مشتاق احمد یوسفی کا پہلا عشق
یوسفی نے اپنی پوری زندگی میں پانچ عشق کیے۔ ہو سکتا ہے اور بھی کیے ہوں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا ہو جیسے بعض نیک اور پارسا لوگ اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یوسفی نے اپنی میوس سے اپنے پانچ عشقوں کا برملا اظہار اور اقرار کیا اور زندگی میں اپنے مزاحیہ خاکوں اور مضامین کے پانچ مجموعے چھپوائے۔
یوسفی کا پہلا عشق۔ چراغ تلے
’چراغ تلے‘ یوسفی کے پہلے عشق کی کہانی ہے جو انہوں نے رقم بھی کی اور چھپوائی بھی۔ میری نگاہ میں جب کوئی شاعر ’دانشور یا ادیب اپنی پہلی کتاب چھپواتا ہے چاہے وہ غزلوں‘ نظموں ’افسانوں‘ مقالوں یا مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ہو تو وہ اپنی زندگی کا ایک بہت بڑا جوا کھیل رہا ہوتا ہے۔ کتاب چھپواتے وقت وہ نہیں جانتا کہ اس کتاب سے اسے شہرت ملے گی یا رسوائی۔ بقول احمد فراز
پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں
بقول یوسفی ’چراغ تلے‘ ان کے کھٹ میٹھے مضامین کا مجموعہ ہے۔
اس کتاب کا دیباچہ تو یوسفی نے 1961 میں لکھا تھا لیکن اس کتاب کو مکتبہ دانیال نے پہلی بار 1966 میں چھاپا اور جب وہ کتاب مقبول اور مشہور ہوئی تو اسے تین بار اور چھاپا۔ اس طرح یوسفی کے پہلے عشق کی کہانی چار بار منظر عام پر آئی۔
’چراغ تلے‘ کے بارے میں ایک نقاد فرماتے ہیں
’ ان مضامین میں تفکر و تفنن کا ایک خوبصورت امتزاج ہے اور تحریر کا تیکھا پن اور رسیلا اسلوب مشاہدے کی وسعت اور طبیعت کے نکھار کا پتہ دیتا ہے۔ وہ لہجے کے اتار چڑھاؤ کی نزاکتوں سے واقف ہے اور الفاظ کا مزاج پہچانتا ہے۔ ‘
جب کوئی تحریر تفکر و تفنن کا خوبصورت امتزاج ہو تو اس کا یہ مطلب ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے پہلے آپ مسکراتے ہیں اور پھر کسی گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں کیونکہ وہ تحریر آپ کو زندگی کے چند گہرے مسائل کے بارے میں گہرائی سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یعنی وہ تحریر آپ کو دعوت فکر دیتی ہے۔
اسی لیے ہم بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یوسفی کے مضامین
ENTERTAINING
بھی ہیں اور
ENLIGHTENING
بھی۔
سچی بات تو یہی ہے کہ یوسفی الفاظ کا مزاج پہچانتے ہیں۔
ہر صاحب طرز شاعر اور ادیب جانتا ہے کہ انسانوں کی طرح لفظوں کا مزاج بھی ہوتا ہے شخصیت بھی ہوتی ہے کردار بھی ہوتا ہے اور ان کا تعلق لفظوں کے کسی خاندان سے بھی ہوتا ہے۔ ایک صاحب طرز شاعر بخوبی جانتا ہے کہ اسے قصیدے میں کس قسم کے الفاظ کا استعمال کرنا ہے اور مرثیے میں کس خاندان کے الفاظ برتنے ہیں۔
اگر شاعر یا ادیب لفظوں کے مزاج سے واقف نہ ہو تو وہ اپنی تخلیق میں ایسے الفاظ کو ایک ہی محفل میں بلا لیتا ہے جن کے ملاپ سے ناخوشگواری اور ناراضگی پیدا ہوتی ہے اور قاری آدھی تحریر پڑھ کر ہی بیزار ہو جاتا ہے اور کتاب بند کر دیتا ہے۔
یوسفی کے مضامین کی خوبی یہ ہے کہ ان کے ظاہری حسن اور داخلی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے قاری ان کی تحریر کی ندی کے ساتھ آخر تک بہتا چلا جاتا ہے۔
’چراغ تلے‘ میں ایک دیباچہ اور بارہ مضامین ہیں۔
