سکول اساتذہ: یوم سیاہ نہیں، عہد کریں


قوم ہمیشہ اپنے تہوار سے پہچانی جاتی ہے۔ عظیم قومیں اپنے راہنماؤں کے لیے مخصوص دن مناتی ہیں۔ جدید دور میں ہر قسم کا دن منایا جا رہا ہے۔ ان ایام میں اساتذہ کے لیے عالمی سطح پر 5 اکتوبر کو یوم استاد (ٹیچر ڈے ) منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی طلباء اور قوم اپنے اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے تھے۔ عرصہ دو سال سے اس عظیم دن کو یوم سیاہ کے طور منایا جا رہا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں اساتذہ کی تذلیل، سکولوں کی نجکاری اور ملازم کش اقدامات شامل ہیں۔ اساتذہ کو عزت و احترام دینے کی بجائے حالیہ حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ استاد اپنے مقام سے زوال کی طرف رخت سفر باندھ چکا ہے۔

آج سے دو یا تین دہائیوں پہلے میٹرک پاس اساتذہ تعینات کیے جاتے تھے۔ وقت اور جدت کے ساتھ استاد کی آسامیوں کے لیے تعلیم کا معیار بلند ہوتے ہوئے ایم اے /ایم ایس سی تک پہنچ چکا ہے۔ 2017 اور 2018 کی تمام آسامیوں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت ماسٹر ڈگری تھی۔ جس سے تعلیم کا معیار بلند ہو رہا تھا۔ شرح خواندگی عروج کی طرف سفر کر رہی تھی۔ یہ سفر دشمنان اسلام و پاکستان کو راس نہ آیا اور انہوں نے حکومت اور آئی ایم ایف کے ذریعے استاد کو پاکستان کی سر زمین سے ختم کرنے کے لیے سکولوں کو نشانہ بنایا ہے۔ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہ کہا جا رہا ہے یہ سکول حکومت پنجاب کے پاس ہیں بس ان کو پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 2017 کی اسی حکومت نے تقریباً دس ہزار سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سپرد کر کے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ سیالکوٹ کے گاؤں کمال پور اور ٹھٹھہ لاکھی کے سکول اس کی واضح مثال ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔

اساتذہ کی کمی کے باوجود بھی سرکاری اساتذہ پوری ایمانداری اور محنت و لگن سے تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کی بجائے ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ جس سے سکولوں کو جڑ سے ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ سرکاری اساتذہ معقول تنخواہ لیتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے باقی اداروں کی نسبت محکمہ تعلیم کے اساتذہ کی تنخواہ پہلے ہی کم ہے۔ اب پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے این جی اوز کے ذریعے سکول کو چلانے کا جو ناکام منصوبہ ہے، اس میں تدریسی اساتذہ کو پانچ سے پندرہ ہزار تنخواہ سے ٹرخایا جا رہا ہے۔ ان اساتذہ کی تعلیمی قابلیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ میٹرک سے بی اے تک مجبور خواتین کو کم ازکم اجرت دے کر ڈنگ ٹپاؤ مہم چلائی جائے گی۔ میٹرک سے ایم اے کے سفر کے بعد اب پھر ماسٹر ڈگری سے میٹرک تک کا سفر شروع کر دیا گیا ہے ۔ ایک مزدور کی اجرت سے بہت کم تنخواہ کے ساتھ عارضی اساتذہ بچوں کو کیا تعلیم دیں گے؟ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور این جی اوز کے ذریعے سکولوں کی نجکاری سے استاد اور معلم کی عزت و تکریم میں جو فرق مستقبل میں سب کو نظر آئے گا۔ وہ اس قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہو گا۔

حیرت کا مقام یہ ہے کہ اپنے محکمہ کو ختم کرنے میں اساتذہ اور ان کے راہنماؤں کا کردار شرمناک ہے۔ اساتذہ تنظیموں میں کچھ کالی بھیڑوں نے اساتذہ کے مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دے کر محکمہ تعلیم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اساتذہ تنظیموں کے راہنماؤں اور صدور کی ذاتی چپقلشوں نے حکومت کو اپنے ناپاک عزائم مکمل کرنے میں مدد فراہم کی۔ اساتذہ راہنماؤں کے بار بار احتجاج کے اعلان کے باوجود بھی اساتذہ برادری بھی ستو پی کر ایسی سو رہی ہے کہ قوم کی نسلیں تباہی کے دہانے پر پہنچے والی ہیں مگر مجال ہے اساتذہ نے اپنی نیند میں خلل برداشت کیا ہو، یونین لیڈروں پر تنقید ان کا وطیرہ ہے۔ اپنے حصے کی شمع جلانے کے بجائے دوسروں کی پکی ہوئی کھیر کھانے کے عادی ہیں۔ اساتذہ برادری 5 اکتوبر کو یوم سیاہ منا کر قوم پر احسان کرنے جا رہی ہے۔

اس عالمی دن پر یوم سیاہ کے ساتھ یہ عہد کرنا ہو گا کہ محکمہ تعلیم کی بقا صرف اور صرف اتحاد میں ہے۔ اب بھی اگر استاد اور اساتذہ تنظیموں نے ذاتی مفاد اور چپقلش کو پس پشت نہ ڈالا تو 5 اکتوبر 2025 کے ٹیچر ڈے کو یوم سیاہ بھی منانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ گنتی کے اساتذہ صرف اپنی سروس پوری کرنے کے لیے باقی رہ جائیں گے اور غریب اور پاکستانی قوم کے لیے تعلیم صرف خواب رہ جائے گی۔ یوم سیاہ منانے کی بجائے عہد کرنا ہو گا۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پختہ وعدہ کرنا ہو گا کہ خون کے آخری قطرے تک سکولوں کو بچانے اور استاد کی عزت و آبرو کو بلند کرنے کے لیے اب نکلنا ہو گا۔ اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ اپنی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانی ہوگی۔ سول سوسائٹی اور قوم کو اس سازش سے آگاہ کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS