تعلیم برائے امن
امن کی تعلیم کسی بھی سماج یا ریاست کے مستقبل کی سمت کا تعین کرتی ہے کیونکہ ہماری موجودہ دنیا جنگوں، دہشت گردی، نیو کالونیل ازم، معاشی بحران اور اس سے جڑے پرتشدد کلچر اور نفسیاتی شکست و ریخت کا مرکز بن چکی ہے۔ تعلیم برائے امن لوگوں کی ذہنیت، رویوں اور طرزِ عمل کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ امن کی تعلیم سے ہی بنیادی آزادیوں کے احترام، افہام و تفہیم، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ اور تقویت دی جا سکتی ہے۔ جب سیاسی طور پر تعلیم کو وسیع تر سماجی و معاشی مسائل کے حل اور سماجی ہم آہنگی کے حصول کی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے تو تعلیم انتہاپسندی اور بنیاد پرستی کے ممکنہ خطرات کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیمی نصاب کو تعلیم برائے امن، انسانی حقوق، جدت، شخصی آزادی، برابری اور کثیر الثقافتی پہلوؤں کے حصول کا ذریعہ بنایا جائے تو مستقبل میں تشدد، جارحیت اور محض خود کو برتر و اعلیٰ سمجھنے کے رجحانات کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ ابتدائی یا بنیادی تعلیم پر امن معاشروں کی بنیادیں رکھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اگر نظام تعلیم معیاری، جامع (یہاں جامع سے مراد علم کو مختلف خانوں میں تقسیم نہ کیا گیا ہو) اور مربوط ہو تمام تر تعصبات، جانبدارانہ نظریات اور ریاستی بیانیہ سے آزاد ہو تو ہی کسی سماج یا ملک میں امن کی ثقافت (Culture of Peace) کو پروان چڑھا سکتی ہے۔
جس ملک میں تعلیمی نظام ریاستی یا سرکاری نظریہ کے تحت کسی بھی واحد مذہبی (فرقہ ورانہ) ، ثقافتی اور لسانی شناخت یا بالادستی کے نظریات کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے گی اور دیگر مختلف شناختوں کو حاشیہ پر دھکیلا جائے گا اور کسی مخصوص نظریہ کو واحد سچ کے طور پر قبولیت عام دی جائے گی تو وہ ملک بدامنی، تنازعات، نفرتوں، خون ریزی اور تصادم کا گڑھ بن جائے گا۔ اس ملک کا سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ اور شدید تقسیم کا شکار ہو جائے گا۔ کیونکہ تعلیم ریاست کا ایک ایسا ادارہ ہے جو طاقتور طبقوں کا غلبہ زیادہ کرنے میں مدد دیتی ہے اور ایک ایسے شعور کی آبیاری کرتی ہے جس سے زندگی کے ہر شعبہ، ہر کام اور ہر لمحہ پر حکمران طبقوں کا غلبہ ہو جائے۔ ہر شخص یہی سمجھنے لگے کہ جو ہے وہی سچ ہے۔ تعلیم بنیادی طور پر سرمایہ داروں اور حکمرانوں کی سوچ اور ضرورت کی ترجمانی اور عکاسی کرتی ہے۔ تعلیم ریاست کے ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جو اپنے شہریوں میں ایک مریضانہ جنگی جنون پیدا کرتی ہے۔ نصاب منظم انداز میں مطالب و معانی کی ساخت اور تشکیل کرتا ہے۔ کسی چیز کو کیا معنی دیے جائیں گے اس بات کا تعین نصاب لکھنے والا کرتا ہے۔
تعلیمی نظام اور نصاب شہریوں کی شناخت کی تعمیر کرتی ہے۔ یہ شناخت ہمیشہ کسی دشمنی، کسی متضاد قوم یا گروپ کے برعکس اور ان کے مقابلہ پر تعمیر کی جاتی ہے۔ اس عمل میں دشمن، پرائے، بیرونی، غیر جیسے اختلافات کو ابھارا جاتا ہے۔ ہمارا نصاب تعلیم خاصی حد تک عسکری قدریں رکھتا ہے اور اس کے تحت اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر شہری کو فوجی انداز میں سوچنا سکھائے، ہر شخص کو ایک سپاہی بنا دیا جائے کیونکہ ایک اچھا سپاہی حکم بجا لاتا ہے، تنقید نہیں کرتا، کہنا مانتا ہے، بغاوت نہیں کرتا، چپ چاپ بغیر سوچے سمجھے حکم بجا لاتا ہے اور ہر وقت اپنے سے مختلف (نظریہ، سوچ، شناخت، خیال، ثقافت، پہچان ) نظر آنے والے کے خلاف آمادہ بہ جنگ رہتا ہے۔ یہ نظام تعلیم دراصل آفاقیت کا دشمن ہے اور عالمی امن کا بھی۔
ہمارا نظام تعلیم جنگ کو عظیم قرار دیتا ہے اور جنگ سے نفرت کرنا نہیں سکھاتا۔ اس لیے پوری دنیا میں تعلیم برائے امن کی ضرورت ماضی کے مقابلہ میں آج کہیں زیادہ ہے۔ آج دنیا بھر کے انسانوں کو متبادل علم / تعلیم کی ضرورت ہے۔ امن، انسانی حقوق، جدت، شخصی آزادی، برابری اور کثیر الثقافتی پہلوؤں کا ذریعہ بنایا جائے تو مستقبل میں تشدد، جارحیت اور محض خود کو برتر و اعلیٰ سمجھنے کے رجحانات کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ ابتدائی یا بنیادی تعلیم پر امن معاشروں کی بنیادیں رکھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔


