لبنان کو دار الامن بنانے کی ضرورت ہے
لبنان کو سن ستر کی دہائی تک مشرق وسطیٰ کا سویٹزرلینڈ اور پیرس بھی کہا گیا۔ یہاں بحیرہ روم کا خوبصورت ساحل اور اس کے ساتھ ہی دیودار کے درختوں سے آراستہ برف پوش پہاڑوں اور سرسبز و شاداب میدانوں کو دیکھتے ہوئے ایسا بالکل نہیں لگتا کہ یہ خطہ صحراؤں اور بے آب و گیاہ بیابانوں کے لئے مشہور مشرق و سطیٰ میں واقع ہے۔
دیودار، کھجور، سفیدہ، سنگترہ، خوبانی، آڑو، شہتوت، انگور، سیب، زیتون، انجیر، بادام، بید، برگد سب ہی درخت ایک ہی جگہ دیکھنے ہوں تو وہ جگہ لبنان ہے۔ یورو ایشین اور انڈو افریقن پلیٹوں کے علاوہ یہاں حیاتیاتی تنوع میں مشرق بعید کی نمائندگی بھی ہے۔ مقامی جنگلی حیات کے علاوہ موسمی پرندوں کی ایک اہم گزرگاہ بھی ہے۔
یہاں بسنے والوں انسانوں میں یونانی، آرمینی، ترک، مصری، عراقی، فلسطینی، شامی اور کہیں کہیں منگول خد و خال والے بھی نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے اس ملک سے 70 ء سے 90 ء کی دہائی کے دوران ہوئی خانہ جنگی کی وجہ سے ایک کروڑ لوگ ہجرت کر چکے ہیں جن کی جگہ شام، فلسطین اور عراق کی خانہ جنگی سے جان بچا کر آئے پناہ گزینوں اور مہاجرین نے لے لی ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں مہاجرین کی تعداد مقامی لوگوں کی نسبت دوگنی ہے۔
عہد عتیق میں لبنان میں یونانیوں نے زہرہ اور مشتری دیوتا کے معبد بنائے جن میں انسان کے ہاتھوں تعمیراتی تاریخ کے بہت بڑے پتھر استعمال کیے گئے ہیں جن کی لمبائی 60 فٹ اور وزن 12 سو ٹن تک ہے۔ بعض گرینائٹ پتھر کے ستون 400 قبل مسیح کے زمانے میں مصر سے یہاں لائے گئے ہیں جو از خود انسانی کاریگری اور حکمت و طاقت کی مثال ہیں۔ بدلتے موسموں، ثقافتی یلغار اور تہذیبی بدلاؤ نے اپنے دور کی شان و شوکت کے ان استعاروں کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے مگر یہاں آ کر کوئی بھی جدید دور کی سائنس و حکمت کی ترقی کے ارتقائی سفر کا راستہ بہ آسانی ڈھونڈ سکتا ہے۔
میخائل نعیمی اور جبران خلیل کے وطن لبنان میں لوگوں کی تعلیم میں بہت دلچسپی ہے جہاں شرح خواندگی 95 فیصد سے زیادہ ہے۔ دو امریکی یونیورسٹیاں تو صرف ایک بیروت شہر میں ہیں جہاں اعلیٰ درجے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مشرق و سطیٰ، یورپ اور امریکہ میں تارکین وطن لبنانی اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ اسلامی ملکوں میں سب سے زیادہ پرنٹنگ پریس سے استفادہ لبنان میں ہی کیا گیا ہے جس کی وجہ سے جدید و قدیم اسلامی کتب یہی چھپتی رہی ہیں۔ یہاں لوگوں سے فقہ اور مذہب پر بات کرتے ہوئے اصل متن اور ترجمہ پڑھنے میں فرق کا احساس ہوتا ہے۔ یہاں چھپی جدید و قدیم کتابوں کا دیگر زبانوں میں ترجمہ حسب ضرورت ہی ہوا ہے یا لیکن، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ کے ساتھ بریکٹوں میں اپنی منشا ڈال کر ترجمہ کیا گیا ہے جو غیر عرب قاری کو مضمون کی روح سے دور رکھتا ہے۔
لبنان میں مسلمانوں کے شیعہ اور سنی مسالک کے حنبلی، شافعی، حنفی، اثنا عشری، اہل حدیث، دروز اور دیگر متکبہ ہائے فکر کے لوگ موجود ہیں۔ مسیحیوں میں، رومن کیتھولک، اور پروٹسٹنٹ کے ساتھ میرانائٹ، فینیقی، یونانی، آرمینی بنیاد پرست (آرتھوڈاکس) چرچ جابجا نظر آتے ہیں۔ مگر سب مسالک کے لوگ دوسروں پر برتری کے بجائے مذہب کو ہر شخص کا اپنا ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں۔
