مکمل ضابطہِ حیات اور مذہب کا مقدمہ


ضابطۂ کا ماخذ ”ضبط“ ہے۔ جس سے مراد قابو میں رکھنا یا کنٹرول کرنا ہے۔ مگر ضابطہِ حیات کا عمومی مطلب رہن سہن اور زندگی کرنے کا قاعدہ مستعمل ہے۔ چند افراد جہاں اکٹھے رہتے ہیں وہ آپس میں امن اور آشتی سے رہنے کے لیے کچھ قواعد و ضوابط مقرر کر لیتے ہیں۔ یہ عمل ایک گھر سے لے کر ایک محلے، شہر اور پورے ملک و معاشرے کے امن اور آشتی کے لیے لازمی قرار پاتا ہے۔ معاشرہ کا لفظ بھی ”عَشَر“ سے ماخوذ ہے جس کے معانی دس کے ہیں۔ گویا اگر کسی جگہ دس یا زائد گھر اکٹھے ہوں تو جو ماحول وجود میں آئے گا اس کو ”معاشرہ“ کہا جا سکتا ہے۔ آسان زبان اور عام فہمی کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی ریاست کے قوانین ہی دراصل وہاں کے باسیوں کے لیے ضابطہِ حیات ہوتے ہیں۔ مگر جب ہم ”مکمل ضابطہ حیات“ کی بات کرتے ہیں تو وہاں بات AMBIGUOUS (کثیرالمعانی) ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قواعد و ضوابط انسانوں کے لیے ایک خاص معاشرے میں رہ کر زندگی گزارنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور یہ دونوں یعنی معاشرہ اور زندگی ساکت اور جامد اشیاٗ نہیں۔ یہ تغیر پذیر عوامل ہیں۔ لہٰذا ان میں کاملیت ممکن نہیں ہے۔ کامل یا مطلق یا ABSOLUTE کی اصطلاحات جامد اشیا کے لیے استعمال کی جاتی ہیں ہیں۔ تغیر پذیر PHENOMENON یا عمل کبھی مطلق نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا جو شے مطلق نہیں ہر دم تغیر پذیر ہے اس کے لیے بنائے جانے والے ضابطے اور اصول مطلق اور کامل کیسے رہ سکتے ہیں؟

مذہب کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی حضرت انسان کی۔ انسان کے شعور حاصل کرنے کی کہانی بہت دلچسپ اور عجیب ہے۔ شعور دماغ کا مظہر ہے اور کرہ ارض کا سب سے بڑا انقلاب انسانی دماغ میں شعور کا ظہور پذیر ہونا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انسانی شعور فطرت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ اس کا سب سے پہلا مظہر غار میں رہنے والے انسان کا پھندا بنا کر جانور کا شکار کرنا بتایا جاتا ہے۔ آج سے دس ہزار سال قبل سمیری انسانوں کا ایک گروہ وہ پہلی انسانی تہذیب تھی جو غار سے نکل کر دریا کے کنارے آباد ہوئی۔ یہ جگہ دریائے دجلہ اور فرات کے ڈیلٹا پر موجودہ عراق کے علاقے میں واقع تھی۔ یہی تاریخی کتب میں انسانوں کی پہلی تہذیب کہلائی۔ قدیم تاریخوں کے تراجم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ترین تہذیبوں نے بھی انسانوں کو حکمرانِ وقت کے ماتحت رکھنے کے لیے مذاہب کی بنیاد رکھی۔ دُنیا کی تاریخ کا پہلا ضابطہ حیات، سمیری تہذیب کے فرماں روا حمورابی نے وضع کیا تھا۔ جو بتیس نکات پر مشتمل تھا۔ اس مضمون میں اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مگر وہ ضابطہِ حیات اس زمانے کے رسم و رواج کے مطابق تھا۔ اس زمانے میں دیوتاؤں کی صورت میں ایک سے زیادہ خداؤں کا رواج تھا۔ ملک کا بادشاہ خداؤں کا خلیفہ یا زمین پر دیوتاؤں کا ’پرتو‘ مانا جاتا تھا۔ غاصب اور طاقتور فرماں روا اپنے دارالخلافہ جس کو مندر کہا جاتا تھا، میں بیٹھ کر محنت کش عوام سے جزیہ اور سجدے وصول کرتا تھا۔ پھر جب غیر مذہبی انسان مندر کے مجاوروں سے جنگیں جیت کر اقتدار پر قابض ہوئے تو مذہبی پیشوائیت سے دشمنی بر قرار رکھنے کی بجائے دوستی کر لی۔ اب طاقت کے دو مراکز بن گئے : بادشاہ اور مذہبی پیشوا۔ گویا آج کے زمانے میں حکمرانوں اور مذہبی پیشواؤں کے گٹھ جوڑ کی تاریخ کئی ہزار سال پر محیط ہے۔

