ڈاکٹر ذاکر نائیک کے تضادات، ڈاکٹر ذاکر نائیک کی نظر سے


گزشتہ دنوں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ایک ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پلوشہ نامی لڑکی کے سوال کو متضاد قرار دیتے ہوئے پلوشہ پر توہین اسلام کا الزام لگایا اور معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا، پلوشہ کا سوال یہ تھا کہ ہمارا معاشرہ اسلامی ہے، جس میں نماز، روزے، تبلیغی اجتماعات کا انعقاد پابندی سے کیا جاتا ہے، اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں پیڈوفیلیا تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

سوال سن کر ڈاکٹر ذاکر نائیک چراغ پا ہو گئے اور کہا کہ آپ کا سوال متضاد ہے، اگر معاشرہ اسلامی ہے، تو پیڈوفیلیا نہیں ہو سکتا ، اگر پیڈوفیلیا ہے تو اسلامی معاشرہ نہیں ہے، لہذا، آپ نے اسلام پر الزام لگایا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے، لہذا، آپ معافی مانگیں۔

گویا ذاکر نائیک نے اسلامی معاشرے کی تشریح ایسے معاشرے طور پر کی جو تمام برائیوں سے پاک ہو، اور جس معاشرے میں سماجی برائیاں موجود ہوں، وہ معاشرہ ذاکر نائیک کے نزدیک اسلامی معاشرہ نہیں ہے، اس طرح دیکھا جائے تو پھر ذاکر نائیک کی نظر میں پاکستانی معاشرہ ایک غیر اسلامی معاشرہ ہے، لیکن ایک روز پہلے ہی ذاکر نائیک پاکستانی معاشرے کو اسلامی معاشرہ قرار دے چکے ہیں، نہ صرف یہ کہ وہ پاکستان کو اسلامی ملک قرار دے چکے ہیں، بلکہ ساتھ ہی یہ سند بھی عطا کرچکے ہیں کہ امریکا کے مقابلے میں پاکستان جیسے اسلامی ملک میں رہتے ہوئے جنت میں جانے کے امکان زیادہ ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا ذاکر نائیک بتانا پسند فرمائیں گے کہ پاکستان سے تمام برائیاں ختم ہو چکی ہیں؟

ایک طرف ڈاکٹر صاحب اپنی بیٹیوں جتنی عمر کی یتیم بچیوں کو نامحرم قرار دے کر ان کے سر پر دست شفقت رکھنے سے انکار کر دیتے ہیں، تو دوسری طرف وہ دھڑلے سے نامحرم خواتین کے ساتھ اسٹیج شیئر کرتے ہیں، ہوائی سفر کے دوران ائر ہوسٹس کی خدمات حاصل کرتے ہیں، کیا تضاد نہیں؟

ایک جگہ ڈاکٹر صاحب اونٹ کے پیشاب کو پینا جائز قرار دے رہے ہیں تو کیا پھر ڈاکٹر صاحب کی منطق کے مطابق یہ بھی مان لیا جائے کہ ڈاکٹر صاحب اونٹ کا پیشاب پیتے بھی ہے؟ کیوں کہ اگر جائز ہے تو پیتے ہوں گے اور اگر نہیں پیتے تو جائز کیسے ہوا؟

ایک طرف ڈاکٹر صاحب فرما رہے ہیں کہ قرآن واحد کتاب ہے، جس میں ایک شادی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے، تو پھر کیا خیال ہے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ایک سے زائد شادیاں کی ہیں، اب ڈاکٹر صاحب کی لاجک کے مطابق قرآن کے حکم کے برخلاف کرنے والا تو مسلمان نہیں رہے گا؟

آئے دن کبھی مسجد اور کبھی مدرسے سے کوئی نہ کوئی مولوی بچے سے زیادتی کرتے پکڑا جاتا ہے، تو کیا ڈاکٹرصاحب بچے سے کی گئی زیادتی کا انکار کریں گے یا پھر مسجد و مدرسے کے وجود سے انکاری ہوجائیں گے؟ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب کی لاجک کے مطابق تو مسجد میں نماز پڑھی جاتی ہے اور زیادتی ہو ہی نہیں سکتی۔

یہ واضح ہے کہ ذاکر نائیک نے حقیقت بھرے سچ کا سامنا کرنے کی بجائے آج کے شدت پسند معاشرے کے اخلاقی تضادات سے مکر جانے کا راستہ اختیار کیا، جس کے بعد یہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ پھر ”اصلی والے مسلمان اور اصلی والا مسلم معاشرہ اس دنیا میں کہاں ہے؟ جہاں مسلمان تو ہوں برائی کوئی نہ ہو؟ اس شخص کو پھر ایسے مسلمان دنیا کے سامنے دکھانے چاہیے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کا دنیا بھر میں بڑا نام تھا، بہت بڑا مفکر ہے، بڑا علم ہے اس کے پاس، بڑے دلائل دیتا ہے، اتنے لوگوں کو مسلمان کیا وغیرہ وغیرہ، اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کی شامت انہیں پاکستان لے آئی، چند ہی دنوں میں پاکستانیوں پر عیاں ہو گیا کہ یہ تو بس ”نام بڑا درشن چھوٹے“ والی بات تھی، اس بندے کے پاس دلیل تو چھوڑو، علم تک نہیں ہے، بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، شادی نہ کرنے والی عورت کو پبلک پراپرٹی کہتا ہے، سنجیدگی نہیں ہے، دوسرے کا مضحکہ اڑانا مقصود ہے، دلیل نہیں ہے، بس ایک خالی برتن ہے جو بجے جا رہا ہے۔ قصہ مختصر جہاں دلیل نہیں ہوتی وہاں دھونس ہوتی ہے، دھاندلی ہوتی ہے، دھمکی ہوتی ہے اور ذاکر نائیک دھونس اور دھمکی کو بروئے کار لانا اچھی طرح جانتا ہے۔

Facebook Comments HS