توہین، الزام اور قتل: شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
سندھ کے شہر عمر کوٹ میں توہین مذہب کے مقدمے کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر شاہنواز کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ شاہنواز کے رشتے داروں کے مطابق وہ ڈپریشن اور ہائپر ٹینشن کے مریض تھے اور ان کا علاج آغا خان ہسپتال میں جاری تھا۔
اس اندوہناک واقعے پر شدید رد عمل سے حکومت کو مجبوراً ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میر پور خاص کو معطل کرنا پڑا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد سوشل میڈیا پر ڈاکٹر شاہنواز نے ایک وڈیو بیان میں کہا کہ میری مذکورہ فیس بک آئی ڈی بہت پرانی ہے جو وہ اب استعمال نہیں کرتے۔ پولیس، ایف آئی اے اور رینجرز کو اپنا کام کرنے دیں جس سے ہر چیز واضح ہو جائے گی۔
گزشتہ دس بارہ سال میں کئی ایسے پر تشدد واقعات ہوئے جس میں ہجوم نے توہین مذہب کے نام پر عبادت گاہوں اور عام شہریوں پر حملے کیے۔ دنیا کے 95 ممالک میں توہین مذہب کے قوانین موجود ہیں لیکن ان ممالک میں ہجوم ماورائے عدالت قتل نہیں کرتے کیونکہ وہ ریاستیں اپنے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہجوم کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں خوفناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب توہین مذہب کے الزام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مبینہ طور پر تشدد میں ملوث ہونا پریشان کن ہے۔
مشتاق یوسفی سے ایک بار کسی عربی نے کہا کہ ”مسلمان تو ہم بھی ہیں لیکن آپ لوگ تو مسلم اکثریتی ملک بنا کر باؤلے ہی ہو گئے ہیں۔“ بقول جلیل حیدر لاشاری:
ہم کو جکڑا ہے یہاں جبر کی زنجیروں نے
اب تو یہ شہر ہی زندان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے۔
تشویش ناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شدت پسند عناصر ریاست اور نظام پر اثر انداز ہو کر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیں۔ پاکستان اسی طرح کی صورتحال سے دوچار ہے۔ شدت پسندی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے کر ریاست اور اس کے نظام کو چیلنج کر رہی ہے۔ ہمارے تمام ابلاغی ادارے کسی نہ کسی دباؤ کے تحت انتہا پسندی میں شریک ہیں۔
انسانیت کی سلامتی کے دعوے داروں اور قانون کے محافظوں نے اس ملک میں ایک اور انسان کو اس لیے قتل کر دیا کہ اس پر توہینِ مذہب کا الزام تھا۔
ڈاکٹر شاہنواز کمبھر قانون کا سامنا کرتے ہوئے خود کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتے تھے۔ انہیں کراچی سے گرفتار کر کے میر پور خاص پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ جہاں پولیس نے مبینہ طور پر ملا سرہندی نامی فتنہ پرداز کے ساتھ مل کر ڈاکٹر سے توہینِ رسالت کے الزام کا اعترافِ جرم ویڈیو میں کروانا چاہا ڈاکٹر کے انکار پر انہیں شدید تشدد کے بعد قتل کر کے پولیس مقابلہ کہہ کر جھوٹ بولا گیا۔ اس وقت چار سو سے زائد افراد توہین مذہب کے الزام میں قید ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ یہ صورتحال ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم لاکھ انکار کریں، مگر توہینِ رسالت کی سزا کے قانون کا مبینہ طور پر مسلکی تنازعات میں توہینِ رسالت کے قانون کے استعمال سے ہم خود اس قانون کو غیر موثر بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ توہین رسالت کے حوالے سے ان واقعات پر نظر ڈال لیں۔
• 2014 ء میں کوٹ رادھا کشن میں میاں بیوی کو ہجوم نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر نہ صرف قتل کیا بلکہ ان کی لاشیں بھی اینٹوں کے بھٹے میں جلا دی گئیں۔