آگے چل کر خدا کے تصور نے ارتقائی منازل طے کیں۔ قدیم تہذیبوں جن میں سمیری تہذیب، مصری تہذیب، چینی تہذیب اور یونانی تہذیب قابلِ ذکر ہیں۔ خدا کا تصور مختلف شکلیں بدلتا رہا۔ کئی ہزار سال تک ’زمین‘ اور ’عورت‘ کو بھی خدا کا درجہ حاصل رہا کیونکہ انسان کے اس وقت کے شعور کے مطابق دونوں خوراک اور تخلیق کے ذرائع تھے۔ پھر ایک ہزار برس قبل مسیح سے لے کر چھ سو سال بعد مسیح کا دور آتا ہے جہاں پر خدا منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ اب عقلِ انسانی خدا کے وجود پر سوالات اُٹھانے لگی تھی۔ لہٰذا مذہبی پیشوائیت کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس کی وجودیت کو آنکھوں سے اوجھل کر کے امر کرنے کی کوشش کریں۔

زرتشت تقریباً 700 سال قبل مسیح ایران میں وہ پہلا نبی تھا جس نے اپنے خُدا: ”آہورا مزدا“ کے غائب و حاضر و ناظر کا تصور پیش کیا۔ اور دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اور خدا وحی کے ذریعے اس سے کلام کرتا ہے۔ زرتشت کے پیرو کار آج بھی دنیا میں موجود ہیں اور پارسی کہلاتے ہیں۔ ان کی مقدس کتاب کا نام ”آوِستا“ ہے۔ زرتشت نے مذہب کو باقاعدہ ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا اور خُدا، وحی، حیات بعد الموت، بہشت، دوزخ، نیکی اور گناہ کا تصور پیش کیا۔ یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ زرتشت کی روایت سے متاثر ہو کر مشرقِ و سطیٰ کے ابراہیمی مذاہب؛ یہودیت، عیسائیت اور اسلام نے بھی خُدا، وحی، حیات بعد الموت، نیک اعمال بد اعمال، جنت اور جہنم جیسے تصورات کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا ہو۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں اسلام میں نمازوں کے اوقات سورج سے وابستہ ہیں اور بالکل زرتشت مذہب سے ہم پلہ ہیں۔ مگر ابراہیمی مذاہب نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی ہدایات ابدی ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی جیسا کہ قرآن کی سورت الفتح کی آیت نمبر 23 کا ترجمہ ہے :

”یہ اللہ کا دستور ہے جو پہلے لوگوں میں گزر چکا ہے اور تم اس میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔“

حضرت عیسیٰ کے پندرہ سو سال بعد انسانی شعور کا ارتقا اس مقام پر پہنچ چکا تھا کہ مذہب کے جامد قوانین اور انسانی زندگی کی تغیر پذیریت کے درمیان تصادم ہو گیا۔ اس خلفشار کی بے شمار مثالیں یورپ میں نظر آتی ہیں۔ گویا یورپی مفکرین کو یہ احساس سب سے پہلے شدت سے ہوا کہ مذہب کو ریاست کے معاملات سے الگ کرنا ضروری ہے۔ اس سوچ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھی دو تین سو سال لگ گئے۔ بالآخر Renaissance نشاۃ ثانیہ روح پذیر ہوئی اور عیسائی مذہب کو کلیسا تک محدود کر دیا گیا اور نیشن اسٹیٹ کا تصور پروان چڑھنے لگا۔ یورپ میں 90 فی صد ممالک میں یہ اصول ملکی قوانین میں درج ہے کہ :

آپ کیا عقیدہ رکھتے ہیں اور آپ کا مذہب کیا ہے؟ ریاست کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ آپ اپنے عقائد و عبادات کو جیسے چاہیں سر انجام دیں مگر آپ اپنا عقیدہ اور مسلک دوسرے لوگوں پر مسلط نہیں کر سکتے اور نہ ہی کھلے عام تبلیغ دین کر سکتے ہیں۔ بلکہ کینیڈا کے قوانین میں یہ شق شامل ہے کہ جہاں مذہبی عقائد اور ملکی قوانین کا تصادم ہو گا وہاں ملکی قوانین کو مقدم سمجھا جائے گا۔ یہ فکر کس قدر انسان دوست اور حقیقی آزادی کی علمبردار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہذب اقوام میں انسانی عقیدے اور مسلک کو ایک پرائیویٹ مسئلہ مانا جا چکا ہے۔ ریاست یہ ذمہ داری نہیں لیتی کہ آپ کو ایک باعمل عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ یا مسلمان ہونا چاہیے۔ اس سے قطع نظر یہ عام فہم کی بات ہے کہ اگر یہ ذمہ داری ریاست لیتی ہے کہ وہ مجھے کسی خاص مسلک کے عقائد کا پابند کرے تو پھر جزا اور سزا کا معاملہ بھی حکمرانوں سے ہونا چاہیے نہ کہ مجھ سے۔ اور اگر مذہبی احکامات میرے عقیدے کے مطابق میرے لیے ہیں تو یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ مجھ سے ان احکامات پر عمل درآمد کروائے۔