یوسفی نے دیباچے کا نام ”پہلا پتھر“ رکھا ہے اور اسے اپنا مقدمہ قرار دیا ہے۔ انہیں اپنی تحریر پر اتنا اعتماد ہے کہ وہ اپنا مقدمہ خود ہی لڑ رہے ہیں وگرنہ بہت سے ادیب کسی ادبی وکیل یا مقبول عام نقاد سے کہتے ہیں کہ وہ ان کا ادبی مقدمہ لڑے اور ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہے کہ یہ ادیب عظیم ادیب ہے اور یہ کتاب ادب عالیہ میں خوبصورت اضافہ ہے۔
یوسفی رقم طراز ہیں
’اپنا مقدمہ بقلم خود لکھنا کار ثواب ہے کہ اس طرح دوسرے جھوٹ بولنے سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کتاب پڑھ کر قلم اٹھاتا ہے‘
ہم سب ایسی ادبی محفلوں میں شرکت کر چکے ہیں جہاں مہمان ادیب اور نام نہاد نقاد جس کتاب پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں وہ انہوں نے پڑھی ہی نہیں ہوتی۔ ایک مقرر تو یہ بھی نہ جانتے تھے کہ وہ جس کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت ہی نہیں خطاب بھی کر رہے ہیں وہ شاعری کا مجموعہ ہے یا افسانوں کا یا مزاحیہ مضامین کا۔
یوسفی اپنے مقدمے میں اپنی زندگی کی تفصیل اور اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں
’حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا‘
یہ وہ مقام ہے جہاں یوسفی کا طنز اور مزاح آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں۔
یوسفی اپنی تحریروں میں مسلمانوں پر جی بھر کے طنز کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے کتوں کو ناپسند کرنے کا یہ جواز پیش کرتے ہیں
’ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں اور وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کر کے کھا نہ سکیں‘
یوسفی طنز و مزاح کا رشتہ انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی نفسیات سے جوڑتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں
’ ہنسنے کی آزادی فی نفسہ تقریر کی آزادی سے کہیں زیادہ مقدم و مقدس ہے۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو قوم اپنے آپ پر جی کھول کر ہنس سکتی ہے وہ کبھی غلام نہیں ہو سکتی۔‘
بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ نے بھی کہا تھا کہ حس مزاح وہی لوگ رکھتے ہیں جو ذہنی بلوغت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں۔
یوسفی نے اپنے مقدمے کا نام۔ پہلا پتھر۔ اس لیے رکھا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں
’جس شخص کو پہلا پتھر پھینکتے وقت اپنا سر یاد نہیں رہتا اسے دوسروں پر پتھر پھینکنے کا حق نہیں‘
بقول عارف عبدالمتین
مارو مجھے پتھر کہ ہوں آلودہ عصیاں
لیکن وہ کرے پہل نہیں جو کہ گنہگار
اگر ہر انسان دوسروں پر اعتراض اور تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے لگے تو ہم سب امن اور سکون سے زندگی گزارنے لگیں۔ ہم سب اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہماری قوم کو مذہبی اور ادبی فتووں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔
اپنی پہلے کتاب کے مقدمے کے آخر میں یوسفی ہمارا تعارف ایک ایسے کردار سے کرواتے ہیں جس کا نام مرزا عبدالودود بیگ ہے۔ لکھتے ہیں
