مینگورہ تا مردان، براستہ جی ٹی روڈ


اپنے امیرِ کارواں اور اُن کے نائب، دعوت و تبلیغ کے منجھے ہوئے کاریگروں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ ایک زمانے سے اس میدانِ کارِزار کے کاردار ہیں۔ ملک کا چپہ چپہ تو چھان مارا ہے اس دشت کی تبلیغی سیاحت میں، بیرونِ ملک بھی درجنوں ’کافروں‘ کو مسلمانوں کے حسنِ اخلاق اور ایمانداری کا چکمہ دے کر مشرف بہ اسلام کروا چکے ہیں۔ دونوں خوش مزاج اور زندہ دل بندگانِ خدا میں سے ہیں، ۔ ہم میں اور اُن میں واضح فرق یہ ہے کہ عمر کے لحاظ سے ہم بچگانہ اوصاف کے مالک، تجرباتِ زندگی میں وہ اُستادانہ اوصاف کے مالک۔ امیر محترم ہر اُس معاملے میں اپنی مرضی ٹھونسنے کا اہتمام فرمایا کرتے ہیں، جہاں خطرہ ہو دولت کے اسراف کا۔

اُن کا ماننا ہے کہ پیسہ بسوں کے کرایوں میں فراوانی سے لگانے کی بجائے پیدل مارچ کر کے ثوابِ دارین بھی حاصل کیا جا سکتا ہے، مفت میں خدا بھی راضی، ٹانگوں کی ورزش بھی اور سپلیمنٹ میں دریائے سوات کے گنگناتے پانی کا مفت میں سیر سپاٹا بھی۔ امیر صاحب ہمارے شمالی کان میں گوشمالی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ خداوندِ ذوالجلال نے یہ جو دو ٹانگیں ودیعت کی ہیں ہمیں، ان سے اور کیا کام لیں گے، سوائے چلنے کے؟ یہی ارشادِ امیرانہ، ہم جنوبی کان سے نکال باہر کرتے ہیں اور چُپ سادھ لیتے ہیں، تو وہ دوسرا آپشن پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”ہاں، اگر پیدل نہیں جایا جاتا تو کسی سائیکل رکشہ یا چنگ چی کے پائیدان پر لٹکتے ہوئے یا پھر بس کی چھت پر ہلکان ہوتے ہوئے کیوں نہ جایا جائے، آدھے ٹکٹ میں“ ۔ امیرِ محترم کی ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر اُن کا دَم نکلے لیکن ہم اُن کی ہاں میں ہاں ملانے والے نہیں۔ بسم اللہ جی۔ مینگورہ کے بس ٹرمینل میں ہمارے جماعت کے ارکان اور گاڑی ڈرائیور کے مابین، مردان تک کرایہ پر طویل بارگیننگ کی نشست جیسے ہی اختتام پذیر ہوتی ہے، ویسے ہی ہمیں ایک مائل بہ پرواز اُڑن کھٹولے میں خود کو ٹانگنے کا ’گو تھرو‘ دیا جاتا ہے۔ یہ گاڑی اُس دور کی اِنٹیک ہے، جس کو ماضی بعید میں ائر کنڈیشنڈ فلائنگ کوچ سروس کا استحقاق حاصل رہا ہے، اِس کا سٹیٹس اب اُس چاند گاڑی کے برابر ہے جس کو قبلِ مسیح دو ر میں گٹّو کہا جاتا تھا۔

تو ہاں، کئی بیگ اور بستر سیٹ کے نیچے ٹھونسے، کوکنگ کا سامان پاؤں تلے رکھا اور کچھ اشیائے خورد و نوش گود میں رکھ کر خود کو بھی جیسے تیسے ایڈجسٹ کیا، متعلقہ کوچ میں۔ اتنے ساز و سامان کے بیچ میں ہمارا چہرہ خلقِ خدا کو نظر آ رہا ہے، بڑی بات ہے جس پر اللہ کے شُکر کا واجب ہونا بنتا ہے۔ امیر صاحب کا فرمانا ہے ہر حالت میں شُکر ادا کرنا چاہیے، چاہے آپ حالت نزع میں کیوں نہ ہوں۔ پائلٹ نے کوچ کے ایکسیلریٹر کو مقدور بھر شور شرابا کرنے اور مقدور بھر دھواں پھیلانے کا ٹھیکہ تفویض کر کے متحرک کیا، بیک وقت ہم نے آنکھوں کو اپنی ہٹّی بند کرنے کا انڈیکیٹر دے کر ساکت کیا۔ ایک کوئیک وقفہ لینے کی اجازت ہے؟

