لیے دوسرے کنارے کی طرف تیرتا ہوں
میرے بالوں میں بارش کے موتی
ستاروں کی مانند چمکتے ہیں
کھجور کے درخت ارغوانی کلغیوں سے سجے ہیں
اور کیرون کا پانی مجھے کیسا محسوس ہوتا ہے
جیسے جیسے
بصرے کا پانی
سعدی یوسف پر اُن کی آرا کا مختصر اظہار بھی تھا۔ دراصل سعدی کی شاعری پر اِس مختصر سے وقت میں سیر حاصل بحث تو ہوہی نہیں سکتی۔ رُسل القیسی نے کہا تھا۔
جاری ہے۔