’ رخصت ہونے سے قبل مرزا عبدالودود بیگ کا تعارف کراتا جاؤں۔ یہ میرا ہمزاد ہے۔ دعا ہے خدا اس کی عمر و اقبال میں ترقی دے‘
ادب اور نفسیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ ہر شاعر اور ادیب کا ایک ہمزاد ہوتا ہے جو بعض دفعہ لاشعور میں چھپا رہتا ہے اور بعض دفعہ شعوری طور پر شاعر کا تخلص بن جاتا ہے اور بعض دفعہ زندگی کے مختلف ادوار میں اپنا نام بدل بھی لیتا ہے۔ اردو کے مایہ ناز شاعر اسداللہ خان غالب زندگی کے پہلے دور میں اسد تخلص فرماتے تھے اور دوسرے دور میں غالب۔ ان کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیے
پہلے دور کا شعر ہے
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
اور دوسرے دور کا شعر ہے
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی شاعر یا ادیب کے ہمزاد کی نفسیات سمجھنے سے ہمیں اس شاعر اور ادیب کی شخصیت کے مختلف پہلو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
یوسفی کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے ہم ان کے تخلیق کردہ کردار مرزا عبدالودود بیگ کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کریں گے تا کہ ہم اس کردار کے خالق مشتاق احمد یوسفی کو بطور ادیب ہی نہیں بطور انسان بھی بہتر سمجھ سکیں اور ان کی تحریروں سے بھرپور طریقے سے محظوظ و مسحور ہو سکیں۔
چرغ تلے۔ کتاب کے پہلے مضمون ”پڑیے گر بیمار“ میں یوسفی بیماروں اور تیمارداروں کی نفسیات اور سماجیات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں اور ہماری توجہ اس سماجی حقیقت کی طرف مبذول کرتے ہیں کہ جب بھی آپ کسی دوست یا رشتہ دار سے اپنے کسی عارضے کا ذکر کرتے ہیں تو وہ آپ کو بغیر مانگے دس آزمودہ نسخے بتا دیتا ہے جن میں سے اکثر بیکار اور ناکارہ ہوتے ہیں اور رشتوں میں کوفت کا باعث بنتے ہیں۔
یوسفی اس بری سماجی عادت پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’ یقین نہ آئے تو جھوٹ موٹ کسی سے کہہ دیجیے کہ مجھے زکام ہو گیا ہے۔ پھر دیکھیے کیسے کسی مجرب نسخے‘ خاندانی چٹکلے اور فقیری ٹوٹکے آپ کو بتائے جاتے ہیں۔ میں آج تک یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ اس کی اصل وجہ طبی معلومات کی زیادتی ہے یا مذاق سلیم کی کمی ’
اس سماجی عادت کا ذکر کرتے کرتے یوسفی ایک بہت ہی گہری بات کر جاتے ہیں فرماتے ہیں
’ ہمارے ہاں ننانوے فیصد لوگ ایک دوسرے کو مشورے کے علاوہ اور دے بھی کیا سکتے ہیں‘
یوسفی نے اس ایک جملے میں پوری قوم کی معاشی سماجی اور ذہنی غربت کا نوحہ لکھ دیا ہے۔
یوسفی نصیحت تو نہیں کرتے لیکن درپردہ مہذب انسان بننے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں
’ سنا ہے شائستہ آدمی کی پہچان یہ ہے کہ اگر آپ اس سے کہیں کہ مجھے فلاں بیماری ہے تو وہ کوئی آزمودہ دوا نہ بتائے‘
یوسفی کے اسی مشورے کر مرزا غالب نے اپنے مخصوص انداز میں اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا
یوسفی اور غالب دونوں دوستی کے اس نفسیاتی راز سے بخوبی واقف تھے اور جانتے تھے کہ غیر ضروری نصیحتیں کرنا اور مشورے دینا انسانی رشتوں کو مجروح کر سکتا ہے۔
