مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل


11 ستمبر 2001 کے حادثے کے بعد بہت سے مسلمان شناخت کے جذباتی اور نظریاتی بحران سے گزر رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں نے پہلی بار قرآن کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے۔ وہ اپنے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا اسلام ایک امن پسند مذہب ہے؟ اور جہاد کے اصلی معنی کیا ہیں؟ پچھلی چند صدیوں میں اسلامی مفکرین نے اسلام‘ قرآن اور اسلامی تاریخ کی جو تفسیریں پیش کی ہیں وہ مختلف ہی نہیں متضاد بھی ہیں۔ 11ستمبر 2001 کے بعد ساری دنیا کے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر میں خود کش بمباروں کی بڑی تعداد مسلم ممالک کی تربیت یافتہ ہے۔ مسلمانوں سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ عرب ممالک کے خود کش حملہ آور دہشت گرد terrorists ہیں یا حریت پسند freedom fighters ؟ جب ہم اسلامی دنیا کی پندرہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کو چار گروہوں اور چار روایتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

۱۔ روحانی روایت SPIRITUAL ISLAM

مسلمانوں میں صدیوں سے روحانی روایت سے تعلق رکھنے والے صوفیا کے پیروکار چلے آ رہے ہیں۔ یہ مسلمان اسلام کی اصل روح اور خوشبو سے واقف ہیں۔۔ پیغمبرِ اسلام کی زندگی میں ہی کچھ لوگ ایسے تھے جو ’اصحابِ صفہ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے مادی زندگی کو ترک کر کے اپنی زندگی کو اسلام کی روحانی تعلیمات کے لیے وقف کر دیا تھا۔

مسلمان صوفیا کی روایت دو روایتوں سے متاثر ہوئی۔ پہلی روایت عیسائیت کے راہبوں SAINTS اور یہودیوں کے کیبیلسٹوں KABBALISTS کی روایت تھی اور دوسری روایت ہندوئوں کے سنتوں SANTS اور سادھوئوں SADHUS کی روایت تھی۔ پہلی روایت کے پیروکار ’ہمہ از اوست‘ کے عقیدہ پر ایمان رکھتے تھے جس کا مطلاب ہے کہ ساری کائنات خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ خدا خالق ہے اور دنیا مخلوق جبکہ دوسری روایت کے پیروکار ’ہمہ اوست‘ کے عقیدے پر ایمان رکھتے تھے جس کا مطلاب ہے کہ کل کائنات خدا ہے۔ ’لا موجود الا الللہ ‘۔ دوسری روایت کے پیروکاروں کو عام مسلمانون نے قبول نہ کیا بلکہ ان کا جینا

 محال کر دیا۔ اس کی ایک مثال منصور حلاج تھے جنہوں نے ’انالحق‘ کا نعرہ لگایا تو ان پر کفر کا فتویٰ لگا اور ان کو سولی پر چڑھا دیا گیا۔

بہت سے صوفیا عوام میں بہت مقبول ہوئے کیونکہ وہ عوام سے محبت کرتے تھے۔ وہ مولویوں کی طرح فتوے جاری کرنے کی بجائے لوگوں کے عقیدوں اور طرزِ زندگی کا احترام کرتے تھے۔ ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ جب مسلم صوفیا ہندوستان تشریف لائے تو ان کے کردار سے متاثر ہو کر بہت سے ایسے ہندو مسلمان ہو گئے جو ہندو ذات پات کی اونچ نیچ سے نالاں تھے۔ ایسے ہندوئوں کو اسلام کی صوفیانہ روایت میں امن‘ آشتی اور برابری کی روایت نظر آئی۔ صوفیا انسانیت کی اعلیٰ اقدار کے قائل امن پسند انسان ہیں اور بہت سے مسلمان صوفیا کی روایت کو ہی اسلام کی اصل روایت سمجھتے ہیں۔

۲۔ فلسفے اور حکمت کی روایت PHILOSOPHICAL ISLAM

اسلامی دنیا میں روحانی روایت کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ روایت بھی پروان چڑھ رہی تھی۔ یہ روایت اس وقت اپنی معراج پر پہنچی جب مسلمانوں نے یونانی فلسفیوں سقراط‘ افلاطون اور ارسطو کی تخلیقات کا عربی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ اس وقت تک عربوں اور ایرانیوں میں بے شمار مسلمان فلسفی بھی جنم لے چکے تھے۔ ان فلسفیوں میں الکندی‘ الفارابی‘ ابن رشد‘ ابن سینا اور ابن خلدون سر فہرست تھے۔ ابن سینا نے طب کی ایسی کتب تخلیق کیں جو کئی صدیوں تک یورپ کے مختلف ممالک کی درسگاہوں میں نصابی کتب کا درجہ رکھتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمان فلاسفر دو گروہوں میں بٹ گئے۔

پہلے گروہ کے فلاسفر سائنس اور ریاضی کو انسانی ارتقا میں الہامی کتب کے علوم سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ یہ نظریہ کئی صدیوں تک تاریخی لحاظ سے مسلمانوں کے نظریات میں بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ پھر امام غزالی کی تحریریں سامنے آئیں جو دوسرے گروہ کی نمائندہ تھیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ جب سائنس اور الہامی کتب میں تضاد ہو تو مسلمانوں کو الہامی کتب سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی بہت سے مسلمان سائنس اور ریاضی کے علوم کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ جدید علوم حاصل کرنے سے ان کا ایمان کمزور ہو جائے گا۔