•گوجرہ میں کئی مسیحی شہریوں کو زندہ جلا دیا گیا۔
• گوجرانوالہ گرجاکھ میں ایک امام مسجد کو قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق تلف کرنے پر ان کے مسلکی مخالف نے توہینِ قرآن کا الزام لگایا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا، مقدمہ کے اندراج کے بعد توہین قرآن کے جرم پر انہیں سزا دلوانے کی مہم شروع ہو گئی۔ علماء کرام کی مداخلت سے ان کی جان بچی۔
• کھیالی میں ایک حافظِ قرآن کو سڑک پر گھسیٹ کر تھانے لے جایا گیا اور موت کے گھاٹ مسلکی عناد کی وجہ سے اتارا گیا۔
• کھوکھرکی، میں توہینِ رسالت میں چند مسیحی افراد کو ملوث ظاہر کر کے ان کی گرفتاری کے لیے عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ کمشنر گوجرانوالہ نے دانش مندی کی کہ فوری طور پر شہر کے سرکردہ علماء کرام سے رابطہ کیا جن کی بروقت مداخلت نے صورتحال کو کنٹرول کر لیا۔ یہ کارروائی کاروباری رقابت میں چند لوگوں کو پھنسانے کے لیے کی گئی تھی۔
•گوجرانوالہ میں ہی ایک بڑے دینی ادارے کے دروازے پر جناب نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی پر مشتمل پرچیاں تقسیم ہوئیں، جس سے علاقے میں اشتعال پھیلا اور لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ اس موقع پر بھی مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شہر کو بڑے فساد سے بچایا تحقیقات پر معلوم ہوا کہ گستاخانہ پرچیاں مقامی کاروباری رقابت کا نتیجہ تھیں۔
•سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں سری لنکا کے ایک شہری کو توہینِ رسالت کے الزام میں لوگوں نے مارا لیکن وہ الزام غلط ثابت ہوا۔
• جون 2024 میں سوات کے علاقے مدین میں سیالکوٹ کے ایک سیاح کو توہینِ قرآن کے الزام میں ہجوم نے مار ڈالا۔
• کوئٹہ میں ( ستمبر 2024 ) توہین رسالت کے الزام میں عبد العلی کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خروٹ آباد تھانے کی پولیس نے حراست میں لیا اور ان کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا۔ پولیس سٹیشن کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد کی موجودگی کی وجہ سے ملزم کو کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا۔ جہاں ایک پولیس اہلکار نے فائرنگ کر کے عبدالعلی کو ہلاک کر دیا۔
•سرگودھا میں قرآنی اوراق ڈبے سے نکل کر گرنے پر ایک مسیحی گھرانے کو نشانہ بنایا گیا اور ایک عمر رسیدہ فرد کی جان چلی گئی۔
•جڑانوالہ میں توہین کے نام پر مسیحی بستی کو آگ لگا دی گئی۔
سچ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہ نواز اور دوسروں کو اس بے دردی سے محض الزام کی بنیاد پر قتل کر دینا اور ان کی لاشوں تک کی بے حرمتی کرنا کیا انسانیت کہلا سکتا ہے۔ کیا اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے؟ قرآن مجید میں بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ سو ڈاکٹر شاہ نواز یا کسی دوسرے بے گناہ کا قتل انسان نہیں، انسانیت کا قتل ہے۔ کیا ایسے سانحات کو مذہب کی خدمت کہا جاسکتا ہے۔
اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ریاست، انتہا پسندی کے خلاف سماج کے تمام مکاتب فکر کو اکٹھا کر کے واضح پالیسی کا نفاذ کرے جس سے شدت پسندی کی روک تھام ہو۔ اگر ہمیں معاشرے کو سماجی ارتقا کی طرف لے جانا ہے تو ہمیں متحد ہو کر ان اشتعال انگیز کارروائیوں کے خلاف سماجی رویوں کو مضبوط کرنا ہو گا۔ خدا کرے کہ ڈاکٹر شاہنواز کمبھر توہینِ مذہب پر ماورائے عدالت قتل ہونے والا آخری فرد ہو۔ اور بے گناہوں کو مذہبی اور مسلکی تنازعات کا ایندھن بنانے کا قبیح عمل رک جائے۔


