سوشل میڈیا اور ہماری ذمہ داری
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے بیان کر دے۔ آج کل کے سوشل میڈیا کے دور میں اس حدیث پر عمل کرنا تو ہمارے لیے از حد ضروری ہے۔ ہم ہر وقت کوئی نہ کوئی سوشل میڈیا ایپ استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام ٹویٹر، واٹس ایپ اور ان جیسی سینکڑوں ایپس کسی بھی پیغام کو ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک فوری پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔ اگر درست بات، کوئی معلومات یا سچی خبر شیئر کر دی جائے تو یہ ایک اچھی بات ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ کوئی بھی بات بغیر تحقیق کیے آگے شیئر کر دیتے ہیں اور نادانستہ طور پر جھوٹ پھیلانے میں استعمال ہو جاتے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ تو دانستہ یہ عمل کرتے ہیں۔ بقول منیر نیازی :
جو خبر پہنچی یہاں تک اصل صورت میں نہ تھی
تھی خبر اچھی مگر اہل خبر اچھے نہ تھے
اور پھر سیاسی جماعتوں نے جس طرح اپنے اپنے سوشل میڈیا ونگز بنا کر خبریں پھیلائیں، پروپیگنڈا کیا اور حقائق کو تروڑ مروڑ کر پیش کیا ایسی کارکردگی پر تو شیطان بھی شرما جاتا ہو گا۔ رائی سے پہاڑ بنانے کا محاورہ سوشل میڈیا نے سچ کر دکھایا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے مشہور امریکی دانشور نوم چومسکی کے مرنے کی خبر چل پڑی، کسی عقلمند نے انہیں میل کر کے پوچھا کہ جناب آپ زندہ ہیں؟ تو ان کا جواب آیا ”بھائی ابھی تک تو زندہ ہوں“ ۔
مخالف سیاسی رہنماؤں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں ایسی ایسی خبریں اور تصاویر فوٹوشاپ کر کے پھیلا دی جاتی ہیں کہ الامان الحفیظ۔ اور ہم لوگ یقین بھی کر لیتے ہیں۔ رہی سہی کسر مصنوعی ذہانت کی ایپس نے پوری کر دی۔ اب نہ صرف تصاویر بلکہ آواز اور ویڈیوز بھی فیک مل جاتی ہیں۔ چند دن پہلے کشور کمار کی آواز میں ایک ان سنا سا گانا سنا، معلوم ہوا کسی نے مصنوعی ذہانت کی ایپ استعمال کر کے گانا بنا دیا۔ یقین جانیے ہم اس میں بالکل فرق محسوس نہ کر سکے۔
سوشل میڈیا پر مشاہیر سے منسوب اقوال اور شعراء سے منسوب اشعار بہت زیادہ نشانہ بنے ہیں۔ اقبال اور فراز سے جو جو اشعار منسوب کر دیے گئے ہیں ان کی روحیں یقیناً تڑپ اٹھتی ہوں گی۔ پہلے ہم دیواروں پہ حکیموں کے اشتہارات پڑھا کرتے تھے کہ شوگر کا خاتمہ، ۔ فلاں کمزوری بالکل ختم، مگر جناب اب یوٹیوب پر ہر بندہ ڈاکٹر ہے۔ ہر بندے کے پاس ہر چیز کا حل موجود ہے۔ اور تو اور کسی محکمے کی جانب سے چھٹی کے فیک نوٹیفکیشن گردش کرنے لگ جاتے ہیں اور بچے سکول سے چھٹی کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ فیک نیوز سیاسی اور مذہبی تشدد کی ترویج کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ ابھی چند دن پہلے موٹروے پر ایک فیملی کے چار افراد کی موت کا ذمہ دار ایکسپائرڈ جوس اور کھانے پینے کی چیزوں کو ٹھہرایا گیا۔ بلکہ ایک مشہور بیکری کا نام بھی لے لیا گیا، جبکہ حقیقت بعد میں کچھ اور نکلی۔
صاحبو ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا اور فیک نیوز کے اس دور میں اساتذہ اور والدین پہلے اپنی اور پھر بچوں کی تربیت پر خاص توجہ دیں۔ انہیں بتائیں کہ کسی بھی قسم کی بات پر یقین کر لینے اور اسے آگے پھیلانے میں معاون ہونے کے بجائے اس کی خوب تحقیق کر لیا کریں۔ اور ہمیشہ مستند ذریعے سے آئی ہوئی بات پر توجہ دیں۔ ہم سب کو حضور پاک کی بیان کی گئی اس حدیث کو اپنا معیار بنا کر کوئی بھی بات کسی بھی میڈیا پر پیش کرنی چاہیے۔