میرا ریاست کے ساتھ سوشل کنٹریکٹ (سماجی معاہدہ) ریاست کے قوانین کی پاسداری کی صورت میں ہے۔ میں ریاست کے قوانین ماننے کا پابند ہوں جو عوام کے منتخب نمائندے اس ریاست کے تمام باسیوں کے لئے بناتے ہیں۔ ریاست کے منتخب نمائندے ہزاروں سال پرانی مذہبی روایات کو سامنے رکھ کر اگر کوئی قانون وضع کرتے ہیں تو اس سے زیادہ خطرناک کوئی کام نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہزاروں سال پرانے قبائلی معاشروں اور آج کے جدید معاشروں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہم دیکھتے ہیں اکثر ترقی یافتہ ممالک میں ملکی قوانین کی پیروی مذہبی فرائض سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ اس کے لیے میں چین کی مثال پیش کروں گا جہاں دنیا کی آبادی کا 17.39 فی صد آباد ہے۔ چین کا ملکی قانون کسی مذہب کے تحت نہیں بنا اس کے باوجود چین دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بننے جا رہا ہے۔ اسی طرح جاپان کسی مذہب کو مکمل ضابطہ حیات مان کر نہیں چل رہا۔ مگر جاپان سب سے زیادہ نظم و ضبط کی حامل قوم ہے۔

ہر ملک میں کچھ عرصے کے بعد ملکی قوانین میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ اس کی وجوہات ہر لمحے آگے بڑھتی سائنسی ترقی اور انسانی ضروریات، انسانی جان کی حفاظت اور امن جیسی ضروریات ہیں۔ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ ہر شعبے میں اپنے قدم جما رہی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا جو انقلاب گزشتہ صدی سے جاری ہے وہ مذہب کے ساکن اور منجمد عقائد کی بقا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ بہت سے قدیم عقائد، افسانے اور روایات Expose ہونے جا رہی ہیں وہ وقت دور نہیں جب آپ دو تین ہزار سال پُرانی آوازیں دوبارہ سن سکیں گے پھر حقیقت، عقیدت کا بھانڈا پھوڑ دے گی۔ اگر میں کینیڈا کی 4 کروڑ آبادی میں مذہبیت کی بات کروں تو صورت حال کچھ یوں ہے :عیسائی 50 فی صد، مسلمان 4 فی صد، ہندو اور سکھ 4 فی صد جب کہ 42 فی صد کینیڈین شہری دہریہ ہیں۔ کینیڈا میں دہریہ لوگوں کی تعداد 2021 میں 34 فی صد تھی جو تین سال میں 42 فی صد ہو چکی ہے۔ شمالی امریکہ، یورپ اور بالخصوص سکینڈے نیوین SCANDINAVIAN ممالک میں بھی دہریت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا پھر میں دہریہ مسلک کی تعداد 500 ملین ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 7 فی صد ہے۔

اس وقت کینیڈا میں 27000 عبادت گاہیں برائے فروخت ہیں۔ جب ہم 2025 ء میں پہنچیں گے تو 9000 مزید عبادت گاہیں بند ہو چکی ہوں گی۔ تقریباً یہی صورتِ حال امریکہ اور یورپ میں ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں آپ کے ذاتی کوائف میں، نوکری کی درخواست سمیت شناخت کے کسی مسودے پر مذہب کا خانہ نہیں ہے۔ اگلی صدی کے آغاز تک مہذب معاشروں میں مذہب پر بحث کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایسی صورتِ حال میں یہ کہنا کہ ”ہمارا دین مکمل ضابطہِ حیات ہے“ ایک کلیشے سے زیادہ کچھ نہیں۔ انسانوں کے لیے ضابطہ ِحیات صرف اور صرف ملکی قوانین ہونے چاہئیں۔ تمام قدامت پسند مذہبی معاشروں کو امن پسند، روشن خیال اور خوشحال معاشرے تشکیل دینے کے لئے مذہب کا معاملہ انسان کا ذاتی معاملہ قرار دے کر ریاستی معاملات سے الگ کر دینا چاہیے۔

Facebook Comments HS