روسی موسیقی، راج کپور اور بابا مراد ہمدموف


اپنے قیام کے بعد سے یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکز یا یو ایس ایس آر ہمیشہ اپنی فوجی توسیع کے لئے جانا جاتا تھا اور اس کا تصور اس واحد ملک کے طور پر تھا جو امریکا کے خلاف جنگ کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔

مگر جنگ کے علاوہ سوویت یونین کا ایک بہت ہی دلچسپ پہلو ہے جو بہت کم زیر بحث آتا ہے، وہ ہے سوویت یونین کی موسیقی۔

جب بھی ہم سوویت میوزک انڈسٹری کے بارے میں سوچیں تو اکثر ہم فوجی وردی میں ملبوس مردوں کو پیتل کے آلات کے ساتھ فوجی مارچ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تاہم فوجی موسیقی (الیگزینڈروف) کے علاوہ لوک گیت اور دیگر بے تحاشا دھنیں ایسی تھیں جو آپ تک پہنچ نہیں سکیں۔

خروشیف دور میں کئی مقامی پاپ اور راک بینڈز نے عروج حاصل کیا تھا جو سوویت یونین میں بینڈ سموتسویٹی کے ذریعے پیش کردہ ’میرا پتہ سوویت یونین ہے‘ ( 1971 ) جیسے دلکش گانے پیش کرتے اور ریلیز کرتے تھے۔ بہت سے قابل ذکر گلوکاروں نے شہرت حاصل کی جیسے مسلم ماگومائیف، راشد بہبودوف اور آج کے لئے ہمارا موضوع بابا مراد ہمدموف۔

اس سے پہلے کہ ہم بابا مراد ہمدموف کی زندگی کے بارے میں بات کرٰیں، ایک بہت ہی اہم تعلق کی جانب اشارہ کرنا ضروری ہے، اور وہ ہے سوویت میوزک انڈسٹری اور بالی ووڈ کے درمیان رابطہ۔

جیسا کہ کوئی تصور کر سکتا ہے کہ سوویت یونین میں غیر ملکی فلمیں دیکھنا بہت عام نہیں تھا، کیونکہ ان میں سے بہت سی کو ’مغربی پروپیگنڈا‘ کے طور پر دیکھا جاسکتا تھا اور بہت سی حقیقت میں تھیں بھی لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ 1950 کی دہائی سے 1991 تک سوویت یونین میں مغرب سے صرف 41 فلمیں درآمد کی گئیں لیکن یہ حیرت کی بات ہے کہ تقریباً 200 ہندوستانی فلموں کی سوویت یونین میں باقاعدہ نمائش کی گئی۔ اب اس بات پر بہت بحث ہو رہی ہے کہ بالی ووڈ سوویت ناظرین کو متاثر کرنے میں کیوں کامیاب رہا۔ ایک اتفاق رائے یہ ہے کہ آوارہ جیسی متعدد فلموں کے پیچھے کارفرما خیالات سوویت نظریات سے مطابقت رکھتے تھے کیونکہ پوری کہانی اور اچھے بمقابلہ برے (میڈیا تھیوریسٹ اسٹراس کا نظریہ) جس میں اچھے یا ہیرو کا تعلق غریب سماجی و معاشی پس منظر سے تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ فرار پسندی کی ایک شکل بن گئی۔ مؤخر الذکر وجہ کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان اور دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین، ایک ہی کشتی میں سوار تھے۔ ایک تقسیم ہند کی ہولناکیوں کا شکار ہے اور دوسرا جنگ کے نتیجے میں تباہ حال۔

یہ نہرو تھے جنہوں نے سوویت یونین کو ہندوستان کے ساتھ ثقافتی تبادلے میں شامل ہونے کی تجویز دی جس پر سوویت یونین نے اتفاق کیا۔ پورے سوویت یونین میں ہندی اور اردو میں دستیاب کتابیں اور میڈیا کی دیگر شکلیں عام تھیں اور لینن کی ترجمہ شدہ تصانیف کو ایک ہی وقت میں ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کیا جاتا تھا۔

