نازک وقت کا تقاضا، صلاحیت اور بقا کا سوال


ایک بات اپنے ذہن میں بالکل واضح فرما لیجئیے کہ دنیا میں کسی اخلاقیات اور انصاف کا کوئی وجود موجود نہیں ہے، آج کی اس جدید ترقی یافتہ دنیا میں بھی کوئی انصاف کا ترازو لیے انصاف نہیں بانٹ رہا، نہ یہ کسی کی بھی ترجیع ہے، یہاں گروہ ہیں، ان کے مفادات ہیں، اور ان کے شکار ہیں، بس فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ پہلے یہی سب کچھ ویرانوں اور جنگلوں میں ہوتا تھا، آج اس عظیم الشان انسانی ”اخلاقیات“ کی بے معنی اصطلاح کی جگالی اور دہائی کی پکاروں میں وہی کچھ اب انسانوں سے آباد، ملکوں، علاقوں، شہروں اور دیہات میں ہو رہا ہے، یہاں ترازو چاہے وہ اقوام متحدہ کی عمارت پر ہی نصب ہو انصاف کی فراہمی کے لیے نہیں بلکہ شکاریوں میں، انسانی شکار کا گوشت بانٹنے کے کام آتا ہے۔

ابتدائے آفرینش سے جو قانون سب سے زیادہ مضبوط اور منطقی اور عملی طور پر ثابت ہے تو وہ بدقسمتی سے ”طاقت کا قانون“ ہے، یہ حقیقت ہزاروں سینکڑوں سال قبل بھی اخلاقیات کی ”منت سماجت“ کے مقابلے میں بالاتر تھی، اور آج بھی اسی طرح بالاتر اور مستعمل ہے۔ یووال نوح ہراری اپنی مشہور زمانہ کتاب ”سیپئنز“ میں ایک عجیب بات تحریر فرماتے ہیں، کہ قبل از تاریخ کہلائے جانے والے قدیم زمانوں میں لوگ زیادہ بہتر شکار گاہوں، اچھی چراگاہوں، زرخیز زمینوں، وسائل کی لوٹ مار، غلام بنانے جیسے مقاصد سے کمزور قبیلوں، اور دوسری انسانی نسلوں پر حملے کر کے ان کو ہلاک کر دیا کرتے اور ان کی زمینوں املاک وغیرہ پر قبضہ کر لیا کرتے، جن پر حملہ کیا جاتا وہ بھی اپنی پوری طاقت سے ان کا مقابلہ کرتے، بہت سا خون بہتا اور بالآخر ایک فریق کو فتح نصیب ہوتی اور دوسرا فریق تباہ و برباد ہو کر تاریخ کی دھندلی راہوں میں گم ہو جایا کرتا، بہت سی انسانی نسلیں اسی طرح سے انسانوں یعنی سیپئینز کے ہاتھوں کرہ ارض سے معدوم ہو گئیں۔

ابھی ستر ہزار برس قبل تک اس کرہ ارض پر انسانوں کی چھ اقسام موجود تھیں جن کا ہماری قسم یعنی ”سیپئن“ نے مقابلے کی دوڑ میں اس کرہ ارض سے مکمل طور پر صفایا کر دیا۔ یووال نوح حراری نے کچھ معیاروں کے مطابق اس طرح ہلاک اور معدوم ہو جانے والی انسانی نسلوں کی، کل انسانی آبادی میں سے فی صد شرح نکالی ہے، اور پھر اس شرح کا آج کے ”اعلی اخلاقیات، بہترین تہذیب و ثقافت، علوم و فنون سے مزین جدید دور میں باہمی جنگوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے شرح ہلاکت کا پرانے دور کی شرح ہلاکت سے موازنہ کیا تو یہ دہشتناک اور عجیب بات سامنے آئی کہ باہمی جنگوں، لڑائیوں میں انسانی ہلاکت اور بربادی کی“ شرح ”بالکل اتنی ہی ہے، جتنی قبل از تمدن کے وحشیانہ دور میں ہوا کرتی تھی، گویا، اخلاقیات، تہذیب، قوانین، اصول و ضوابط دراصل صرف ایک ڈھکوسلہ ہیں، ہم آج بھی دراصل وہی خونخوار درندہ صفت نسل ہیں، جو جس علاقے میں چلی جاتی وہاں ہزاروں لاکھوں سال سے آباد جانوروں کی نسلیں تک معدوم کر دیا کرتی، دوسری انسانی نسلوں تک کو معاف نہ کیا جاتا اور موقع ملنے پر ان کا بھی بے رحمی سے صفایا کر دیا جاتا، اسی ضمن میں ہزاروں برس تک انسانی نسل کے آدم خوری تک کے شواہد بھی ملتے ہیں۔

آج بھی بنیادی طور پر ، شاندار خوبصورت لباس میں ملبوس، جدید ترین آلات استعمال کرتا، یہ“ سیپئن ”وہی درندہ ہے جو ٹیکنالوجی، ایجاد، وسائل کو استعمال کرتے ہوئے، اپنی غالب آ جانے والی، تباہ و برباد کر دینے والی، لوٹ لینے والی فطری عادتوں کی تکمیل کے لیے ان جدید آلات، ایجادات، علوم اور معلومات کو پوری بے رحمی اور سنگ دلی سے اپنے ہی جیسے، اپنے ہم نسل مگر کمزور اور بے بس انسانوں اور دیگر جانداروں کی تباہی اور ان کو مغلوب و معدوم کرنے کے لیے بلا کسی جھجک اور خلش کے، استعمال کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

بات متنازعہ ہے، اور کچھ احباب کو یہ بات پسند بھی نہیں آئے گی، لیکن بدقسمتی سے یہی حقیقت ہے۔ جب اسرائیل نے پیجر اور سیل فون دھماکوں سے اپنی طاقت اور خطرناک ٹیکنالوجی کا اظہار کیا تھا، اور اسرائیل کی مدد میں امریکی عزائم بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، کہ وہ اور اس کے حلیف ممالک اسرائیل کی مدد میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، ان حالات میں فلسطینی قیادت کو فوری طور پر حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے، یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دینا چاہیے تھا، اس طرح اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف مسلح کارروائیوں کا کوئی رسمی جواز تک باقی نہ رہتا کیونکہ ایک فریق جو علانیہ طور پر لڑنا ہی نہیں چاہتا، اس پر یک طرفہ طور ہر مسلسل بمباری اور مسلح حملے کس طرح کئیے جانے ممکن تھے، اگر اسرائیل پھر بھی ایسا کرتا تو ساری دنیا کی توجہ اس کی اس جارحیت کی طرف مبذول ہو جاتی، لیکن کیا یہ گیا کہ طاقت اور صلاحیت کے اتنے واضح اور خطرناک، بلکہ تباہ کن فرق کے باوجود اسرائیلی بمباری کے جواب میں اکا دکا راکٹوں اور میزائلوں سے حملے کئیے جاتے رہے جو اسرائیل میں نصب امریکی اور اسرائیلی میزائل شکن نظام کی وجہ سے اسرائیل کو کوئی بھی نقصان پہنچانے میں ناکام رہے، اب بھی ایران کی طرف سے وہی کیا گیا جو اسرائیل اور امریکہ چاہتے تھے کہ ایران کسی مسلح کارروائی کے ذریعے اپنا رد عمل ظاہر کرے اور جواب میں اس پر کسی بھی طرح سے خطرناک حملہ کیا جا سکے اور اس حملے کا جواز بھی مل سکے جو اس کو ایک طرح سے دے دیا گیا ہے، اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف کیا کرنا ہے یہ انہوں نے پہلے ہی سے بہت اچھی طرح سے سوچ رکھا ہو گا، اور اسے عمل میں لانے کے لیے وہ صرف موقع کی تلاش میں تھے جو بدقسمتی سے ان کو دے دیا گیا ہے۔

یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ دوراندیش اور مخلص لیڈر شپ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جن کی وجہ سے طاقتور دشمن کی تمام تر عسکری تیاریوں، صلاحیت اور ارادوں کو بے اثر کیا جا سکے۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہوتی کہ اتنی طاقت ہو کہ اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو عسکری لحاظ سے ویسا ہی جواب دیا جا سکتا جیسا وہ اپنی فیصلہ کن عسکری برتری کی وجہ سے فلسطینیوں کو اور لبنان میں دے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موجودہ لڑائی اور جنگ کا آغاز حماس کی طرف سے اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے کیا گیا تھا جس میں سینکڑوں اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے، اور ان ہی حملوں کے جواب میں اسرائیل جو ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا اپنی طاقت اور عسکری برتری، امریکہ کی مدد اور پشتبانی سے فلسطین اور لبنان کی عام آبادیوں پر بھیانک بمباری کر کے ساٹھ سے ستر ہزار عام شہری ہلاک کر دیے، ان کے مکان تباہ کر دیے اور لاکھوں شہریوں کو اپنے گھروں سے بے گھر اور دربدر ہونے پر مجبور کر دیا۔

اب بھی وقت ہے کہ حالات کی نزاکت اور دشمن کے خطرناک ارادوں کو ناکام بنانے کے لیے فوری طور پر تمام یرغمالیوں کو رہا کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا جائے، تاکہ اسرائیل اور امریکہ کے مزید غیر انسانی، یک طرفہ اور دہشتناک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔ مشہور چینی جنگی ماہر“ سن تزو ”اپنی مشہور زمانہ کتاب“ آرٹ اف وار ”میں لکھتا ہے کہ جب دیکھو کہ جہاں دشمن بہت زیادہ مضبوط اور تیار ہے تو خود کو اس کے سامنے جا کر تباہ ہونے کے بجائے خود کو اس کی زد سے بچا لے جاؤ، اور کسی اگلے معرکے کے لیے خود کو محفوظ رکھو ۔

Facebook Comments HS