بارش میں لکھا خط
حسن کے چچا! آداب!
کل دوپہر کی بات ہے، میں اپنے گھر کے چھوٹے آنگن میں مریم کا پرانا سفید جوڑا (ارے وہی شیفون کا جو پچھلے ہی برس آپ نے چھوٹی عید پر دلایا تھا) قرمزی رنگ میں رنگنے کے بعد برسوں پرانی، ٹیڑھی میڑھی، لمبی کالی تاروں پر سوکھنے کے لئے لٹکائے فرصت کے احساس سے کمر سیدھی کرنے کو پر تول ہی رہی تھی کہ جانے کون سے جہان سے چھوٹے چھوٹے ملگجی بادلوں کے ٹکڑے فراٹے بھرتے ہوئے آئے اور ایک دم بڑے آسمان پر پھیل گئے، اور پھر کیا تھا۔ ٹپ۔ ٹپ۔ ٹپ۔ شڑاپ۔
ایک تو اس بارش کو بھی وہی دن سوجھتا ہے جب مجھے فرصت کا سانس لینا ہو، مگر اسے میری فرصت کا کیا خیال، جب دیکھو بنا پوچھے بتائے منہ اٹھائے چلی آتی ہے، چین کی بانسری بجانا تو دور کبھی سننا بھی نصیب نہیں ہوئی۔ ارے میں بھی کیا شروع ہو گئی، آپ کی خیر خبر تو پوچھی ہی نہیں۔ گھر پر سب ٹھیک تو ہیں؟ چچی جان کا حال سنائیے اور ہاں شبو آپا کیسی ہیں؟ بھئی بال تو خوب بناتی ہیں آپا، سچ پوچھیں تو یہ سارے شیمپو، کنڈیشنر بنے ہی آپا کے لئے ہیں۔ وحید میاں بھی یونہی نہیں آپا کی زلفوں کے اسیر ہوئے، وحید سے وحید مراد بننے اور میر تقی کے برابر کا دیوان لکھنے کی جو کوشش وہ اس عمر میں کر رہے ہیں، مجھے تو لگتا ہے آنے والے بچے بھی ردیف اور قافیہ کی ترتیب میں ہوں گے اور فَعُولوفَعُولو کی لوری سنتے، پنگھوڑے میں تقطیع کا رونا روئیں گے۔
خیر! میں آپ کو بتا رہی تھی کہ کل بارش۔ ۔ ۔
ارے، لیکن الیاس کا تو میں نے پوچھا ہی نہیں، سرکاری نوکری کیا ہوئی جناب کی، سرکار کے نوکر ہی ہو گئے۔ مجال ہے جو کبھی خیال گزرا ہو کہ اور بھی رشتے ناتے ہیں دنیا میں نبھانے کو۔ خیر سے چھ مہینے ہونے کو ہیں، نوکری بھی پکی ہو جائے گی، میں تو کہتی ہوں اب ایک تمیزدار، سلیقہ شعار، بڑے گھر کی نیک لڑکی ڈھونڈ لائیں، شادی میں دیری شیطان کی جی حضوری کرنا ہے۔ ویسے اگر آپ کہیں تو ایک رشتہ ہے میری نظر میں۔ بھائی قادر کو تو آپ جانتے ہوں گے۔ ہماری گلی کی نکڑ والی آپا رضیہ کے دیور، جن کی شیشے والی کپڑے کی دکان ہے۔
وہ میں ذرا مریم کو دیکھنے گئی تھی، سو رہی تھی، ابھی جاگی ہے، آج اسکول سے چھٹی تھی تو دیر تک سوتی رہی، آپ تو جانتے ہی ہیں بچوں کے لئے اتوار کا دن عید کا دن ہوتا ہے۔ چلیں پھر میں نے اپنی باتیں شروع کر دیں، تو میں کہہ رہی تھی کہ بھائی قادر۔ ۔ ۔
ذرا رکیے، حسن بلا رہے ہیں، شاید کچھ مہمان آئے ہیں، شام میں کھانا رکھا ہے، ایک تو ان مردوں کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی، راہ چلتے کو دوست بنا لیتے ہیں اور اگلے ہی دن گھر دعوت پر بلا لیتے ہیں، ان کا کیا جاتا ہے، کچن میں ہانڈی اور ہلدی کا حساب تو ہم نے رکھنا ہوتا ہے، ویسے کسی نے سچ ہی کہا ہے، عورت ہونا زندگی بھر رونا ہے، شاید اسی لئے دلہن رخصتی کے وقت جی بھر کے رو لیتی ہے، بعد میں گھر کے جھمیلے۔ اُف توبہ! فرصت سے رونا بھی نصیب نہیں، اچھا میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں۔
لیجیے! میں آ گئی! ویسے میں بھی بالکل پاگل ہوں، خط لکھ رہی ہوں مگر فون کال لگ رہا ہے۔ حسن کہتے ہیں تم سچ مچ پاگل ہو، بغیر کچھ ناپے تولے، بات بے بات بولے چلی جاتی ہو، بھئی بہت ہوا، آپ بتائیں تو۔ کیا میں زیادہ بولتی ہوں؟ بات صرف حسن کی نہیں ہے، سارے مرد ایک طرح کے ہوتے ہیں، بولو تو بھی شکوہ اور نہ بولو تو بھی گلہ۔ آپ تو چچا اب بزرگ ہو گئے ہیں، شاید اس لئے چچی کو کچھ نہیں کہتے، ویسے پتا نہیں مجھے کیوں لگتا ہے کہ جتنا آپ حسن کے چچا ہیں، اُس سے کہیں زیادہ میرے چچا رہے ہوں گے۔ ہاں! کیا خبر! کسی اور جہان میں، کچھ رشتے پیدا ہو کر نہیں بنتے، خیر کیا معلوم۔
قادر بھائی کی بہت پیاری بھانجی ہے تہمینہ، اور تہمینہ کے ابا تیمور بھی قادر بھائی کے ساتھ مل کر دکان چلاتے ہیں، تہمینہ سمجھدار ہے، بارہ جماعتیں پڑھی ہے، لمبا قد ہے، گوری چٹی ہے، اور تو اور شہر کے اسکول سے سلائی کڑھائی کا کورس بھی کر رکھا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کہ ہمیں بالکل دیر نہیں کرنی چاہیے۔ بڑا گھر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، خاندانی لوگ ہیں، سماج میں عزت ہے، اور کیا چاہیے، ہمارا الیاس بھی کون سا کم ہے، شریف، ذمہ دار، سلجھا ہوا بچہ ہے، عمر میں دس بارہ سال زیادہ بھی ہو جائے تو کیا جاتا ہے، فکر تو لڑکی والوں کو ہوتی ہے کہ کہیں بچی کی عمر نہ نکل جائے۔
پہلے میں سوچتی تھی بڑی اماں نے بہت جلدی کی میری شادی میں، جانے کیا ہو گا، نیا گھر، نئے لوگ اور ان کے اپنے طور طریقے۔ اب تو سب کچھ ایک خواب سا لگتا ہے۔ وقت یا تو بہت مہربان ہوتا ہے یا بہت ظالم، درمیان کا راستہ نہیں نکالتا۔ بات طویل ہو رہی ہے اور حسن پھر سے آواز دے رہے ہیں، مجھے جانا ہو گا، اگلی بارش کے آنے پر اگلا خط لکھوں گی، شاید تب تک اس خط کی روشنائی دُھل جائے۔
الوداع چچا جان! کاش آپ حقیقت ہوتے، تب میں آپ کو کبھی خط نہ لکھ پاتی۔
آپ کی زینب۔


