علم کے دشمن


ہپاٹیہ سکندریہ کے شاندار علمی دور میں پیدا ہوئی تھی۔ اُس کے والد کا نام تھیون تھا ۔وہ اپنے دور کا ماہر ریاضی دان اور ماہر فلکیات تھا ۔ اُس نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لئے ایتھنا دیوی کے شہر ایتھنز بھیجا تھا۔ ہپاٹیہ نے اپنے والد اور سکندریہ کے نامور ریاضی دانوں، سائنس دانوں سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ اُس نے ریاضی ، فلکیات ، فلسفہ کو اپنی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیا تھا ۔ وہ ریاضی اور فلکیات کی اعلیٰ ترین اُستاد تھی۔ اُس کاایک طالب علم سے اعلیٰ ترین اُستاد کا سفر تب مکمل ہوتا ہے جب اُس نے اپنا تعلق کتاب سے جوڑا ، علم سے محبت کی ،جی بھر کر مطالعہ کیا، دنیا بھر کے علوم کو جاننے کی سعی کی۔ اُس کے حلقہ درس میں یونان ، میسو پوٹیمیا ، روم ، ہندوستان سے طلبا آتے تھے ۔ اُس کا فلسفہ نو فلاطونی فلسفہ تھا جس سے وہ ایک انسان کو دوسرے سے مربوط کر کے طاقتور کرنا اہم سمجھتی تھی ۔ اُس نے زندگی سائنس اور فلسفہ کے لئے وقف کر دی تھی۔ اِس لئے اُس نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہی فلسفہ اور سائنس ایک دن اُس کی موت کا سبب بن جائے گا ۔ اقوام عالم کی کتابوں میں درج ہے کہ جب وہ مصری کتان اور چینی ریشم کے زعفرانی لبادے میں ملبوس پروقار انداز میں درس گاہ میں داخل ہوتی تو طلبا اور درس سننے والے اُس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اُس کا ارغوانی لبادا ایتھنز کے ماہر خیاط تیار کرتے تھے جو اُس کے جسم پر خوب جچتا تھا ۔ تھیو پولس سکندریہ کا بشپ تھا وہ بھی اُس کا شاگرد تھا ۔ وہ باقاعدگی سے درس میں شامل ہوتا تھا اور اپنی استاد کا احترام کرتا تھا ۔ سکندریہ میں یہودی صدیوں سے آباد تھے مگر ہپاٹیہ کا خاندان فلسفی اور فطری سائنس سے جڑا ہوا تھا ۔ اُس کا درس نہایت علمی اور سائنسی بنیادوں پر ہوتا تھا جس کی وہ عملی مثالوں سے وضاحت کرتی تھی ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ زمین گول دائرے کی طرح ہے۔ زمین اور ستاروں کے راستے آسمانوں میں ہیں اور ہر ایک قوت سے مربوط ہیں اِس لئے ستارے کبھی زمین پر نہیں گرتے ۔

اُس نے ایک شاگرد کے سوال کے جواب میں کہا ۔’ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ تمہارے پاوں عین کائنات کے درمیان میں ہیں ؟ کائنات نے تمام چیزوں کو پکڑ رکھا ہے اور ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے‘۔ اگر کائنات کا کوئی مرکز نہ ہوتا تو اُس کی کوئی شکل بھی نہ ہوتی اور کچھ بھی نہ ہوتا بلکہ ہم بھی پیدا نہ ہوتے ۔یہ تھا اُس عظیم خاتون کا نظریہ کائنات (COSMOS )۔ حکومت روم کی جانب سے سکندریہ میں ایک گورنر مقرر ہوتا تھا جبکہ بشپ عیسائی مذہب کا محافط ہوتا تھا، گورنر کو’ پرفیکٹ‘ کہا جاتا تھا جبکہ تھیوپولس بشپ تھا جو سب مذاہب کا احترم کرتا۔ جب وہ مرگیا تو اُس کا بھتیجا سائرل جس کو بشپ کا عہدہ دیا گیا وہ صحرائی علاقے سے آیا تھا اور خود کو عیسائیت کا مجاہد کہتا تھا ۔ ہم دیکھیں تو ہمارا پورا ملک ایسے مجاہدوں سے بھر اپڑا ہے ۔سکریٹس سکالسٹیکس لکھتا ہے کہ وہ ایک متکبر اور بے رحم قسم کا بشپ تھا ۔ ایک اور معروف تاریخ دان ’ایڈورڈگبن‘ انحطاط رومہ کے باب 28 میں بشپ سائرل کے بارے لکھتا ہے کہ اُس کے ہاتھ سونے اور خون سے رنگے ہوئے تھے ۔ اُس نے سکندریہ کی سیکولر سوسائٹی میں انتشار پیدا کر کے سب کچھ تباہ کر دیا تھا ۔ اُس نے عیسائی فرقہ Novatians کو ناپسندیدہ قرار دےدیاحالانکہ وہ نہایت امن پسند لوگ تھے ۔اُس نے اُن کے گرجوں پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا ۔ یہاں 700 سال سے یہودی آباد تھے۔ اُس نے اُن کے ہیکلوں کو مسمار کر دیا اور تمام دولت ، روپیہ ، پیسہ لوٹ کر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا ۔ وہ سکندریہ کے سیکولر فلسفیوں ، سائنس دانوں ، پروفیسرز کو’ کافر‘ کہتا تھا ۔ وہ خاص کر اُس وقت کی نامور سائنس دان ، فلسفی ہپاٹیہ کی مقبولیت سے حد درجہ حسد کرتا تھا ۔ ہپاٹیہ کے حلقہ درس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہوتے تھے اور اُس کے علم سے مستفید ہوتے تھے۔ وہ چاہتا تھا کہ سکندریہ سے اِن تمام کافروں کا خاتمہ کیا جائے۔

تب اُس نے اپنے غنڈوں کے ہمراہ جامعہ میوزین پر حملہ کردیا ،یہ اتوار کا دن تھا ۔ بعینہ ہمارے ملک میں بھی اِس طرح کے حملے ہوتے رہتے ہیں انسان مرتے رہتے ہیں۔ اُس نے پیٹراور ہتھیاروں سے لیس لشکر کے ساتھ حملہ کر دیا ۔ ہپاٹیہ اپنے رتھ میں سوار ہو کر وہاں سے نکل گئی لیکن سائرس اور اُس کے ساتھی غنڈوں نے ہپاٹیہ کا رتھ روک لیا اور گھسیٹ کر رتھ سے نیچے اُتار لیا وہ اُس کو گھسیٹتے ہوئے بڑے چرچ میں لے گئے۔ وہاں سائرل کی موجودگی میں پہلے اُس سائنس دان ، فلسفی کے کپڑے پھاڑے گئے ، پتھر مارے گئے ، جان سے مارا گیا ، لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا اورشہر سے باہر لے جا کر لاش کے ٹکڑوں کوجلا دیا گیا ۔اِس طرح سکندریہ میں سائنس اور فلسفے کے سنہری دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ جب اس شہر کی بنیاد رکھی گئی تھی تب دنیا بھرسے علم دوست انسان مل کر یہ شہر بسا رہے تھے۔یہ مصر کا ایک تاریخی شہر ہے جس کو سکندر یونانی اپنے نام کی نسبت سے بسانا چاہتا تھا ۔اُس کا ماننا تھا کہ اُس کو اِس شہر بارے ہومر نے خواب میں اشارہ دیا تھا ۔ اس کو دنیا کی قدیم بندرگاہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔اِس شہر کو تعمیر کرنے کے لئے بہترین منصوبہ بندی کی گئی ،ایتھنز ، روم ، میسو پوٹیمیائی، سیریا، مصر کے ماہر تعمیرات کو شہر کی تعمیر کا ذمہ سونپا گیا ،اِس جگہ پر ایک چھوٹا سا گاوں تھا ۔جس کا نام (RHAKOTISM ) تھا ۔ تب شہر کی تعمیر کا آغاز کیا گیا تو شہر کی حد بندی کے لئے لکیریں لگانا مقصود تھیں لیکن چونا دستیاب نہیں تھا ۔تب چونے کی جگہ پر آٹے سے لکیریں لگائی گئیں ، ابھی آٹے سے لکیریں لگائی جا رہی تھیں کہ اچانک سمندر کی جانب سے بے شمار پرندوں کا غول بادل کی طرح اُمڈ آیا اور اُس نے فورََا آٹے کی لکیروں کو کھا لیا پرندوں کا وہ غول اُڑ گیا اور آٹے سے لگائی گئی وہ لکیریں ختم ہو گئیں ۔ تب اِ س کو برا شگون سمجھا گیا مگر سکندر کے ساتھ اُس کے نجومیوں کا گروہ تھا۔ جب اُن سے اِ س بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ برا نہیں بلکہ نہایت اچھا شگون ہے ۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کے بنائے گئے اِس شہر میں دنیا بھر سے لوگ آکر اِس کی شان بڑھائیں گے اوریہاں سے اپنا رزق حاصل کریں گے ۔تب یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی ، جب یہ شہر تعمیر ہو چکا تو اُس وقت دنیا کا خوب صورت ترین شہر تھا ۔ بھوری اور سرمئی عظیم الشان عمارتیں اِس کی عظمت کوظاہر کرتی تھیں ۔ جب جب اِ س شہر کا نام لیا جائے گا تب تب ہپاٹیہ کا نام قطبی ستارے کی مانند چمکتا ہوا نظر آئے گا ۔ یہ تاریخ کی سچائی ہے کہ سچ کا سامناہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے انسانی تاریخ طرح طرح کی ناانصافیوں ، جبر، ظلم ، استحصال سے بھری پڑی ہے لیکن انسانوں کے دلوں میں علم ، امن ، محبت اور ترقی کا خواب کبھی ختم نہیں ہو سکتا ۔ سائرس جیسے شدت پسند کے سامنے سچ بولنے کی جرات ہپاٹیہ میں تھی ، ایران کے ناصر الدین قاچار کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرات قرةالعین علی ،طاہرہ زریں تاج میں تھی ، بلخ میں بھائی کے ہاتھوں سوئے عدم روانہ ہونے والی رابعہ بلخی نے کٹتے ہوئے ہاتھوں سے اشعار لکھے تھے ۔