لبنان کی سرحدیں شمال کی طرف شام، اور جنوب کی جانب فلسطین اور اسرائیل سے براہ راست ملتی ہیں۔ جنوبی علاقوں میں اسرائیل کی بار بار دراندازی، مداخلت اور جنگ کی وجہ سے ہنگامی صورت حال رہتی ہے۔ دریائے لیطانی یا نہر اللیطانی کی دوسری جانب اسرائیل نے بار بار دراندازی کی جس کے نتیجے میں شہریوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ آخری بار 2006 ء میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی امن فوج تو آ گئی مگر امن نہ آ سکا۔ متحارب گروپ مسلح ہیں جس کی وجہ سے نہتے شہری ان کے رحم و کرم پر رہتے ہیں۔
لبنان کے لوگ جنگ سے بیزار ہیں وہ طویل عرصے تک آپس میں لڑتے رہے ہیں۔ اب وہ اپنی شناخت بھی مذہبی وابستگی کے ساتھ نہیں کرتے۔ ہر شخص جلوت اور خلوت میں اسلام علیکم کے بجائے ’اہلاً و سہلاً‘ کہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہاں کسی کے پہناؤے سے دوسروں کا ایمان خراب نہیں ہوتا نہ کسی کے خیالات اور نظریات سے دوسرے گمراہ ہوتے ہیں۔ گھر میں بہو کسی اور مذہبی پس منظر سے ہے تو بیٹی کسی اور ثقافتی دنیا کا حصہ ہے مگر والدین دونوں کے لئے دعا گو رہتے ہیں۔
رات دیر تک دکانیں، ریسٹورنٹ اور میخانے کھلے ہوتے ہیں جو عموماً نوجوان لڑکے لڑکیاں چلاتے ہیں۔ رات گئے نوجوان لڑکیاں اپنی دکان، ہوٹل یا بار بند کر کے اکیلی شہر کی دوسری جانب اپنے گھر جاتی ہیں تو کوئی ان کو پریشان نہیں کرتا۔ بنگالی اور افریقی خواتین عموماً گھروں میں کام کرتی ہیں۔ جب اہل خانہ کسی ریسٹورنٹ میں کھانے کے لئے جاتے ہیں تو ان گھریلو ملازمین کو بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے۔
یہاں ہر شخص مسکرا کر ملتا ہے ہر وقت دوسروں کی مدد کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب کسی جگہ کا پتہ پوچھا جائے تو لوگ اپنا کام چھوڑ کر راہنمائی کرنے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ ہر آنکھ میں اپنائیت اور ہر چہرے پر مسکراہٹ اور زبان پر اہلا و سہلاً یا حبیبی کا پیغام رہتا ہے۔ اگر کسی کے پاس یہ تحائف نہ ہوں تو سمجھو کہ وہ لبنانی نہیں۔
لبنان شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ یہاں کی کرنسی بالکل ختم ہو چکی ہے۔ ایک ملین لبنانی پونڈ سو امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ چھوٹی بڑی دکانوں، ٹیکسی اور ریستورانوں میں امریکی ڈالر میں کاروبار ہوتا ہے۔ بجلی کچھ گھنٹوں کے لئے آتی ہے مگر شہر صاف ستھرے اور لوگ ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ اس قدر شدید اقتصادی بحران اور کساد بازاری کے باوجود لوگوں کے کھانے پینے اور پہناوے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔
لبنان کے جنوب میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جہاں ایک بڑی تعداد فلسطینی اور شامی مہاجرین کی بھی آباد ہے۔ مہاجرین میں بیوہ عورتیں، یتیم بچے اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو محنت و مشقت کے علاوہ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ایک لبنانی دوست نے کہا کہ ’لبنان مشرق و سطیٰ کی سیاست کا شاخسانہ ہے جو پہلے خود اس کا شکار ہوا اور اب یمن، عراق، فلسطین اور شام میں جاری خانہ جنگی کا بوجھ مہاجرین کی صورت میں اٹھائے ہوئے ہے‘ ۔