’چراغ تلے‘ کے پہلے مضمون میں ہماری پہلی ملاقات یوسفی کے ہمزاد مرزا عبدالودود بیگ سے بھی ہوتی ہے اور ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اتنے حسن پرست ہیں کہ اپنی ہمسائی کے سراپا کو کسی ایکسرے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور محظوظ ہوتے ہیں۔ یوسفی لکھتے ہیں
’اور تو اور سامنے کے فلیٹ میں رہنے والی سٹینو گرافر (جو چست سویٹر اور جینز پہن کر بقول مرزا عبدالودود بیگ انگریزی کا s معلوم ہوتی ہے ) بھی مزاج پرسی کو آئی اور کہنے لگی‘ حکیموں کے چکر میں نہ پڑیے۔ آنکھ بند کر کے ڈاکٹر دلاور کے پاس جائیے۔ تین مہینے ہوئے ’آواز بنانے کی خاطر میں نے املی کھا کھا گلے کا ناس مار لیا تھا۔ میری خوش نصیبی کہیے کہ ایک سہیلی نے ان کا پتہ بتا دیا اب بہت افاقہ ہے۔ اس کے بیان کی تائید کچھ دن بعد مرزا عبدالودود بیگ نے بھی کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ڈاکٹر صاحب امریکی طریقہ سے علاج کرتے ہیں اور ہر کیس کو بڑی توجہ سے دیکھتے ہیں۔ چنانچہ سینڈل کے علاوہ ہر چیز اتروا کر انہوں نے سٹینو گرافر کے حلق کا بغور معائنہ کیا۔ علاج سے واقعی کافی افاقہ ہوا اور وہ اس سلسلے میں ابھی تک پیٹھ پر بنفشی شعاؤں سے سینک کروانے جاتی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اس طریقہ علاج سے ڈاکٹر موصوف کو کافی افاقہ ہوا ہو گا۔ ’
اس پیراگراف سے جہاں ہمیں یوسفی کے مزاحیہ طرز نگارش کا اندازہ ہوتا ہے وہیں ہم پر مرزا عبدالودود بیگ کی شخصیت کا ایک رخ بھی اجاگر ہوتا ہے۔ وہ خواتین میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ایک فینٹسی کی دنیا کو آباد کرنا پسند کرتے ہیں۔
یہ تو مرزا عبدالودود بیگ کی نفسیات سمجھنے کی ابتدا تھی۔ جوں جوں ہم یوسفی کی دیگر مزاحیہ اور سنجیدہ پڑھیں گے ہم پر مرزا عبدالودود بیگ کی شخصیت کے دیگر رخ بھی اجاگر ہوں گے۔
یوسفی کی تحریروں میں جہاں زندگی کا ایک ظریفانہ پہلو سامنے آتا ہے وہیں یوسفی زندگی کے سنجیدہ پہلوؤں کو چھونے سے بھی نہیں کتراتے۔
ان کی تخلیق ’پڑیے گر بیمار‘ میں جہاں مریضوں اور تیمارداروں اور ڈاکٹروں کی مختلف اقسام اور ان کی نفسیات اور سماجیات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہیں مختلف معاشروں اور سماجوں کے انسانوں کے نظریوں پر بھی رائے دی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال یوسفی کا یہ جملہ ہے
’ میرا عقیدہ ہے کہ محض جینے کے لیے کسی فلسفہ کی ضرورت نہیں لیکن اپنے فلسفہ کی خاطر دوسروں کو جان دینے پر آمادہ کرنے کے لیے سلیقہ چاہیے‘
یوسفی اس سماجی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب ایک آدرش ایک آئیڈیل ایک آئیڈیولوجی بن جاتا ہے تو وہ کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تشدد کو فروغ بھی دے سکتا ہے اور لوگوں کو قائل بھی کر سکتا ہے کہ اس نظریے کے لیے خون بہانا ایک احسن کام ہے۔ ہم نے پچھلی چند صدیوں میں دائیں اور بائیں بازو کے کئی ایسے مذہبی، غیر مذہبی اور لا مذہبی نظریے دیکھے جن کے رہنماؤں اور پیروکاروں نے نہ صرف خون بہایا بلکہ اس پر فخر بھی کیا۔ کسی نے اسے جہاد کا نام دیا کسی نے کروسیڈ کا۔ کسی نے کمیونزم اور کسی نے نیشنلزم کے آدرش کی خاطر انسانی جانوں کی قربانی دی۔