ماضی قریب میں جن جن مسلمان رہنمائوں نے دوبارہ مسلمانوں کو جدید علوم سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی ان میں سر سید احمد خان اور غلام احمد پرویز سرِ فہرست ہیں۔ پروفیسر اقابل احمد نے پاکستان میں ایک ترقی پسند یونیورسٹی کے قیام کا خواب بھی دیکھا تھا۔ پروفیسر پرویز ہود بھائی نے اسلام اور سائنس کے حوالے سے ایک اہم کتاب تخلیق کی ہے جو مسلمانوں کے عروج و زوال کی دردناک کہانی سناتی ہے۔

۳۔ بیناد پرست روایت FUNDAMENTALIST ISLAM

بیناد پرست مسلمان پچھلی چند صدیوں سے طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کا ایمان ہے کہ اسلام نہ صرف ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے بلکہ اٹل بھی ہے اور وقت کے گزرنے کے ساتھ اس میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ پچھلے پندرہ سو سالوں کی کوئی بھی جدید علم و حکمت کی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس گروہ کے رہنمائوں نے اپنے مسلک کی مسجدوں اور مدرسوں کے ذریعے سیاسی طاقت حاصل کی ہے۔ یہ لوگ تمام مسلم ممالک میں موجود ہیں اور سادہ لوح اور کم پڑھے لکھے مسلمانوں پر حاوی ہیں۔

بنیاد پرست مسلمانوں نے وہابی اور سلفی مسالک اور ابنِ تیمیہ اور سید قطب کی تعلیمات کو اپنا رہنما بنایا۔

۴۔ سیاسی روایت POLITICAL ISLAM

سیاسی روایت کے پیروکار مسلمانوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں قانونی اور آئینی لحاظ سے اقتدار میں آنے کی کوشش کی ہے۔ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے بعد بعض مسلمان حکمرانوں نے آزاد خیالی کو اپنایا اور اقلیتوں کے حقوق اور عزتِ نفس کا خیال رکھا لیکن بعض مسلمان مطلق العنان حکمران بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی بلکہ اقلیتون اور عورتوں کو زندہ در گور کر دیا۔

پچھی چند دہائیوں میں ساری دنیا نے دیکھا کہ ایران میں آیت الللہ خمینی‘ پاکستان میں  ضیا الحق اور اٖفغانستان میں اسامہ بن لادن اور ملا عمر نے ایک اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان حکومتوں سے وہ لوگ بہت پریشان ہوئے جو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا احترام کرتے ہیں۔

یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ بیسویں صدی کے اوائل میں امتِ مسلمہ میں کئی روشن خیال اور سیکولر سوچ کے رہنما پیدا ہوئے تھے جن میں ترکی کے کمال اتاترک‘ ہندوستان اور پاکستان کے محمد علی جناح‘مصر کے جمال عبدالناصر اور ایران کے محمد مصدق شامل ہیں۔ ان ممالک میں امریکہ اور برطانیہ نے مداخلت کر کے ان رہنمائوں کو ہٹایا اور ایسے حاکم لائے جن کو وہ کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر سکیں۔ ایران میں سی آئی اے CIA نے مصدق کو ہٹا کر شاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کو اقتدار دے دیا۔ امریکہ نے پاکستان میں جمہوری قائد ذالفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھا کر فوجی رہنما ضیا الحق کو مطلق ا لعنان حکمران بنا یا تا کہ وہ افغانستان میں روسی اشتراکیت کے خلاف امریکہ کی مدد کر سکے۔ سی آئی اے نے ہی اسامہ بن لادن کو بھی سعودی عرب سے افغانستان بھیجا ۔ اسامہ اس وقت تک مجاہد اور حریت پسند تھا جب تک وہ روس کے خلاف جنگ لڑتا رہا تھا لیکن وہ اس وقت دہشت گرد بن گیا جب اس نے امریکہ کے خلاف جنگ شروع کر دی۔

مسلمانوں کا مستقبل

11 ستمبر 2001 کے سانحے کے بعد بہت سے مسلمان مذہب اور سیاست کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مغربی دنیا کے بہت سے جمہوریت پسند رہنما اس وقت پریشان ہو جاتے ہیں جب وہ مسلم ممالک میں ان رہنمائوں کو الیکشن جیتتا دیکھتے ہیں جو انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتے اور ایک مذہبی ریاست THEOCRATIC STATE کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ پریشانی داعش ISIS کی مقبولیت کے بعد اور بھی بڑھ گئی ہے۔

ساری دنیا میں مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو انسان دوست HUMANISTS ہے۔ یہ لوگ ایک ایسا سیکولر نظام چاہتے ہیں جہاں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مراعات حاصل ہوں گے۔

آج کے دور میں اسلامی تعلیمات کی مختلف ہی نہیں متضاد تفسیریں اور تعبیریں پیش کی جا رہی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سے مسلم اور غیر مسلم پریشانی سے پوچھتے ہیں ’ اصل اسلام کیا ہے؟‘

اکیسویں صدی میں مسلمان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں اس صدی میں کچھ اہم فیصلے کرنے ہیں۔ ساری دنیا یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ کیا وہ مذہبی ریاستیں THEOCRATIC STATES بنائیں گے یا سیکولر ریاستیںSECULAR STATES قائم کریں گے جہاں تمام شہریوں کو خاص طور پر عورتوں اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق اور مراعات حاصل ہوں گے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail