کیا آیت کریمہ اور قنوت نازلہ پڑھنے سے فلسطین اور امہ کے مسائل حل ہو جائیں گے؟

حال ہی میں مفتی اعظم پاکستان تقی عثمانی نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے ایک درد مندانہ اپیل کی ہے، انہوں نے فرمایا ہے کہ فلسطین اور عالم اسلام کی تکالیف اور مسائل کے تدارک و ازالہ کے لیے آیت کریمہ اور قنوت نازلہ کا پابندی کے ساتھ ورد کیا جائے تاکہ قادر مطلق ہم پر آسانیاں فرمائے۔
سوال یہ ہے کہ عالم اسلام پاتالی کی اس نہج تک پہنچا کیسے ہے؟
اور جو قومیں اس وقت دنیا میں راج کر رہی ہیں انہوں نے یہ بلندیاں اور عروج کیسے حاصل کیا ہے؟
کیا ”چنیدہ“ یا قدرت کی محبوب ترین قوم بھی دنیاوی مرتبوں سے محروم رہ سکتی ہے؟
کیا عبادات و ریاضت سے قدرتی نظام کے دھارے کو موڑا جا سکتا ہے؟
کیا طاقت کے اصول یا عصری تقاضوں سے منہ موڑ کر دنیا میں عروج حاصل کیا جا سکتا ہے؟
کیا وقتی کامیابیوں پر خوشی سے نہال ہو کر دنیا کے حقیقی سیاسی و معاشی منظر نامے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟
سوچنا ہو گا کہ ہم ایسے اہل ایمان و یقین گھٹیا اور مردار سی دنیا کے عیش و عشرت کے حصول کے لیے اہل کفار کے محتاج کیوں ہیں؟
جن پر قدرت کا خاص سایہ ہوتا ہے وہ نامراد و ناتواں اور بے بس کیسے ہو سکتے ہیں؟
زندگی بچانے والی ادویات سے لے کر سائنس و ٹیکنالوجی کے ہر میدان میں کفار ہم سے آ گے ہیں، سوال یہ ہے کہ قدرت کی قربت کا دعویٰ رکھنے والے قدرتی حقائق اور کائناتی فہم سے اس قدر پیچھے کیوں ہیں؟
لمحہ موجود کے منظر نامے میں یہ سوالات بہت اہم ہیں، اگر بے قیمت سی دنیا میں ہماری کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے تو پھر آ گے والی زندگی کی کامیابی کے متعلق وثوق سے کیسے کچھ کہا جا سکتا ہے؟
علماء کرام اور تبلیغی اکابرین کے بقول جس نے تقوی و طہارت والی زندگی اختیار کر لی وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے آخرت تو پہلے ہی انہی لوگوں کی ہے۔
اگر ایسا ہے تو قدرت ان قوموں کو کیوں نواز رہی ہے جن کا مذہب یا تقوی و طہارت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے؟
ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے جب افغانستان سے طالبان کا عروج ختم ہو رہا تھا تو ہمارے ہاں روزانہ نماز فجر کے بعد مساجد میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی تھی، جمعے کی نماز میں اور دیگر مذہبی اجتماعات میں امریکہ کے خلاف دعاؤں میں لعنت ملامت اور اس کی تباہی کی بد دعائیں کی جاتی تھیں لیکن کوئی فرق نہیں پڑا جناب۔
امریکہ آج بھی جوں کا توں ہے بلکہ روز بروز ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے جبکہ افغانستان وہیں کا وہیں ہے ایک انچ بھی آ گے نہیں بڑھ پایا ہے۔
مفتی اعظم سے سوال ہے کہ اگر قنوت نازلہ یا بد دعاؤں سے کوئی فرق پڑتا تو جتنی قنوت نازلہ یا بددعائیں ارض مقدس میں بیٹھ کر حجاج کرام یا دنیا بھر کے وہاں جمع ہونے والے مسلمانوں نے کی ہیں کفار تو اب تک ریزہ ریزہ یا تنزلی کے گڑھے میں اتر چکے ہوتے اور ان کی داستان تک نہ ہوتی۔
لیکن قدرت تو طاقت کا نام ہے اور طاقت ور کا ہی ساتھ دیتی ہے، کمزور و ناتواں طاقت کے کھیل میں کچلے جاتے ہیں اور
آج بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور یہ آج سے نہیں بلکہ شروع سے ہو رہا ہے جو بھی وقت کے دھارے سے کٹتا ہے وہ وقت کے بلیک ہول میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گم ہو جاتا ہے یا تاریخ کے عجائب گھر میں سج جاتا ہے۔
اس کڑوی حقیقت کو ہمارے برادر اسلامی ممالک بشمول السعودیہ عریبیہ بڑے اچھے سے جان چکے ہیں، شہزادہ سلمان کا ویژن 2030 اسی حقیقت کی غمازی کرتا ہے، یہ ویژن دراصل معیشت کا چارٹر ہے جو انہیں دنیا کے ساتھ جوڑنے میں مدد کرے گا۔
انہوں نے ایک طرح سے مذہب اور اپنی اقدار و روایات کے کردار کو محدود کر دیا ہے تاکہ بدلتے تقاضوں کو آ سانی سے ایڈجسٹ کیا جا سکے۔
وہ بڑے اچھے سے جان چکے ہیں کہ بد دعاؤں سے کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے۔
یہ سب کمزور و ناتواں قوموں کا خود کو بہلانے کا ایک طفلانہ سا رویہ ہوتا ہے، جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر ”لڑا دے ممولے کو شہباز سے“ ایسے راگ چھیڑنا مجبوری بن جاتا ہے اور خوش فہمیاں پالنے سے بھلا کسی کو کون روک سکتا ہے؟
سعودی عرب بہت حد تک یورپ کو پیارا ہو چکا ہے اور انہوں نے اذان و اقامت کے علاوہ خطبہ اور دیگر عبادات کو ڈیجٹلائز کر دیا ہے۔
وہ مذہب اور اقدار کو نارملائز کر رہے ہیں، آپ کی اقدار بھلے جتنی مرضی اچھی ہوں زبردستی دوسروں پر نہیں تھوپ سکتے، جذباتیت اور حقیقت پسندی میں بڑا واضح فرق ہوتا ہے جسے ہمارے برادر ملک تو سمجھ چکے ہیں مگر ہم ابھی بھی جذباتی روبوٹ بنے ہوئے ہیں۔

