اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ’قانون‘ کے سوا
پرانی بات ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس کسی تقریب میں شریک تھے، انہوں نے عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار پر بڑی پُر مغز تقریر کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ آئین میں ترمیم کے پارلیمانی اختیار کو سپریم کورٹ ’عدالتی ریویو‘ کے تحت نہ صرف دیکھ سکتی ہے بلکہ کسی قانون اور ترمیم کو کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے۔ جج صاحب کی شہرت چونکہ بے حد قابل اور ایماندار جج کی تھی سو میں نے اُن سے سوال کیا کہ آئین کی شق 239 ( 5 ) اور 239 ( 6 ) یہ کہتی ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو کسی بھی عدالت میں کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا؛ مزید براں، آئین کی ترمیم کے حوالے سے پارلیمان کے اختیار کی کوئی حد نہیں، سو اِن آئینی شقوں کی موجودگی میں آئینی ترامیم کو کس بنیاد کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے؟
میرا خیال تھا کہ جج صاحب شق 239 کی تشریح کریں گے اور اِس ضمن میں امریکی اور برطانوی عدالتوں کے تاریخی فیصلوں کے حوالے دیں گے، مگر میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی جب انہوں نے جواباٴ پوچھا کہ آپ کس شق کی بات کر رہے ہیں اور پھر آئین کی کتاب کھول کر وہ شق یوں پڑھی جیسے پہلی مرتبہ اُن کی نظروں سے گزری ہو۔ یہ واقعہ آج تک میری یادداشت سے محو نہیں ہوا۔
عدلیہ اور پارلیمان کے اختیارات کی بحث نئی نہیں، تاہم یہ بحث تین مفروضوں کے گرد گھومتی ہے۔ پہلا، آئین کا ایک بنیادی ڈھانچہ ہوتا ہے جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا اختیار پارلیمان سمیت کسی ادارے کو نہیں، دوسرا، قطع نظر اِس بات سے کہ آئین اور قانون میں اعلیٰ عدالتوں کے دائرہ کار پر کیا پابندیاں عائد کی گئی ہیں، عدلیہ کے پاس کسی بھی قانون اور آئینی ترمیم کا جائزہ لینے کا اختیار ہے جسے ’کامن لاء‘ میں Inherent Power کہتے ہیں لہذا اگر کوئی قانون یا ترمیم بنیادی انسانی حقوق یا آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہو تو اسے کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، اور تیسرا، آئین ساز اسمبلی اور قانون ساز اسمبلی میں فرق ہوتا ہے، قانون ساز اسمبلی آئین میں بنیادی تبدیلیاں نہیں کر سکتی اِلاّ یہ کہ کوئی سیاسی جماعت عوام سے انتخابی مہم میں انقلابی اقدامات کا وعدہ کر کے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ پہنچ جائے، ایسی صورت میں اُس سیاسی جماعت کے پاس مینڈیٹ ہو گا کہ وہ آئین ساز اسمبلی کے طور پر کام کرے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تینوں مفروضے درست ہیں!
