لکی مروت کی پلوشہ کا سوال اور ڈاکٹر ذاکر نائک کا ”ٹنل ویژن“
ڈاکٹر ذاکر نائک ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں اور مختلف اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں، بہت شور سنتے تھے جن کا، ہماری مراد ذاکر نائک ہے۔ یقین مانیں موصوف بہت زیادہ مایوس کر رہے ہیں اور ہر گزرتے دن ان کی علمی قلعی کھلتی جا رہی ہے۔ وہی عامیانہ سا روایتی انداز، اپنی بات کو اونچا بول کر منوانے کی زد، ایک روایتی مولوی کی مانند چبھتا سا سوال پوچھے جانے پر سیخ پا ہونے کی روش اور کاؤنٹر کوئسچن پر اپنے مخاطب کی تذلیل کرنا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور وہ بھی ذرا سنبھل کر سوال پوچھیں۔
مطلب علم الکلام کے کسی بھی داعی کے سامنے عقل کی بتی گل کر کے بیٹھیں، تنقید سے اجتناب برتیں، سوال کو پیور فارم میں بالکل بھی نہ پوچھیں بلکہ اس کی ختنہ کر کے انتہائی مؤدبانہ انداز میں ایک مذہبی عالم کے سامنے پیش کریں تاکہ ان کی دل آزاری نہ ہو۔ اگر یہی سب کچھ ہی کرنا ہے تو پھر سوال جواب کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اجتماع کو صرف مذہبی لوگوں تک محدود رکھیں، گھنٹے دو گھنٹے پر محیط ”مانو لاگ“ طرز کا سیشن کریں واہ واہ سمیٹیں اور چلتے بنیں۔
روایتی فکر کے نمائندے بھلے دنیا کے جس مرضی کونے میں جا بسیں وہ اپنے محدود اور جامد قسم کی فکری حدود سے باہر بالکل بھی نہیں جا سکتے، بھلے اپنی روایتی فکر پر سائنس و فلسفہ اور جدیدیت کی جتنی مرضی موٹی تہیں چڑھا لیں کوئی فرق نہیں پڑتا، بنیادی وجہ بالکل واضح ہے کہ اس بندوبست کی بنیادیں ہی اندھے عقیدہ و عقیدت اور عقائد پر ٹکی ہوئی ہیں جس میں تشکیک کا گزر ہی ناممکن ہوتا ہے۔
اب یہ عقیدہ کی بنیادیات ہیں جس سے انحراف ممکن نہیں، جب عقیدہ پر سوال کی ضرب لگتی ہے تو اس کی دیواریں لرزنے لگتی ہیں، اسی لیے اہل جبہ و دستار سوال سے گریز کرتے ہیں اور اہل فکر و نظر روایتی فکر کی اس کجی کو بخوبی جانتے ہیں۔ عقیدہ و یقین میں صرف تسلیم ہوتا ہے سوال نہیں، جہاں سوال ہوتا ہے وہاں عقیدہ نہیں ٹکتا، یوں سمجھ لیجیے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں جن کا ایک جگہ پر اکٹھا ہونا ناممکن ہے۔
اب سمجھ میں نہیں آ تا کہ ریاست کو کیا سوجھی کہ انہوں نے ملک میں سائنس یا آئی ٹی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے کسی اعلیٰ دماغ کو مدعو کرنے کی بجائے ڈاکٹر ذاکر نائک کو مدعو کر لیا، حالانکہ مذہبی رہنماؤں، پیران طریقت و تصوف اور مشائخ عظام میں تو ہمارا ملک پہلے ہی خاصا خود کفیل ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو تو سائنس اور آئی ٹی کے شعبہ میں خاصی رہنمائی کی ضرورت ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی اہم ترین شعبوں میں ایکسپرٹ اور اعلیٰ ترین دماغوں کی بہت زیادہ کمی ہے۔
اب آتے ہیں لکی مروت سے تعلق رکھنے والی بہادر خاتون پلوشہ کی طرف، جنہوں نے ایک بہت اہم سوال سیدھے شبدوں میں ڈاکٹر ذاکر کے حضور گوش گزار کر دیا۔ پلوشہ نے پوچھ لیا
”کہ وہ جس علاقے سے تعلق رکھتی ہیں وہ معاشرہ حد سے زیادہ مذہبی ہے، خواتین کو گھروں میں رکھا جاتا ہے، مرد تبلیغ کے سفر پر جاتے رہتے ہیں اور شب جمعہ کے اہتمام کے علاوہ وہاں ایک بڑا مذہبی اجتماع بھی ہوتا ہے، ان سارے اہتمامات کے باوجود بھی وہاں ڈرگ ایڈکشن اور پیڈوفائل“ لونڈے بازی ”کی شرح روز بڑھ رہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے اور علماء ان برائیوں پر صدائے احتجاج یا اصلاح کا بندوبست کیوں نہیں کرتے“ ؟
اب سوال تو معقول تھا اور بیٹی نے بڑی عرق ریزی سے سوال پوچھنے کی جسارت کی تھی، لیکن ڈاکٹر نائک نے کوئی واضح جواب دینے یا عقلی دلیل دینے کی بجائے بچی کو یہ کہہ ڈالا
”آپ غلط ہیں اور آپ کا سوال بھی غلط ہے“
مزید کہا کہ آپ کے سوال میں تضاد یا جھول ہے، اگر سماج مکمل طور پر اسلامی ہے تو پھر وہاں یہ سب قباحتیں نہیں ہو سکتیں اور مذہبی سماج میں یہ برائیاں ہو ہی نہیں سکتیں۔
حیرت اس وقت ہوئی جب پلوشہ نے ان کے جواب کو کاؤنٹر کرنا چاہا تو اسے نا صرف خاموش کروا دیا گیا بلکہ زبردستی یہ کہلوانے کی کوشش کی گئی کہ تمہارا سوال ہی غلط تھا۔
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مرد یہی سوال پوچھتا تو پھر بھی ڈاکٹر نائک کا یہی جواب ہوتا یا مختلف ہوتا؟ مسئلہ سوال کا تو تھا ہی نہیں جناب! مسئلہ صرف اتنا تھا کہ اتنا ننگا سوال ایک خاتون نے کیسے پوچھ لیا؟
دنیا بھر میں جتنے بھی مذہبی معاشرے ہیں وہاں اس قسم کی مکروہات موجود ہیں اور پریکٹسنگ شرح روز بروز کم ہوتے چلی جا رہی ہے۔ اب اس کڑوے سوال کا کوئی میٹھا سا جواب تو بنتا نہیں تھا اور پوچھا بھی ایک خاتون نے تھا تو ڈاکٹر صاحب سے اسی ردعمل کی توقع کی جا سکتی تھی۔ سوال کی ضرب بہت گہری ہوتی ہے، سوال پوچھنے پر ساحل عدیم اور خلیل الرحمٰن قمر بھی تو تلملا اٹھے تھے اور خلیل جی نے تو بچی کو شٹ اپ کال بھی دے ڈالی تھی۔
میرے سماج کی خواتین میں شعور پنپنے لگا ہے اور اب یہ وہ سوال بھی پوچھیں گی جنہیں پوچھنے میں مرد ہچکچاہٹ سے کام لیتے ہیں۔


