کوہ پیما سرباز خان کو آٹھ ہزاری بننے پر مبارک باد


ہنزہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مہم جو سرباز خان کرہ ارض پر موجود آٹھ ہزار میٹر بلند تمام 14 پہاڑ سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔ سرباز خان نے دنیا کی چودھویں بلند ترین چوٹی شیشا پنگما سر کر کے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا۔

سرباز خان ایک پیشہ ور کوہ پیما ہیں، جو مہم جوئی اور کوہ پیمائی کے تمام پہلوؤں سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے گیارہ سال تک مختلف مہمات میں شریک افراد کے لیے کھانا پکانے اور ان کا سامان اٹھانے (پورٹری) جیسے کام کیے۔ ان کا یہ سفر، جس میں انہوں نے کیمپوں میں کام کیا اور مہمات میں حصہ لیا، ان کی مضبوط ارادے اور عزم کی بہترین مثال ہے۔ مسلسل محنت اور لگن کے نتیجے میں وہ آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں کو سر کرنے والے ممتاز کوہ پیما بن چکے ہیں۔ سرباز خان کی کہانی ان کی مستقل مزاجی اور کوہ پیمائی کی دنیا میں بے پناہ محنت کی عکاسی کرتی ہے، جو کہ انہیں کامیاب اور نامور کوہ پیماؤں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔

تبت کے خود مختار علاقے میں ہمالیائی سلسلہ میں واقع اس چوٹی پر مہم جوئی کے دوران اب تک 30 سے زائد کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ خراب موسم، برفانی تودے اور تکنیکی چیلنجز ہیں۔ 2014 اور 2019 میں ہونے والے برفانی تودے کے حادثات میں مشہور کوہ پیما بھی ہلاک ہوئے، جن میں خاص طور پر 2019 میں مشہور کوہ پیما ڈیوڈ لاما، ہنسجیورگ آئر اور جیس روزکلی شامل تھے۔

دنیا میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیما بہت محدود تعداد میں ہیں۔ ایسے کوہ پیماؤں کو آٹھ ہزاری ( 14 Eight۔ thousanders) کہا جاتا ہے۔ یہ تمام چوٹیاں ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ہیں۔ ان چوٹیوں کو سر کرنا انتہائی مشکل اور خطرناک ہوتا ہے، کیونکہ 8,000 میٹر کی بلندی پر آکسیجن کی شدید کمی ہوتی ہے، جسے ”ڈیتھ زون“ کہا جاتا ہے۔

ہمالین ڈیٹابیس کے مطابق 8000 میٹر چوٹیوں میں پہلی مرتبہ 1950 میں دنیا کی دسویں بلند ترین چوٹی اناپورنا سر ہوئی تھی۔ 1950 سے 2024 تک ان 74 سالوں میں صرف 50 کوہ پیما دنیا میں موجود 8000 میٹر بلند تمام 14 پہاڑ سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اطالوی کوہ پیما رین ہولڈ میسنر نے 1970 میں پہلی مرتبہ تمام آٹھ ہزاری پہاڑ سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

آٹھ ہزاری چوٹیوں پر مہم جوئی کے دوران اب تک گیارہ سو سے زائد کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آٹھ ہزاری 14 پہاڑوں میں سے آٹھ نیپال، پانچ پاکستان (گلگت بلتستان) اور ایک پہاڑ تبت چین میں ہے۔ اسی طرح ان میں سے 10 پہاڑ کوہ ہمالیہ اور 4 پہاڑ کوہ قراقرم میں واقع ہیں۔

آٹھ ہزاری پہاڑوں پر مہم جوئی کی مختصر تاریخ

1۔ ماؤنٹ ایورسٹ (Mount Everest)

کوہ ہمالیہ میں نیپال اور چین کی سرحد پر واقع دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ 8848 میٹر پہلی مرتبہ 29 مئی 1953 کو نیوزی لینڈ کے کوہ پیما ایڈمنڈ ہیلری اور نیپالی کوہ پیما ٹینزنگ نورگے نے سر کیا۔

2۔ کے ٹو (K 2 )

کوہ قراقرم پاکستان میں واقع دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو 8611 میٹر پہلی مرتبہ 31 جولائی 1953 کو دو اطالوی کوہ پیماؤں لیساڑلی اور کمپانونی نے سر کیا۔

3۔ کنگچنجنا (Kangchenjunga)

کوہ ہمالیہ میں نیپال اور بھارت کی سرحد پر واقع کنگچنجنا 8586 میٹر دینا کا تیسرا بلند پہاڑ ہے۔ اسے سب سے پہلے دو برطانوی کوہ پیماؤں جارج بینڈ اور جو ٔ براؤن نے 1955 میں سر کیا۔