لبنان کے تارکین وطن اپنے رشتہ داروں اور ہم وطنوں کو زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ بعض گاؤں ایسے بھی ہیں جن کے سکول، ہسپتال اور دیگر رفاہ عامہ کے ادارے سمندر پار لبنانی چلاتے ہیں۔ خانہ جنگی سے متاثرہ اور تباہ ایک پورا شہر بیرون ملک بسنے والے لبنانی تارکین وطن نے دوبارہ آباد کیا جہاں اب ریستوران، دکانیں اور سنیما گھر بنائے گئے ہیں۔ اس شہر کو مختلف ممالک میں بسنے والے تارکین وطن نے اپنے ملکوں کے نام پر بلاک میں تقسیم کیا اور دوبارہ آباد کیا ہے۔
بیرونی مداخلت کے باعث لبنان کی اندرونی سیاسی فضا ہمیشہ پرخار رہتی ہے۔ وزیر اعظم رفیق حریری کو شام کی ایما پر 2005 ء میں قتل کیا گیا۔ 2022 ء سے اب تک لبنان کی پارلیمنٹ ایک درجن سے زائد بار کی کوششوں کے باوجود ملک کا آئینی صدر منتخب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں کے درمیان ایک معاہدہ کے تحت اشتراک عمل سے ایک حکومتی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت صدر مسیحی، وزیر اعظم سنی اور پارلیمنٹ کا سپیکر شیعہ مسلمان ہونا قرار پایا ہے۔ اس ملک کی بد قسمتی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ یہاں 1932 ء سے اب تک مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔
موجودہ حالات میں سب سے زیادہ متاثر لبنان ہوا ہے جہاں کئی دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد 2020 ء میں امونیم نائٹریٹ سے لدے بحری جہاز میں ہونے والے ہیرو شیما اور ناگاساکی کے بعد دنیا کے سب سے بڑے دھماکے نے کمر توڑ رکھی ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی موجودہ جنگ میں لبنان کی حیثیت مجبور محض کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایک طرف شام، اور دوسری طرف اسرائیل کی دراندازی سے بر سر پیکار پچاس لاکھ افراد کی آبادی اور ساڑھے دس ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل یہ چھوٹا ملک کسی بڑے ملک اور طاقت کو نہ کہنے کی بھی پوزیشن میں نہیں چاہے کوئی منتخب وزیر اعظم کو قتل کرے یا استعفیٰ دے کر ملک سے بھاگنے پر مجبور کرے، منتخب صدر کو قتل کرے یا کسی کو صدر منتخب ہی نہ کرنے دے۔
یہ جنگ لبنان کی نہیں نہ لبنان کے لوگ کسی قسم کی جنگ چاہتے ہیں۔ گزشتہ جون میں مجھے یہاں کچھ عرصہ گزارنے اس ملک کو شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک دیکھنے اور مقامی باشندوں سے ہر سطح پر بات کرنے کا موقع ملا۔ جس جس سے بھی بات ہوئی اس نے کہا کہ مسلح گروہوں کے بجائے لبنان کی قومی فوج کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جو ملک کی سرحدوں کا تحفظ کر سکے۔
مشرق و سطیٰ کے صحراؤں کے بیچ میں لبنان اپنے برف سے ڈھکے پہاڑوں، بحیرہ روم کے پر فضا ساحلوں، ندی نالوں، سرسبز و شاداب میدانوں کی وجہ سے نہ صرف موسمی اعتبار سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی مانند ہے بلکہ مشرق و سطیٰ کی خانہ جنگی اور کشت و خون سے جان کی امان ڈھونڈنے والوں کے لئے ایک پناہ گاہ بھی ہے۔ مسلمان، مسیحی، یہودی سب کے مشترکہ ملک لبنان میں بیرونی مداخلت ختم کر کے اس کی سرحدوں کو بیرونی جارحیت سے تحفظ دے کر یہاں سوئٹزرلینڈ کی طرح ہر قسم کی جنگ پر پابندی لگانے کی سخت ضرورت ہے تاکہ جنگ زدہ ممالک اسرائیل، فلسطین، شام، عراق، یمن سے ملحقہ ایک ایسا ملک بھی موجود ہو جس کو دار الامن قرار دیا جا سکے۔


