موسمیاتی تبدیلیاں۔ وجہ گلوبل وارمنگ یا۔ ۔ ۔
دنیا بھر میں موسموں میں شدت اور تبدیلی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ موسمی تبدیلیاں جیسے کہ غیر معمولی بارشیں، گرمی کی لہریں، سردیوں کی شدت میں اضافہ، اور بڑھتے ہوئے سمندری طوفان نہ صرف قدرتی ماحول کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ انسانوں کی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
آئیے ان اسباب پر نظر ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے موسموں میں شدت آ رہی ہے۔
صنعتی دور کے آغاز کے بعد سے انسانی سرگرمیوں جیسا کہ فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں، گاڑیوں کے اخراج اور فوسل فیول کے استعمال میں روز افزوں اضافے کی وجہ سے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں زمین کی سطح کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے موسموں میں شدت آ رہی ہے اور غیر متوقع تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔
ماحولیات پر کام کرنے والے انٹرنیشنل ادارے کی گلوبل کلائمیٹ رپورٹ 2023 کے مطابق سنہ 1850 سے ہر دس سال میں زمین کا درجہ حرارت 0.11 فارن ہائیٹ کے حساب سے بڑھ رہا تھا اور 1982 تک اس میں کل 2 ڈگری کا اضافہ ہوا، لیکن صنعتی ترقی کی وجہ سے اب اس اضافے کی رفتار 3 گنا ہو چکی ہے، یعنی اب ہر دس سال میں زمین کا درجہ حرارت 0.36 فارن ہائیٹ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو گلوبل وارمنگ بھی کہتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ کا ہی نتیجہ ہے کہ سال 2023 اب تک کی انسانی تاریخ کا گرم ترین سال رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ کے اہم اثرات میں انتہائی موسم، گلیشیئرز پر جمی ہوئی برف کا پگھلنا، سطح سمندر میں اضافہ، جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ، بڑھتی ہوئی خشک سالی، خوراک اور پانی کی کمی اور صحت کے خطرات شامل ہیں۔
جنگلات کا کٹاؤ بھی موسمی تبدیلیوں کا ایک بڑا سبب ہے۔ جنگلات زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور بارشوں کی مقدار کو بھی متوازن کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بے تحاشہ درخت کاٹے تو جاتے ہیں لیکن نئے نہیں لگائے جاتے اس کی وجہ سے قدرتی توازن بگڑتا جا رہا ہے، جس سے موسموں میں شدت آتی جا رہی ہے۔
یو این کے ذیلی ادارے خوراک اور زراعت کے مطابق پاکستان میں صرف 2.2 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں لیکن ہماری گورنمنٹ کا دعویٰ ہے کہ ہمارے کل رقبے کا 5.2 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جب کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت 21.71 فیصد، بنگلہ دیش 11 فیصد، سری لنکا 32 فیصد، برطانیہ 13.22 فیصد اور امریکا میں کل رقبے کا 32.2 فیصد جنگلات پر مشتمل ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں فی شخص تقریباً پانچ درخت ہیں، جو کہ عالمی اوسط 422 درختوں سے بہت ہی کم ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں فی شخص 28، برطانیہ میں 43، جبکہ کینیڈا میں 8،953 درخت ہیں۔
زراعت میں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کا بڑھتا ہوا استعمال، مٹی کی بناوٹ اور ماحول کو متاثر کرتا ہے۔ یہ کیمیکلز زمین کی زرخیزی کو کم اور پانی کے ذخائر کو آلودہ کرتے ہیں۔ جس سے خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔
بڑے پیمانے پر شہری ترقی، جیسے کہ عمارتوں کی تعمیر، سڑکوں کا پھیلاؤ اور دیگر انفراسٹرکچر، زمین کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ کنکریٹ اور اسفالٹ کی سطحیں زمین کی حرارت کو بڑھاتی ہیں اور بارش کے پانی کو زیرِ زمین جذب ہونے سے روکتی ہیں، جس سے سیلاب اور دیگر موسمی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
آئیے اب موسموں میں آنے والی شدت کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
موسموں میں شدت انسانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ گرمی کی لہریں اور سردیوں کی شدت بزرگوں، بچوں، اور بیمار افراد کے لئے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ جیسا کہ دمہ، سانس اور دل کے امراض میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
کرہ ارض سے جانوروں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرہ لاحق ہے۔ خوراک کے ذرائع میں کمی اور رہائش گاہوں کو پہنچنے والے نقصانات سے ان کی تولیدی عادات میں خلل پڑ رہا ہے۔ انٹرنیشنل سائنس۔ پالیسی پلیٹ فارم آن بائیو ڈائیورسٹی اینڈ ایکوسسٹم سروسز کے مطابق گولڈن ٹوڈ، کورلاس، گرین سی ٹرٹل، پولر بیئر، چینک سالمن، ایڈیلی پینگوئن، وہیلز، بمبل بی کی کئی اقسام، شارکس اور ہاتھوں سمیت 10 ہزار سے زیادہ سپیشیز ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کا مزید کہنا کے کہ اگر سنہ 2100 تک درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ کا متوقع اضافہ ہو گیا تو زمینی مخلوقات کا 18 فیصد یا تو بالکل ختم ہو جائے گا یا شدید خطرات کی زد میں ہو گا۔
موسمی شدت کے اثرات معاشی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سیلاب، خشک سالی، اور دیگر قدرتی آفات سے معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی، عمارات کی تباہی، اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے اخراجات معاشی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
موسمی شدت سماجی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب قدرتی آفات رونما ہوتی ہیں تو لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑتی ہے، جس سے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، ان آفات کی وجہ سے سماجی عدم استحکام بھی پیدا ہوتا ہے۔
آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے اور ہم اس کے حل میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات، جیسے کہ جنگلات کی بحالی اور حفاظت، پانی کے ذخائر کی حفاظت، اور ماحولیاتی قوانین کا نفاذ، موسمی شدت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
فوسل فیول کے بجائے متبادل توانائی کے ذرائع، جیسے کہ شمسی، ہوائی، اور بایو ماس کے استعمال کو فروغ دینا چاہیے تاکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی آئے۔
شہروں کی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی عوامل کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ حکومت قانون سازی کے ذریعے شہریوں کو اپنی آبادیوں میں نہ صرف زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگانے پر مجبور کرے بلکہ آبادیاں قائم کرنے اور ٹاؤن بنانے والوں کے لیے بھی ضروری ہو کہ وہ پارکس اور گراؤنڈز کے لیے مناسب جگہ چھوڑیں۔
اربن فاریسٹنگ، پانی کے نکاسی کے نظام کو بہتر بنانے، اور ماحول دوست عمارات کی تعمیر موسمی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
زراعت میں ماحول دوست طریقے اپنائیں جیسا کہ نامیاتی کھادوں کا استعمال اور کیمیائی ادویات کی بجائے قدرتی طریقوں کا انتخاب، مٹی اور ماحول کے لئے بہتر ہو سکتا ہے۔
عوام میں موسمی تبدیلیوں کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا بھی اہم ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو ماحول دوست طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔
موسموں میں شدت اور تبدیلیاں ایک حقیقی اور سنگین مسئلہ ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے اسباب میں ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، زرعی سرگرمیاں، اور شہری ترقی شامل ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف زرعی پیداوار اور انسانی صحت پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام اور معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ ممکنہ حل میں ماحولیاتی تحفظ، متبادل توانائی کے ذرائع کا استعمال، شہری منصوبہ بندی، زرعی تکنیکوں میں تبدیلی، اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنا شامل ہیں۔ اگر ہم ان مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں تو ہم موسمی شدت کو کم کر سکتے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