ایک لمحے کے لیے فرض کر لیں کہ ہمارے آئین کا بنیادی ڈھانچہ پارلیمانی جمہوریت ہے، اِس کی روح اسلامی ہے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں اختیارات کی تقسیم ہے، بنیادی انسانی حقوق کو کسی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا اور عدلیہ کی آزادی پر قدغن عائد نہیں کی جا سکتی اور یہ بھی فرض کر لیں کہ اعلیٰ عدالتیں، اِس بنیادی ڈھانچے سے متصادم ہر آئینی ترمیم اور قانون کو کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتی ہیں۔ اِس مفروضے کو پرکھنے کا لِٹمس ٹیسٹ یہ ہے کہ آپ آئین کی کتاب اٹھائیں اور دیکھیں کہ کیا موجودہ آئین اِس بنیادی آئینی ڈھانچے کے مطابق ہے، جواب ملے گا ’نہیں‘ اور اِس کی وجہ مرحومین جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف ہیں۔
جنرل ضیا نے بطور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر آئین میں 97 ترامیم کیں، بعد ازاں اِن ترامیم کو
Revival of Constitutionl Order (PO 14 of 1985 )
کی خلعت فاخرہ پہنائی اور غیر جماعتی پارلیمنٹ سے آٹھویں ترمیم منظور کروا کے تاریخ میں امر ہو گئے۔ یہ تمام ترامیم، ماسوائے شق 58 ( 2 ) (b) کے آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ آئین کا حصہ ہیں، انہی ترامیم کے تحت جا بجا پارلیمان کے ساتھ مجلس شوریٰ لکھا جاتا ہے اور انہی ترامیم کے تحت جنرل ضیا وردی میں صدر کے منصب پر براجمان رہے اور اسمبلی پر تلوار چلا کر اسے گھر بھی بھیجا۔
یاد رہے کہ اِس دوران آئین کا بنیادی ڈھانچہ گھاس چر رہا تھا اور اُس کے رکھوالے گورنر بن کر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سے حلف لینے میں مصروف تھے۔ آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ فقط اللہ کے پاس اور پاکستان میں عوام کے منتخب نمائندے اسے مقدس امانت سمجھ کر استعمال کریں گے، اگر ہم اسے آئین کا بنیادی ڈھانچہ مان لیں تو یہ ڈھانچہ بھی آمروں نے تباہ کر دیا مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ جنرل مشرف نے 37 آئینی ترامیم کیں، وردی میں صدر منتخب ہوئے اور پارلیمانی جمہوریت کو عملاٴ صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا۔ مزید یاد رہے کہ اُس وقت بنیادی ڈھانچے کے محافظ چیف الیکشن کمشنر کا حلف لینے میں مصروف تھے۔
مختصراٴ یہ کہ آج کی تاریخ میں 73 ء کے آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ یا اُس کی ہڈیاں بھی دستیاب نہیں، لہذا اُس نام نہاد ڈھانچے کو تحفظ دینے کی بحث ہی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم فرض کرلیتے ہیں کہ بنیادی انسانی حقوق اور عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی نظام میں اختیارات کی تقسیم جیسے تصورات مل کر ہمارے آئین کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، لہذا کوئی بھی آئینی ترمیم یا قانون اِن سے متصادم نہیں ہو سکتا اور اگر ہو گا تو عدالتیں اسے کالعدم قرار دینے میں حق بجانب ہوں گی۔
یہاں ایک مرتبہ پھر آئین کی اسی شق 239 کو پڑھ لینا چاہیے جو پارلیمان کو لا محدود اختیار دیتی ہے اور پارلیمان کو یہ لا محدود اختیار عوام نے تفویض کیا ہے۔ شق 239 میں نہ کوئی ابہام ہے اور نہ ہی اِس کا کوئی اور مطلب تراشا جا سکتا ہے۔ اگر ہم بنیادی آئینی ڈھانچے کی دلیل کو درست مان لیں تو شق 239 غیر موثر ہوجاتی ہے جبکہ قوانین کی تشریح کا اصول یہ ہے کہ قانون کی ایسی کوئی بھی تشریح درست نہیں ہو سکتی جو قانون کو ہی غیر موثر کر دے۔ لاطینی کا قانونی اصول ہے
: Neminem Oportet Esse Sapientiorem Legibus
یعنی کوئی بھی شخص قانون سے زیادہ دانشمند نہیں ہو سکتا ۔ مدعا یہ ہے کہ آئین میں ترمیم کے حوالے سے شق 239 بالکل واضح، دو ٹوک اور غیر مبہم ہے، اِس شق کا کوئی دوسرا مطلب نکالنا ممکن ہی نہیں، اِس شق کی موجودگی میں پارلیمان سے منظور شدہ آئینی ترامیم کو، چاہے وہ بے سروپا ہی کیوں نہ ہوں، کسی بھی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رہی بات آئین ساز اسمبلی کی، تو جب قانون ساز اسمبلی دو تہائی اکثریت سے شق 239 کے تحت ترمیم منظور کرتی ہے تو اُس وقت وہ آئین ساز اسمبلی بن جاتی ہے، کوئی آئین ساز اسمبلی آسمان سے زمین پر نہیں اترتی۔
