دور کے ڈھول سہانے


کل ایلیٹ طبقے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ساتھ ایک محفل میں شریک تھا جہاں کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے خبر ملی کہ ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے دیے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ اسرائیل سے متعلق دنیا کی جیو پولیٹکس پر گفتگو کا رخ مڑ گیا جو کہ میرا پسندیدہ عنوان ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اسرائیل اب جوابی حملہ کرے گا۔ کسی کی رائے تھی کہ اسرائیل اب پاکستان کی طرف بھی آئے گا، اس سلسلے میں نتن یاہو کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا گیا جس میں وہ پاکستان سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے کہ وہ جلد پاکستان کا معاملہ بھی سلجھائیں گے۔

میں جیو پولیٹکس کا ماہر تو نہیں اور میں بحیثیت ایک عام لوور مڈل کلاس شہری کے آخر میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ اگر چہ حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اسرائیل اور ایران کی لڑائی سے ان کا کیا تعلق؟ پھر میں نے سوچا کہ ہو سکتا ہے وہ یہ باتیں محض بطور ٹائم پاس کے کر رہے ہوں۔ کیونکہ جن لوگوں کی زندگی کے بنیادی معاملات حل پا جائیں وہ پھر ان فلسفوں پر کھل کر نکتہ چینی کر سکتے ہیں جن کا ان کی زندگی کی ضروریات و معاملات سے کوئی واسطہ نہیں۔

بلا شبہ ریاستی معاملات میں ان کے اہم کردار کے باوجود میرے خیال میں ان کا پھر بھی اسرائیل کے اس خطے پر اثرات سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ اسرائیل کی دنیا پر قبضے کی کہانیاں صرف رمزیہ داستانیں معلوم ہوتی ہیں۔ اسرائیل نے کبھی پاکستان کو اس قابل ہی نہیں سمجھا کہ اس کو سفارتی لحاظ سے اہمیت دی جائے۔ وہ الگ بات ہے کہ اسرائیل نے اپنی سفارتی ذمی داریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بھی دوستی کے دروازے کھلے رکھے لیکن پاکستان کا رویہ اسرائیل کے ساتھ اس ناراض پھوپھا جیسا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور وہ اپنی ضرورت اجاگر کرنے کے لیے بلا وجہ کی ناراضگی کا سہارا لیتا ہے اور منہ پھلائے رہتا ہے۔

حقیقت میں کیا چل رہا ہے یہ صرف ریاست کے کرتا دھرتا جانتے ہیں، ہماری قیاس آرائیوں سے نہ اسرائیل نے ہم پر حملہ کرنا ہے اور نہ ہم نے اپنا دفاع۔ یہ جن کا کام ہے ان کو کرنے دیں۔ ہمیں اپنے کاموں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ہماری عام زندگی کے کئی ایسے معاملات ہیں جو توجہ طلب ہیں لیکن ہمیں ان سے زیادہ اسرائیل اور ایران کی فکر ہے۔ یہ محض دو طاقتوروں کی لڑائی ہے اور دونوں کا مقصد ایک دوسرے پر قبضہ جما کر اپنے وسائل میں اضافہ کرنا ہے۔ اسرائیل کے ریاستی نظام اور ان کی آبادی چھوٹی ہونے کی بدولت کسی حد تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندی کی پالیسی سے اس کی جنتا مستفید ہو سکتی ہے کیونکہ ریاست ان کی ہے اور ان کی عوام کا ریاستی معاملات میں اہم کردار ہے اور یہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست کس طرح ان کی ہر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال کرتی ہے، مثال کے طور پر وہاں ہر شہری کے لیے فوجی ٹریننگ ضروری ہے جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ ان کی حفاظت کی ضرورت کو کتنی باریکی سے سمجھا گیا ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے گئے دوسری طرف ایران کی ریاست ہے جو کہ اپنے شہریوں سے کٹی ہوئی ہے اور ان پر مورل پولیس نافذ کی ہوئی ہے جس کی خواہش ایران میں شاید ہی کسی نے کی ہو۔

تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی ریاست اپنے شہریوں کے لیے جنگ لڑی رہی ہے جس کو صرف اپنا فائدہ مقصود ہے اور پھر یہ کیسے مانا جائے کہ ایران اگر اسرائیل کے خلاف کامیاب ہو جائے تو اس کا فائدہ ایرانیوں کو ہو گا۔ جو لوگ پہلے ہی ملوکیت کے نظام کے عادی ہیں انھیں اسرائیل کے تسلط سے کیا تکلیف ہو گی؟ اور ہم پاکستان میں بیٹھ کر کیسے یہ اندازے لگا سکتے ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ غلط کیا یا اسرائیل اور ایران کے معاملے میں کس طرح وہاں کی تمام آبادی کو ملوث کیا جا سکتا ہے۔

