خال خیالی
سی ڈی شمس کو محض اِس واسطے اپنا اسم گرامی مکمل بتانے میں پس و پیش تھا کہ چراغ دین سورج کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز وہ احباب کو بارہا آگاہ کر چکا تھا کہ شم مس نہیں بلکہ شم س کہا جاوے لیکن احباب بضد تھے اور میم کی تشدید کو تشدد کے ساتھ ادا کرتے تھے۔
سی ڈی شمس لب و رخسار کی دنیا میں گم رہتا تھا۔ حسن کے مختلف پہلوؤں پر نظروں کی پہنچ اور قلب کی دست رس تھی۔ گفت گو میں ملکہ اور شخصیت میں بادشاہ تھا۔
فقط کسی عمومی عارضہ پر ہی طبی معائنہ فرض اولین سمجھتا تھا کہ وقت پر لگا ایک ٹانکا بے وقت کے نو ٹانکوں سے بچاتا ہے۔
صبح منہ نہار دوسرے روز بھی چھینکیں کیا آئیں پہنچ لیے حضرت اپنے مسیحا کے پاس جن کے عرصہ دراز سے معتقد تھے۔ علاج کیا کراتا مزید بیماری پال بیٹھا۔ کیا کمال خال دکھائی پڑا کہ دل و دماغ کے تار جھنجھنا اٹھے۔ معالج کے کمرے سے نکل کر وہ ایک کھلے رکشہ میں بیٹھ کر چل دی۔
” کیا کل بھی دیدار ہو پائے گا۔ کس سے دریافت کریں۔“ سی ڈی شمس خیالِ خال میں گم تھا۔
اگلے روز بنا سبب حال آں کہ سبب شدید تھا وہ پھر آ موجود ہوا اور باری آنے کے باوجود منتظرین میں نشست رکھے رہا۔
کیا قسمت پائی کہ رخِ روشن پر سنہری خال کی آمد ہوئی اور لمحہ بھر کی نشست کے بعد معالج کے کمرے میں داخلہ ہوا۔
سی ڈی شمس کا دل معالج کے کمرے میں گھس گیا۔ صدا آئی ”سی ڈی شمس۔“
وہ چونکا اور ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
”جائیے اندر۔“
” جی۔ کیوں نہیں۔“
سی ڈی شمس کے لیے در وا ہوا اور خال کی ضو برخاست ہوئی۔ شمس بھی ہم راہ ہو لیا۔ صدائیں پڑیں ”اجی۔ کہاں جاتے ہو؟“
شمس مطب کے باہر تک آیا اور اس بار تو اخیر کردی۔ رکشہ کو تا حد نظر تکتا رہا اور پھر ایک سرد آہ کے ساتھ بغیر دِکھائے گھر کو روانہ ہوا کہ معالج کے پاس تو اس کا علاج ندارد تھا۔
روز سوم بھی یہی واردات رہی لیکن شاید منطقی انجام قریب تھا۔ شمس منتظرین میں تھا لیکن دیگر بیماروں کی طرح معالج کا نہیں بلکہ خال کی تیکھی کشش کا
” ضروری تو نہیں کہ آج بھی آوے“ وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔
”نہیں۔ نہیں۔ آمد ضرور ہوگی۔ آج کل آرام جلد کہاں آوے ہے اور جانے مرض کیا ہے کس سلسلے میں بلا ناغہ حاضری ہے۔ کیوں نہ آج استفسار کیا جاوے۔ آخر اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔“ کلام کا ماہر خود کلامی میں بھی خود کفیل ٹھہرا۔
لیجیے خال قلب کی تہوں میں سرایت کرتا ہوا معالج کے کمرے میں تھا اور خیال باہر تڑپ رہا تھا۔ ایک کراہ تھی ”آخر آج اتنی تاخیر کیوں؟“
پھر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ در وا ہوا۔ صدا لگی۔ خال عبث تھا اوپر ایک چھوٹا سا پلستر لگا تھا۔ شمس نے بیرونی راہ تک تعاقب کیا ”محترمہ یہ۔ یہ کہاں ہے؟“
وہ تھوڑا ہنسی ”اچھا۔ یہ موہکا۔ اسی لیے تو میں یہاں آتی تھی۔ آج اس کا آپریشن تھا۔ میرے شوہر کر برا لگتا تھا سو کٹوا دیا۔“