اب ہم مذکورہ بالا وجہ کو اس دلچسپ حقیقت کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ امپورٹڈ میڈیا میں ایسی فلمیں بھی تھیں جن میں سے بہت سی پہلے مقبول نہیں تھیں جیسے ستیہ جیت رے کا کام کیونکہ خوف یا حقیقت پسندی اس تکلیف کی یاد دلاتی تھی جو لوگ خاص طور پر اس وقت برداشت کریں گے کیونکہ سوویت یونین دوسری عالمی جنگ سے تین چار سال کی سخت مصیبت کے بعد باہر آیا تھا۔

اس کے بعد آوارہ یا سنگم جیسی فلمیں آئیں جن کی دلکش دھنیں اور مضحکہ خیز کردار اور دلچسپ کہانیاں مقبول ہوئیں اور سوویت عوام کو ایک فرار فراہم کیا گیا جس میں مکیش کے گائے ہوئے گانے اور راج کپور کے لپ سنک میں عام شہری کو اس کی تلخ حقیقت سے دور کیا جاسکتا تھا۔ یہاں تک کہ ماسکو فلم فیسٹیول میں ہندوستانی اداکاروں کے دورے بھی ہوئے۔

خاص طور پر 1958 میں، جب آوارہ کی کاسٹ نے فیسٹیول کے لئے سوویت یونین کا دورہ کیا اور 1967 میں دوبارہ ایک اور دورہ کیا جو ایک اور ماسکو فلم فیسٹیول کے لئے تھا۔ 1958 کے دورے کے بارے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ تھی کہ فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ سوویت یونین بھر کے متعدد دورے ہوئے مثال کے طور پر اس وقت کے جارجیائی ایس ایس آر میں جہاں کاسٹ نے جوزف اسٹالن کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں علاقے کی روایتی موسیقی کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ راج کپور کو روایتی جارجیائی ڈھول بجاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

1967 کے دورے کے بارے میں دلچسپ حقیقت یہ تھی کہ اس دورے کے دوران راج کپور اور مکیش نے سوویت یونین کے لوگوں کے لئے نئے سال کا پیغام ریکارڈ کیا جس میں راج کپور نے آخر میں روسی زبان میں ایک گانا گایا۔ ایک اور دورہ تاشقند میں 1970 اور 1980 کی دہائی میں ایشیائی اور لاطینی امریکی فلم فیسٹیول کے لئے ہوا۔ ان میں سے ہر دورے میں، ہم ان اداکاروں کے لئے سوویت عوام کی حقیقی محبت کو دیکھتے ہیں جو ماسکو کی گلیوں میں ان کے نظر آنے کے وقت ان کی گاڑی کے ارد گرد گھومتے ہوئے نظر آتے تھے، بہت سے لوگوں نے اطلاع دی ہے کہ راج کپور کی فلم دیکھنے کے لئے تھیٹر میں جانا ناممکن ہوتا تھا۔ 1982 کے دورے کی فیسٹیول کی فوٹیج دیکھی جا سکتی ہے جس میں راج کپور بھارتی اداکاروں اور فنکاروں سے بھرے کمرے میں ایک شخص کے ساتھ کھڑے تھے اور ”دیوانہ مجھے لوگ کہیں“ نامی فلم کا گانا گا رہے تھے اور وہ شخص بابا مراد ہمدموف تھا۔

ہمدموف کا تعلق ترکمانستان کے صوبہ چورزہ سے ہے اور اب ان کی عمر 84 سال ہے۔ ہمدموف کے کام کے ساتھ میری پہلی شناسائی 2023 میں ہوئی تھی۔ میں اسکول جا رہا تھا اور کیمپس جاتے ہوئے میں فلم آوارہ کے گانے سن رہا تھا کہ آٹو پلے فنکشن کی وجہ سے ایک وسط ایشیائی خد و خال کے شخص کی فوٹیج میری سکرین پر نمودار ہوئی اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس نے تقریباً ایک دیسی بندے کی طرح گایا۔

