ایک اور استعفیٰ آ گیا!

بابر اعظم کرکٹ کی دنیا کا ایک چمکتا دمکتا ستارہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بابر اعظم پاکستان کرکٹ کے موجودہ دور کے سب سے نمایاں کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی کرکٹ میں شاندار کارکردگی، تکنیکی مہارت، اور شاندار قیادت نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم مقام دلایا ہے۔
مگر گزشتہ رات بابر اعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ شیئر کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی کپتانی چھوڑ دی ہے اور اب وہ صرف اپنی بیٹنگ پر توجہ دیں گے، انہوں نے مزید بتایا کہ ستمبر میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ٹیم مینجمنٹ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
یہ اعلان سنتے ہی مداحوں نے بلے باز کو آڑے ہاتھوں لیا اور بری طرح ٹرول کرنا شروع کر دیا اور اس طرح سوشل میڈیا پر مداحوں کے وحشیانہ پیغامات کے ساتھ ایک نئی جنگ چھڑ گئی۔
ایک نے لکھا (دوسری کرکٹ ٹیموں کے لیے افسوسناک دن)
ایک اور نے کہا ”بابر اعظم کا استعفیٰ 2 بار، ٹرافی کوئی بھی نہیں
ایک صارف نے مزید لکھا کہ ”بابر اعظم نے دوبارہ پاکستان کی کپتانی چھوڑ دی۔ وہ اپنی ذاتی ترقی کی تلاش میں ہے، ٹیم کی ترقی کی نہیں۔“
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے کہ بابر نے سینئر قومی مینز ٹیم کی کپتانی سے استعفیٰ دیا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر نومبر میں بھارت میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد بابر نے تینوں فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی تھی۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم جب بھی کوئی میچ ہارتی ہے اس کا ذمہ دار صرف بابر اعظم کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ ذمہ داری پوری ٹیم پر عائد ہوتی ہے کہ تمام کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ بعض ناقدین بابر اعظم کی کارکردگی کو اہم مواقع پر کمزور سمجھتے ہیں، خاص طور پر بڑے میچز میں جہاں ان سے توقعات زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کی سٹریٹجک فیصلہ سازی اور اننگز کے آغاز میں محتاط رویہ بھی تنقید کا سبب بنتا ہے، جس کی وجہ سے بعض شائقین ان کی جارحیت کی کمی کو ناپسند کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ ان کے کپتان ہونے کی حیثیت سے کچھ لوگ ان کی فیصلوں اور ٹیم کی تشکیل پر سوال اٹھاتے ہیں، خاص کر جب ٹیم ہار جاتی ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر کھلاڑی کے کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے، اور بابر اعظم کی مستقل مزاجی اور عزم انہیں تنقید سے نبرد آزما ہونے میں مدد دیتی ہے، اور وہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
2023 کے ورلڈ کپ میں بری طرح شکست کھانے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے ڈریسنگ روم کی اندرونی کہانی عیاں کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں اتحاد ہی نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اتنی کرکٹ کھیلنے کے باوجود ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ کون سا شاٹ کس وقت کھیلنا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی فٹنس پر بھی سوال اٹھائے۔ گیری کرسٹن نے سینئر کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سے ٹیم کو جوائن کیا ہے میں نے ٹیم کو متحد نہیں دیکھا اور نہ یہ اتحاد میدان میں نظر آیا اور نہ ہی ڈریسنگ روم میں اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ملی۔ ہیڈ کوچ کے مطابق ایسی صورتحال بطور کوچ میں نے کہیں نہیں دیکھی۔
ملکی اور غیر ملکی مختلف ذرائع ابلاغ نے قومی ٹیم کی خراب کارکردگی پر ٹیم میں عدم یکجہتی کے شکوک کا اظہار کیا تھا، جس پر گیری کرسٹن نے تصدیق کی مہر لگا دی اور یہی وجوہات 2023 کے ورلڈ کپ کی شکست کا باعث بنی اور ٹیم سُپر 8 مرحلے تک رسائی میں بھی ناکام رہی۔ اس ساری صورتحال پر ایک محاورہ یاد آ گیا ”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت“