کچھ دیر میں آنکھیں کھلیں تو دماغ بھی حرکت میں آ گیا۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں تو پتہ چلا کہ تھانہ بائی پاس سے نکل کر چکدرہ کے بارڈر کو ٹچ کرنے والے ہیں۔ یہاں کے لہلہاتے چاول کی کھیتیاں سیلاب میں بہہ کر سمندر بُرد ہو گئیں تو اُن خالی زمینوں پر نان کسٹم پیڈ کاروں کے بارگین سنٹرز، بڑے بڑے ریسٹورنٹس اور شادی ہالز بن گئے۔ اب یہاں ایک اور کاروباری رجحان بھی رو بہ ترقی ہے۔ مختلف قسم کے ڈرائی فروٹ جیسے پستہ، بادام، اخروٹ، مونگ پھلی اور کاجو وغیرہ دیدہ زیب پیکنگ اور خوب صورت سٹالوں میں سجے جگہ جگہ آویزاں ہیں جو دھیان کو فوری طور پر اُس طرف موڑتے ہیں۔ آگے برلبِ سڑک پودوں اور پھولوں کی نرسریز کے سجے سجائے بہار بازار نے ہماری سوچ و فکر کی رو کو اُسی طرف موڑ دیا۔ سوات موٹر وے پر چکدرہ میں ایک وسیع و عریض انٹرچینج بن چکا ہے، یہ علاقہ مستقبل قریب میں اِس ریجن کا معاشی مرکز بننے جا رہا ہے۔

بٹ خیلہ کے عقبی بائی پاس سے گزرتے ہوئے دریائے سوات کے بیچ میں چلتی پڑی غلاظتیں اور آس پاس کناروں پر گندگی کے ڈھیر سے لگتا ہے گویا یہ میونسپلٹی کا کوئی سنٹرل کچرا گھر ہو۔ یہ دریا اتروڑ، اُوشو سے لگ بھگ ایک سو ستر کلومیٹر سفر طے کر کے یہاں پہنچتا ہے۔ راستے میں کئی خوڑ، آبشاریں، چشمے اس میں شامل ہوتے ہیں اور سوات، تھانہ اور بٹ خیلہ کے وسیع علاقے کو سیراب کرتا ہوا اور پورے وطن کو معتدل موسم، حیاتیاتی تنوع، ہری بھری پہاڑیوں اور جادوئی حسن سے نواز کر پیچھے دیکھے بغیر چلتا بنتا ہے۔ اِس دریا کی اِس دریا دلی کے بدلے میں ہم نے اپنے مکانوں، ہوٹلوں پلازوں اور دیگر عمارات کے ٹائلٹس اور گندے پانی کا بہاؤ دریا کی طرف کر کے ثابت کیا ہے کہ ہم واقعی ’زندہ دِل قوم‘ ہیں۔ بٹ خیلہ بازار کے عقب میں یہ معاملہ اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے۔

اب یہ پانی آبپاشی کے لئے تو استعمال ہو سکتا ہے لیکن گھریلو استعمال کے لئے نہیں۔ اس دریا میں مچھلیوں کی بہتات ہوا کرتی تھی اور مقامی باشندے جال وغیرہ کے ذریعے اس کا شکار کرتے تھے مگر اب یہ باتیں قصۂ پارینہ ہیں۔ مالاکنڈ پہاڑی میں موجود شوگر والے چشمہ پر زائرین کا بوتلوں سمیت حملہ اُسی طرح جاری ہے، جیسا دہائی قبل تھا۔ عصر کی نماز درگئی میں ادا کرتے ہیں، سفرانہ نماز کا اپنا مزہ ہے، لیکن ہمیں استحقاق حاصل نہ ہے۔ کوچ ہر پل ہر قدم رُکتی ہے کبھی کبھی چلنے بھی لگتی ہے۔ کنڈیکٹر نعرے لگاتا ہے، اُترنے والوں کو تیار رکھنے کے لئے آنے والے شہر کا نام بتاتا ہے، سٹاپ پر کھڑی سواریوں کو مردان پشاور کی نان سٹاپ کوچ کے نام پر بہلا کر اٹھاتا ہے۔ اس بھاؤ تاؤ میں شیر گڑھ آ جاتا ہے۔ مغرب کی اذانیں شروع ہوتی ہیں۔ ایک چھوٹی سی مسجد کے سامنے ’ہوائی بیڑہ‘ کھڑا ہو جاتا ہے۔ مسجد کی محراب کے اوپر ایک زنگ زدہ سا وال کلاک نصب ہے جس کے نیچے ایک نوٹس چسپاں ہے، لکھا ہے، ”نماز اِس گھڑی پر ہوگی۔“ اُسی گھڑی کے مطابق نماز ادا کر کے چلتے بنتے ہیں مردان کی طرف۔ فی الحال فی امانِ اللہ۔

ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

Facebook Comments HS