4۔ لہوٹسے (Lhotse)

یہ دنیا کا چوتھا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8516 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ میں نیپال اور چین کی سرحد پر واقع اس پہاڑ کو پہلی بار 18 مئی 1956 میں دو سوئس کوہ پیماؤں ارنسٹ رائس اور فرٹز لخزنگر نے سر کیا۔

5۔ مکلو (Makalu)

یہ دنیا کا پانچواں سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8462 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ میں نیپال اور چین کی سرحد پر واقع اس پہاڑ کو پہلی بار 15 مئی 1955 میں دو فرنچ کوہ پیماؤں لاؤنل ٹیرے اور جین کاؤزی نے سر کیا۔

6۔ چو اویو (Cho Oyu)

یہ دنیا کا چھٹا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8201 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ میں نیپال اور چین کی سرحد واقع اس پہاڑ کو پہلی بار 19 اکتوبر 1954 میں ہربرٹ ٹچی، جوزف جوخلر اور شرپا پسانگ دوالاما نے سر کیا۔

7۔ دھولگیری (Dhaulagiri)

یہ ساتویں بلند ترین چوٹی ہے اور اس کی اونچائی 8167 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ نیپال میں واقع اس پہاڑ کو پہلی مرتبہ 13 مئی 1960 کو سوئس/ آسٹریا کی ایک مہم جو ٹیم نے معروف کوہ پیما میکس آئسیلین کی سربراہی میں سر کیا تھا۔

8۔ مناسلو (Manaslu)

یہ دنیا کا آٹھواں سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8156 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ نیپال میں واقع اس پہاڑ کو سب سے پہلے 9 مئی 1956 کو دو جاپانی کوہ پیماؤں نے سر کیا۔

9۔ نانگا پربت (Nanga Parbat)

یہ دنیا کا نواں بلند ترین چوٹی ہے۔ کوہ ہمالیہ پاکستان میں واقع نانگا پربت 8126 میٹر چوٹی کو پہلی مرتبہ 1953 میں ایک جرمن کوہ پیما ہرمن بوہل نے اسے سر کر لیا۔

10۔ اناپورنا (Annapurna)

یہ دنیا کا دسواں بلند ترین پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8091 میڑ ہے۔ کوہ ہمالیہ نیپال میں واقع اس چوٹی کو پہلی بار دو اطالوی کوہ پیماؤں مارس ہرزوگ اور لوئی لاخنل نے 1950 میں سر کیا۔ یہ 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں سب سے پہلے سر ہوئی ہے۔

11۔ گشہ بروم ون (Gashabrum 1 )

یہ دنیا کی گیارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8080 میٹر ہے۔ کوہ قراقرم پاکستان میں واقع اس چوٹی کو امریکن کوہ پیماؤں پیٹ شوننگ اور اے جے کوفمین نے جولائی 1958 میں پہلی بار سر کیا تھا۔

12۔ براڈ پیک (Broad Peak)

براڈ پیک دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کی بلندی 8047 میٹر ہے۔ کوہ قراقرم میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع اس چوٹی کو سب سے پہلے ایک آسٹرین ٹیم نے 9 جون 1957 میں سر کر لیا تھا۔ ان میں نانگا پربت کو پہلی دفعہ سر کرنے والے کوہ پیما ہرمن بوہل بھی شامل تھے۔

13۔ گشہ بروم ٹو (Gashabrum 2 )

یہ دنیا کا تیرہواں سب سے بلند پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8035 میٹر ہے۔ کوہ قراقرم میں پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع اس چوٹی کو سب سے پہلے 1956 میں ایک آسٹریائی ٹیم کے موراویک، لارچ اور ویلن پارٹ نے سر کیا۔

14۔ شیشاپانگما (Shishapangma)

یہ دنیا کا چودھواں بلند ترین پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8027 میٹر ہے۔ کوہ ہمالیہ چین میں واقع اس پہاڑ کو پہلی مرتبہ 2 مئی 1964 کو چینی کوہ پیما زوجنگ نے سر کر لیا تھا۔ یہ 8000 میٹر سے بلند چوٹیوں میں سب سے آخر میں سر ہوئی ہے۔

نوٹ: ”تمام معلومات ہمالین ڈیٹابیس، UIAA، گینیز ورلڈ ریکارڈ اور 8000 ers۔ com سے لی گئی ہیں۔“

Facebook Comments HS