ایک گم شدہ ترک دوست


Edit

بات کرتے کرتے اچانک ایمراہ خاموش ہو گیا اور کچھ سوچنے لگا۔ اسی اثنا میں اس نے اپنے بیگ سے ایک کتاب نکالی۔ یہ ایک لغت تھی، جرمن۔ ترک، ترک۔ جرمن ڈکشنری۔ ہم ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے تھے۔ یہ کوئی ترک چینل تھا اور وہ میرے لیے خبروں کا انگریزی میں ترجمہ کر رہا تھا۔ انٹرنیٹ سے پہلے کے زمانے میں ریڈیو یا ٹی وی پہ چلنے والی خبریں ہی اطلاعات اور معلومات کا واحد ذریعہ ہوتی تھیں۔ یہ خبر اس وقت کی ترک وزیر اعظم تانسو چیلر کی اپنی کابینہ سے کسی وزیر کو نکالنے کے بارے میں تھی۔

ایمراہ کو کابینہ سے ہٹائے جانے والے شخص پر لگائے گئے الزامات کے لیے خبروں میں استعمال ہونے والے ترک لفظ کی انگریزی نہیں آتی تھی۔ اس نے جرمن۔ ترک، ترک۔ جرمن ڈکشنری میں اس کے لیے جرمن لفظ چیک کیا۔ پھر اس نے اپنے تھیلے سے ایک اور لغت نکالی۔ یہ ایک جرمن۔ انگریزی، انگریزی۔ جرمن ڈکشنری تھی۔ اس نے اس جرمن لفظ کی انگریزی تلاش کی جو اسے ابھی پچھلی ترک۔ جرمن لغت سے معلوم ہوا تھا اور ”bribery“ کہہ کر ترجمہ مکمل کیا۔

”رشوت،“ میں نے بے ساختہ کہا، ”ہم اردو میں اسے رشوت کہتے ہیں۔“
”اوہ۔ یہی تو وہ ترک لفظ تھا جس کا متبادل مجھے ان دو لغات میں تلاش کرنا پڑا۔“ ایمراہ نے کہا۔

اور پھر ہم نے ایک قاعدہ بنا لیا کہ جب بھی ہمیں ترجمہ کرنے میں مشکل پیش آئے تو ہم اپنی اپنی زبانوں کا اصل لفظ بول کر بات مکمل کریں گے کہ ہو سکتا ہے اردو اور ترک زبانوں میں ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہو۔

مجھے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ لاہور نے 1995 ء میں جرمن زبان کے کورس میں شرکت کے لیے سکالرشپ سے نوازا تھا۔ جس میں شرکت کے لیے میرا داخلہ دریائے رائن کے کنارے پہاڑیوں کے درمیان ایک چھوٹے سے شہر بوپارڈ (Boppard) میں واقع گوئٹے انسٹی ٹیوٹ میں ہوا تھا۔ اس کورس میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے لوگ شامل تھے، جن میں زیادہ تر چینی اور جاپانی تھے، لیکن تھائی لینڈ، ویتنام، ترکی، لیبیا، قطر، ہندوستان، اٹلی اور اسرائیل کے طلبہ بھی تھے۔ ہم سب انگریزی نہیں جانتے تھے۔ لہٰذا، ہمارے درمیان صرف وہی رابطہ ہو سکتا تھا جو لغات کی مدد سے تھا۔

ایمراہ اکگن (Emrah Akgun) کو انگریزی اچھی آتی تھی کیونکہ وہ دو سال انگلینڈ میں تعلیم حاصل کر چکا تھا۔ جلد ہی، ہماری حلال کھانے کی مجبوری کی وجہ سے ہماری اچھی دوستی ہو گئی۔ کیونکہ حلال کھانے کا پتہ لگانا آسان نہیں تھا۔ کورس میں شامل تمام طلبا کی رہائش کا انتظام مختلف گھروں میں کیا گیا تھا۔ ہم اپنا ناشتہ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ میں جا کر کرتے تھے۔ لیکن دوپہر یا رات کے کھانے کے لیے سب کو اپنے طور پہ انتظام کرنا پڑتا تھا۔ اکیلے تھے۔ میرے کمرے میں کھانا پکانے کا کوئی انتظام یا کوئی چولہا نہیں تھا۔ جب ایمراہ نے مجھے بتایا کہ اس کے کمرے میں کھانا پکانے کی ایک اچھی کوکنگ رینج ہے تو میں نے کلاسز کے بعد اس کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم وہاں کچھ نا کچھ پکا لیتے اور اکٹھے کھاتے۔ جلد ہی ہم بہترین دوست بن گئے۔ ہم اپنا زیادہ تر وقت اکٹھے گزارتے تھے اور صرف رات کو سونے کے لیے اپنے اپنے گھر جاتے تھے۔

جمعہ کا آدھا دن اور ہفتہ اور اتوار کے دو دن چھٹی کی وجہ سے ہم نے کافی شہروں کی سیر کی۔ ہم سستے wochenende (ویک اینڈ) ٹرین ٹکٹ خریدتے تھے اور ہر ہفتہ اور اتوار کو بہت سے شہروں کا سفر کرتے تھے۔ ان دو مہینوں میں ہم نے فرینکفرٹ، کوبلانز، ٹریر، ہائیڈل برگ، بون اور کولون وغیرہ جیسے شہروں کی سیر کی۔ ایمراہ کا وہاں واقع ترک سنٹر سے اچھا رابطہ تھا اور اسی تعلق کی وجہ سے ایک دفعہ وہ مجھے فرینکفرٹ میں کسی ترک سنٹر میں لے گیا۔ وہاں پہلے سے کوئی پچاس ساٹھ لوگ موجود تھے۔ پہلے کوئی ترک رہنما اپنی زبان میں گھنٹہ بھر واعظ کرتا رہا پھر سب نے عشاء کی نماز با جماعت پڑھی اور اس کے بعد کھانا کھایا۔ ایمراہ کے کہنے پہ انھوں نے ہمارے لیے خصوصی طور پہ گوشت کا سالن تیار کیا ہوا تھا۔ رات ہم نے وہیں گزاری۔ صبح فجر کے وقت کسی نے آواز لگائی اور ہم سب لوگ اٹھ کے نماز کی تیاری کرنے لگے۔ اتنے میں ایمراہ میرے پاس آیا اور کہا کہ یہ لوگ چاہ رہے ہیں کہ فجر کی اذان میں دوں۔ گویا یہ ایک طرح کا میرا امتحان تھا کہ انھیں اندازہ ہو جاتا کہ میں کتنا مسلمان ہوں۔ میں نے اذان دی اور اس کے بعد سب نے با جماعت نماز ادا کی۔ ناشتے کے بعد ہم لوگ واپس بوپارڈ آ گئے۔

ہمارا لینگویج کورس ختم ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ باقی تھا۔ ایمراہ ایک شام میرے گھر آیا۔ وہ بہت پریشان لگ رہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ترک سنٹر میں کسی کو اس کے والد کا فون آیا ہے کہ ایک حادثہ ہوا ہے جس میں اس کا چھوٹا بھائی باریش شدید زخمی ہو گیا ہے۔ اس نے کہا کہ ترک سنٹر والے اس کے لیے ٹکٹ کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد دنیزلی (Denizli) واپس جا سکے۔ پھر وہ رات کو کسی پہر اپنے گھر واپس جانے کے لیے نکل پڑا اور ہم الوداعی ملاقات بھی نہیں کر سکے۔

اگلی صبح میں ناشتے کی میز پر اس کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آیا۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ صبح سویرے ترکی کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔ اس طرح ہماری دوستی کا اچانک اور بے ربط خاتمہ ہو گیا۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی رابطہ کی معلومات یا ایڈریس کا تبادلہ کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ میں کورس کی تکمیل کے بعد اگلے ہفتے پاکستان واپس آ گیا۔ یہاں میں اپنی معمول کی زندگی میں مصروف ہو گیا۔ اگلے تین ماہ میں میری شادی ہو گئی۔ یہی زندگی ہے! سو زندگی چلتی رہی۔

1999 ء کے اوائل میں، میں گھر میں اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھا تھا۔ میں اپنی ای میلز چیک کر رہا تھا۔ وہاں دیکھنے کو کچھ زیادہ نہیں تھا۔ اچانک مجھے ایمراہ کا خیال آیا۔ اور میرے ذہن میں ایک بجلی سی کوندی۔ میں نے سوچا کہ اگر ایمراہ نے اپنا کوئی ای میل بنایا ہو گا تو وہ کیا ہو سکتا ہے۔ میں نے ایک چھوٹا سا پیغام تیار کیا اور اسے تین ممکنہ ای میل پتوں پر بھیج دیا۔ دو دن بعد مجھے ان میں سے ایک ای میل سے جواب آ گیا۔ یہ ایمراہ تھا۔

اگرچہ برقی طور پر ہی سہی، لیکن ہم چار سال بعد دوبارہ مل گئے اور پھر سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ اس طرح وقتاً فوقتاً ہم لوگ ایک دوسرے کو ای میل کرتے رہتے اور ایک دوسرے کے حالات سے واقف رہتے تھے۔

مارچ 2005 ء میں ایمراہ لاہور آیا اور ایک ہفتہ ہمارے ساتھ میرے گھر میں رہا۔ میں نے اسے لاہور کی خوب سیر کروائی۔ بعد میں ہم مزید دو سال تک ای میلز کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔ اسی دوران اس کی بھی شادی ہو گئی۔ رابطے کم ہوتے گئے تاہم ای میلز کے ذریعے عید وغیرہ پہ مبارکبادی کے پیغامات ایکسچینج ہو جاتے تھے۔ کبھی کبھی فون پہ بھی بات ہو جاتی تھی۔

2008 ء میں میرا دس سال پرانا ہاٹ میل اکاؤنٹ ہیک ہو گیا۔ میں نے اسے بحال کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ پھر میں نے جی میل اکاؤنٹ بنا لیا۔ کچھ دنوں بعد میں نے ایمراہ کو ای میل بھیجنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں نے اسے فون کرنے اور دوسرے سوشل میڈیا پر بھی تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔ شاید اس وقفے میں اس کا فون نمبر بدل گیا یا کیا، ہمارا دوبارہ رابطہ نہیں ہو سکا۔ امریکن قونصلیٹ میں سروس کے دوران اپنے ترک ہم منصب عبدالقدیر ترگے (Abdulkadir Turgay) کے ذریعے اس کا پتا لگانے کی کوشش کی لیکن کوئی پتا نہیں چل سکا۔ ہم پچھلے پندرہ سالوں سے ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں ہیں۔ میں اس کے لیے دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ خوش، پرامن اور خوشحال زندگی گزار رہا ہو گا۔

Facebook Comments HS