کسی نظریے کی خاطر جان دینا اور جان لینا ایک بات ہے لیکن اس کے لیے دوسروں کو جان دینے اور جان لینے کے لیے تیار اور قائل کرنا دوسری بات۔ یوسفی نے ایک جملے میں وہ سب کچھ کہہ دیا جس کی تفصیل لکھنے کے لیے ایک تفصیلی مضمون ہی نہیں ایک ضخیم کتاب درکار ہے۔
میں یہاں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یوسفی مزاحیہ مضامین لکھتے لکھتے زندگی کے کئی سنجیدہ اور سربستہ راز اختصار سے بیان کر دیتے ہیں۔ ایسے راز جن پر غور کرنے سے زندگی کی بہت سی الجھی ہوئی گتھیاں سلجھ سکتی ہیں۔ اسی لیے میں یوسفی کو ایک مزاح نگار ہی نہیں ایک سنجیدہ دانشور ادیب بھی سمجھتا ہوں۔
کسی کی شخصیت کا دلفریب اور دلپذیر خاکہ لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اس شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان پہلوؤں کی باریکیوں کو ذہن میں رکھنا اور پھر شخصیت کی پیچیدگیوں کا تخلیقی اظہار کرنا جوئے شیر لانے سے کسی طرح کم نہیں۔ اپنے مزاحیہ مضمون ”یادش بخیریا“ میں یوسفی ہمارا جس کردار سے تعارف کرواتے ہیں ان کا نام آغا تلمیز الرحمان چاکسوی ہے۔ ان کے بارے میں یوسفی لکھتے ہیں
’ دشمنوں نے اڑا رکھی تھی کہ آغا جن لوگوں سے ملنے کے متمنی رہے ان تک رسائی نہ ہوئی اور جو لوگ ان سے ملنے کے خواہشمند تھے‘ ان کو منہ لگانا انہوں نے کسر شان سمجھا ’
یہ تو دشمنوں نے اڑا رکھی تھی۔ یوسفی خود ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اتنے گوشہ نشین اور تنہائی پسند تھے کہ نہ تو نئے دوست بناتے تھے اور نہ ہی پرانے دوستوں سے ملتے تھے اور اپنے رویے کے عجیب و غریب جواز پیش کرتے تھے ایسے جواز جن کی عمارت کسی نفسیاتی اصول کی غلط تفہیم ’توجیہہ اور تفسیر کی بنیاد پر ایستادہ تھی۔ یوسفی رقم طراز ہیں
’وہ نفسیات کے کسی فارمولے کی گمراہ کن روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ مل کر بچھڑنے میں جو دکھ ہوتا ہے‘ وہ ذرا دیر مل بیٹھنے کی وقتی خوشی سے سات گنا شدید اور دیرپا ہوتا ہے اور وہ بیٹھے بٹھائے اپنے دکھوں میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ ’
ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یوسفی نے ایک قنوطیت پسند انٹروورٹ شخصیت کی جس خوبصورت ادبی انداز میں تصویر کھینچی ہے وہ نفسیات کے طالب عملوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یوسفی ماہر نفسیات نہ ہونے کے باوجود انسانی نفسیات کے بہت سے رازوں سے واقف تھے۔
یوسفی یہ بھی جانتے تھے کہ ایسے قنوطیت پسند انٹروورٹ نہ خود خوش رہتے ہیں اور نہ کسی اور کو خوش رہنے دیتے ہیں بقول احمد فراز
رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا ہمیں ملال نہیں
ایسے انسان اگر شادی کر لیں تو وہ اپنی بیوی کو جلد ہی اتنا دکھی کر دیتے ہیں کہ وہ شوہر کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاتی ہے اور پھر اپنے میکے سے کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔ یوسفی آغا کی مختصر شادی کا مختصر بیان ان الفاظ میں کرتے ہیں
’ ان کی شادی کے متعلق اتنی ہی روایتیں تھیں جتنے ان کے دوست!
بعضوں کا کہنا تھا کہ بی اے کے نتیجے سے اس قدر بددل ہوئے کہ خود کشی کی ٹھان لی۔ بوڑھے والدین نے سمجھایا کہ بیٹا خودکشی نہ کرو شادی کر لو۔ چنانچہ شادی ہو گئی۔ مگر ابھی سہرے کے پھول بھی پوری طرح نہ مرجھائے ہوں گے کہ یہ فکر لاحق ہو گئی کہ بچپن انہیں اسیر پنجہ شباب کر کے کہاں چلا گیا اور وہ اپنی آزادی کے ایام کو بے طرح یاد کرنے لگے حتیٰ کہ اس نیک بخت کو بھی رحم آ گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے اپنے میکے چلی گئی ’
میں یوسفی کے اس جملے سے۔
’بوڑھے والدین نے سمجھایا کہ بیٹا خود کشی نہ کرو شادی کر لو‘
بہت محظوظ ہوا اور کسی گمنام شاعر کا یہ شعر گنگنانے لگا
عمر بھر صحرا نوردی کی مگر شادی نہ کی
قیس دیوانہ بھی تھا کتنا سمجھدار آدمی
میں بچپن میں سوچا کرتا تھا کہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم نے پانچ چوہوں کی نظم میں یہ کیوں لکھا تھا کہ آخری چوہا جو باقی بچ گیا تھا
اس نے کر لی شادی
یوں ہوئی اس کی بربادی
جہاں میں یوسفی کے شادی اور خودکشی کو ایک ہی جملے میں یکجا کرنے سے محظوظ ہوا ویسے ہی میں بچپن میں صوفی تبسم کے شادی اور بربادی کو ایک ہی شعر میں یکجا کرنے سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔
یوسفی کے تخلیق کردہ کردار آغا تلمیذ الرحمان چاکسوی ایک نفسیاتی عارضے کا شکار ہیں۔ وہ نفسیاتی عارضہ ”نوسٹلجیا“ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کا ادبی ترجمہ یوسفی نے ہسٹیریا کا ہم قافیہ یادش بخیریا کیا ہے۔ ایسے لوگ ماضی پسند اور ماضی پرست ہوتے ہیں۔ وہ اپنے حال سے اتنے ناخوش اور اکتائے ہوئے ہوتے ہیں کہ ماضی میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اس عارضے کا اظہار یوسفی نے ان الفاظ میں کیا ہے
’ آغا کو بھی ماضی بعید سے خواہ اپنا ہو یا پرایا والہانہ وابستگی ہے‘
ایسے لوگ جب اپنے چھوٹے سے گاؤں سے کسی بڑے شہر میں ہجرت کر کے جاتے ہیں تو وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی یادوں میں بسے بچپن اور نوجوانی کے دور کے گاؤں کا ذکر ایسے کرتے ہیں جیسے کسی جنت کا ذکر کر رہے ہوں۔ ایسے لوگوں کے دوست احباب بخوبی جانتے ہیں کہ وہ جنت ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہے جو سراسر ایک فینٹسی ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یوسفی لکھتے ہیں
’ادھر چند دنوں سے وہ ان تنگ و تاریک گلیوں کو یاد کر کے زار و قطار رو رہے تھے‘ جہاں بقول ان کے جوانی کھوئی تھی۔ حالانکہ ہم سب کو ان کی سوانح عمری میں سوانح کم اور عمر زیادہ نظر آتی تھی لیکن جب ان کی یادش بخیریا نے شدت اختیار کی تو دوستوں میں یہ صلاح ٹھہری کہ ان کو دو تین مہینے کے لیے اسی گاؤں میں بھیج دیا جائے جس کی زمین ان کو حافظے کی خرابی کے سبب چہارم آسمان دکھائی دیتی ہے ’
یوسفی نے تو گاؤں سے شہر ہجرت کا ذکر کیا ہے۔ میں مشرق سے مغرب آنے والے بہت سے ایسے مہاجروں کو جانتا ہوں جو نجی محفلوں میں اسی مشرق کو جنت بنا کر پیش کرتے ہیں جس مشرق کی جہنم سے تنگ آ کر انہوں نے مغرب ہجرت کی تھی۔