یہ تو ہوا پارلیمان کا قانونی اختیار، اب کچھ بات اُس کے اخلاقی اختیار پر بھی ہو جائے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمان اگر چاہے تو دو تہائی اکثریت سے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کردے یا تمام بنیادی حقوق ختم کر کے استبدادی نظام مسلط کردے۔ لیکن اِس نوعیت کے انقلابی اقدامات کے لیے عوامی تائید ضروری ہے جس کو پرکھنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی جماعت انتخابات سے پہلے عوام کو بتائے کہ وہ اقتدار میں آ کر صدارتی نظام نافذ کردے گی اور عوام اسے دو تہائی اکثریت سے ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیج دیں۔
دوسرے یہ کہ عوام اِس قسم کی انقلابی تبدیلی کو زبردست تحریک چلا کر مسترد کر دیں، اِس کی چھوٹی سی مثال اسرائیلی حکومت کا مجوزہ عدالتی قانون تھا جس کا مقصد سپریم کورٹ کو نکیل ڈالنا تھا، اِس قانون کے خلاف اسرائیلی عوام نے بھرپور تحریک چلائی اور قریب تھا کہ حکومت گھٹنے ٹیک دیتی کہ اکتوبر 2023 ء میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا جس کے بعد جنگی کابینہ بن گئی اور یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا۔ ایک اور مثال سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کا بیان ہے جو انہوں نے کشمیر تنازعہ کے حوالے سے دیا تھا اور کہا تھا کہ کانگریس کے پاس ہندوستان کی سرحدیں تبدیل کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ اِس سے مراد یہ تھی کہ کانگریس نے انتخابی مہم میں عوام سے یہ مینڈیٹ نہیں لیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہندوستان کی سرحدیں تبدیل کرسکے۔
مجھے لگ رہا ہے کہ آج بحث کچھ زیادہ ہی ثقیل ہو گئی، لیکن وہ جو اقبال نے کہا ہے کہ ’اس کی تقدیر میں محرومی و مظلومی ہے، قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف۔‘ یہ شعر صرف اتنا ہی حسبِ حال ہے کہ اِس میں لفظ ’انصاف‘ آیا ہے، چونکہ شعر پر بات ختم کرنے کی روایت ہے اِس لیے میں نے بھی محض روایت ہی نبھائی ہے وگرنہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ’قانون‘ کے سوا۔



محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
مجھے نہیں لگتا کہ بحیثیت ایک سرکاری افسر لکھاری کو ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھانا چاہئے تھا جس پر ادھوری پارلیمان اور عظمی / عالیہ کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔
ویسے تو جب سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پر بلا اجازت پرنٹ اور الیکترانک میڈیا (اور اب سوشل میڈیا) پر کمائی کرنا خلاف ضابطہ تھا تو اللہ جانے وہ کون سی گیدڑ سینگھی ہے کہ اوریا مقبول جان، سابق آئی جی چیمہ اور منظر حیات سرکاری کمائی کے ساتھ اوپر کی کمائی اخبارات سے کماتے رہے وہ بھی حاضر سروس۔
قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔ میں تو اس بات کہ بھی خلاف ہوں کہ عرفان صدیقی جیسے صاحب تحریر سینیٹر ہوتے ہوئے کیسے لکھ لیتے ہیں۔ یہ اضافی کمائی اگر سینیٹر کو جائز ہے تو حاضر سروس جج حضرات، فوج کے افسران، عام سرکاری ملازمین سب کو بلینکٹ اجازت دیں۔ ان کو بھی اور ان کے اہل خانہ کو بھی۔
پولیس والوں اور نرسوں نے کیا قصور کیا کہ ان کو ٹک تاک کرنے پر ملازمت سے نکال دیا جاتا ہے۔ غلط کام غلط ہے چاہے سینیٹر کرے یا ڈی جی اسپورٹس بورڈ یا کوئی بے چاری نرس یا پولیس والا۔
اصولاً تو سینیٹر عرفان صدیقی کو ایک کام کرنا چاہئے یا سینیٹ سے تنخواہ لیں یا قلم فروشی کے پیسے لیں۔ باقی پیرزادہ صاحب کی مرضی چاہیں تو دم درود تعویذ اور گنڈے کرکے اس سے بھی چار پیسے بنالیں۔ ایک اچھے مزاح نگار کے لئے لکھتے ہوئے افسوس تو ہورہا ہے لیکن تلخ سچ کچھ ایسا ہی ہے۔
اور سچ تو یہ بھی ہے کہ یہ سب ایک بہت بڑا conflict of interest بھی ہے کیا پتہ اخبار کے مالک اس کے فوائد کہاں سے اٹھاتے ہوں گے۔