اس کے بعد میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمدموف کے بارے میں میں کیا معلومات حاصل کر سکتا ہوں۔ سو ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں نے ہمدموف کی زندگی کے بارے میں کافی کچھ دریافت کیا۔

اپنے کیریئر کے لحاظ سے، وہ ایک قابل ذکر ازبک موسیقار کا طالب علم تھا جسے کامل جان اتانیازوف کے نام سے جانا جاتا تھا جو خوارزم کے قومی تھیٹر میں اپنی اداکاری اور ازبک فلہارمونک آرکیسٹرا میں ایک نمایاں گلوکار کی حیثیت سے جانا جاتا تھا، جس نے واتن اور سلوم، سینگا زورزمدان جیسے مشہور گانے تیار کیے تھے۔

ہمدموف بنیادی طور پر لوک گانے کے لئے جانے جاتے تھے اور اپنے کچھ لوک گیتوں جیسے کم ایکان اور لاجگی کے لئے مشہور ہیں لیکن انہوں نے اپنی زیادہ تر شہرت بالی ووڈ فلموں کے گانے گاتے ہوئے حاصل کی تھی جو یو ایس ایس آر میں راتوں رات ہٹ ہو گئے تھے۔ انہیں ان کی فنکارانہ صلاحیتوں پر پیپلز آرٹسٹ آف ازبک ایس ایس آر کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ، انہوں نے کرین چلانے کے لئے ایک مختصر کورس کی تعلیم حاصل کی اور تعمیراتی شعبے میں ملازمت حاصل کی۔ لیکن انہوں نے گانے کے اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے نوکری چھوڑ دی۔

ابتدائی طور پر، انہوں نے ہندی گانے گائے کیونکہ ان کی آواز ہندی گلوکاروں کے قریب تھی اور خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے توشووز میں اتانیازوف کے طائفے میں کام کیا تھا۔ ہمدموف کے مشہور اداکار راج کپور کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے تھے جن سے ماسکو ( 1967 ) اور تاشقند جیسے فلمی میلوں میں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔

اگرچہ باقی دنیا اس 84 سالہ لیجنڈ کو بہت کم یاد کرتی ہے، لیکن ازبکستان میں وہ اب بھی بہت شہرت کے حامل شخص ہیں۔ ان کا کام گولڈ آرٹسٹ فنڈ کا حصہ ہے اور لائسنس حاصل کیے بغیر ان کے کام کا استعمال ازبکستان میں آئینی طور پر غیر قانونی ہے۔ 2010 میں بابا مراد ہمدموف کے کام کی 50 ویں سالگرہ پورے ازبکستان میں منائی گئی اور پھر ان کی 70 ویں سالگرہ جو انہوں نے ترکمانستان اور خوارزم میں اپنی موسیقی کے آغاز کے علاقے میں منائی۔

دو روز پہلے اپنے انتقال سے قبل وہ تاشقند میں اپنی بیٹی کے ساتھ رہ رہے تھے ان کی وراثت اب بھی ازبکستان اور ترکمانستان میں بڑے پیمانے پر احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS

حسین قاضی

حسین قاضی نوجوان طالب علم ہیں۔ آپ مطالعہ تاریخ ، خصوصاً سرد جنگ کے واقعات سے شغف رکھتے ہیں اور اس دور سے متعلق یادگاری عجائبات جمع کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ نو برس کی عمر میں پہلی کتاب "ٹائی ٹینک کی یاد میں" لکھ چکے ہیں اور آج کل اپنے تاریخی مطالعات مدون کر رہے ہیں ۔

hussain-qazi has 5 posts and counting.See all posts by hussain-qazi