یوسفی ایک فرد کی نفسیات کا ذکر کرتے کرتے ایک ایسی قوم کا ذکر بھی کرتے ہیں جو یادش بخیریا کے نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔ یوسفی بخوبی جانتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے ماضی پرست بن چکے ہیں اور اب وہ اپنے حال کا نوحہ لکھنے کی بجائے اپنے ماضی کا قصیدہ پڑھتے ہیں۔ وہ اپنے ماضی کے سنہری دور کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں اور خوش رہنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
مسلمان ساری دنیا کو یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ یونانی فلسفہ مغرب تک مسلمان دانشوروں کے تراجم کے ذریعے پہنچا۔
مسلمانوں کو جب آج کے دور میں اپنی قوم میں کوئی عالمی شہرت یافتہ سائنسدان اور فلسفی نہیں ملتا تو وہ الکندی، الرازی، الفارابی اور ابن سینا کی تخلیقات کا ذکر فخر سے کرتے ہیں اور
پدرم سلطان بود
کے تصور میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔
مسلمانوں نے کئی سو سال پہلے سائنس، طب اور نفسیات میں تحقیق کرنے کی بجائے اندھے ایمان ’تصوف اور شاعری میں پناہ ڈھونڈی اور سائنسدان‘ طبیب اور فلسفی پیدا کرنے کی بجائے کثرت سے مولوی، صوفی اور شاعر پیدا کرنے شروع کر دیے اور نوجوانوں کو یہ بتانا شروع کر دیا کہ سائنس اور ریاضی انسان کو الحاد کی طرف لے جاتے ہیں۔
یوسفی لکھتے ہیں
’پہلے درویش (جن کا روپیہ ان کی جوانی سے پہلے جواب دے گیا) نے تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ جتنا وقت اور روپیہ بچوں کو
’ مسلمانوں کے سائنس پر احسانات‘
رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے اس کا دسواں حصہ بھی بچوں کو سائنس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہو گا۔ ’
یوسفی پہلے نفسیاتی مسئلے کی تشخیص کرتے ہیں اور پھر یادش بخیریا کے مریضوں کے بارے میں تکلیف دہ پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھتے ہیں
’یادش بخیر کی ہانک لگانے والے وہی نکلیں گے جن کا کوئی مستقبل نہیں‘
یوسفی اپنے نیم مزاحیہ نیم سنجیدہ مضمون کے آخر میں اس نفسیاتی عارضے کا حل بھی تجویز کرتے ہیں اور ماضی پرست انسان اور قوم کو دوستانہ مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں
’ بیتی ہوئی گھڑیوں کی آرزو کرنا ایسا ہی ہے جیسے ٹوتھ پیسٹ کو واپس ٹیوب میں گھسانا!
لاکھ یہ دنیا ظلمت کدہ سہی لیکن کیا اچھا ہو کہ ہم ماضی کے دھندلے خاکوں میں چیختے چنگھاڑتے رنگ بھرنے کی بجائے حال کو روشن کرنا سیکھیں ’
میری نگاہ میں اگر سب مسلمان چاہے وہ عوام ہوں یا خواص یوسفی کے اس مضمون پر غور کریں تو وہ اپنے رویے میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وہ ماضی پرستی سے حال پسندی کی طرف رجوع کر سکتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ہزاروں سال پرانی کتابوں کو ثواب کی خاطر پڑھوانے اور حفظ کروانے کی بجائے جدید سائنس طب اور نفسیات سے متعارف کروا سکتے ہیں۔
یوسفی کی تحریر پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایک دانشور طبیب کی انگلی اپنی قوم کی نبض پر ہوتی ہے اس نبض سے وہ قوم کے نفسیاتی ’سیاسی اور سماجی مسائل کی تشخیص بھی کرتا ہے اور مفید مشورے بھی دیتا ہے یہ علیحدہ بات کہ ان مشوروں کا اظہار تخلیقی ہوتا ہے چاہے وہ شاعری میں استعارہ بن کے آئے یا نثر میں مزاح کا روپ دھارے۔ ایک ذہین ادیب اشاروں کنایوں میں بات کرتا ہے اور ذہین قاری سے گہری سوچ کا مطالبہ کرتا ہے تا کہ وہ اس کی تحریر میں پوشیدہ معنی تک پہنچ سکے اور تخلیق سے محظوظ و مسحور ہو سکے