تم نے سقراط کو زہر دیا
علی اِبن اَبی طالب کو شہید کیا گیا
سرمد کا سر تن سے جدا کیا گیا
گلیلیو کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا
بھگت سنگھ کو پھانسی پر چڑھایا گیا
محترمہ فاطمہ جناح پر فتوے لگائے گئے
رعنا لیاقت علی کو ملک سے بھگایا گیا
محترمہ بے نظیر کو لاکھوں لوگوں کے سامنے مارا گیا

یہ سب فتح مند بہادروں کی طرح آج بھی زندہ ہیں لیکن تم انسانیت کے حافظے میں اُن لاشوں کی طرح زندہ ہو جنہیں آج تک کسی نے نہیں دفنایا ۔ تم تاریخ کے کوڑا دان میں یونہی پڑے رہو گے یہی تاریخ کی سچائی ہے ۔

یہ اٹل حقیقت ہے کہ تاریخ کا پہیہ واپس نہیں موڑا جا سکتا مگر ہم عوام کا قافلہ جہاں بھی پہنچے گا وہاں علم ، امن ، محبت ، بھائی چارے کے پیڑ کی چھاوں درکار ہو گی۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ہم چھاو¿ں کے لئے علم ، امن، محبت اور بھائی چارے کے پیڑ لگانا شروع کریں گے تاکہ اُن کے گھنے سائے میں ہم خوش اور محفوظ ترین زندگی بسر کر سکیں ۔ہم نے77 سال کا دورانیہ ضائع نہیں بلکہ برباد کیا ہے۔ اب ہمارے پاس برباد کرنے کے لئے کچھ نہیں بچا ہے۔ زمین پر انسان نے سائنس اور مختلف فنون میں مہارت حاصل کر کے نئی نئی ایجادات کی ہیں۔ اشیاءکی پیداوار کو بڑھایا ہے، نوعِ انسانی کے لئے آسانیاں پیدا کی ہیں ، نیکی اور ترقی کا راستہ اختیار کیا ہے ۔ ہم ایسا کیوں نہیں سوچتے ، یہ سوچنے والی بات ہے ۔

Facebook Comments HS