شائقین کرکٹ میں بابر اعظم اور ویرات کوہلی کا موازنہ بھی کرتے ہیں جو کہ ایک دلچسپ موضوع ہے، جس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ دونوں کھلاڑی اپنے اپنے دور کے بہترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کی کھیلنے کی طرز، کامیابیاں اور شخصیت میں کچھ نمایاں فرق ہے۔ ویرات کوہلی نے اپنے کیریئر میں متعدد ریکارڈز قائم کیے ہیں، جیسے کہ تیز ترین سنچریاں اور رنز کی تعداد۔ بابر اعظم نے بھی کم وقت میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن انہیں اب بھی کوہلی کے مساوی مقام حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کرنی ہوگی۔
دونوں کھلاڑیوں کی شخصیت بھی شائقین کے درمیان مختلف ردعمل پیدا کرتی ہے۔ بابر اعظم کا شائستہ اور نرم رویہ انہیں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثالی مثال بناتا ہے، جبکہ ویرات کوہلی کی جارحانہ شخصیت اور کامیابیوں نے انہیں عالمی سطح پر ایک طاقتور برانڈ بنا دیا ہے۔ بابر اعظم اور ویرات کوہلی دونوں اپنی جگہ اہم ہیں، اور ان کا موازنہ شائقین کے لیے ایک دلچسپ بحث کا موضوع ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے ملک کی کرکٹ کے لیے بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں، اور ان کی کامیابیاں کرکٹ کی دنیا کو متاثر کرتی رہیں گی۔
بابر اعظم صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ شائقین کے دلوں کی دھڑکن بن چکے ہیں۔ ان کے کھیلنے کا انداز، ان کی کامیابیاں، اور ان کا عاجزانہ رویہ انہیں شائقین کے درمیان مقبول بناتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے فینز کی تعداد بھی بے حد بڑھ گئی ہے، اور وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال بھی ہیں۔
بابر اعظم کی یہ خواہش ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر کامیابیاں دلائیں اور اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے ملک کا نام روشن کریں۔
کسی بھی کھلاڑی کا استعفیٰ ایک بڑی بات ہوتی ہے، اور اس کا اثر نہ صرف ان کی ذاتی کیریئر پر بلکہ پوری ٹیم کی کارکردگی پر بھی پڑتا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ مستقبل میں بابر اعظم کی کارکردگی کیا رنگ لاتی ہے اور پاکستان کرکٹ کا مستقبل کیسا ہو گا۔
اس کے ساتھ ہی ایک خبر بھی دیتی چلوں کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے پاکستان پہنچ گئی ہے، دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹیسٹ 7 اکتوبر سے اور دوسرا ٹیسٹ 15 اکتوبر سے ملتان میں کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا ٹیسٹ 24 اکتوبر سے راولپنڈی میں شروع ہو گا۔ ٹیسٹ کی کپتانی کی ڈور شان مسعود کے ہاتھوں میں اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی نگرانی میں قومی کھلاڑی انگلش بلے بازوں کو شکست دے پائیں گے یا نہیں، یا پھر بنگلہ دیش کی طرح انگلینڈ بھی ہمارے شاہینوں کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر چاروں شانے چت کر دے گا۔
دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ بابر اعظم کے بعد کپتانی کا سہرا کس کے سر سجے گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کا انحصار کئی عوامل پر ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) عموماً کپتان کے انتخاب میں کھلاڑیوں کی کارکردگی، قیادت کی صلاحیت، اور ٹیم کی ضروریات کو مدنظر رکھتا ہے۔
مداحوں کا کہنا ہے کہ اب تک محمد رضوان کی پرفارمنس سب سے بہتر ہے اس ناتے ان کی قیادت کی صلاحیت بھی قابل غور ہونی چاہیے۔ کپتان کا انتخاب اکثر ٹیم کی موجودہ حالت، مستقبل کے منصوبوں اور کھلاڑیوں کی قیادت کی صلاحیت پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ پی سی بی مستقبل میں کس کھلاڑی کو کپتان مقرر کرتا ہے۔