ان کا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں نہ ایرانی ریاست اپنی عوام سے پوچھ کر اپنے معاملات سر انجام دے رہی ہے۔ رائے سازی جمہوری معاشروں کا چلن ہے جس کے بعد ایران اسرائیل جیسی صورتحال میں ایک ملک کی تمام آبادی کا کردار تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ مجھے نہیں سمجھ آتی کہ پاکستان کے حکمران طبقے کے افراد کو تو یہ شیوہ دیتا ہے کہ وہ اس طرح کے مسائل پر بحث کریں اور ہو سکتا ہے کہ کبھی نہ کبھی ان پر بھی اس کا کسی نوعیت کا اثر ہو، اس لحاظ سے نہیں جس طرح ہمارے ہاں مانا جاتا ہے لیکن پاکستانی عوام کس خوشی میں ایران کے میزائل داغنے پر تالیاں پیٹ رہی ہے؟

جب ایران کی جنتا کو اس سب سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا سوائے مزید تباہی کے تو پھر پاکستانی عوام کس بات پر خوشیاں منا رہی ہے؟ یہ اعزاز ہمارے عزیز ہم وطنوں کو ہی جاتا ہے کہ نہ صرف ان کی اپنی ریاست انھیں اپنے اصل مسائل سے غافل کرتی ہے بلکہ ایران اور اسرائیل کی ریاستیں بھی اس کار عمل میں برابر کی شریک ہیں۔ اللہ ہی حافظ ہے ہماری قوم کا! حالت ہماری یہ ہے کہ ہم خاندانی سیاستوں، بلا وجہ کا بغض رکھنے اور نفرت کرنے سے باز تو آتے نہیں، ہمارے اپنے ملک کے لوگ، ہمارے آس پاس کے افراد ہم سے تنگ ہوتے ہیں لیکن ہم نے رٹ یہی لگائی ہوئی ہے کہ اسرائیل ہمارے ساتھ کچھ برا کر دے گا۔

کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ یہ اسرائیل والے ٹوپی ڈرامے اسی غرض سے کیے جاتے ہیں تاکہ ہماری توجہ ہمارے اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل نے اب تک کسی پاکستانی کے ساتھ ظلم نہیں کیا لیکن کسی دوست نے دوسرے دوست سے قرض لے کر واپس نہیں کیا ہو گا، والدین کی ڈکٹیٹرشپ بچوں پر قائم ہو گی، ان کو قابو میں ہر صورت کرنے کی کوشش کی جائے گی، دفتر میں ملازمین سے آٹھ گھنٹے سے زیادہ رگڑا لگوا کر ان کا استحصال ضرور کیا جائے گا، والدین اپنے آپ کو بخشوانے کے لیے اور اپنے شوق کے لیے بچے کو مدرسے ضرور بھیجیں گے بغیر اس کی خواہش کا ادراک کیے، عورتوں پر تشدد کی روایت عام رہے گی لیکن خطرہ پھر بھی ہمیں اسرائیل سے ہے۔

اسرائیل تو کرے گا جو کرے گا پہلے ان کی خبر گیری تو کی جائے جو اسرائیل کی آڑ میں چھپے بیٹھے ہیں اور معاشرے کی تباہی کا سبب ہیں۔ کہنے کا مقصد بس یہ ہے کہ اپنے مسائل حل کر لیں، اپنی خواہشات پوری کر لیں پھر جتنے مرضی دنیا جہاں کے فلسفوں پر بحث کریں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ میں کوئی جیو پالیٹکس ایکسپرٹ نہیں لیکن انسان ہونے کے ناتے اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہمارا مقصد کیا ہے اور یہ کہ ہم بھٹکے ہوئے ہیں۔

اور بھٹکایا بھی انھوں نے ہے جو اکثر دوسروں کو بھٹکا ہوا بتاتے ہیں۔ میرے لکھنے کا مقصد کوئی حل دینا نہیں، صرف ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے جن کی ہمارے معاشرے میں پردہ پوشی کی جاتی ہے تاکہ معاشرتی طور پر ملوکیت قائم رہے کیونکہ میرے نزدیک ہماری ریاست عام شہری پر اتنا ظلم نہیں کر رہی جتنا اس کے نام نہاد کارندے کر رہے ہیں جو ایک جمہوری اصولوں اور اداروں پر قائم ریاست کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS